ناخن سے دوستی

1

ناخن سے دوستی

مارچ کو رزلٹ آنے کے بعدسکول میں ایک ہفتے کے لئے بہار کی چھٹیاں ہو گئیں۔ نئے بیگز، کتابوں اور کاپیوں کے ساتھ نئے تعلیمی سال کے پہلے دن بچے بہت خوش تھے ۔ ببلو اب آٹھویں جماعت میں تھا اور اسے نئی کلاس کے ساتھ نیا کلاس روم بھی مل گیاتھا۔ جب بچے قطار بنائے اس میں داخل ہوئے تو ڈیسکوں پر گرد جمی تھی ۔ٹیچر نے ان سے کہا کہ سب سے پہلے اس کی صفائی کی جائے۔

ببلو، اپنے دوستوں فضل ‘ کوثر اورلیاقت کے ساتھ صفائی کے کام میں مصروف ہوگیا۔ پنکھوں ، الماری اور بلیک بورڈ کی صفائی کے بعد بچوں نے ڈیسک باہر نکالنا شروع کر دئیے۔ وہ بھاری تھے لہٰذا انہوں نے فیصلہ کیا انہیں سب مل کرباہر نکالیں گے ۔ ایک بھاری بھرکم ڈیسک کو ایک طرف سے ببلو اور کوثر نے جبکہ دوسری طرف سے فضل اورلیاقت نے اٹھایا اور اسے ساتھ لئے باہر نکلے ۔ ابھی چند قدم ہی چلے تھے کہ فضل کا ہاتھ چھوٹ گیا اور ڈیسک سیدھا ببلو کے پائوں پر آ لگا۔ مارے درد کے اس کی چیخیں نکل گئیں

ہائے امّی، مجھے درد ہو رہا ہے…!‘‘ ببلو درد کو روکنے کیلئے اپنے داہنے پائوں کے انگوٹھے کو دونوںہاتھوں سے پکڑے ہوئے تھا۔’’

تم نے ڈیسک کیوں چھوڑا ؟‘‘ کوثر نے فضل کو ڈانٹا ۔’’

تو کیا کرتا‘ بھاری جو تھا‘‘۔ فضل نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا۔’’

…تو کیابتا نہیں سکتا تھا ؟‘‘لیاقت بھی بیچ میں کود پڑا۔’’

ارے! میں نے کوئی جان بوجھ کر تھوڑی چھوڑا تھا اسے ۔میرا ہاتھ اچانک چھوٹ گیا اورمیرے بتاتے بتاتے وہ نیچے گر گیا۔اس میں میرا کیا  قصور؟آئندہ میں تم لوگوں کے ساتھ ڈیوٹی نہیں دوں گا ۔ فضل اپنی وضاحتیں پیش کر رہا تھا ،لیکن اس کی سنتا کون؟

تم آپس میں ہی لڑتے رہو گے یا کچھ دھیان میری طرف بھی دو گے ؟ ببلو ان کے بیچوں بیچ روتے ہوئے بولا اور کچھ نہیں کر سکتے توکم از کم میرا رومال ہی اس پر باندھ دو۔

فضل نے اپنی جیب سے رومال نکالا اور تینوں دوست مل کر اس کے انگوٹھے پر اسے باندھنے کی کوشش کرنے لگے۔ جب وہ بری طرح سے ناکام ہو گئے توفضل بولا

میرے بھائی! تو آرام سے ایک طرف بیٹھ جا۔ تیرا سارا کام میں کر دوں گا۔ بس تو رونادھونا بند کر، یہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔یار!ایسا تو ہوتا رہتا ہے۔ مجھے بھی ایک دفعہ لگا تھا اور سارا ناخن اتر گیا تھا۔ پھر خود ہی ٹھیک بھی ہو گیا تھا۔ تو اور کیا، بھئی !شیر بن شیر۔لیاقت نے بھی آواز لگائی۔ببلو ایک طرف رکھے ڈیسک پر چپ چاپ بیٹھ گیا لیکن اب بھی اس نے اپنا پائوں دونوں ہاتھوںسے پکڑ رکھا تھا۔ وہ دور کہیں سوچوں میں غرق تھا۔

