موٹاپے کا جن بے قابو کیوں؟

152

وجیہہ یاخوبصورت نظر آنا ہر مردوزن کی کمزوری ہے۔ سڈول جسم خوبصورتی کا نمایاں حصہ ہے جبکہ موٹاپا نہ صرف بھدے پن کا استعارہ ہے بلکہ یہ بہت سی بیماریوں کی ماں بھی ہے ۔ اس لئے بہت سے لوگ کسی نہ کسی طرح سے اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کی تگ و دو میں نظر آتے ہیں۔اس کا آسان حل یہ نکالا گیا ہے کہ اپنی خوراک میں کمی کر لی جائے جسے عرف عام میں ’’ڈائٹنگ‘‘ کہتے ہیں۔

امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن کے مطابق امریکہ میں ہر سال تقریباً50ملین افراد وزن کم کرنے کی غرض سے ڈائٹنگ شروع کرتے ہیں لیکن ان میں سے اکثر کے لئے اسے زیادہ عرصے تک جاری رکھنا عموماً ممکن نہیں ہوتا۔جریدے کے مطابق صرف20فی صد افراد ہی اس میں لمبے عرصے تک کامیاب ہوپا تے ہیں۔ پاکستان میںاس سے متعلق مصدقہ اعداد وشمار موجود نہیں‘ تاہم یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہاں بھی صورت حال اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ کچھ لوگوں کو وقتی طور پراس میں کامیابی مل جاتی ہے مگر کچھ عرصے بعد ان کا وزن پھر بڑھنے لگتا ہے۔یوں وزن کے جن کو قابو میں رکھنے کا خواب بہت جلد چکنا چور ہوجاتا ہے۔
ڈاکٹر ضیاالدین ہسپتال کراچی سے تعلق رکھنے والی ماہرغذائیات ڈاکٹر شازیہ ارم سے پوچھا گیا کہ وہ کون سی رکاوٹیں ہیں جو وزن گھٹانے کی کوششوں کی راہ میں دیوار بن کر کھڑی ہوجاتی ہیں۔ اس کے جواب میںانہوںنے کچھ مفید باتیں بتائیں جو مندرجہ ذیل ہیں:
خودپربے جاپابندیاں
ڈائٹنگ کا نام سنتے ہی بہت سے لوگوں کے ذہن میںاپنی پسندیدہ خوراک سے دور رہنے اور بہت سی دیگر پابندیوں کا خاکہ بنتا ہے۔ حقیقت میں ڈائٹنگ کوئی سزا نہیں بلکہ اس سے مراد صحت بخش اور متوازن خوراک متوازن مقدار میں کھانے کا نام ہے ۔اگر ایسا نہ کیا جائے تو لوگ ڈائٹنگ کے فوراً بعد پہلے سے دگنا کھانے لگتے ہیں جس سے کئے کرائے پر پانی پھرجاتا ہے۔ اس لئے خود پرغیرضروری پابندیاں عائد نہ کیجئے۔

غیر حقیقی اہداف
غیر حقیقی اہداف کا تعین ـ‘وزن کم کرنے کی کوششوں کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔اصل میں لوگ کم وقت میں بڑی کامیابی چاہتے ہیںجوممکن نہیں ہوتا۔شروع میں اپنے اہداف چھوٹے چھوٹے رکھئے اور انہیں آہستہ آہستہ حاصل کرنے کی کوشش کیجئے۔ ایک مہینے میں کئی کلو کم کرنا اگر ممکن ہو بھی تو نہ یہ صحت مندہے اور نہ پائیدار۔
خوشی یا تنائو میں زیادہ کھانا
بہت سے لوگ ذہنی تنائو کی صورت میں اور کچھ خوشی میں زیادہ کھانے لگتے ہیں۔ آپ نے اکثر سنا ہو گا’’ویسے تو میں ڈائٹنگ پر ہوں لیکن چلو آج خوشی کا دن ہے‘آج کھا لیتے ہیں۔‘‘اپنے کھانے کی عادات پر جذبات کو حائل مت ہونے دیں۔
اپنی جسامت پرغیرمطمئن
بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو زیادہ موٹے نہیں ہوتے لیکن انہیںاپنا آپ موٹا لگتا ہے اور وہ دبلا پتلا ہونا چاہتے ہیں۔اس کی ایک وجہ میڈیا‘ فلمیں اور ڈرامے ہیں جن میں خوبصورتی کا معیار بہت زیادہ دبلا ہونا دکھایا جاتا ہے ۔ اگر آپ کا وزن آپ کے قد کے مطابق ہے تو آپ کو ڈائٹنگ کی ضرورت نہیں۔اپنی جسامت سے غیر مطمئن ہونے کی بجائے خود کو قبول کیجئے اور اپنے وزن کو مناسب حد میں رکھنے کی کوشش کیجئے۔

شارٹ کٹس کا استعمال
بدقسمتی سے بہت سے لوگ وزن گھٹانے کے لیے ’شارٹ کٹس‘ آزمانے پر یقین رکھتے ہیں۔کوئی 10دن کے ڈائٹ پلان کے پیچھے لگا ہوا ہے تو کوئی چار دن میں ’مسلز‘بنانے کی کوشش میں مگن ہے۔ مختلف طرح کے چورن اورمصالحوں پر مشتمل ٹوٹکے بھی اس مقصد کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔اگر ان میں سے کچھ کارگر ہوں بھی تو دیر پا نہیںہوتے۔وزن گھٹانے کے لیے اپنے کھانے کو صحت بخش بنانے اورباقاعدہ ورزش کے علاوہ ہر چیز ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔
ناقص ڈائٹ پلانز
آپ کے جسم کوہر غذائی اجزاء(نشاستے‘پروٹین‘ فیٹس‘ وٹامنز وغیرہ)کی مناسب مقدارمیں ضرورت ہوتی ہے اور کسی ایک جزوکی کمی بھی آپ کے جسم کو کمزوری یابیماری میں مبتلا کر سکتی ہے۔اس لئے کوئی ایسا ڈائٹ پلان ہرگز مت اپنائیے جو آپ کو کسی خاص غذائی جزو سے محروم کر دے۔
دیگر عوامل کو مت بھولئے
وزن بدستور بڑھتے رہنے کا ایک سبب نفسیاتی عوامل یا کوئی جسمانی بیماری بھی ہو سکتی ہے۔ہارمونز کے مسائل ‘ذہنی تنائو‘ ڈپریشن‘ ذہنی اضطراب‘ تھائی رائیڈازم اور ورم کے مسائل بھی وزن گھٹانے میں ناکامی کی ایک وجہ ہو سکتے ہیں۔ایسے میں ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہت ضروری ہو جاتا ہے۔

کھانے کی غلط عادات
رات کو کھانا دیرسے کھانا‘کھانا کھاتے ہی لیٹ یا سو جانا ‘ میٹھے کا بے جا استعمال، سفرمیں کھانے کی عادت،بھوک سے زیادہ کھانا ،بیٹھے رہنا،ناشتا چھوڑنا،رات دیر تک جاگتے رہنا وہ عادات ہیں جن سے آپ کا وزن گھٹتا نہیں بلکہ مزید بڑھتا ہے۔
اچھے اور برے کاربز
ڈائٹنگ کرنے والے اکثر افراد نشاستے (کاربز)کو بہت برا سمجھتے ہیںحالانکہ یہ جسم کو توانائی پہنچانے کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ کاربز دو قسم کے ہو تے ہیں: اچھے اور برے ۔اچھے کاربزہم ان کو کہتے ہیں جن میں کیلوریزکم یا نارمل مقدار میں جبکہ غذائیت اورفائبرزیادہ مقدار میںموجودہو۔اس میںریفائنڈ (refined) چینی اوراناج موجود نہ ہو جبکہ نمک اور بری چکنائیوں کی مقدار بھی کم ہو۔اچھے کاربز میں پھل‘سبزیاں‘بیج اور خشک میوہ جات جبکہ برے کاربز میں ٹافیاں ‘ بسکٹ‘ڈبل روٹی اورسفید چاول وغیرہ شامل ہیں۔
جوسزاور قہوہ
عام تاثریہ ہے کہ جوس پینا صحت بخش ہے حالانکہ ضروری نہیں کہ ایسا ہی ہو ۔اگر جوس میں چینی‘نمک ‘رنگ اور دیگر کیمیکلز وغیرہ ڈال کر تیار کیا جائے تو وہ فائدہ مند نہیں بلکہ نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ ان کی بجائے پھل کھانے کو ترجیح دینی چاہئے ۔اکثر لوگ کھانے کے بعد قہوہ پینا پسند کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں یہ ان کا وزن گھٹانے میں مدد کرے گا۔اس کے برعکس اگراس میں چینی شامل کر دی جائے تو وہ آپ کا وزن بڑھانے کا سبب بن سکتی ہے۔قہوہ دراصل آپ کے جسم میںمیٹابولزم کے عمل کو تیز کرتا ہے۔اس کا براہِ راست وزن گھٹانے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
کیلوریز ‘ دشمن نہیں
ڈائٹنگ کرنے والے اکثر حضرات’کیلوریز‘کو اپنا اولین دشمن بنا لیتے ہیں ۔انہیں استعمال کرتے ضرور گنئے مگر یہ بھی دیکھئے کہ وہ کن ذرائع سے حاصل ہو رہی ہیں۔یہ بھی ذہن میں رکھئے کہ کیلوریز کی زیادہ کم تعداد سے جسم کی چربی نہیں بلکہ پٹھے بھی کمزور ہونے لگتے ہیں اورمیٹابولزم بھی سست روی کا شکار ہو جاتا ہے۔

مشورہ‘ صرف ماہر سے
دیکھا گیا ہے کہ تقریباً99فی صد افرادوزن گھٹانے کے لیے ڈاکٹر یا ماہرِ غذائیات سے زیادہ ٹوٹکوں‘دوستوں کی آراء یا اشتہاروں پر اعتبار کرتے ہیں۔ہر ایک کے وزن کی زیادتی کی وجو ہات مختلف ہوتی ہیںلہٰذا ہمیشہ ڈاکٹر سے مشورے کے بعدہی کوئی عملی قدم اٹھائیں۔امید ہے کہ آپ اپنے مقصد میں ضرور کامیاب ہوں گے۔
آخر میں یاد رکھئے جو بھی چیزآپ کو قدرتی عمل سے دور کرتی ہو‘ وہ آپ کی صحت کو بھی نقصان دیتی ہے۔وزن گھٹانے کے لیے کوئی ’شاٹ کٹ‘ نہیں ہے۔وزن گھٹانے کی کوشش کرنے والے اکثر افراد کی اولین کوشش اپنے جسم کوپتلا کرنا ہوتی ہے جبکہ اصل مقصد صحت مندی ہونا چاہئے۔یہی چیز آپ کو خوبصورت بھی بنائے گی۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of