ہارمونز کو جانیے

5

ہارمونز کو جانیے

 ہارمونز  پیغام کو ماخذ  سے ٹارگٹ خلیے تک لے کر جاتے ہیں اور اعضاء کو بتاتے ہیں کہ انہیں کیا کام انجام دینا ہے۔ ان کا کام رحم مادر سے شروع ہو کر آخری سانس تک جاری رہتا ہے۔ قدکا چھوٹا رہ جانا‘ وزن کا بڑھنا‘ چہرے پر بال، تھائی رائیڈ یا انسولین کا کام نہ کرناوغیرہ جیسے بہت سے مسائل کا تعلق ہارمونز سے بھی ہوتا ہے۔ مزاج کے اتارچڑھائو‘ مخصوص جنسی خواص اورذہنی تنائو جیسی علامات ‘ پٹھوں‘ اعصاب‘ سانس لینے یا خون کی گردش کے نظاموں کی فعالیت یا عدم فعالیت کادارومدار ہارمونز پرہوتا ہے۔

ہارمونزکیا ہیں

ہارمونز بنیادی طور پرکچھ رطوبتیں ہیں جن کا اخراج ہمارے جسم میں موجود مخصوص غدود سے ہوتا ہے۔ یہ رطوبتیں ہر وقت ہمارے خون میں گردش کرتی رہتی ہیں۔ ہمارا جسم میں اندرونی اعضاء کو ہارمونز ہی بتاتے ہیں کہ انہوں نے کیا کام کرنا ہے۔ جسم کو متوازن رکھنے کے لئے وقتی طور پر ان (ہارمونز) میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ مناسب ایڈجسٹمنٹ کے بعد یہ خود ہی نارمل ہو جاتے ہیں۔

غدود

غدود انسانی جسم کے اندر مختلف جگہوں پر پائے جاتے ہیں اور ان سب کا ’’بِگ باس‘ پچوٹری گلینڈ ہے۔ یہ گلینڈ اعصابی نظام کا حصہ ہے اور ہارمونز کے پورے نظام کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس کا براہِ راست تعلق دماغ کے اس حصے سے ہے جو ہائپو تھیلمس  کہلاتاہے۔ ہما را شعور‘ لاشعور‘ سوچیں‘ افکار اور طرزِ زندگی وغیرہ دماغ کے اسی حصے کے ذریعے پچوٹری گلینڈ پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہارمونز کے مسائل کا بنیادی تعلق دماغ سے ہے۔

دوسرا اہم ترین غدود ہماری گردن کے سامنے والے حصے میں پایا جاتاہے جسے تھائی رائیڈ کہتے ہیں۔ اس کے بعد لبلبہ ہے جو ہمارے جسم میں انسولین نامی ہارمون خارج کرتا ہے۔ اس سے تمام خلیوں کو گلوکوز ملتاہے اور خون میں اس کی مقدار کنٹرول میں رہتی ہے۔ تھائی رائیڈ کے ساتھ موجود ایک اور غدود ( پیرا تھائیرائیڈ) سے خارج کردہ ہارمون نمکیات اورکیلشیم کو کنٹرول کرتا ہے۔

گردوں کے اوپر دو چھوٹے غدود ہیں جو ایڈرینل گلینڈز کہلاتے ہیں۔ یہ ہمارے جنسی فرق کو قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ عورتوں کی بیضہ دانی اور مردوں کے خصئے  بھی اسی نظام کا حصہ ہیں۔

ہارمونز میں تبدیلی

عمر کے مختلف مراحل میں ہارمونز کا توازن بدلتا رہتا ہے۔ کبھی ایک تو کبھی دوسراگلینڈ زیادہ متحرک ہو جاتا ہے۔ بچہ جب رحمِ مادر میں ہوتا ہے تواس کے وہ ہارمونز متحرک ہو جاتے ہیں جو اسے مخصوص جنسی ساخت بخشتے ہیں۔ یوں اس کی ایک بچے یا بچی کے طور پر نشوونما ہوتی ہے۔ جب وہ دنیا میں سانس لیتا ہے تو اس کے یہ ہارمونز کام کرنا چھوڑدیتے ہیں یا ان کی پیداوار کم ہو جاتی ہے۔ پھر بلوغت کی عمر تک یہ اتنے مؤثر طریقے سے کام نہیں کرتے۔