سلام دوست!‘‘ قریب سے ہی آواز آئی۔’’
‘‘کون ہو تم ؟‘‘ ببلو نے ادھر اُدھر دیکھا:’’ وعلیکم السلام’’

مجھے نہیں پہچانتے کیا…؟دراصل میری آواز ذرا بدلی ہوئی ہے۔ بڑی نقاہت سے کوئی پکارا…زخمی جو ہو گیا ہوں۔ چند دن تو لگ ہی جائیں گے ٹھیک ہونے میں

ارے کیا تم بھی…میرا مطلب ہے کہ کیا تمہیں بھی چوٹ لگی ہے اور تم بھی زخمی ہوئے ہو؟ ارے کیا اتفاق ہے۔ آج بلکہ ابھی تھوڑی دیر پہلے میں بھی…یعنی میرے پائوں پر بھی

اوہو! ارے میں بھی اسی چوٹ کی بات کر رہا ہوں۔ادھر دیکھو‘یہ میں ہوں‘ تمہارے دائیں پائوں کے انگوٹھے کا ناخن…کیا سمجھے ؟ پہچانا یا مزید تعارف کروائوں…؟آواز پھر بلند ہوئی۔

…تو آج تمہاری باری ہے لیکچر بازی کی۔‘‘ ببلو بیزار بیٹھا تھا۔’’

مجھے کوئی شوق نہیں مفت کے لیکچر جھاڑنے کا! میں نے تو یونہی تمہارا حال پوچھا تھا۔ سوچا کہ چلو، تھوڑی دیر گپ شپ ہو جائے اور تمہارا دل بھی بہل جائے گا۔ارے نہیں‘ تو نہ سہی!  ناخن نے ’کندھے‘اچکائے۔

ارے تم تو ناراض ہی ہو گئے ۔ دیکھو آج تم میرے لئے جتنے اہم ہو‘ شاید اس سے پہلے کبھی نہ تھے۔آئندہ میں تمہارا خیال رکھوں گا۔ ببلو درد کے ساتھ ساتھ عجیب طرح کی تنہائی بھی محسوس کر رہا تھا۔

پہلے توتمہیں کبھی میرا خیال نہیں آیا‘‘ ناخن نے شکایت کی۔

ہاں یار! جب سب ٹھیک ہو تو پھر دھیان نہیں رہتاباقی چیزوں کا ۔ مجھے تو تمہاری موجودگی اس وقت محسوس ہوتی ہے جب سکول میں میڈم کہتی ہے کہ تمہارے ناخن بڑھے ہوئے کیوں ہیں؟ انہیں کاٹتے کیوں نہیں؟ یا پھر میری چھوٹی بہن ان پر شرارت سے پالش لگادیتی ہے۔ ببلو نے منانے کی کوشش کرتے ہوئے جواب دیا۔

یہ بتائو کہ تمہارے خیال میں پالش لگانے کے علاوہ بھی میرا کوئی فائدہ ہے ؟ یعنی اگر میں نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟  ناخن نے ایک اور سوال داغا۔

نہیں!اب ایسی بات بھی نہیں… اور تمہارے تو بہت سے فائدے ہیں۔مثلاً سوئی جیسی باریک چیز کو اگر پکڑنا ہو توتمہارے بغیر یہ کام مشکل ہے ۔ جسم کے کسی حصے پر کھجانا پڑ جائے تو بھی تم ہی کام آتے ہو۔ویسے بھی تمہاری وجہ سے ہاتھ خوبصورت ہو جاتے ہیں۔ ببلو آج بہت صلح ُجو بنا ہوا تھا۔ شاید درد کا اثر تھا۔

