خوش رنگ‘ خوش ذائقہ ساگ

389

    پنجاب کی پہچان اگرچہ بہت سی چیزیں ہیں لیکن ان میں سرسوں کا ساگ اور مکئی کی روٹی خاص اہمیت کی حامل ہیں۔ دھرتی ماں کی اس سوہنی سوغات میں ذائقہ، غذائیت اور رنگ‘ سبھی پائے جاتے ہیں۔
سرسوں کا ساگ
سرسوں، سردیوں اور بہار کی سوغات ہے اور واہگہ کے دونوں جانب موجود پنجاب میں اس کی بہتات ہے۔ چناچہ یہ شہری اور دیہاتی دونوں طرف کے اکثر پنجابیوں کا پسندیدہ پکوان ہے۔اب تو اسے بڑی بڑی دعوتوں میں گوشت اور کوفتوں کے ساتھ پیش کیاجاتا ہے۔
سرسوں کے بیج کی افادیت زمانہ قدیم سے مسلمہ ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک اسے کھانا پکانے کے لئے عام استعمال کیاجاتاتھا اور اب بھی اچار بنانے میں استعمال ہوتا ہے ۔ اس کا تےل بالوں میں لگانے سے وہ چمکدار اور گھنے رہتے ہیں اورقبل از وقت سفید نہیں ہوتے۔اسے جسم کی مالش کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے جس سے جلد کی رنگت سرخ وسفید ہوجاتی ہے ۔
ےہ ساگ سردی کے چارمہینوں کے دوران مناسب مقدار میں کھالیاجائے تو جلد کی خشکی دور ہوتی ہے‘داغ دھبے صاف اور جسم سے فاسد مادے خارج ہوجاتے ہیں۔اس کے علاوہ قبض بھی ختم ہو جاتی ہے۔ بچوں کوسرسوں کا ساگ کھلاےا جائے تو ان کی جسمانی نشوونما اچھی ہوتی ہے‘ وہ قد کاٹھ نکال لیتے ہیں اور ان کا وزن بھی بڑھ جاتا ہے۔سرسوں کے ساگ میں وہ اجزاءبھی شامل ہےں جو دودھ میں پائے جاتے ہےں ۔ لہٰذا ےہ جسم میں ان اجزاءکی کمی کوبھی دور کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ ےہ انتڑیوں کے امراض میںفائدہ دیتا ہے‘ خون کی کمی کو دور کرکے چہرے پر سرخی لاتا ہے ۔جن لوگوں کو ساگ کھا نے کے بعد پیٹ میں درد ہو‘ انہےں چاہیے کہ دارچینی‘ کالا زیرہ اوربڑی الائچی پیس لےں اور اسے ساگ پر چھڑک کر کھائیں۔
پالک
پالک ساگ کی وہ قسم ہے جو شہر اور دےہات‘ ہر جگہ باآسانی مل جاتی ہے ۔پالک گوشت‘پالک قیمہ‘پالک پنیر‘اورپالک آلو بڑے شوق سے کھائے جاتے ہیں جبکہ پالک کے پکوڑے بھی بنتے ہیں۔
حمل اور دودھ پلانا
پالک میں فولک ایسڈ پاےا جاتا ہے جس کی دوران حمل اور دودھ پلانے کے عرصے میں ماﺅں کو اشد ضرورت ہوتی ہے ۔ فولک ایسڈ کی کمی سے خواتین خون کی کمی کے مسئلے کا شکار ہوجاتی ہیں اور اسقاط حمل کا بھی خدشہ ہوتا ہے۔اگر وہ اپنی غذا میں پالک کا استعمال شامل کریں تو ان کی اپنی اور ہونے والے بچے کی صحت اچھی رہے گی۔حاملہ خواتین کو چاہیے کہ روزانہ تھوڑا سی پالک کسی نہ کسی طرح ضرور کھائیں۔دورانِ حمل اگر ذرا سا کام کرنے سے تھکن ہو جائے‘ دوچار سیڑھیاں چڑھنے سے سانس پھول جائے ‘ وزن بڑھنے کے بجائے کم ہوتا جائے اور پیٹ کی خرابی جےسی علامات میں پالک فائدہ مند چےز ہے ۔اسی طرح زچگی کے بعد پالک کھانے سے کمزوری محسوس نہیں ہوتی اور بچہ بھی صحت مند رہتا ہے ۔
اندھراتا
اس مرض کو” شب کوری “ بھی کہتے ہیں جو وٹامن اے کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ےہ وٹامن دوسری سبزیوں کی نسبت پالک میں زیادہ پاےا جاتاہے‘ لہٰذا اسے کھانے سے آنکھوں کی صحت اچھی رہتی ہے۔
ضروری احتیاطیں
٭سردی کے موسم میں پالک پکاتے وقت اس میں ثابت دارچینی کے ایک دوٹکڑے ڈال دینے چاہئیں۔
٭پالک کو کاٹنے سے پہلے اچھی طرح پانی سے دھولیا جائے۔کاٹنے کے بعد پالک دھونے سے غذائی اجزاءضائع ہوجاتے ہیں۔
