جگـر’ پرہیز سےٹرانسپلانٹ تک

8

جگـر’ پرہیزسے ٹرانسپلانٹ تک

جگرانسانی جسم کا ایک ایسا عضو ہے جس کی صحت کے ساتھ تمام جسم کی صحت اوراس کی بیماری کے ساتھ دیگراعضاء کی بیماری وابستہ ہے‘ لہٰذا اسے بہت سنجیدہ لینے کی ضرورت ہے۔ چربیلا جگر‘ ہیپا ٹائٹس بی اورسی اس کی اہم بیماریاں ہیں۔ ابتدائی مرحلے پر ان کا علاج ممکن ہے۔ دوسری صورت میں آخری حل اس کی پیوند کاری ہے جو بہت مہنگا بھی ہے اورتکلیف دہ بھی‘ اس لئے کوشش کریں کہ نوبت اس حد تک نہ پہنچے۔ مزید تفصیلات پڑھئے شفا انٹر نیشنل ہسپتال اسلام آباد کے جگرکی پیوندکاری کے ماہر ڈاکٹر فیصل سعود ڈارکے صباحت نسیم کو دیئے گئے اس انٹر ویو میں

جگر کیا ہے اورجسم میں اس کا کیا کردار ہے؟

جگر جسم کے اندرموجود سب سے بڑاعضو ہے جسے ایک اہم میٹابولک عضو بھی کہا جاسکتا ہے‘ اس لئے کہ یہ خوراک کوچھوٹے اجزاء میں تقسیم کر کے توانائی کی شکل دینے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جگرپیٹ میں اوپرکی جانب دائیں طرف نصب ہوتا ہے جس کے دو حصے ہیں۔ ان میں سے ایک کو دایاں اوردوسرے کوبایاں لوب کہا جاتا ہے۔ جگر کے بنیادی افعال میں گلوکوز پیدا اوراسے ذخیرہ کرنا،غذا میں موجود چربی کو ہضم کرنے کے لئے بائیل نامی تیزاب (ایک سبزی مائل پیلے رنگ کا محلول جو کھانے کو ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے) کی تیاری، خوراک کے آنتوں میں ہضم ہونے کے بعد جگر میں پہنچنے پر اسے توانائی کی شکل دے کر پورے جسم میں پھیلا دینا، جسم میں بننے والے زہریلے مادوں کو گردوں کے ذریعے خارج کرنا، ہر قسم کی ادویات کامیٹابولزم کرنا، وٹامن اے اور ڈی مہیا کرنا‘خون کو جمنے میں مدد دینے والی اور اسے جمنے سے روکنے والی پروٹینزبنانا‘ ،جسم میں پیدا ہونے والے یوریا کو توڑ کر چھوٹے ذروں میں تقسیم کر کے جسم سے خارج کرنا، اینٹی باڈیز اورصحت بخش کولیسٹرول بنانا وغیرہ شامل ہیں۔ جس طرح کھانا کھانے کے بعد دسترخوان صاف کیا جاتا ہے‘ اسی طرح غذا ہضم ہونے کے بعد جگر بھی جسم کی صفائی کرتاہے۔

جگر کی عام بیماریاں کون سی ہیں اوران کا علاج کیا ہے؟

جگر کی عام بیماریوں میں ہیباٹائٹس اے‘ بی ‘سی اور ای، چربیلا جگر،جگر کا سکڑ جانا، جگر کا کینسر،جگر کا ناکارہ ہوجانا، پتے کی پتھریاں،پتے کا کینسرہونا، جگر میں پیپ والے دانے، آنتوں کا کینسر،جگر میں فاسد مادوں کی تھیلی کا بننا،جگر میں ایسی رسولیاں بننا جوسرطان زدہ نہیں ہوتیں لہٰذا علاج کے بعد دوبارہ پیدا نہیں ہوتیں وغیرہ شامل ہیں۔ جگر کے وہ تمام مسائل جن کا علاج دواؤں سے ممکن ہے‘ وہ ماہرامراض معدہ‘ جگر اور آنت کے دائرہ اختیارمیں آتے ہیں۔ ہمارے شعبے کوہیپاٹو پنکریاٹیکو بائلری سرجری کہا جاتا ہے جس میں جگر،معدے کے تیزاب کی نالی ،پتے،لبلے اورمعدے کے تمام مسائل کا علاج کیا جاتا ہے۔ جگر کی نالیوں کے بند ہوجانے کی صورت میں انہیں کھولنا،پیٹ کی رسولیوں کا علاج اورگردے کی ان رسولیوں کا علاج بھی کیا جاتا ہے جو خون کی بڑی نالی میں چلی جاتی ہیں اوراگر ضروی ہو تو اس نالی کو تبدیل بھی کیا جاتا ہے ۔ الغرض وہ تمام مسائل جن کا علاج آپریشن یاپیوندکاری سے ممکن ہو‘ اس شعبے میں کیا جاتا ہے ۔

