آوازکی آلودگی

آوازکی آلودگی

ہوا‘ پانی‘ خوراک اورماحول میں غیرضروری اورنقصان دہ کثافتوں کے شامل ہونے کوآلودگی کہتے ہیں۔ فضائی ماحول میں کئی طرح کی آلودگیاں شامل ہیں۔ مثلاً گردوغبار‘ دھواں‘ تابکاری اورشوروغیرہ۔ ہروہ آوازجوانسانی معمولات زندگی مثلاً کام کاج‘ نیند اورگفتگو وغیرہ میں خلل ڈالے شورکہلاتی ہے۔

انسانی جسم پراثرات

شورسے انسانی جسم کے کئی اعضا اورنظام متاثرہوتے ہیں لیکن سماعت پراس کے اثرات سب سے زیادہ اوربراہ راست پڑتے ہیں۔ تیزآواز کان کے اندرونی حصے میں سننے کے عمل سے متعلق خلیوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ ان خلیوں کے کمزورہونے سے قوت سماعت کم ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ اس کمزوری کا تعلق براہ راست آواز کی شدت اوراس کے دورانیے سے ہے۔ آوازوں اورشورکی سطح یا شدت کی پیمائش کے لئے استعمال ہونے والی اکائی ڈی بی کہلاتی ہے۔

٭70 ڈی بی کی آوازسماعت کوعموماً متاثرنہیں کرتی‘ خواہ یہ کتنی ہی دیرتک کانوں میں جاتی رہے۔

٭80 ڈی بی کا شورعموماً بڑے شہروں کی مصروف ترین سڑکوں پریا بازاروں میں ہوتا ہے۔ اگر یہ لمبے عرصے تک کانوں میں جاتا رہے تو سماعت میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔

٭اگرآوازکا لیول100 ڈی بی ہوجائے یا اس کا دورانیہ بڑھ جائے تو یہ کم عرصے میں بہرے پن کا سبب بنتا ہے۔

٭شورکی شدت 160 ڈی بی ہوتو یہ سماعت کو فوراً زائل کرسکتی ہے۔ یہ بہرہ پن وقتی بھی ہوسکتا ہے اورمستقل بھی۔

مختصروقت کا بلند شوروقتی طورپرجبکہ طویل دورانیے کا شورمستقلاً بہرہ کردیتا ہے۔ اس سے دماغی‘اعصابی اورویسکولر نظام بھی متاثر ہوتا ہے۔ اعصابی تناؤ‘ بے چینی‘ بے خوابی‘ چڑچڑا پن‘ ہائی بلڈ پریشر،تھکاوٹ اوربے قاعدہ دھڑکن وہ مسائل ہیں جوزیادہ شورمیں رہنے والے لوگوں کو ہوسکتے ہیں۔ اس کی وجہ سے بعض اوقات دل کا دورہ بھی پڑسکتا ہے۔ نیند پوی نہ ہونے کا ایک سبب شوربھی ہے جس کی وجہ سے صحت کے متعدد مسائل جنم لیتے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکرہے کہ سماعت صرف اس وقت زائل ہوتی ہے جب کوئی زیادہ شدت والے شور(عموماً 80 ڈی بی سے زیادہ) سے متاثر ہوتا ہے لیکن اعصابی‘ دماغی اوردیگر مسائل کم شدت والے شور سے بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔

خطرے کی زد میں کون

اگرچہ شورفضا میں شامل ہوکرعمومی طورپرتمام افراد کومتاثرکرتا ہے لیکن کچھ افراد اُس سے براہ راست متاثرہوتے ہیں۔ ان میں کانوں پر ہیڈ فون لگا کرمسلسل اونچی آوازمیں موسیقی سننے والے افراد، شہرکے مصروف چوراہوں اوربازاروں میں ڈیوٹی پرمامورٹریفک پولیس، بازاروں میں روزگارکے سلسلے میں بیٹھے دکانداراورسیلزمین وغیرہ شامل ہیں۔ آٹورکشہ ڈرائیور‘ ٹریکٹرڈرائیور‘ ریلوے انجن ڈرائیورزبھی مسلسل شورمیں رہنے کی وجہ سے اپنی سماعت زائل کرواسکتے ہیں۔ اسی طرح پرنٹنگ پریس‘ ٹیکسٹائل ملوں، فیکٹریوں اوراسی طرح کی دوسری مشینری استعمال کرنے والے لوگ بھی سماعت سے محروم ہو سکتے ہیں۔

بچاؤ کیسے ممکن ہے

اس کے لئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ لوگوں کواس سے ہونے والے نقصان کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔ شورکواُس کی پیدا ہونے کی جگہ پرہی کم کیاجانا چاہیے۔ اس کے لیے

٭گھریلو استعمال کی مشینری کا وقتاً فوقتاً باقاعدگی سے معائنہ کرتے رہیں تاکہ اُن میں شور پیدا کرنے والے عوامل کی روک تھام کی جا سکے۔

٭شورپیدا کرنے والی مشینری اورخاص طورپرذرائع آمدورفت کے حوالے سے قانون سازی کی جانی چاہیے اور اس پرعمل درآمد کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔

٭شوروالی جگہوں پر کام کرنے والے افراد کو کانوں پرلگانے کے لئے ایئرمفس فراہم کئے جائیں۔ ایسے ورکرز کی ڈیوٹی کا دورانیہ بھی کم ہونا چاہیے اوران کی ہفتہ وارتعطیلات باقی اداروں سے زیادہ ہونی چاہئیں۔

٭بلاضرورت اونچی آوازسے ریڈیو یا ٹیلی ویژن سننے والوں کواس عادت سے چھٹکارا پانا چاہئے۔

Noise pollution, effects on human body, risk factors and prevention of noise pollution

LEAVE YOUR COMMENTS