ناک جب ہوئی خطرناک

7

موسم سرما میں جہاں ٹھنڈ زیادہ لگتی ہے‘ وہاں لوگ ناک کے مسائل کا بھی شکار رہتے ہیں۔ سردیوں کے علاوہ بھی یہ کچھ مسائل کا شکار ہو سکتی ہے جسے میں اس کا بند ہونا یا سانس کم آنا، اس سے پانی بہنا، خون آنا(نکسیر)،گلے میں ریشہ گرنا، بہت زیادہ چھینکیںآنا، خوشبواوربدبو کا پتہ نہ چلنا،ناک کی شکل بگڑ جانا اور سر میں درد ہوناشامل ہیں۔ناک کی عام بیماریوں میں اس کی ہڈی کا ٹیڑھاہونا، الرجی، سانس کا انفیکشن اور رسولی یا کینسر شامل ہیں۔ ان کی تفصیل درج ذیل ہے:
ہڈی کا ٹیڑھ پن
نتھنوںکا درمیانی پردہ اگر دائیں‘ بائیں یا دونوں طرف کو مُڑا ہواور اس کی وجہ سے مریض کو کسی تکلیف مثلاً ناک کے بند ہونے‘ ریشے اور سردرد وغیرہ کا سامنا ہو تو یہ ناک کی ہڈی ٹیڑھی ہونے کی علامت ہے۔ یہ مسئلہ پیدائشی بھی ہوسکتا ہے اور چوٹ لگنے کی وجہ سے بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ معائنے کے ذریعے ڈاکٹر اس کی تشخیص کرتا ہے۔
اس کے لیے کسی خاص ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لوگوں کی بڑی تعداد اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ اس کا حل صرف آپریشن ہے حالانکہ بعض صورتوں میں یہ اس کے بغیر بھی ٹھیک ہو جاتی ہے‘ تاہم اس کے لئے مکمل علاج کرانا ضروری ہوتاہے۔
ناک کی الرجی
سانس کی الرجی ناک اور پھیپھڑوں کو خاص طور پر متاثر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ حلق بھی اس کی زد میں آسکتا ہے۔ الرجی کی صورت میں جب گردوغبار، پولن اور خوراک کے ذرات جسم میں داخل ہوتے ہیں تو مریض کو بہت زیادہ چھینکیں آتی ہیں، ناک اور آنکھوں سے پانی بہنا شروع ہو جاتا ہے، ناک بند ہوسکتی ہے اور مریض کو سانس لینے کے لئے منہ کھلا رکھنا پڑتا ہے۔ یہ الرجی بڑھ کرپھیپھڑوں پر اثرانداز ہوجائے تومریض کو دمہ ہوسکتا ہے۔ ناک کی الرجی اور دمہ علیحدہ علیحدہ بیماری کی صورت میں بھی ہوسکتے ہیں اور بیک وقت بھی مریض کو متاثر کرسکتے ہیں۔
الرجی کا سب سے اچھا حل پرہیز ہے۔یہ کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات وغیرہ سے توہو سکتی ہے لیکن ہو امیں موجود گردوغبار سے بچنا چونکہ مشکل ہوتا ہے‘ اس لئے مریض کو دوائوں کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ اب ایسی ادویات دستیاب ہیں جن کے مضر اثرات بہت کم ہیں اور یہ الرجی کے مریضوں کی زندگیوں کو آسان بنا رہی ہیں۔
سانس کا انفیکشن
سانس کا انفیکشن بہت عام ہے جس کی بڑی وجوہات میں ماحولیاتی آلودگی، وائرس، بیکٹریا اور پھپھوندی وغیرہ شامل ہیں۔ زیادہ تر لوگوںکو ان کی وجہ سے ہلکی پھلکی شکایت مثلاً گلے میںریشہ، ناک کا بند ہونا اور معمولی پانی بہنا وغیرہ کا سامنا ہو سکتا ہے۔ معمولی اور شدید‘ دونوں صورتوں میں علاج کرانا ضروری ہوتاہے تاکہ بیماری پر جلد اور موثر طریقے سے قابوپایاجاسکے۔
ناک کا ایک اور انفیکشن فلو یا وبائی نزلہ ہے۔ یہ مختلف قسم کے وائرسز سے ہوتا ہے۔ پہلے دوتین دن تک اس کی شدت زیادہ ہوتی ہے جو آہستہ آہستہ کم ہوتی جاتی ہے۔ عام طو رپر اس کے لئے دردکش ادویات یعنی پین کلرزدئیے جاتے ہیں۔ ایسی کیفیت میں سُوپ، چائے اور کافی وغیرہ کا استعمال بھی فائدہ مند ہے۔ اس صورت میں کھٹی اورٹھنڈی اشیاء کھانے یاپینے سے پرہیز کرناچاہیے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے آپ کو سردی سے بچائیں۔
ناک کی چوٹ
ناک چہرے کا سب سے نمایاں عضو ہے جس پر چوٹ شدید درد کے علاوہ سخت نقصان کا بھی باعث بنتی ہے۔ ایسی صورت میں خون (نکسیر) آنے کے علاوہ ناک کے ٹیرھا ہونے‘ بند ہونے‘ سوج جانے اور اس میںدرد جیسی شکایات سامنے آسکتی ہیں۔ اگر یہ شدید نوعیت کی ہوں تو ڈاکٹر سے معائنہ کروانا ضروری ہوتا ہے۔
رسولی اورکینسر
ناک میں مختلف قسم کی رسولیاں اور کینسر کا بننااتناعام مرض نہیں ہے لیکن کچھ لوگ اس کا شکارہوسکتے ہیں۔ رسولی اور کینسر کے مرض کی ابتدائی علامات ناک کے عام انفیکشن سے ملتی جلتی ہوتی ہیں۔ اگر کسی شخص کا نزلہ ٹھیک نہ ہورہا ہو اور اس کی ناک میں سے خون آلودریشہ آتا ہو تو اُسے چاہیے کہ اس شعبے کے کسی مستند ڈاکٹر سے اپنا معائنہ کرائے تاکہ کسی خطرناک بیماری کی صورت میں تشخیص اور علاج جلد ہو سکے۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of