نظام خون کے متوازی لمفی نظام کیسے کام کرتا ہے ؟

264

    قارئین میں سے بعض خواتین و حضرات نے نوٹ کیا ہوگا کہ جب زخم سے خون بہنا بند ہوجائے تو بعض اوقات کچھ دیر بعد اُس سے سیال قسم کا مادہ رسنا شروع ہوجاتا ہے۔ یہ لمف(lymph) ہے جو چوٹ لگنے سے کٹ جانے والی لمفی نالیوںمیں سے باہر خارج ہونے لگتا ہے۔ بحیثیت سرجن میں نے ایسے کئی مریض دیکھے جن کے زخموں سے رُکا ہوا لمف رِس رِس کر باہر ٹپکتا تھا اور24گھنٹے کے دوران ایک لیٹر کے لگ بھگ لمف کپڑوں‘بستر اورپٹی پر خارج ہوجاتا۔ایسی حالت کو لمفوریا (lymphorrhea) کہاجاتا ہے۔

 

 خون اور لمف کی گردش میں فرق
نظام خون اور نظام لمف میں ایک بڑا فرق اس کی گردش سے متعلق ہے۔ خون کو دباﺅ(blood pressure)کے ذریعے حرکت میں لایاجاتا ہے جس کے لئے قدرت نے دل کی صورت میں ایک پمپ پیدا کیا ہے۔ لمفی نظام میں یہ کام والوز (valves) انجام دیتے ہیں جو لمفی نالیوں(lymphatic vessels) میں جا بجا لگے ہوتے ہیں۔ ان کی وجہ سے لمفی مادہ صرف آگے کی جانب حرکت کر سکتا ہے۔ اسے آگے دھکیلنے میں ان نالیوں کے پٹھے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لمفی نالیوںکی ”دھڑکن“ کے علاوہ سانس کازیرو بم بھی لمف کو حرکت میں لاتاہے ۔یہ سیال مادہ گردن‘ جانگوں اور بغل کے لمف نوڈزسے چھننے کے بعد پیٹ اور سینے کی گہرائیوں میں سے ہوتا ہوا دوبڑی نسوں) (ductsمیں سے گزر کر گردن کی شریانوں ((veinsمیںشامل ہو جاتا ہے۔
ٹانگوں سے جو لمف آگے بڑھتا ہے‘ اس کا کچھ حصہ اُن لمفی نالیوں میں سے گزرتا ہے جو گہری نہیںہوتیں تاہم زیادہ تر لمف پیٹ کی گہرائیوں میں سے ہوکر گزرتاہے۔ واضح رہے کہ پیٹ کے تمام اعضاءمثلاً معدے ‘ انتڑیوں‘ لبلبے‘ جگر اور گردوں کے اردگرد ہر جگہ لمف نوڈز موجود ہوتے ہیں۔

 چکنائیاں اور لمفی نظام
ہمارا نظام انہضام چکنائیوں کو ہضم کرنے کے بعد لمفی نظام کے حوالے کر دیتا ہے۔ انتڑیوں کی اندرونی سطح پر انگلیوں کی مانند چھوٹے اور باریک ابھار (villi)ہوتے ہیں جن کی وجہ سے اُن انتڑیوں کی جذب کرنے والی سطح میں کئی گُنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ انہی ”وِلائی“ کے درمیان لمفی نالی بھی ہوتی ہے جس میں ہضم شدہ چکنائی براہ راست جذب ہوجاتی ہے۔ یوں جب یہ لمفی نالیاں پیٹ کی گہرائیوں سے آگے سینے کی جانب بڑھتی ہیںتواُن میں ہضم شدہ چکنائی بھی خاصی مقدار میں شامل ہوچکی ہوتی ہے۔ ایسے لمف کو کائیل (chyle)کہتے ہیںجس کا رنگ دُودھیا ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ولائی (villi) میںموجود ان نالیوں کو سنٹرل لیکٹِیلز (central lacteals) کہتے ہیں۔

 لمف نوڈز‘موثر چھلنیاں
اس کے بعد لمف چھاتی کی نالی (thoracic duct) سے ہوتا ہوا ہنسلی کی ہڈی کے نیچے سے گزرنے والی شریان (subclavian vein)میں شامل ہوجاتا ہے۔ بیرونی اجسام ‘ جراثیم ‘ ٹوٹے پھوٹے خلیوں کا ملبہ اورکینسر زدہ خلیوں کو لمف نوڈز چھان لیتے ہیں۔یوں لمفی نالیوں کی چھان پھٹک اوران میں سے چھننے کے بعد اڑھائی سے تین لیٹر لمف صاف حالت میںخون میں پہنچایا جاتا ہے جس میں لمفوسائٹس(سفید خونی ذرے ) اینٹی باڈیز اور چکناہٹ (جو راستے میں نظام انہضام سے لی گئی تھی )‘سبھی شامل ہوچکے ہوتے ہیں۔ اگر کسی وجہ سے لمف نوڈز یا لمفی نالیوں کو نقصان پہنچا ہوتو لمف ٹھیک طرح سے بہہ (drain)نہیں سکتا جس کی وجہ سے وہاں پانی جمع ہو کر سوجن کا باعث بن جاتا ہے۔