آپ نے چربیلے جگر کا ذکر کیا۔ اس سے کیا مراد ہے؟

جب جگرکے اردگرد یااس کے اندرزیادہ مقدار میں چربی جمع ہوجائے توایک خاص کیفیت پیدا ہوجاتی ہے جسے عام زبان میں ’فیٹی لیور‘ اور میڈیسن کی اصطلاح میں سٹی ٹوسس کہا جاتا ہے۔ اگر اس کا علاج بروقت نہ کیا جائے تو یہ کئی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔

جگر چربیلا کیوں ہو جاتا ہے ؟

اس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں موٹاپا‘ الکوحل یا کیفین کا زیادہ استعمال‘ بڑھا ہوا کولیسٹرول‘ ٹائپ 2 ذیابیطس‘ کچھ ادویات کا منفی ردعمل اوروراثتی عوامل نمایاں ہیں۔ اس کے علاوہ ناقص خوراک یاغذائی کمی بھی اس مرض کا باعث بن سکتی ہے۔

اس مرض کی علامات کیا ہیں؟

اس کی بہت سی علامات ہیں جن میں کسی معلوم وجہ کے بغیر شدیدتھکن ہونا‘ بہت زیادہ پسینہ اورجسم سے بدبو آنا‘چہرے پر دانے یا کیل مہاسے نکل آنا‘ سانس میں بدبوپیدا ہوجانا‘ پیٹ کے بالائی حصے میں دائیں جانب درد ہونا‘ کھانے کے بعد بھاری پن محسوس ہونا‘ اپھارہ‘ بھوک نہ لگنا‘ قبض‘ پیٹ کی سوزش اوربخار شامل ہیں۔ یہ علامات کئی بیماریوں کی ہیں لہٰذا ڈاکٹرہی صحیح فیصلہ کرسکتا ہے کہ اصل مرض کیا ہے۔

جگر کی پیوندگاری کب کی جاتی ہے ؟

اگر کسی کے جسم میں جگر کسی بیماری کے باعث اس حد تک خراب ہوجائے کہ اپنے افعال مکمل طورپر سرانجام نہ دے سکے تو بیمار جگر کو صحت مند جگر سے بدل دیا جاتا ہے۔ میڈیسن کی زبان میں اسے جگر کی پیوندکاری کہتے ہیں۔

یہ کن مریضوں کو تجویز کی جاتی ہے؟

جگر ایسا عضو ہے جو آخری وقت تک اپنی مدد آپ کے تحت اپنی مرمت کا عمل جاری رکھ سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جگر کے کینسر یااس کے ناکارہ ہونے کی علامات ابتدا میں ظاہر نہیں ہوتیں اورجب وہ ظاہر ہوتی ہیں توبہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ ایسے میں ڈاکٹر کے پاس پیوندکاری کے علاوہ اور کوئی چارہ باقی نہیں رہ جاتا۔ جگرناکارہ ہونے کی علامات میں پیٹ کی اوپری دائیں طرف درد، دائیں کندھے میں درد،بھوک ، وزن میں کمی، متلی اورخون کی الٹیوں کا آنا، غنودگی ہونا یا بے ہوشی کے دورے پڑنا، پیٹ میں بالائی جانب گلٹیاں بننا، پیلا یرقان ہونا، کالے رنگ کا پاخانہ آنا ،گردوں کا فیل ہوجانااور پیٹ میں پانی پڑ جانا شامل ہیں۔

