Vinkmag ad

بچوں کی دیکھ بھال… اُف یہ سردیاں

بچوں کی دیکھ بھال… اُف یہ سردیاں

جاڑا دھوم مچاتا آیا "کے نام سے بچوں کی ایک نظم ہے:”

جاڑا دھوم مچاتا آیا
کپڑے گرم پہناتا آیا
کیسی ہوا ہے سر سر‘ سر سر
کانپتے ہیں سب تھر تھر‘ تھر تھر
سورج بھی چھپ جاتا ہے جلدی
لگتی ہے اس کو بھی سردی
ہا ہا ہی ہی ہو ہو
ہائے ری سردی ہائے ری سردی
سارے بدن میں برف سی بھر دی

جاڑا دھوم مچاتا کیا آتا ہے‘ ہمارے کھانے پینے اور پہنے اوڑھنے کے انداز اور معمولات زندگی ہی بدل جاتے ہیں۔ یوں یہ موسم ہماری زندگیوں میں نیا رنگ اور خوبصورتی لے کر آتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ صحت کے کچھ مسائل بھی چلے آتے ہیں جن کا سب سے زیادہ منفی اثر بچوں پر ہوتا ہے۔ ان کی قوت مدافعت چونکہ نسبتاً کمزور ہوتی ہے لہٰذا جراثیم ان کی طرف اس طرح لپکتے ہیں جیسے لوہے کی چیزیں مقناطیس کی طرف کھنچی چلی آتی ہیں ۔ ایسے میں اگر بچوں کو ان سے بچانے کا خاطرخواہ انتظام نہ کیا جائے تو ان کے بیمار پڑنے کا امکان ہوتا ہے ۔

کپڑوں کا استعمال

ماہرین صحت اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سردی سے بچنے کے لئے بجلی یا گیس پر چلنے والے ہیٹروں اور لکڑی یا کوئلوں کی انگیٹھیوں کی بجائے پہننے اور اوڑھنے والے کپڑوں کا استعمال زیادہ کرنا چاہئے۔

ملتان کی چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر خوش بخت کہتی ہیں کہ موسم سرما میں بچوں کے ملبوسات کا انتخاب سمجھداری سے کریں۔ ان کا کہنا ہے:

"جو کپڑا بچے کی جلد کو چھورہا ہو( بنیان‘ انڈروئیر‘ جرابیں اور دستانے وغیرہ ) وہ سوتی ہونا چاہئے‘ اس لئے کہ کچھ بچوں کو ریشمی اور کچھ کو اونی کپڑوں سے الرجی ہوجاتی ہے۔”

کچھ مائیں اپنے بچوں کو بہت زیادہ کپڑے پہنا دیتی ہیں جو بہت غلط رویہ ہے۔ اس سلسلے میں سب سے بہتر اصول یہ ہے کہ والدین اس موسم میں جتنے کپڑے خود پہنیں‘ بچوں میں اس کی ایک تہہ اور بڑھا دیں۔ اسی طرح سلاتے وقت ان پر زیادہ کپڑوں کا ڈھیر لگانے سے بہترہے کہ ان کا بستر نرم‘ گرم اور آرام دہ ہو۔

بہت سی ماﺅں کی ایک بری عادت یہ ہے کہ وہ گرم اوراونی کپڑوں کو بہت کم دھوتی ہیں جس کے لئے ان کے پاس دو دلیلیں ہوتی ہیں۔ پہلی یہ کہ چونکہ سردیوں میں پسینہ کم آتا ہے لہٰذا گرم کپڑے اتنی جلدی میلے نہیں ہوتے۔ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ اونی کپڑوں میں دھول اورمٹی وغیرہ کو اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت دیگر کپڑوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے ۔ ایسے میں گرد وغبار اور میل کچیل ان میں جمع ہو کر الرجی یا دمے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لئے ان کپڑوں کو بھی باقاعدگی سے اور نیم گرم پانی سے دھوئیں۔