 لمفی نظام اورسرطان
کئی امراض بھی لمفی نظام پر اثرانداز ہو کرلمف کی حرکت میں رکاوٹ پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ جب کسی شخص کو چھاتی‘ ہاتھ یا ٹانگ پر کینسر ہوجاتا ہے تو سرجن حضرات نہ صرف کینسر کی رسولی کو کاٹ کر ہٹاتے ہیں بلکہ بعض اوقات بغل یا جانگوں کے غدوداور لمفی نالیوں کو بھی نکال دیتے ہیں۔ وہ آپریشن کے بعد شعاعیں (radiation)بھی لگاتے ہیں تاکہ کینسر کے بچے کھچے خلیوں کو بھی ختم کیا جا سکے۔ اس عمل میں لمفی نالیوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے جس سے لمف کی نکاسی (drainage) متاثر ہوتی ہے۔ ان افرادکی ٹانگ یا بازو کے سوج جانے کا سبب یہی ہوتا ہے اور ایسی حالت کو لمف ایڈیما (lymphedema)کہاجاتا ہے۔
لمف نوڈز میں پایا جانے والا کینسراکثر صورتوں میں آس پاس کے اعضاءسے ان تک پہنچتا ہے اور یہ نوڈز سرحدی چوکیوں پر تعینات چاق چوبند سپاہیوں کی طرح انہیں آگے بڑھنے سے روک دیتے ہیں۔ کینسرزدہ مریض کے لمف نوڈز کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاتا ہے کہ ان کا مرض کس مر حملے میں ہے۔ اگر لمف نوڈز گلٹی بنالیںتو اس کا مطلب یہ ہے کہ کینسر اگلے مرحلے تک پہنچ گیا ہے۔ یوں ان کا مرض کی پیشنگوئی (prognosis)کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔

اگرلمف نوڈزمیں کینسرزدہ خلئے نہ ہوںتو علاج کے زیادہ اچھے نتائج حاصل ہوسکتے ہیں۔ اس لئے اگر کوئی شخص اپنی بغلوں‘ جانگوں یا کسی اور جگہ پر غیرمعمولی سوجن پائے تو اُسے فوراً طبی معائنہ کروانا چاہیے۔بہت سی خواتین اسے محسوس کرنے کے باوجود اپنے شوہروں‘ ماﺅں یا بڑوں کو نہیں بتاتیں اور نوبت بغل میںگلٹی تک پہنچ جاتی ہے۔ بعض عورتیں اس مرحلے پر بھی لاعلمی یا شرم کی وجہ سے بات کو چھپائے رکھتی ہیں‘حالانکہ چھاتی کے سرطان کا تب ہی تسلی بخش علاج ہوسکتا ہے جب وہ ابتدائی مرحلے میں ہی تشخیص ہو جائے۔
ہماری ایک رشتہ دار نوجوان لڑکی کو کینسر ہوا۔ وہ نہ صرف خود اعلیٰ تعلیم یافتہ تھی بلکہ اس کا والد بھی ایک کالج میں پروفیسر تھا۔سمجھدار اور تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اس نے اپنے سینے کی غیرمعمولی سوجن کو اس وقت تک چھپائے رکھا جب تک اس کا کینسر سارے جسم اور ہڈیوں میں نہیں پھیل گیا۔ وہ بیچاری 23سال کی عمر میں دردناک حالت میں اللہ کو پیاری ہوگئی۔ خواتین کو ایسے حالات سے بچنے کے لئے بروقت اس کا نوٹس لینا چاہیے اور فوری عملی اقدام کرنا چاہئے۔

اگرچہ ان لمف نوڈز میں کینسرزیادہ تر آس پاس کے اعضاءسے آتا ہے لیکن کئی ایسے کینسر بھی ہیں جو لمفی نظام میں ہی شروع ہوتے ہیں۔ انہیں خطرناک لمفوما (malignant lymphoma) کہاجاتاہے۔ان میں مرض ہاجکن (hodgkin’s disease) زیادہ مشہور ہے جس میں لمفی غدود بڑھ جاتے ہیں‘ بخار ہوتا ہے اور خون کی کمی ہو جاتی ہے۔ اس کا علاج اب ممکن ہے۔ ایک اور سرطان برکٹس لمفوما (Burkitt’s lymphoma) ہے جو زیادہ تر افریقی بچوں میں پایاجاتا ہے۔ یہ کینسر ان لوگوں میں زیادہ ہوتے ہےں جو جسمانی کمزوری کا شکار ہوں۔ اس کے علاوہ خون کا کینسر (leukemia) بھی عام ہے جس کی کئی قسمیں ہیں۔ان میں بھی لمف نوڈز اور تِلی بڑھ کر بڑے ہوجاتے ہیں۔