لنچ بکس کیسا ہو

242

بہت سی مائیں اس بات پر فکرمند رہتی ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو لنچ میں کیا دیں، اس لئے کہ گھر میں پکے معمول کے کھانے انہیں پسند ہی نہیں آتے ۔ایسے میں بہت سے بچے سکول میں اپنا لنچ بکس کھولنے کی بھی زحمت نہیں کرتے۔ جن بچوں کو گھر سے
باز پرس کاخدشہ ہو، وہ تفریح کے اوقات میں اپنا لنچ پھینک دیتے ہیں یا کسی اور دوست کو کھلا دیتے ہیں ۔زیر نظر مضمون میں
صبا عمران نے ماہرغذائیات سے گفتگو کی روشنی میں کچھ حل تجویز کئے ہیں


 

’امی! کل آپ مجھے لنچ میں نگٹس دینا‘،’ میں لنچ میں صرف برگر لے کر جاﺅں گا،آپ لنچ میںروزانہ ایک ہی طرح کا کھاناکیوں دیتی ہیں۔میں تو اس سے تنگ آ گئی ہوں۔‘
یہ وہ جملے ہیں جو آج کل تقریباً ہر گھر میں ماﺅں کو اپنے بچوں کی طرف سے سننے کو ملتے ہیں۔بہت سے بچے لنچ بکس میں دی جانے والی چیزیں پسند نہ ہونے کی وجہ سے سکول میں لنچ پھینک دیتے ہیں یا کسی اور کو کھلا دیتے ہیں۔ اس طرح وہ خود یا تو بھوکے واپس آتے ہیں یا کنٹین سے خریدے گئے جنک فوڈ پر گزارہ کرتے ہیں۔پچھلے چند سالوں کے دوران پاکستان میں جنک فوڈ کا رجحان تیزی سے بڑھا ہے۔خصوصاً بچے اور نوجوان اس سے بُری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
جنک فوڈ کے زیادہ استعمال سے بچوں میںموٹاپا بڑھ رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر 10 میںسے ایک بچہ موٹاپے کا شکار ہے جو متعدد بیماریوں کی جڑ ہے۔ یونیورسٹی آف فیصل آباد میں ’فوڈ سائنسزڈپارٹمنٹ“کے سابق سربراہ اور ماہرغذائیات پروفیسر ڈاکٹر عمیر ارشد باجوہ کہتے ہیں:
”عام خیال یہی ہے کہ موٹابچہ ہی صحت مندہے حالانکہ موٹاپا کسی طور صحت مندی کی علامت نہیں۔ ہمیں چاہئے کہ اس سوچ کو بدلیں اور بچوں کو صحت بخش خوراک دیں جو اُنہیں صحت مند رکھے اور غیر ضروری طور پر موٹا نہ کرے۔“

ان کے بقول ہمارے ہاں اچھی خوراک سے مراد پروٹین کی حامل غذائیں لی جاتی ہے۔ حالانکہ ’اچھی‘ غذا کا مطلب متوازن غذاہے جس میں تمام فوڈ گروپس شامل ہوں۔ ان کے مطابق غیر متوازن اور ایک ہی قسم کی غذا مسلسل کھانے سے ہمارے جسم کو ضروری وٹامنز اور منرلز حاصل نہیں ہوپاتے۔
ڈاکٹرباجوہ کے مطابق موٹے بچوں کی ذہنی اور جسمانی، دونوں طرح کی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں۔ وہ جلد تھکن کا شکار ہوتے ہیں اور انہیں نیند بھی زیادہ آتی ہے۔مزید براں وہ پھر تیلے نہیں ہوتے اور بھاگ دوڑ اور کھیل کود میں اُنہیں دبلے بچوں کی نسبت زیادہ مشکل پیش آتی ہے۔
بچے اپنے دن کا زیادہ تروقت سکول میں گزارتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ وہاں بھی صحت بخش لنچ اور جسمانی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے۔اس تناظر میں ضروری ہے کہ اساتذہ اور والدین دونوں کو غذا اور غذائیت کے حوالے سے آگاہ کیا جائے۔

بچوں کے لئے اپنے من پسند کھانے ترک کرنا مشکل ہوتا ہے۔ دوسری طرف ماﺅں کو بھی ان کی غیر صحت مندانہ عادات تبدیل کرانے میں دقت محسوس ہوتی ہے۔اگر انہیں فوائد کا اندازہ ہوجائے تو وہ یقیناً اس دقت کو بخوشی قبول کریں گی۔
ماﺅں کو چاہئے کہ بچوں کو روزانہ لنچ تبدیل کرکے دیں‘ اس لئے کہ ایک ہی طرح کی چیزیں روزانہ کھانے سے بچے بوریت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس سلسلے میں درج ذیل ہفتہ وار چارٹ سے مدد لی جا سکتی ہے:

