پرسنل ہائی جین‘ اشد ضروری صحت کی دیوی‘ کیسے ہو راضی

گڑیا اوراس کی آپی طوبیٰ بھاری بھرکم بیگ اٹھائے سکول سے واپس آئیں تو تھکن سے نڈھال اور پسینے میں شرابور تھیں۔ گڑیا نے اپنا سکول بیگ دروازے میں ہی فرش پررکھا ‘ اپنا ایک بوٹ اتارکر بیڈ کے نیچے پھینکاجبکہ دوسراہوا میں اچھال دیا جو سیدھا گملے میں جا گرا۔ اس کے بعد اس نے جرابیں اتاریں اور نشانہ لگا کر لانڈری کی طرف پھینکیں۔

”ماما! میں آگئی …ارے نوڈلز، میرے فیورٹ!“ اس نے کچن میں اپنی ماما کے ہاتھ میں نوڈلز کا پیالہ دیکھ لیا تھا۔ اس نے جھٹ سے پیالہ ماما کے ہاتھ سے لیا اور سوپ والی چمچ سے انہیں شڑاپ شڑاپ کھانا شروع کر دیا۔وہ ابھی بہت گرم تھے لہٰذا گڑیا نے ’سی ‘ کی آواز کے ساتھ اسے نیچے رکھ دیا۔
”گڑیا! ذرا صبر، ایک تو تم بھی ناں…“ اس کی ماما سندس نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا۔

”یہ نِری فاسٹ بولرہے۔ صبر تو اس میںبالکل نہیں ہے …!“ طوبیٰ آپی نے دُور سے فقرہ کسا ۔ وہ کپڑے چینج کر کے کچن کی طرف جا رہی تھی ۔ دوسری طرف گڑیا فوراً اپنے پاپا کے کمرے میں گھسی اورسیدھی لیپ ٹاپ کی طرف بڑھی ۔اس نے جلدی سے اسے آن کیا اورکچھ ہی دیر میں اس میں اتنی محو ہو گئی کہ اسے اردگرد کا ہوش ہی نہ رہا۔ماما نے اسے کئی آوازیں دیں لیکن وہ تو گویا وہاں تھی ہی نہیں۔

”اری طوبیٰ! ذرا گڑیا کو تو بلانا۔ جانے کہاں رہ گئی ہے!“ سندس نے بڑی بیٹی کو آواز دی۔
”اچھا ماما!“ طوبی ٰ اسے بلانے پاپا کے کمرے میں گئی اور پھرجانے کیا ہوا‘ وہ بھی وہیں چپک کر رہ گئی ۔ جب کئی منٹ گزر گئے اوروہ واپس نہ آئیں تو ماما کا پارہ چڑھ گیا۔

”ذرا دیکھوں تو، کر کیا رہی ہیں یہ لڑکیاں…“ سندس کچن سے نکل کراپنے شوہر کے کمرے میں داخل ہوئی تو کیا دیکھتی ہے کہ دونوں بیڈ پر نیم دراز، لیپ ٹاپ پر کچھ دیکھ رہی ہیں۔
” کتنی دفعہ ان کے پاپا سے کہا ہے کہ اس پر ’پاس ورڈ‘ لگائیں لیکن انہیں یاد کہاں رہتا ہے۔ہاں! ذرا سائیڈ سے دیکھنا توچاہئے کہ وہ کیا دیکھ رہی ہیں۔انٹرنیٹ پر جانے کیا کچھ پڑا ہوتاہے۔اس لئے بچوں پر نظر رکھنی چاہئے ۔“ ماما نے دل ہی دل میں کہا اور خاموشی سے ان کے پیچھے جا کر کھڑی ہو گئیں۔ دونوں بہنیں اس قدر مگن تھیں کہ انہیں ان کی آمد کا علم ہی نہ ہوا۔

بچوں نے ” www.game-game.com“ ویب سائیٹ کھول رکھی تھی جس پر وہ بچوں کیلئے حفظان صحت سے متعلق ایک گیم ”بے بی ہیزل ہائی جین “ کھیل رہی تھیں۔ ماما بھی خاموشی سے اسے دیکھنا شروع ہو گئیں۔

گیم میں گھر کے ایک کمرے کا ماحول ہے۔بے بی ہیزل سکول سے واپس آتی ہے تو اسے ٹیبل پراس کے کھانے کی فیورٹ چیز پڑی ہوتی ہے ۔ وہ جھٹ سے اسے کھانے کیلئے آگے بڑھتی ہے لیکن پروگرام کا سافٹ وئیر اسے کھانے کی اجازت نہیں دیتا۔سکرین پر ایک ہاتھ نمودار ہوتا ہے جو اشارے سے بتاتا ہے کہ سب سے پہلے کپڑے چینج کریں۔