 ہرانسان میں دونوں طرح ( زنانہ اور  مردانہ) ہارمونز ایک خاص توازن میں ہوتے ہیں۔ اگرزندگی کے کسی حصے میں یہ توازن بگڑ جائے تو جس ہارمون کی مقدار زیادہ ہوگی‘ اس کی علامات ظاہر ہوں گی۔ مثلاً اگر بچیوں کے اندر مردانہ ہارمونز کی مقدار بڑھ جائے گی تو ان کے چہروں پر بال آنے لگیں گے، آواز اور جلد موٹی ہو جائے گی۔  دیگر تبدیلیاں بھی  ظاہر ہونے لگیں گی۔ اسی طرح اگر مرد کے اندر زنانہ ہارمونز بڑھ جائیں تو اس کی چھاتیوں کی بڑھوتریاور آواز باریک ہوجائے گی۔ اس کے علاوہ  بالوں پر بھی اثر پڑے گا۔

اگر ہارمونز کا یہ توازن زمانہ بلوغت میں ڈسٹرب ہو جائے تو بچوں کے جسم کی بحیثیت لڑکا یا لڑکی ساخت بُری طرح متاثر ہوتی ہے۔ اس لئے سات سے آٹھ سال تک کی عمر میں ہارمونز کا چیک کرانا چاہئے ۔ قد کا چھوٹا رہ جانا آج کل ایک سنجیدہ مسئلہ ہے جو ہارمونز کی کمی کے باعث بہت سے بچوں کو درپیش ہے۔

نظام

جسم میں ہارمونز کا یہ نظام بہت سادہ ہے۔ غدود رطوبتوں کوخارج کرتا ہے جنہیں خون میں موجود پروٹین  مخصوص اعضاء تک لے جاتے ہیں جہاں ان کا اثر ہونا ہے۔ مثلاً جب پچوٹری گلینڈ تھائی رائیڈ ہارمون خارج کرتا ہے تو وہ خون ہی کے ذریعے گردن‘شریانوں‘ دل‘ پٹھوں اور دیگر اعضاء تک پہنچتا ہے۔

یعنی ایک طرف رطوبت بنانے والا خلیہ ہےاور دوسری طرف ٹارگٹ خلیہ جس پر رطوبت اثر انداز ہو رہی ہے۔ خون میں بہتی ان رطوبتوں کا کچھ حصہ متحرک جبکہ کچھ پروٹین کے ساتھ جڑا ہوا اورغیر متحرک ہوتا ہے۔ اگر ہارمونز کا نظام نارمل ہو تو متحرک حصہ اور پروٹین‘ دونوں کا سائز یکساں ہوتا ہے۔ اگر متحر ک حصے کا سائز چھوٹا جبکہ پروٹین کا سائز بڑا ہو‘ تو بھی ہارمونز کی بیماری سامنے آ سکتی ہے۔

سکریننگ

اچھی صحت اور مختلف مسائل سے بچنے کے لئے ہارمونز کے نظام اور فعالت کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔ اس کے لئے سکریننگ کرانی چاہئے۔ اس میں خون کے ایک ہی نمونے سے تمام ہارمونز کے بارے میں اندازہ لگا لیا جاتا ہے۔یعنی مسئلہ گلینڈ کا ہے، رطوبت کایا اس کے متحرک،غیر متحرک حصے کے سائز کا ۔ بروقت تشخیص ہوجائے اور علاج کرا لیا جائے تو انسان بہت سی پیچیدگیوں سے بچ سکتا ہے۔

Hormones, glands, function, screening, change in hormones

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x