• Home
  • امراض
  • نیفروٹک سنڈروم … لا علمی ہزار نعمت نہیں

نیفروٹک سنڈروم … لا علمی ہزار نعمت نہیں

263

بچوں میں جو طبی مسائل ذرا زیادہ سنجیدہ توجہ کے طالب ہیں‘ ان میں سے ایک نیفروٹک سنڈروم بھی ہے۔ اس بیماری میں گردے متاثر ہونے کی وجہ سے پیشاب میں زیادہ مقدارمیں پروٹین خارج ہونا شروع ہوجاتی ہے جس سے جسم میں سوجن ہو جاتی ہے۔ یہ مرض کسی بھی عمر میں ہو سکتا ہے لیکن عموماً یہ دو سے پانچ سال کی عمر میں شروع ہوتا ہے


شادی کے بعد اکثر والدین کی سب سے بڑی خواہش ایک صحت مند بچے کی پیدائش ہوتی ہے۔ بالعموم وہ اولاد سے بہرہ مند ہو بھی جاتے ہیں لیکن بعض اوقات ان کے جگرگوشے کو بچپن میں ہی کوئی خطرناک بیماری لاحق ہو جاتی ہے۔ اس کا سبب کبھی اپنی غلطیاں ہوتی ہیں اور کبھی یہ موروثی طور پر منتقل ہوجاتی ہیں۔ ایسے میں مرض کے بارے میں ضروری معلومات نہ صرف بروقت تشخیص اور علاج میں مدد دیتی ہےں بلکہ پریشانی کو بھی کسی حد تک کم ضرور کردیتی ہےں۔ یوں لاعلمی کسی اور معنوں میں نعمت ہوتو ہو‘ اس معاملے میں ہرگز نہیں۔

سنڈروم کی نوعیت
بچوں میں جو طبی مسائل ذرا زیادہ سنجیدہ توجہ کے طالب ہیں‘ ان میں سے ایک نیفروٹک سنڈروم (Nephrotic Syndrome)بھی ہے۔ اس بیماری میں گردے متاثر ہونے کی وجہ سے پیشاب میں زیادہ مقدارمیں پروٹین خارج ہونا شروع ہوجاتی ہے جس سے جسم میں سوجن ہو جاتی ہے۔
نیفروٹک سنڈروم کسی بھی عمر میں ہو سکتا ہے لیکن عموماً یہ دو سے پانچ سال کی عمر میں شروع ہوجاتا ہے۔ یہ بیماری ہر ایک لاکھ میں سے سات بچوں کو متاثر کرسکتی ہے اور لڑکیوں کی نسبت لڑکوں میں زیادہ ہوتی ہے۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ گھر میں ایک سے زائد بچوں کو یہ بیماری ہو۔

علامات‘ تشخیص اور علاج
اس مرض سے متاثرہ بچوں میںجو علامات سامنے آ سکتی ہیں‘ ان میں جسم میں سوجن ہو جانا(خصوصاً آنکھوں کے گرد اور پاﺅں پر)، پیشاب کم آنا،طبیعت میںسستی یا چڑچڑا پن ہونا،بھوک کی کمی، بلڈ پریشر بڑھ جانا اورپیشاب میں خون آنا شامل ہیں۔بعض بچوں میں گلے اور پیٹ کے معمولی انفیکشن کے بعدنیفروٹک سنڈروم کا حملہ ہو سکتا ہے۔
مرض کی تشخیص کے لیے پیشاب کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے جس کے ذریعے اس میں پروٹین کی مقدار معلوم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ خون میں پروٹین کی مقداراورکولیسٹرول لیول بھی چیک کیا جاتا ہے۔
اس بیماری کی صورت میں 90 فی صد سے زیادہ بچوں کا سٹیرائڈز کی مددسے کامیابی سے علاج کیا جاسکتا ہے۔ اگربروقت علاج نہ کیا جائے تو انہیں سانس کے مسائل اور شدید انفیکشن کا سامنا ہو سکتا ہے۔ سٹیرائڈز کو اپنا اثر دکھانے میں وقت درکار ہوتا ہے لہٰذا علاج کے شروع ہوتے ہی مرض کی تمام علامات دور نہیں ہوتیں۔ جب پیشاب میں پروٹین آناختم ہو جاتی ہے (جو عموماً ایک سے دو ہفتے میں ہو جاتی ہے )تو سوجن بھی ختم ہو جاتی ہے۔ بچے کو باقاعدگی سے اسی مقدار میں دوا لینی چاہیے جو ڈاکٹر نے تجویز کی ہو۔ علاج شروع کرنے سے قبل ٹی بی کا ٹیسٹ ضرور کرانا چاہئے۔

سٹیرائڈز کے مکمل علاج سے یہ بیماری کنٹرول ہو سکتی ہے لیکن شروع کے چند سالوں میں اس بیماری کے بار بار حملہ آور ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔30 فی صد بچوں میں یہ بیماری بار بار آتی ہے۔ جو بچے سٹیرائڈ زکے استعمال سے ٹھیک ہو جاتے ہیں‘ ان میں گردوں کو مستقل نقصان پہنچنے کا امکان بہت کم ہو جاتا ہے اور ایسے بچے نارمل زندگی گزار سکتے ہےں۔ کچھ بچے سٹیرائیڈزلینے کے باوجود ٹھیک نہیں ہوتے اورمستقبل میں ان کے گردے خراب ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ 85سے 90فی صد بچوں میں 16سال تک بیماری رہتی ہے۔
اس مرض سے متاثرہ بچہ کھیلوں اور فارغ اوقات کے مشاغل میں بھرپورحصہ لے سکتا ہے جو اس کی عمر کے مطابق موزوںہوں۔ اسے باقاعدگی سے ورزش کرنی چاہیے تاکہ سٹیرائڈز کے مضر اثرات کم کئے جائیں ۔ورزش اور کھیل کے سلسلے میں اپنے ڈاکٹر سے مشورہ اور معلومات ضرور لیں۔
سٹیرائڈز لینے والے بچوں کی بھوک بہت بڑھ جاتی ہے۔ ان بچوں کے لیے صحت بخش خوراک کا انتخاب کیجئے۔ اس مرض کے دوران خوراک میں کسی خاص تبدیلی کی ضرورت نہیں ہوتی تاہم کھانے میں اضافی نمک سے اجتناب کریں۔ جب آپ کا بچہ سٹیرائیڈز لے رہا ہوتو نمک کے معاملے میں خصوصی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔
(شعبہ امراض بچگان ‘شفا انٹر نیشنل ہسپتال اسلام آباد)

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x