جگر کی پیوندگاری کے لئے جگر کہاں سے آتا ہے ؟

جگر کی پیوندکاری کی دواقسام ہیں۔ پہلی کوقدرتی حالت میں پیوندکاری کہتے ہیں۔ اس میں ان لوگوں کا جگراستعمال ہوتا ہے جو کسی حادثے میں جان کی بازی ہارجائیں یا طبعی طور پر فوت ہو جائیں لیکن مرنے سے قبل انہوں نے اپنا جگر عطیہ کردیا ہو۔ اس میں یہ ضرور دیکھا جاتا ہے کہ انہیں کوئی ایسی بیماری نہ ہو جو مریض کے جسم میں منتقل ہوسکتی ہو۔ اس قسم کی پیوندگاری میں متوفی کا مکمل جگر مریض کو لگادیا جاتا ہے۔ دوسری قسم کو زندہ شخص کے جگر کی پیوندکاری کہا جاتا ہے۔ اس میں زندہ ڈونر کے جگر کا ایک کونا کاٹ کرمریض کے جگر میں پیوند کردیا جاتا ہے۔ عموماًجگر کی دائیں طرف بڑی ہوتی ہے‘ اس لئے یہ بڑے اوربزرگ مریضوں کو عطیہ کی جاتی ہے جبکہ جگر کی بائیں طرف چھوٹی ہونے کے باعث بچوں کو لگائی جاتی ہے۔ جگر میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ دوبارہ نشونما پاسکتا ہے۔ اس لئے لگائی گئی ایک لوب کچھ عرصے میں مکمل جگر کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

کون لوگ جگر عطیہ کر سکتے ہیں ؟

ایسا فرد جو اپنے جسم کا کوئی عضو، ٹشو یا خون دوسرے فرد کوعطیہ کرے ‘اسے ڈونر کہا جاتا ہے۔ جگر کے ڈونر کی عمر کم از کم 18سال ہونی چاہئے اوراس کے خون کا گروپ وہی ہونا چاہئے جو مریض کے خون کا ہے۔ کچھ لیبارٹری ٹیسٹوں سے اس بات کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ عطیہ کرنے والے کا جگر مکمل فعال ہے یا نہیں‘اور اگراس کے جگر کاایک ٹکڑا لے لیا جائے تو اس سے ڈونر کی صحت پر کوئی برا اثر تو نہیں پڑے گا۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ جگرعطیہ کرنے کا فیصلہ اپنی آزاد مرضی سے کرے۔ اگرچہ طبی طور پر یہ ضروری نہیں کہ صرف قریبی رشتہ دار ہی جگر کا عطیہ دے سکتے ہیں لیکن پاکستانی قانون کے مطابق یہ ضروری ہے کہ سب سے پہلے قریبی رشتہ دارہی اس کا عطیہ کریں ۔ ان رشتہ داروں میں مریض کے بھائی بہن، والدین ،بیوی اور بچے شامل ہیں۔

ڈونر کتنے عرصے میں مکمل طور پر صحت یاب ہوجاتا ہے؟

ڈونر کا بھی کافی بڑا آپریشن ہوتا ہے لہٰذا اس کے لئے ہسپتال میں 8 سے 10دن گزارنا ضروری ہوتاہے جس کے بعد اسے گھر بھیج دیا جاتا ہے۔ تقریباً ایک ہفتے تک اسے درد کی ادویات کھانا پڑتی ہیں جس کے بعد وہ اپنی روزمرہ کی سرگرمیاں بخوبی سرانجام دے سکتا ہے ۔

ڈونر کے لئے آپریشن کے بعد کی احتیاطیں کیا ہیں؟

اگرکوئی خاص پیچیدگی نہ ہو تو انہیں یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ آپریشن کے بعد پہلے تین ماہ تک وہ وزن اٹھانے ، مشقت والی وزرشیں کرنے‘ اور گاڑی چلانے سے پرہیز کریں تاکہ کسی قسم کے کھچاؤ کی وجہ سے زخم کے ٹانکے نہ ٹوٹیں اورکوئی انفیکشن نہ ہوجائے۔ ان کے لئے کھانے پینے میں کوئی خاص احتیاط ضروری نہیں۔