ہاں دوست! میں تمہارے لئے یہ کام تو کرتا ہی ہوں لیکن میرااصل کام تمہارے ہاتھوں اورپائوں کی انگلیوں کے نازک سروں کی حفاظت کرناہے۔ ناخن نے سنجیدگی سے جواب دیا۔

اچھا! ایک بات تو بتائو۔‘‘ ببلو کے ذہن میں ایک خیال آیا۔’’
’’ وہ کیا؟‘‘ ناخن سے آواز آئی۔

 جب تم پر چوٹ لگتی ہے تو شدید درد ہوتا ہے لیکن جب ہم خود تمہیں نیل کٹروغیرہ سے کاٹتے ہیں تو دردبالکل نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ ببلو نے سوچا کہ چلو وقت کا فائدہ اٹھایاجائے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ انگلیوں کے سروں سے باہر نکلے ہوئے میرے کناروں کے خلیوں میں جان نہیں ہوتی جبکہ تمہارے انگوٹھے کے اوپر میرے نیچے خون کی بہت سی نالیاں ہوتی ہیں جو ظاہر ہے کہ جاندار ہوتی ہیں۔کیا سمجھے؟ ناخن نے جواب دیا۔

اگر ذرا تفصیل سے بتا سکو تو ممنون ہوں گا۔‘‘ ببلو نے التجا کی’’

ناخن نے گلا صاف کرتے ہوئے کہا
دیکھو! میں جس مادے سے بنتا ہوں‘ اسے کیراتین کہتے ہیں۔ تمہارے بال ‘ تمہاری جلد کی اوپر والی سطح ‘ ہرن سمیت دیگر جانوروں کے سینگ،گھوڑے کے کھر اورپرندوں کے پر اسی سے بنتے ہیں۔

اچھا! لیکن وہ کیسے بنتے ہیں؟

بھئی میں تو صرف اپنا بتا سکتا ہوں۔

چلو، وہی بتا دو۔

سنو!بظاہر تمہیں یہی لگتا ہو گا کہ میں یعنی ناخن ہاتھ اور پائوں کی انگلیوں کے آخری سرے پر  یو شکل میں اس جگہ سے اگنا شروع ہوتے ہیں جہاں سفید رنگ کا چاند سا بنا ہوتا ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ ہم اس کے پیچھے اپنی جڑ سے اُگتے ہیں جو جلد کی بیرونی پرت کے نیچے چھپی ہوتی ہے۔

لیکن تم اُگتے کیسے ہو ؟‘‘ ببلو نے پھر سماجت کی۔’’

 ہم لوگ جب اپنی جڑ سے اُگتے ہیں تو اپنی جگہ پر پہلے سے موجود خلیوں کو آگے یعنی انگلیوں کے سروں کی طرف دھکیلتے ہیں۔ان خلیوں ہی کی تیار کردہ پروٹین کراتِین کی وجہ سے ہم سخت اور ہموار ہو جاتے ہیں اور ’ناخن بستر‘ کے اوپر سے پھسلتے ہوئے ہاتھوں اور پائوں کی انگلیوں کے سروں تک پہنچ جاتے ہیں۔ان سروں تک پہنچنے کے بعد ہم تمہاری انگلیوں کی جلد سے الگ ہو جاتے ہیں اور ہماری رنگت گلابی کی بجائے سفید ہو جاتی ہے۔یہ ہے وہ سسٹم جس کے تحت ہم یعنی ناخن بڑھتے ہیں۔تمہیں ایک دلچسپ بات بتائوں؟

اَجی! ضرور بتائیے!‘‘ ببلو نے جھکتے ہوئے کہا’’

اگر ہم انگلیوں پر ہوں ہر ماہ ایک انچ کا دسویں حصے (2.5 ملی میٹر) کے حساب سے بڑھتے ہیں۔اس طرح ہم تین سے چھ ماہ میں مکمل طور پر تبدیل ہو جاتے ہیں۔

