فالج کا مریض ذہنی کیفیات اور اہل خانہ کا کردار

196

فالج ‘جسمانی طور پر معذور کرنے کے ساتھ ساتھ مریض کو ذہنی طور پر بھی شدید متاثر کرتا ہے اوربعض اوقات اسے بے بسی اور مایوسی کے اندھیروں میں دھکیل دیتا ہے۔ایسے میں اس کے دوست احباب اوراہل خانہ اپنے عزیز کو زندگی کی جانب لاسکتے ہیں۔ شفا انٹرنےشنل ہسپتال جی 10 اسلام آباد کے مرکز بحالی صحت (Rehabilitaion Centre)کے سینئرفزیکل تھیراپسٹ ظہیرقادرمریض کی ذہنی کیفیات کے مختلف مراحل اور ان میں کرنے کے کاموں پر روشنی ڈال رہے ہیں

فالج ایک ایسا مرض ہے جس میں دماغ کے کچھ حصوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے جس کے زیراثر اس کے جسم کا وہ حصہ مفلوج ہوجاتا ہے جسے دماغ کا متعلقہ حصہ کنٹرول کر رہاہوتا ہے۔ان حالات میں مریض جسمانی طور پر معذوری کے ساتھ ساتھ کچھ نفسیاتی مسائل کا بھی شکار ہو جاتا ہے ۔جب اسے ہسپتال کے ”شعبہ بحالی صحت“ میں لایا جاتا ہے تو وہاں کا عملہ اس کی جسمانی بحالی کے ساتھ ساتھ اسے نفسیاتی طور پر بحال کرنے کی بھی کوشش کرتا ہے۔ اس عمل میں معالج اور عملے کے دیگر افراد کے ساتھ ساتھ مریض کے اہل خانہ کا کرداربھی بہت اہم ہے‘ اس لئے کہ وہ اس کی ذہنی کفیات سے زیادہ واقفیت رکھتے ہیں ۔اس سلسلے میں انہیں درج ذیل امور کا خیال رکھنا چاہئے:

٭سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اہل خانہ کی طرف سے مریض کو اس بات کا احساس دلایا جائے کہ آزمائش کی اس گھڑی میں وہ اکیلا نہیں بلکہ وہ سب اس کے ساتھ ہیں۔اس کا اظہار محض لفظوں کی بجائے مثبت اورحوصلہ افزاءرویوں سے ہونا چا ہیے۔
٭ فالج کے مریض کو تنہائی اور احساس تنہائی کا شکار نہ ہونے دیں۔ اس کے دوستوں اور رشتہ داروں کو چاہئے کہ حتی الامکان کوشش کر کے اسے مذہبی اورسماجی سرگرمیوں میں شامل کریں۔
٭مریض کی صفائی ستھرائی اورغسل کے علاوہ اس کے پسندیدہ لیکن آرام دہ لباس کا بھی خاص خیال رکھاجائے۔ لباس پہنانے میں اس کی عزت نفس اور وقار کا خاص خیال رکھیں‘ اس لئے کہ معذوری لاحق ہونے کی وجہ سے وہ معمول سے زیادہ حساس ہوچکا ہوتاہے۔

٭اگر مریض کی جسمانی حالت بہتری کی طرف جارہی ہو توجس حد تک ممکن ہو‘ اسے اپنے چھوٹے موٹے کام ( مثلاً پانی پینا‘اپنے لئے برتن میں کھانا نکالنا‘منہ صاف کرنا‘ مہمانوں اورتیمارداروں کوخوش آمدید کہنا وغیرہ )خود کرنے پر قائل کرنا چاہئے۔

٭آسان اور دلچسپ معاملات میں فیصلہ سازی کے عمل میں مریض کو بھی شامل کریں۔ایسا کرنے سے ان کی فیصلہ کرنے کی صلاحیت میں بہتری آنے کے علاوہ ان کے ذہنی دباﺅ میں بھی کمی آئے گی۔
٭فالج کے مریضوںمیں ذہنی اور جذباتی عدم استحکام کی کیفیت عام طور پر پیدا ہوہی جاتی ہے لیکن یہ حالت اس وقت زیادہ بگڑنے لگتی ہے جب تیمارداراور اہل خانہ اپنے جذبات پر قابورکھنے کی بجائے اس کے سامنے رونادھونااور منفی باتیںکرنا شروع کردیتے ہیں۔ اُن کے سامنے حوصلہ شکنی والے رویوں کا اظہار نہیں کرنا چاہئے۔

