عزتِ نفس‘ مریض کا حق

44

بڑھتی ہوئی عمر اور پھر کسی قدر غیر متوازن طرززندگی!ایسے میں امراض کاسامنا تو رہنا ہی تھا۔ چنانچہ چند سالوں کے دوران بہت زیادہ تو نہیں لیکن یکے بعد دیگرے کئی ڈاکٹروں سے ان کی مشاورت رہی ۔ ہر ایک کا اپنا اپنا انداز تھا۔ بعض کابہت زیادہ دوستانہ بلکہ کسی قدر بے تکلف ہوتا جبکہ کچھ نہایت سنجیدہ اور’ لیے دیے‘ سے نظر آتے تھے۔ لیکن اب کی بار جو تجربہ ہوا وہ سب سے مختلف تھا۔
ان ڈاکٹرصاحب کی شہرت یہ تھی کہ وہ مریض کو بہت تفصیل سے دیکھتے ، یعنی ہر ہر مریض کو کافی وقت دیتے ہیں۔ نیز ان کے بارے میں یہ بھی کہاجاتا تھا کہ غیرصحت مندانہ طرززندگی کی وجہ سے لاحق ہونے والی بیماریوں میں مبتلا مریض ان کے علاج سے اس حدتک ٹھیک ہوجاتے ہیں کہ انہیں ادویات کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔ دوسری جانب وہ لالچی بھی نہیں چنانچہ نہ صرف یہ کہ فیس بہت زیادہ نہیں لیتے بلکہ ایک وقت میں بہت زیادہ لوگوں کو اپوائنٹمنٹ بھی نہیں دیتے تاکہ مریضوں کو تسلی بخش وقت دیا جا سکے ۔ اس لیے فوری طورپر ان سے ملاقات کا وقت ملنا مشکل ہوتا ہے۔ مذکورہ مریض کے ساتھ ہوا بھی عملاًیہی۔ پہلی ملاقات کے لیے کم وبیش دوماہ بعد کا وقت مل سکا ‘ دوسری ملاقات ایک ماہ بعد ہوپائی جبکہ اگلی ملاقات کبھی ڈاکٹر صاحب کی مصروفیت اور کبھی مریض کے اپنے ٹائم ٹیبل کی بناء پر ملتوی ہوتے ہوتے بالآخر کوئی چار ماہ بعد ممکن ہوپائی۔

پہلی دوملاقاتیں بھی خوشگوار تو نہ تھیں‘ اس لئے کہ دونوں بار ہی ایک گھنٹے سے زائد وقت کے دوران ڈاکٹر صاحب کے تنے ہوئے چہرے پر مسکراہٹ نامی چیز ایک لمحہ کے لیے بھی نظر نہ آئی۔ تاہم مریض اس اعتبار سے ضرور متاثر ہوا کہ اس کی ہسٹری بہت تفصیل سے لی گئی ہے۔اگر مرض کی ہسٹری اچھی طرح لے لی جائے تو مریض کا ڈاکٹر پر اعتماد بہت بڑھ جاتا ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے فوری طور پر دوا تجویز کرنے کی بجائے درست تشخیص کے نقطۂ نظر سے متعدد ٹیسٹ کرانے کا مشورہ دیا۔ان ٹیسٹوں کی رپورٹ کی روشنی میں ادویات اور پرہیز کے حوالے سے جو ہدایات مریض کو دی گئیں‘ لگتا تھا کہ وہ ایک جامع تشخیص پر مبنی تھیں۔
پرہیز ‘ علاج یا ادویات سے متعلق دی جانے والی ہدایات کی گنتی کی جائے تو وہ کوئی ڈیڑھ درجن تو بنتی ہی تھیں۔
مریض پر اس نئے معالج سے اپنی پہلی دونوں ملاقاتوں کا اثر بڑی حدتک مثبت تھا۔ کتنی ہی جگہ اس نے ڈاکٹر کے تنائو والے طرزعمل پر کوئی تبصرہ کئے بغیر علاج کے حوالے سے ان کی
جامع اپروچ کا ذکر کیا۔ شاید اسی کا نتیجہ تھا کہ اس کے کچھ احباب نے بھی متعلقہ ڈاکٹر سے علاج کے لیے رابطہ کیا ۔ البتہ اس دوران ڈاکٹر کے بعض سابق مریضوں کا یہ فیڈبیک بھی سامنے آیا کہ انہوں نے ایک دوبار اس ڈاکٹر سے مشاورت کرنے کے بعد انہیں چھوڑ دیا۔ اس وقت یہ بات ذرا عجیب سی لگی کیوںکہ عام طورپر لوگوں کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ انہیں ڈاکٹر کی جانب سے توجہ نہیں ملتی ۔یہ ایک معمہ تھا کہ آخر مریض پر اس قدر توجہ دینے والے ڈاکٹر کو لوگ کیوں چھوڑ دیتے ہیں؟ تاہم ڈاکٹر صاحب سے اگلی ملاقات میں اس کی وجہ سمجھ میں آگئی۔
ماحول تو حسب سابق اس قدر سنجیدہ تھا کہ انسان کتنی ہی کوشش کرے‘ دبائو کا شکار ہوئے بغیر رہ نہیں سکتاتھا۔ یہ تو بہرحال کوئی نئی بات نہ تھی‘ اس لئے کہ مریض کو پہلے ہی اس کا تجربہ ہوچکاتھا لیکن اس روز تو حد ہی ہوگئی !

ڈاکٹر صاحب کے اس سوال کے جواب میں کہ’’ پرہیز اور ادویات کے ضمن میں کم وبیش جو ڈیڑھ درجن ہدایات دی گئی تھیں کیا ان پر عمل ہورہا ہے؟‘‘ مریض نے عمومی طورپر اثبات میں جواب دیتے ہوئے یہ اعتراف بھی کرلیا کہ بعض(تین یاچار) صورتوں میں ان پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ اپنے تئیں اس نے اس کی معقول وجوہات بھی پیش کیں لیکن اگلا مرحلہ سخت تکلیف دہ ثابت ہوا۔ ڈاکٹر صاحب نے ا س پر’’شائوٹ‘‘ کیا ، سخت سست کہا اور غصے میں مریض کے لیے نہایت توہین آمیز الفاظ بھی استعمال کیے۔انہوں نے مریض سے یہ بھی کہا کہ اس کے علاج کے حوالے سے اب ان میں کوئی ’’موٹیویشن ‘‘ نہیں رہی۔
مریض کے سامنے دو ہی راستے تھے۔ایک یہ کہ وہ جواباً تکرار میں الجھ جائے یا صبر سے اس وقت کو گزار لے اور آئندہ کس حدتک اس معالج سے استفادہ کرنا ہے، اس پر بعد میں غور کرے۔ اس نے صبر کا مظاہرہ کیااور تکرار کرنے یا الجھنے کی بجائے ڈاکٹر صاحب سے اس وقت کی ملاقات کو منطقی انجام تک پہنچایا۔تاہم ڈاکٹر صاحب سے علاج کے لیے اب اس کی اپنی
’’ موٹیویشن‘‘ بھی ختم ہو چکی تھی ۔اگلے چند روز تذبذب میں گزرے ۔ لیکن بالآخر وہ اس حتمی نتیجے پر پہنچ گیا کہ ایسے ڈاکٹر سے علاج جاری رکھنے کا‘ جو قوت مدافعت کو بہتر کرنے کی بجائے اس کی عزت نفس کو متاثر کرے اور یوں بیماری کے خلاف لڑنے کی اس کی امنگ اور استعداد کو غیرمؤثر کردے‘ فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہے۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of