اسی ڈائریکٹر ہاتھ کی ہدایت کے مطابق بے بی ہیزل سب سے پہلے اپنا بیگ ایک کونے میں رکھتی ہے جس کے بعد اپنا سکول کارڈ اتار کرٹیبل پر اس کیلئے مختص جگہ پر رکھتی ہے۔اس کے بعد وہ سکول یونیفارم اتار کر ایک کھونٹی پر لٹکا دیتی ہے اور اپنے جوتے اور جرابیں کیبنٹ میں رکھتی ہے ۔ اس گیم میں بے بی ہیزل وہی کچھ کر سکتی ہے جو اسے ہاتھ کے اشارے کی مدد سے کہا جاتا ہے ۔اس دوران پس منظر میں خوبصورت میوزک بجتا رہتا ہے ۔

بے بی ہیزل شاور لے کرفریش ہو جاتی ہے اور پھر کھانا کھاتی ہے۔ اس کی ماما اس سے کہتی ہے کہ اب تھوڑی دیر کیلئے اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ کھیلے‘ اس لئے کہ وہ سارا دن اسے ’مِس‘ کرتا رہا ہے ۔جب وہ ننھے بھائی کا کھلونا لے کر اس کے پاس آتی ہے تو وہ قلقاریاں مار کر ہنستا ہے۔پھراس کی ماما اس سے کہتی ہے کہ وہ اسے سکول ڈائری دکھائے۔ ڈائری میں لکھاہوتا ہے کہ کل سکول میں انسپکشن ہے لہٰذا تمام بچوں کے ناخن کٹے ہوئے ہونے چاہئیں۔ اس کے بعد ہیزل بے بی بڑی صفائی سے اپنے ناخن کاٹتی ہے۔

”ارے واہ! یہ بے ہیزل تو بہت اچھی ہے۔ “ ماما نے پیچھے سے پکارا جس پر دونوں بہنوں نے اچانک پیچھے مڑ کر دیکھا۔طوبیٰ کو یاد آیا کہ وہ تو گڑیا کو بلانے آئی تھی ۔ اپنی ماما کا دھیان بٹانے کیلئے وہ فوراً بولی :
”ماما! میں آپ کو ’ڈورا ہائی جین کئیر‘دکھاﺅں؟“
”تم نے کھانا پینا کچھ نہیں؟ اچھا چلو دکھاﺅ، کیا ہے ڈورا…“ ماما ادھر ہی بیٹھ گئی۔

اس گیم میں ڈورا جب گھر آتی ہے توسب سے پہلے جوتے اتار کر کیبنٹ میں رکھتی ہے۔اس کے بعد اپنی جرابیں اورسکول یونیفارم چینج کرتی ہے اور انہیں واشنگ مشین میں دھو کر سپننگ مشین میں ڈال دیتی ہے۔ اس کے بعد انہیں نکال کر استری کرتی ہے اور ایک الما میں لٹکا دیتی ہے ۔اس کے بعد وہ اپنا سر‘ منہ اور ہاتھ دھوتی ہے جس کے بعد دانت صاف کرکے کھانے پر بیٹھ جاتی ہے ۔اس میں ہر کام اس طرح انجام دیا جاتا ہے کہ اسے کرنے کا صحیح طریقہ سمجھ میں آ جاتا ہے ۔

”ماما! یہ ہائی جین کیئر کا کیا مطلب ہوتا ہے ؟“ گڑیا نے آنکھیں پھیلائیں۔
”بیٹا! اس سے مراد بالعموم اپنی ذات کی صفائی لی جاتی ہے لیکن اس میں وہ صحت کے تحفظ اور اس کو اجاگر کرنے کیلئے سبھی کام شامل ہیں ۔“
”توبہ! کتنا مشکل لفظ ہے۔یہ انگریزی کا تو نہیں لگتا۔“ طوبیٰ بڑبڑائی۔
”بیٹا!قدیم یونانی باشندے جن دیوتاﺅں اور دیویوں کی پوجا کرتے تھے‘ ان میں سے ایک دیوی کا نام ہائی جیا (Hygieia) تھا جسے صحت کی دیوی مانا جاتا تھا۔وہیں سے لفظ ’ہائی جین‘ بنا۔ یونانی زبان سے یہ لفظ فرانسیسی زبان میں بھی آگیا۔اس کا مطلب ہے ’صحت کا فن! “ ماما نے تفصیل سے بتایا۔
”اسے ’پرسنل ہائی جین ‘ کیوں کہتے ہیں؟“ طوبیٰ نے ایک اور سوال کیا۔