ذہنی کیفیات‘ مختلف مراحل
فالج ہونے کے بعد مریض مرحلہ بہ مرحلہ مختلف ذہنی کیفیات سے گزرتا ہے۔ اہل خانہ کو چاہئے کہ انہیں سمجھنے کی کوشش کریں اور ان کے مطابق اسے سنبھالنے اور سمجھانے کی کوشش کریں۔ یہ مراحل مندرجہ ذیل ہیں:

صدمے کی کیفیت
صدمے کی کیفیت (shock phase)اس وقت پیدا ہوتی ہے جب مریض فالج کی شکایت کے ساتھ ہسپتال میں داخل ہوتاہے۔اسے اس بات کااحساس ہوچکا ہوتا ہے کہ وہ صحت مند زندگی سے اچانک معذوری والی زندگی میں داخل ہوگیا ہے۔ اس وقت مریض مایوسی کی انتہا پر ہوتاہے۔ اس مرحلے میں اہل خانہ اور دوست احباب کا رویہ مناسب‘ مثبت اور حوصلہ افزاءہونا چاہئے۔

انکار کی حالت
موجودہ جسمانی حالت کو مسترد(denial phase) کرنے کی کیفیت مریض کی بحالی صحت کی سرگرمیوں کے آغاز میں نمایاں ہونا شروع ہوجاتی ہے۔اس میں مریض اپنی جسمانی حالت اورمعذوری کوذہنی طور پر قبول نہیں کرتااور عملی طور پرکام کے قابل نہ ہونے کے باوجود اسے کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔وہ فوراً نارمل زندگی کی طرف آنا چاہتاہے اور فالج سے پہلے والی سرگرمیوں کو دوبارہ شروع کرنے پر بضد ہوتاہے۔ اسے اپنی جسمانی کیفیت اور بیماری کا اندازہ نہیں ہوتا۔اس مرحلے میں اہل خانہ ‘ تیمارداروں اوردوستوں کو بہت صبر اور تحمل سے مریض کو حقیقت کا احساس دلانا ہوتا ہے۔

ردعمل ظاہر کرنا
ردعمل ظاہر کرنے کے مرحلے(reaction phase) میںمریض کو اپنی جسمانی کیفیت اورمعذوری کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے اور وہ مختلف طرح کے ردعمل سے اس کا اظہار کرتاہے۔ حقیقت میں یہ اس کی بے بسی کا اظہار ہوتاہے ۔اس میں کچھ مریض چڑچڑے ہوجاتے ہیں، کچھ مایوس ہوجاتے ہیں ، کچھ غصے میںآجاتے ہیں اور کچھ خاموش نظروں سے اور رونے والی کیفیت کے ساتھ اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہیں۔اس مرحلے میںماہر اعصابی امراض ذہنی دباﺅ کو کم کرنے کے لئے ادویات بھی تجویز کرتے ہیں‘ تاہم اہل خانہ کا مثبت رویہ انہیں اس کیفیت سے باہر نکلنے میں مددگارثابت ہوتاہے۔

لوٹنے کا مرحلہ
اس مرحلے (recreation phase)میں مریض اپنی بیماری اور اس کے نتیجے میں ظاہر ہونے والے اثرات‘جسمانی خامیوںاور معذوری کو ذہنی طور پر قبول کرلیتا ہے۔ وہ اب بحالی صحت ٹیم کی طرف سے دی گئی ہدایات پر پوری توجہ دیتا ہے اور ان پر عمل کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔

قبولیت کی حالت
یہ مرحلہ (acceptance phase) تقریباً آخری مرحلہ ہوتا ہے جس میں مریض اپنی جسمانی حالت میں امکانی حد تک بہتری لاچکا ہوتا ہے۔ اس مرحلے میں وہ اپنی جسمانی حالت اور معذوری کو قبول کرکے اپنی جسمانی خامیوں کے ساتھ اچھی زندگی کاآغاز کردیتا ہے۔
مریض کے اہل خانہ‘ دوست احباب اور تیمارداروں کو چاہئے کہ ان تمام مراحل میں اپنے آپ کو سنبھالیں اور مریض کا بھرپور سہارابنیں۔اس طرح وہ اپنی کمزوری اور معذوری کے باوجود اپنی زندگی اچھی طرح سے گزارنے کے قابل ہو سکیں گے۔