اچھا!یہ تو واقعی دلچسپ ہے! ببلو نے خوش ہوتے ہوئے کہا اور بھی سنو!ناخن دوبارہ بولا:  اگر ہم ہاتھوں کی انگلیوں کے ہوں تو پائوں کے ناخنوں سے دوگنا تیزی سے بڑھتے ہیں اورسردیوں کے مقابلے میں گرمیوں میں جلدی بڑے ہوتے ہیں۔ اگر چوٹ لگ جائے اور ہماری جڑ بری طرح سے زخمی نہ ہوئی ہو تو ہم دوبارہ اُگ آتے ہیں۔ ہاتھوں کی انگلیوں میں سے انگوٹھے کاناخن سب سے سست جبکہ درمیانی انگلی کاسب سے زیادہ تیزی سے اگتا ہے۔

بہت خوب !لیکن چند سوال اور بھی ہیں ۔مثلاً یہ کہ ’ناخن بستر‘ کیا ہوتا ہے؟ تمہارا رنگ گلابی کیوں ہوتا ہے اور پھر سفید کیوں ہو جاتا ہے؟وغیرہ وغیرہ۔ لیکن تم بور ہو جائو گے۔ ببلو نہیں چاہتا تھا کہ اس کا دوست اس سے ناراض ہو جائے ۔

آج تم نے مجھ سے دوستی کی ہے تو میں بھی اسے نبھائوں گا۔تم جتنے سوال چاہو کرو۔ سنو!تمہاری انگلیوں کے سروں پر خون کی بےشمار باریک باریک نالیاں ہوتی ہیں اور میرا بستر انہی کے اوپر لگتا ہے اور میرا گلابی رنگ بھی انہی کی وجہ سے ہوتاہے۔ ناخن نے تفصیل سے اسے بتایا۔

ببلو کے دل میں خیال آیا کہ اسے اپنے ناخنوں کی حفاظت کرنی چاہئے اور اس سلسلے میں پوچھنا بھی اسی سے چاہئے :اچھے دوست! میں چاہتا ہوں کہ آئندہ تمہارا ڈھیر سارا خیال رکھوں۔یہ بتائو کہ میں تمہارے لئے کیا کر سکتا ہوں۔

 شکریہ! اور اگر میرا خیال رکھو گے تو ظاہر ہے کہ اصل میں اپنا ہی خیال رکھ رہے ہو گے۔ دیکھو! ہر رات بند جوتوں کو ہوا لگوایا کروتاکہ تمہیں پسینے والے جوتے نہ پہننا پڑیں اور ہم بھی محفوظ رہیں ۔ ہمیں جب بھی کاٹو‘ سیدھا کاٹواور کنارے ہموار کیاکرو۔پائو ں کے ناخن چونکہ زیادہ سست روی سے بڑھتے ہیں‘ لہٰذا انہیں کاٹنے کی ضروت نسبتاًکم ہوتی ہے۔

ببلو نی اسے سمجھایا کہ اسے اتنے زیادہ احکامات نہ دئیے جائیں جن پر عمل اس کیلئے مشکل ہو جائے۔’’ارے بھائی! سو گئے ہو کیا؟‘‘فضل نے اسے جھنجھوڑا۔

کیوں‘کیا ہوا؟‘‘ ببلوہڑبڑا کر انہیں دیکھنے لگا۔’’

بابا! کام ختم ہو چکا، چلو اب چلیں۔لیاقت نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا۔

آرام سے میرے انگوٹھے کا ناخن…!‘‘ ببلو نے ’سی‘ کی۔’’

’’ابھی تو درد نہیں ہو رہا تھا!‘‘لیاقت نے آوازہ کسا۔

ذرا سو گیا ہو گا۔ کیوں تنگ کر رہے ہو اسے کوثر ببلو کی مدد کو آیا ’’چلو دوست‘ اب چلیں۔‘‘ ببلو اٹھا اور ان کے ساتھ چل دیا۔اب وہ انہیں کیا بتاتا کہ وہ کیوں خاموش تھا اور کس سے اور کیسے باتیں کر رہا تھا۔

health story, broken nail, nail care

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x