نوزائیدہ بچے کیلئے اہم احتیاطیں

165

نوزائیدہ بچے کو ماں کے دودھ کے علاوہ کوئی اور چیز(مثلاًگھٹی) وغیرہ مت دیں۔ شہد سمیت اس طرح کی کوئی بھی بچے کے لیے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

ماں کادودھ پلانے سے پہلے ضروری ہے کہ ماں اپنے ہاتھ اور چھاتیاںاچھی طرح سے دھوئے اور اسے باری باری دونوں چھاتیوں سے دودھ پلائے۔

بچے کو بیٹھ کر دودھ پلائیں‘ اس لئے کہ لیٹ کر دودھ پلانے کا طریقہ درست نہیں ہے۔عموماً تین سے چار گھنٹے بعد دودھ پلائیں۔

بچے کو موسم کے مطابق کپڑے پہنانے چاہئیں ۔نومولودبچے کو گرمی اور سردی‘ دونوں سے بچائیں۔

بچے کو نہ توکبھی گندا چھوڑیں اورنہ ہی اسے اس طرح سجائیں سنواریں کہ وہ تنگ پڑے۔ اکثر خواتین بچوں کی آنکھوں میں سرمہ اورعرقِ گلاب وغیرہ ڈالتی ہیں جو بچے کی آنکھوں کے لیے مفید نہیں۔

بچے کے کمرے کو خاص طور پر صاف رکھیں تاکہ وہ مکھی،مچھر یا دیگر کیڑوں وغیرہ سے محفوظ رہ سکے۔

بچے کو زیادہ دیرتک گیلا نہ رہنے دیں۔ یعنی وہ جب بھی پیشاب یا پاخانہ سے فارغ ہو تو اس کے کپڑے فوراًبدل دیں۔ اس طرح اس کی جلد خراش اور جلن سے محفوظ رہے گی۔

٭پیدائش کے بعد بعض لوگ بچے کے ناڑو (placenta) پر کچھ نہ کچھ لگاتے ہیں تاکہ وہ ٹھیک ہو جائے۔ اسے مت چھیڑیںاور نہ ہی اس پر کچھ لگائیں ‘ اس لئے کہ یہ خود بخود سوکھ کر جھڑ جاتی ہے۔

بچے کی بہت زیادہ بے چینی‘دودھ پینے سے انکار‘ اپنے چہرے یا گالوں کو کھجانے اور رگڑنے کی کوشش‘بدہضمی اور الٹیوں کی شکایت کان کے انفیکشن کی عام علامات ہو سکتی ہیں۔ ایسے میں فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

اگر بچے کے کانوں میںذرا سی بھی تکلیف یا خارش ہو تو اسے سنجیدگی سے لیں‘ اس لئے کہ وہ آگے چل کر اس کی سماعت پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔ اس دردکی وجہ کانوں اور حلق کے پچھلے حصے کو ایک دوسرے سے منسلک کرنے والی مختصراور تنگ نالی کا انفیکشن سے متاثر ہونا ہوسکتاہے۔

اگر کانوں سے کوئی مواد بہہ رہاہوتو اسے نیم گرم پانی میں کپڑا بھگو کراحتیاط سے صاف کرلیں۔

اگر بچے کو دودھ پینے میں دقت محسوس ہوتی ہو‘وہ تیز تیز سانس لے رہا ہو‘ اس کے ہونٹ نیلے پڑ جائیں‘ ناخن، جلد اور آنکھوں کی رنگت پیلی ہو جائے‘ آنکھوں سے پانی بہتا ہو‘ اس پر غنودگی چھائی رہتی ہو‘ اسے بار بار نرم پاخانہ آتا ہو یا کوئی عضو کھچا ہوا محسوس ہوتا ہو تو اسے فوری طور پرکسی ڈاکٹر کو دکھانا چاہیے۔

بچے کو پولیو اور دیگر ضروری ویکسینز کا کورس کروانا چاہئے تاکہ وہ صحت مند رہے۔حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کوچینی نمک (اجینوموتو) سے اجتناب کرنا چاہئے‘ اس لئے کہ وہ ماں اور بچے‘ دونوں کے لئے اچھا نہیں ۔

بچے کو صحیح پوزیشن میں لٹائیں ۔ اسے الٹالٹانے سے پرہیز کریں۔ بچے کا سر تھوڑا سا اونچا ہو تو اسے سانس لینے میں آسانی ہوتی ہے۔

بچے کے سانس لینے کی رفتار پر نظر رکھیں۔ اگر ےہ 60 فی منٹ سے زیادہ ہو توڈاکٹر سے رجوع کریں۔

جس بچے کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہو‘ وہ دیگر بچوں کی نسبت جلد ی تھک کر نڈھال ہو جاتا ہے۔ اس لیے اسے کپڑے وغیرہ پہناتے وقت کم سے کم ہلائیں۔ سانس لینے کے پیٹرن میں کوئی تبدیلی نظر آئے تو بچے کو فوراًہسپتال لے جائیں۔

بچے میںخوراک اور پانی کی کمی نہ ہونے دیں۔

ہر قسم کے ہنگامی حالات میں بچے کو طبی امداد دینے کے طریقے اپنے معالج سے ضرور پوچھ لیں۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

زیادہ پیار اور توجہ کے مستحق بچے ڈاﺅن سینڈروم

ڈاون سینڈروم ایک ایسا موورثی مرض ہے جس میں مبتلا بچوں ک

E.M. Forster once said “the main facts in human life are five: birth, food, sleep, love and death

44 year old Ghani Khan nowadays worries about his 14 year old son Wahid, who smokes and loves drivin