پیر:روٹی یا پراٹھا۔آلو کا پراٹھا۔مولی والا پراٹھا۔چکن پراٹھا۔
منگل:چاول‘پلاﺅ‘ زردہ‘ مٹر پلاﺅ (جو بھی آپ کے بچے کو پسند ہو)۔
بدھ:گندم یا جو کا دلیہ (نمکین یا میٹھا)۔اس میں آپ پھل اورسبزیاں بھی شامل کرسکتی ہیں۔
جمعرات:اُبلے ہوئے چنے‘ لوبیا‘ مٹروغیرہ
جمعہ:انڈا (اُبلا ہوا ‘آملیٹ یا فرائی )۔

اس کے علاوہ آپ بچے کو آلو چنے کی چاٹ بنا کر دے سکتی ہیں جو کینٹین میں فروخت ہونے والی چاٹ سے کئی گنا صاف ستھری اور بہتر ہوگی۔فروٹ چاٹ اور سلاد بھی بچوں کے لئے مفید ہے۔آپ بچے کو ورائٹی دینے کے لئے مختلف طرح کی سلاد بناسکتی ہیں۔
سوجی کا حلوہ غذائیت سے بھرپور ہوتاہے۔اسے ذرا خشک شکل میں مٹھائی کی طرح بنا کربچوں کو دیا جا سکتا ہے۔ سردیوںمیں آپ انڈوں کا حلوہ اور گاجر کا حلوہ بھی انہیں لنچ بکس میں دے سکتی ہیں۔ یہ غذائیت سے بھرپور ہوتے ہیں۔

سبزیاں اور پھل رنگوں کی بہار لئے ہوتے ہیں۔بچے رنگوں کی طرف کھنچتے ہیں‘ اس لئے آپ انہیں ان کے لنچ بکس میں ضرور رکھیں۔بچوں کو شامی کباب اور آلو والی ٹکی گھر پر بناکردیں۔چپس اور مختلف طرح کے سینڈوچ بھی بچوں کو ورائٹی فراہم کرسکتے ہیں۔
وٹامنز اور منرلز کے علاوہ ہمارے جسم کو پروٹین کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔اس لئے آپ مرغی‘ مچھلی‘ یا گوشت مختلف طرح سے بناکر بچے کو دے سکتی ہیں۔ کوشش کریں کہ مچھلی، گوشت یا مرغی فرائی کرنے کی بجائے اُبلی ہوئی یاسٹیم کر کے بچے کو دیں۔
ڈاکٹرباجوہ کے مطابق ماﺅں کو ایجوکیٹ کرنے کے ساتھ ساتھ سکولوں کو بھی ہدایت کرنی چاہیے کہ وہ کینٹینوں میں صرف ایسے کھانے رکھےں جو صحت کے اصولوں کے مطابق اور صحت بخش ہوں۔ جن غذاﺅں میں شکر کی مقداریا نقصان دہ چکنائیاںزیادہ ہوں، انہیں سکول کینٹین میں رکھنے سے منع کیاجانا چاہیے:

”اساتذہ کوچاہیے کہ بچوں کو ایسے لنچ کی تلقین کریںجو غذائیت سے بھرپور اور ان کی صحت کے لئے اچھے ہوں۔ وہ بچوں کے درمیان مختلف مقابلے کروا کر اُ نہیں صحت بخش غذائی عادات کی طرف راغب کرسکتے ہیں۔“
ترقی پذیر ملکوں کے بچے کسی جگہ غربت تو کسی جگہ شعور کی کمی کی وجہ سے غذائی کمی کاشکار ہیں ۔ ہمیں چاہئے کہ ماﺅں اور بچوں، دونوں میں اس حوالے سے شعور اجاگر کریں۔دیکھا گیا ہے کہ کھانے پینے کے حوالے سے بہت سی ماﺅں کی اپنی عادات بھی ٹھیک نہیں ہوتیں۔ وہ اپنی عادات درست کریں تاکہ بچے رغبت سے ان کی پیروی کر سکیں۔ مزید براںانہیں چاہئے کہ بچوں پر اپنی بات ٹھونسنے کی بجائے انہیں سمجھانے اور قائل کرنے کی کوشش کریں۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

High blood pressure patients can control their problem by making simple dietary changes. With balanc

Blood

پھل متوازن غذا کا اہم جزو ہیں جن میں موجودوٹامنز اورمع

Eggs are ‘hot’ and oranges are ‘cold’; excessive milk intake gives fairer complexion and tea

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of