ناک سے خون نکلنا یا نکسیر پھوٹنا

ناک کا اگلا حصہ چھوٹی اور باریک نالیوں پر مشتمل ہوتا ہےجو چوٹ کے باعث باآسانی متاثر ہو سکتا ہے۔ چوٹ معمولی ہو تو خون نہیں نکلتا یا نکلے بھی تو تھوڑی دیر بعد خود بخود رک جاتا ہے۔ گہری چوٹ کی صورت میں معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ ناک سے قطروں یا دھار کی صورت میں خارج ہونے والے اس خون کو نکسیر کہتے ہیں۔ ناک سے خون نکلنا یا نکسیر پھوٹنا ایک عام مسئلہ ہے جو زیادہ تر 6 سے 10 سال کے بچوں میں ہوتا ہے۔ 50 سے 80 سال کے افراد کو بھی اس کی شکایت رہتی ہے۔

اکثر افراد میں یہ خون نتھنوں سے باہر بہتا ہے تاہم کچھ میں یہ پیچھے حلق کی طرف گر کر تھوک کے ساتھ باہر آسکتا ہے۔

نکسیر کی وجوہات

چوٹ کے علاوہ ناک سے خون بہنے کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ان میں تیز دھوپ میں چلنا، مخصوص ادویات مثلاً جسم اور جوڑوں کے درد اور خون پتلا کرنے والی دواؤں کا زیادہ استعمال شامل ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی اور خشک آب و ہوا بھی اس کا سبب بن سکتے ہیں۔ خشک ہوا ناک کی جھلیوں کو بھی خشک کر دیتی ہے جس سے خون بہنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔

بیماریاں

نکسیر زیادہ تر عام اور معمولی نوعیت کی وجوہات کی بنا پر جاری ہوتی ہے۔ تاہم بعض اوقات خطرناک بیماریوں مثلاً ہیموفیلیا وغیرہ کے باعث بھی جاری ہوتی ہے۔ اس کا سبب بننے والی دیگر بیماریاں میں ناک یا سانس کی نالی میں رسولی، جگر کے امراض، وٹامن سی اور کے کی کمی، بلڈ پریشر کی زیادتی اور خون کا کینسر شامل ہیں۔

ناک میں سوزش

یہ نکسیر کی دوسری بڑی وجہ ہے۔ ناک میں انفیکشن اور نتیجتاً سوزش کا سبب بننے والے دیگر عوامل میں وائرس، بیکٹیریا، پھپھوندیاں، پودوں پر کیے جانے والے سپرے یا اس سے ملتی جلتی آب و ہوا میں سانس لینا اور نسوار کو سونگھ کر استعمال کرنا قابل ذکر ہیں۔

پودوں پر کیے جانے والے سپرے، نکسیر کی وجوہات-شفانیوز

خون کو کیسے روکیں

اس کا سبب چوٹ ہو تو اس کی نوعیت پر غور کریں۔ خون بار بار اور زیادہ مقدارمیں خارج ہو تو ناک، کان اور گلے کے ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ ہسپتال پہنچنے تک ان ہدایات پر عمل کریں:

٭خون منہ میں جارہا ہو تو تھوک کے ذریعے اسے باہر نکالتے رہیں۔

٭خون کو گلے میں جانے سے روکنے کے لئے بیٹھ جائیں اور آگے کی طرف جھکیں۔

٭دوسرا طریقہ یہ ہے کہ دونوں نتھنوں کو انگلیوں سے پکڑ کر 15 منٹ کے لئے بند کریں۔ اس دوران منہ سے سانس لیں۔

نکسیر کو کیسے روکیں-شفانیوز

دیگر احتیاطیں

جن کو یہ مسئلہ ہو وہ زیادہ گرم کھانوں اور مشروبات اور مصالحے داراور چٹ پٹے کھانوں سے پرہیز کریں:

٭رس دار پھل، دودھ، دہی، پانی، لوکی اور مولی وغیرہ استعمال کریں۔

٭بہت زیادہ گرم پانی سے نہ نہائیں اور گرمی کے اوقات میں باہر نہ نکلیں۔

٭چھینک آئے تو منہ کھول کر چھینکیں۔

ناک سے خون نکلنا یا نکسیر پھوٹنا ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے باعث کسی بڑی پیچیدگی کا سامنا بہت کم صورتوں میں ہوتا ہے۔ تاہم اگر بروقت طبی امداد نہ ملے تو مریض بے ہوش ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ خون سانس کی نالی میں جا سکتا ہے اور بار بار نکسیر آئےتو خون کی کمی بھی پیدا ہو سکتی ہے۔

خون دیکھ کر گھبرا جانا ایک فطری عمل ہے لیکن اس سے مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ مزید بگڑ جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ابتدائی طبی امداد کیسے دی جاسکتی ہے اس حوالے سے خود کو آگاہ رکھیں اورضرورت پڑنے پرفوری عمل کریں۔ اس کے باوجود خون نہ رکے تو مریض کو ہسپتال لے جائیں۔

Nosebleeds, causes of nosebleeding, precaution & management of epistaxis, nakseer phootna kya hai, nakseer, shifa news, health

Vinkmag ad

Read Previous

ڈائلیسز سے متعلق مفروضے

Read Next

نکسیر سے متعلق مفروضے

Leave a Reply

Most Popular