”اس لئے کہ اس میں ہاتھ‘ پاﺅں‘ کپڑوں‘ جوتوں‘ بالوں اور دانتوں وغیرہ کی صفائی شامل ہے۔ یہ تمام چیزیں ہماری ذات سے متعلق ہیں۔اگرہم صاف ستھرے رہیں گے تونہ صرف صحت مند رہیں گے بلکہ دیکھنے میں بھی اچھے لگیں گے اور لوگ ہمارے ساتھ بیٹھنا اور ہم سے دوستی کرنا پسند کریں گے۔اگر ہم ذاتی صفائی کا خیال نہیں رکھیں گے تو ہم بیمار پڑجائیں گے اور دوسرے ہم سے دوستی کرنا بھی پسند نہیں کریں گے ۔کیا ایسا نہیں ہے؟“
”جی ماما! بالکل ایسا ہی ہے۔ ہماری کلاس کی ایک بچی کے دانت پیلے ہیں۔ کوئی بھی اس کے پاس بیٹھنا پسند نہیں کرتا۔“ گڑیا کے چہرے پر ناگواری کے آثار نمایاں ہوئے ۔ طوبیٰ کچھ سوچتے ہوئے بولی :

”ماما! اس کے ابو مزدور ہیں۔ اس لئے اس کے کپڑے بھی عام سے ہی ہوتے ہیں۔“
”بیٹا! میری بات دھیان سے سنو۔ اس کا تعلق پیسوں سے نہیں، سوچ سے ہے ۔ کپڑوں کا مہنگا نہیں‘ صرف صاف ہونا ضروری ہے ۔بے بی ہیزل اور ڈورا کی طرح سکول سے آتے ہی کپڑے تبدیل کر لینے چاہئےں۔اسی طرح مہنگے ٹوتھ پیسٹ وغیرہ بھی کوئی ضروری نہیں۔بس!تھوڑا سا دھیان رکھ لیا جائے تو مسئلہ حل ہوجاتا ہے ۔“ماما نے بچوں کو سمجھایا:
”اور ہاں!صرف یہی لازمی نہیں کہ آپ کا ٹوتھ برش استعمال کے بعد خشک رکھا جائے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ یہ ٹوائلٹ سے کافی دور رہے۔ ٹوائلٹ کو فلش کرنے کے بعد بھی تقریباً دو گھنٹے تک جراثیم باتھ روم کے اندر تیرتے رہتے ہیں۔اس لئے ٹوتھ برش کو رکھنے کی بہترین جگہ الماری ہے جہاں برش سوکھ بھی جائے گا اور محفوظ بھی رہے گا۔ “
”اور جوتے …؟“ گڑیابولی۔

”اگر آپ کے پاس جوتوں یا جرابوں کے دو جوڑے ہوں تو انہیں ایک ایک دن کے وقفے سے پہنیں۔اور اگر ایک ہی جوڑا ہو تو اسے ایسی جگہ رکھیں جہاں اسے ہوا لگتی رہے اور پسینہ وغیرہ خشک ہو جائے ۔جرابوں کو بوٹوں کے اندر مت رکھیں۔پاﺅں کو دن میں کم از کم ایک دفعہ ضرور خوب اچھی طرح سے دھوئیں‘ خاص طور پر انگلیوں کے درمیان والی جگہ کو۔“
”ماما! میرے بال آپس میں چپکے سے رہتے ہیں۔ایسا کیوں ہے؟“ طوبیٰ نے پوچھا۔
”بالوں کی جڑیں تیل پیدا کرتی ہیں۔اس کے علاوہ کھوپڑی میں پسینہ پیدا کرنے والے غدود بھی ہوتے ہیں۔ اگر انہیں دھویا نہ جائے تو بال چپکنے لگتے ہیں۔آپ کے بالوں کے چپکے رہنے کی وجہ یہی ہے ۔“
”اور بے بی ہیزل تو ہاتھ دھوئے بغیر کھانے لگی تھی۔“ گڑیا نے شرارت سے آنکھیں گھمائیں۔” جی ہاں! تمہاری طرح… “ طوبیٰ نے اسے یاد دلایاجس پر ماما بولی:
”جہاں ہماراہاتھ جاتا ہے‘ وہاں تک جراثیم کی رسائی ہوتی ہے۔ذراسوچئے کہ ہر دن آپ کا ہاتھ کتنی چیزوں تک پہنچتا ہے۔ یہ بھی سوچئے کہ گھر میں ہرشخص کنڈی ، سوئچ ، کمپیوٹر اور ریموٹ کنٹرول سمیت کیا کیا چھوتے ہےں۔“
” ماما! میں ہاتھ دھونے جارہی ہوں۔ ارے! میرے نوڈلز…!“
”گڑیا! صحت کی دیوی یعنی ہائی جین کا اچھی طرح خیال رکھنا۔“ طوبیٰ نے آواز لگائی۔ گڑیا کچن کی طرف بھاگ رہی تھی جبکہ سندس اس کے پیچھے پیچھے تھی۔

Vinkmag ad

Read Previous

دورانِ حمل اوربعد کی ورزشیں

Read Next

BELIEVE IT OR NOT

Most Popular