 پیوندکاری سے پہلے مریض کے لئے کیا احتیاطیں ہوتی ہیں؟

چونکہ ان مریضوں کی حالت ٹھیک نہیں ہوتی‘اس لئے ایسی حالت میں مریض کی پیوندکاری کے لئے صحیح وقت کا انتخاب نہایت ضروری ہے۔ اس میں تاخیر کی صورت میں دیگر اعضاء مثلاً گردے اورپھیپھڑے وغیرہ بھی اس بیماری کی لپیٹ میں آکرکام چھوڑسکتے ہیں۔ ایسے میں جگرکی پیوندکاری کچھ زیادہ سودمند نہیں ہوگی ۔ اگرمریض میں اتنے بڑے آپریشن کو برداشت کرنے کی ہمت نہ ہو تواس کی جان کو خطرہ بھی لاحق ہوسکتا ہے۔ اس لئے بروقت تشخیص اور پیوندکاری ہی صحت مند زندگی کی ضمانت ہوسکتی ہے۔

آپریشن کا طریقہ کار کیا ہے؟

سب سے پہلے مریض کا معائنہ کرکے یہ پتا لگایا جاتا ہے کہ مریض کو پیوندکاری کی ضرورت ہے بھی یا نہیں اور دوسرا یہ کہ کیامریض میں اتنی طاقت ہے کہ وہ آپریشن کی سختی برداشت کر جائے اورمکمل صحت یاب ہوسکے۔ اس کے بعد سرکاری ادارے سے اجازت کے بعد آپریشن کا دن مقرر کیا جاتا ہے ۔عموماً پیوندکاری سے ایک دن پہلے عطیہ دینے اور لینے والے‘دونوں کو ہسپتال میں داخل کیا جاتا ہے۔ دونوں کا آپریشن ایک ہی وقت میں دو مختلف آپریشن تھیٹروں میں ہورہا ہوتا ہے۔ ڈونر کے آپریشن پرپانچ سے چھ گھنٹے لگتے ہیں جبکہ مریض کے آپریشن کا دورانیہ اوسطاً نو گھنٹے ہوتا ہے۔ آپریشن کے بعد دونوں کو ہسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں بھجوا دیا جاتا ہے جہاں ڈونر دو دن اورمریض پانچ سے سات دن تک رہتا ہے ۔ پھرا نہیں وارڈ میں منتقل کردیا جاتا ہے۔

مریض کے لئے آپریشن کے بعد کی احتیاطیں کیا ہیں؟

ہمارے جسم کا مدافعتی نظام اندر داخل ہونے والے کسی بھی بیرونی جسم کو ناکارہ بنا دیتا ہے۔ مہمان جگر کو اس سے بچانے کے لئے مریض کو ایسی ادویات دی جاتی ہیں جو اس کی قوت مدافعت کوکم کر سکیں۔ وقت گزرنے اورمریض کی حالت میں بہتری کے ساتھ ساتھ ان ادویات کی مقدار بھی کم کردی جاتی ہے۔ مریض کو معالج کے ساتھ رابطے میں رہنا ہوتا ہے تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ مریض کا جگر صحیح کام کررہا ہے یا نہیں اور کیا دوائوں کا اس کی صحت پر کوئی برا اثرتو نہیں ہورہا۔

پیوندکاری کے بعد ہونے والی پیچیدگیاں کون سی ہیں؟

انسانی جسم میں مدافعتی نظام اسے مختلف بیماریوں،سرطان اورانفکشنز کے خلاف لڑنے میں مدد دیتا ہے۔ چونکہ پیوندکاری کے مریضوں کی قوت مدافعت کو ادویات کی مدد سے کمزورکردیا جاتا ہے۔ لہٰذا ان میں انفکشنزکے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ ا س لئے ان مریضوں کو یہ سمجھایا جاتا ہے کہ انہیں انفکشنز سے خاص طور پر بچنا ہے۔ انہیں ہجوم میں جانے سے اجتناب کرنا چاہئے اوراگرایسا کرناضروری ہو تو پھر ماسک کااستعمال ضرور کریں۔اپنی اور اپنے گھر کی صفائی کا خاص خیال رکھیں، کھانے پینے میں احتیاط کریں اورخاص طورپر باہر کی اشیاء سے مکمل پرہیز کریں۔مندرجہ بالا احتیاطوں پر پہلے چھ ماہ سختی سے عمل کرنے کی تجویز دی جاتی ہے۔ پھرجیسے جیسے مریض کی حالت بہتر ہوتی جاتی ہے‘ ایسے ایسے ان پابندیوں میں بھی کسی حد تک کمی آتی جاتی ہے۔