٭اسے ہلکی آنچ پر پکائیے۔ےہ اپنے ہی پانی میں گَل جاتی ہے۔زیادہ دےر تک پکانے سے اس کی غذائیت میں فرق آجاتا ہے ۔
٭سرسوں کے ساگ میںپالک ضرورڈالیے۔
٭اس میں اوگزالیک ایسڈ (oxalic acid)کی مقدار زےادہ ہوتی ہے جو گٹھیا اور جگر کی بیماری میں نقصان دہ ہے ۔ان بیماریوں کے علاوہ جن افرادکی تلی بڑھی ہوئی ہو ےا گردے میں پتھری ہو ‘وہ اس کا زےادہ استعمال نہ کریں۔
بتھوے کا ساگ
بتھوا کھانے سے ہاضمہ ٹھیک رہتا ہے۔ےہ بواسیر کے مریضوں کے لئے بھی مفید ہے اور بخار میں بتھوے اور پالک کی سبزی فائدہ مند ہے۔
برص کا علاج
اگر جسم پر سفید داغ (برص) آ جائےں تو دن میں چار پانچ بار بتھوے کا تازہ رس داغوں پر لیپ کریں اور ایک دن بتھوے کی سبزی بنا کر کھائیں۔اسے پکانے کے لئے اس کے پتے دھو کر کاٹ لیں۔ نمک‘ ثابت مرچ‘سفید زیرہ گھی میں ڈال کر لہسن پسا ہوا یاثابت کاٹ کر ڈالیں۔بتھوے کے پتے ڈال کر ہلکی آنچ پر پکائیں۔اس طرح کی سبزی دوتین ماہ تک کھانے اور اس کار س سفید داغوں پر لگانے سے داغ ٹھیک ہوجاتے ہیں۔
قبض میں مفید
بتھوے کے پتے پانی میں پکا کر پینے سے قبض ٹھےک ہو جاتی ہے۔مونگ کی دال میں بتھوے کے پتے ملا کر پکائیں اور کھائےں۔ اس سے بھوک لگے لگی۔اس کے بیج میںبھی فوائد ہیں۔جسمانی طور پر کمزورلوگ زیتون کے تیل میں اسے پکا کر کھاسکتے ہیں۔
قلفہ یا خرفہ ساگ
گرمیوں میں سبزی کی دکانوں پرموٹے موٹے سبزگول پتوں والی خرفہ کی گڈےاںعام نظرآتی ہےں۔اس کے ننھے پھولوں کا رنگ زرد ہوتا ہے اوراس کے صرف پتے استعمال کئے جاتے ہیں۔ان کا استعمال گرمی میں سکون دیتا ہے ۔اس میں نشاستہ‘کیلشیم‘فولاد ‘ سوڈیم‘ گندھک‘کلورین اور مختلف حیاتین شامل ہوتے ہیں۔
کچھ لوگ گرم چےزےں مثلاً گوشت وغےرہ نہیں کھاسکتے۔اگر خرفہ‘ بکری کے گوشت میں پکا کر کھایاجائے تو گوشت کی گرمی ختم ہوجاتی ہے اور پیاس کی شدت ٹوٹ جاتی ہے۔مونگ یا چنے کی دال میں آپ خرفہ کاٹ کر پکاسکتے ہیں۔اس کے پتے باریک کاٹ کر کسی چھلنی میںرکھے جاتے ہےں اور پھر ابلتے پانی کی بھاپ دے کران میں نمک‘ مرچ اورزیرہ ملا کرمزیدار پراٹھے بنائے جاتے ہیں ۔
خرفہ‘ شوگر کے مریضوں کے لئے مفید ہے‘ معدے اور جگر کی گرمی دورکرتا ہے‘خون بناتا ہے ‘جگر مثانہ گردے میں حدت کو کم کرتا ہے‘ قبض کو دور کرتا ہے جبکہ بینائی کے لئے بھی مفید ہے۔
چولائی کا ساگ
چولائی کا ساگ ذائقہ میں لاجواب ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف جسمانی کمزوریوں مثلاً بصارت کی کمزوری‘سانس کی بیماری‘ باربارنزلہ ہونے اورجسمانی نشوونما میں کمی وغیرہ کو دور کرنے میں بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔ تیل یا گھی گرم کرکے پیازلال کیجئے اور لہسن نمک مرچ ڈال کر چولائی کے پتے کاٹ کرڈالیے۔اسے ہلکی آنچ پر پکائیے‘ مزے کا بنے گا۔ یہ بھوک لگاتا ہے‘قبض توڑتا ہے اوربواسیر میں بھی مفید ہے۔مزیدبرآں جو لوگ تھوڑا بہت ساگ کھاتے رہتے ہیں‘ ان پر بڑھاپا جلد نہےں آتا۔
پہلے زمانہ میں گھر کی خواتین سبزی کے بارے میں کافی معلومات رکھتی تھیں۔انہےں علم ہوتا تھا کہ کس موسم میں کون سی سبزیاں پکائی جائیں۔آج کل کی لڑکیوں کو ان کا زےادہ علم نہےں لےکن انہےں چاہئے کہ اس کے بارے میں آگہی حاصل کرےں۔ یہ ساگ پات جسم کو ضروری توانائی بھی دیتے ہیں اورصحت کو بھی برقراررکھتے ہےں۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts