سست آنکھ ہے کیا

3

سست آنکھ ہے کیا

سست آنکھ کو کم نظری سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ نظر کی نشوونما کا ایک ایسا مسئلہ ہے .اس میں ایک یا دونوں آنکھوں میں دماغ ساتھ بہتر رابطہ نہ ہونےکے باعث دیکھنے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے۔عینک لگانے سے بھی یہ کمی پوری نہیں کی جاسکتی ۔ ظاہراًآنکھ اور اس کا سارا حیاتیاتی نظام صحیح کام کرتا ہے۔ تاہم متاثرہ آنکھ بینائی کی کمی کی وجہ سے دماغ کے لئے اتنی کارآمد نہیں رہتی جتنی کہ ایک صحت مند آنکھ ہوتی ہے۔

دنیا میں تقریباً چار فی صد بچے آنکھ کی اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ بصارت کے کھوجانےکی ایک بڑی وجہ سمجھی جاتی ہے۔

وجوہات

٭ایک آنکھ کی بینائی کا دوسری آنکھ کی نسبت کم ہونا یا دونوں آنکھوں کی نظر کے درمیان واضح فرق کا پایا جانا۔

٭آنکھ کا ٹیڑھے پن یا بھینگے پن کا شکار ہونا۔

٭بچوں میں پیدائشی موتیے کا اثر آنا یا اس کی آنکھ کے پردے  کا دھندلاجانا۔ آنکھ کی پلکوں کا پیدائشی طور پر شفاف نہ ہونا وغیرہ۔

٭ انتہائی کیسز میں ایک وجہ آنکھ کا ٹیومر بھی بن سکتا ہے۔

مندرجہ بالا وجوہات کی بنا پرمتاثرہ آنکھ سے موصول ہونے والی کمزور یا دھندلی تصاویر دماغ کے لئے تکلیف کا باعث بنتی ہی۔ایسے میں وہ سرے سے کمزور آنکھ کے عکس کو ہی قبول کرنے سے انکار کرنے لگتا ہے۔اس کی وجہ سے آہستہ آہستہ آنکھ کی کارکردگی برائے نام رہ جاتی ہے۔ یوں بینائی کی عمومی ترقی رک جاتی ہے۔

تشخیص/علاج

اگر آٹھ سال سے قبل بچوں کو ہر چھ ماہ بعد آنکھوں کے معالج کو دکھایا جائے تو اس سے بچاؤ اورعلاج ممکن ہے۔ مسئلے کے بروقت سامنے آجانے سے اکثر صورتوں میں مستقل تکلیف سے بچا جا سکتا ہے۔

اس مرض کے علاج میں ڈاکٹر کے ساتھ تعاون بے حد ضروری ہے۔ سست آنکھ کا سبب ختم ہونے کے بعد دوسری صحت مند آنکھ کو پٹی،عینک،دوائی یا کنٹیکٹ لینز سے بند کر دیا جاتا ہے۔ساتھ ہی مریض کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ زبردستی دیکھے۔

اس میں بچوں کو ایسی مشقیں کروائی جاتی ہیں جن میں وہ دیکھنے کے لئے نظر کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں ۔ ان میں رنگ بھروانا،ٹی وی دکھانا،کمپوٹر پر کھیل اور کتاب بینی وغیرہ شامل ہیں۔ایسے دماغ پر یہ دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ کمزور آنکھ سے بھیجے گئے غیرواضح اور دھندلے عکس وصول کرے اور آنکھ کی کارکردگی بہتر ہو۔

ماہرین کے خیال میں آٹھ سال کی عمر کے بعداس تھیراپی کے بہتر نتائج حاصل کرنے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔ اس کی وجہ آنکھ کی حیاتیاتی نشوونما کا مکمل ہوجانا ہے۔ اب کچھ سافٹ ویئرز کے استعمال اور شدید کوشش سے زیادہ عمر رسیدہ افراد میں بھی پیوندکاری کے ذریعےاس کا علاج ممکن ہے۔

eye disease, lazy eye, causes, treatment

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x