اگر جسم پیوند کردہ عضو کو قبول نہ کرے تو کیا کیا جاتا ہے؟

ایک یا دوفی صد صورتوں میں ایسا ہوتا ہے کہ جسم پیوندکردہ عضو کوشدت سے مسترد کردیتا ہے یا دیگر اعضاء بری طرح متاثر ہونے لگتے ہیں۔ ایسے میں دوبارہ پیوندکاری کی جاتی ہے ورنہ مریض کی جان جا سکتی ہے۔

کیا جسم سے جگر نکالنے کے بعداسے محفوظ رکھا جاسکتا ہے؟

جسم سے جگر نکالنے کے بعد اسے ایک خاص محلول میں تقریباًچارڈگری سینٹی گریڈ پر محفوظ کر لیا جاتا ہے‘ تاہم اسے صرف چھ سے بارہ گھنٹے تک ہی محفوظ کیا جاسکتا ہے۔اس کے بعدیہ فعال نہیں رہتا۔

شفا کے ٹرانسپلانٹ کے عملے نے اس کام کی ٹریننگ کہاں سے لی ہے ؟ اور وہ کن مراحل میں سے گزر ے ہیں ؟

یہاں اس پروگرام کی بنیاد میں نے ہی رکھی تھی اورمیں نے اپنی ٹریننگ لندن کے کنگز کالج ہسپتال سے حاصل کی تھی۔ یہاں کی باقی ٹیم کو بھی میں نے ہی تربیت دی ۔ پھر یہ ٹیم ایک ماہ کے لئے بیرون ملک بھی گئی جہاں اس نے عملی طور پر ٹرانسپلانٹ دیکھے اور اس کی باقاعدہ تربیت بھی حاصل کی۔

یہ بتائیے کہ جگر کو صحت مند رکھنے والی غذائیں کون سی ہیں؟

 جگر کو صحت مند رکھنے کے لئے انڈے‘مچھلی‘مرغی کا گوشت اورلوبیا نہایت مفید ہیں۔ چقندر‘شکرقندی‘پھول گوبھی‘ پیاز‘ لیموں‘ دالیں‘اناج ‘ناریل کا تیل اورالسی کے بیج بھی اس حوالے سے فائدہ مند ہیں۔ اگرگنے کے رس نکالنے میں صفائی کاخیال رکھا گیا ہو تو یہ بھی بہت کارآمدہے۔ مزیدبرآں پھلوں اور تازہ سبزیوں کو اپنے معمول میں ضرور شامل کرنا چاہئے ۔ بہتر یہی ہے کہ خوراک کو ابال کر‘بھاپ دے کر اور گرِل کرکے استعمال کیا جائے۔ مزید برآں کیفین والے مشروبات ‘ چاکلیٹ‘ کافی ‘ پروسیسڈفوڈ ‘ مصنوعی مٹھاس ڈبوں میں بند خوراک‘ منجمد خوراک‘سافٹ ڈرنکس اورجنک فوڈ کا استعمال جتنا کم کریں اتنا بہتر ہے۔ ریشے دارغذائیں کھانے سے پیٹ بھرا محسوس ہوتا ہے جن سے وزن کم ہوتا ہے اورجگر بھی تقویت پاتا ہے‘ اس لئے انہیں اپنے معمول میں لازماً شامل رکھیں۔ مزیدبرآں ہمیں چاہئے کہ چہل قدمی یاورزش کی عادت ڈالیں اور کھانا کھانے کے فوراً بعد کبھی نہ سوئیں۔

frozen food, artificial sweetners, Human Organ Transplant Authority, living donor transplant

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x