ان کی دوسری دلیل یہ ہوتی ہے کہ گرم کپڑے دیرسے خشک ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ بات درست ہے لیکن اس میں ان کا اضافی وقت تو نہیں لگتا۔ وہ کپڑے دھوپ میں پھیلا کر اپنے کام کریں اور جب وہ سوکھ جائیں تو اتار لیں۔

نہانا‘ ہاتھ منہ دھونا

بیکٹیریا اور وائرس کی وجہ سے ہونے والے انفیکشنز سے بچاﺅ کے لئے بچوں کوہاتھ دھونے کی عادت ڈالیں ۔ یہ سردیوں میں نزلہ زکام سے بچاﺅ کا آسان حل بھی ہے۔

جن گھروں میں ہاتھ منہ دھونے اور نہانے کے لئے گرم پانی اور ہیٹر کا زیادہ استعمال ہوتا ہے‘ ان کے افراد میں جلد کی خشکی اور خارش کی شکایت زیادہ ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے جلد کی چکنائی بالکل ختم ہوجاتی ہے۔ مزید برآں ڈاکٹر کی تجویز کے بغیر ادویاتی صابنوں (medicated soaps) کا استعمال کم سے کم کرنا چاہئے ‘ اس لئے کہ ان میں موجود کیمیائی اجزاء جلد پر منفی اثرات بھی مرتب کرتے ہیں۔

چھوٹے بچوں کو نہلانے کے بعد ان کی جلد پر کوئی اچھا سا لوشن یا کریم ضرور لگائیں تاکہ وہ خشکی کی شکار نہ ہو۔ اگر زیتون‘ سرسوں یا ناریل کے تیل سے بچے کا مساج کیا جائے تو نہ صرف اس کی ہڈیاں اور پٹھے مضبوط ہوں گے بلکہ وہ پرسکون نیند بھی سوئے گا۔

کمروں میں دھوپ

اچھی نیند کے لئے بچوں کا کمرہ بھی نیم گرم اور پرسکون ہونا چاہئے جس کے لئے ہیومڈیفائر (humidifier) کا استعمال بھی مناسب ہے۔ بند کمروں میں جراثیم زیادہ ہوتے ہیں لہٰذا دن میں کچھ وقت کے لئے ان کے دروازے اور کھڑکیاں کھلی رکھیں تاکہ زیادہ ہوا اور دھوپ اندر داخل ہوسکے۔ سورج کی روشنی میں موجود بالائے بنفشی شعاعوں (ultra violet rays) میں قدرتی طور پر یہ صلاحیت پائی جاتی ہے کہ وہ جراثیم کو ختم کر سکیں۔

بچوں کی غذا

ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے ماہر امراض بچگان ڈاکٹر فاروق اعظم کہتے ہیں کہ جب بچہ اس دنیا میں آتا ہے تواس کا مدافعتی نظام ناپختہ اور کمزور ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ باربار بیمار ہوجاتا ہے۔ سردیوں میں اس کی شرح بڑھ جاتی ہے۔ اگر اس کی خوراک میں پھل اور سبزیاں شامل کی جائیں تو اس کی قوت مدافعت میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی غذا میں بادام‘ بیریز (berries) اور سالمن مچھلی بھی شامل کی جانی چاہئے جو اومیگاتھری فیٹی ایسڈ سے بھرپور ہوتی ہے ۔ سردیوں میں بچے کو گرم سوپ بھی پلائیں۔

ان کے بقول بچوں کی خوراک میں وٹامن سی سے بھرپور اشیاء مثلاً مالٹے‘ لیموں‘ امرود‘ ہرے پتوں والی سبزیاں ‘ بروکلی‘ گوبھی اور پالک بھی شامل ہونی چاہئیں۔ وٹامن سی اگرچہ معجزانہ صفات کی حامل شے ہے مگر اس کی یومیہ مقدار 500 ملی گرام سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے ۔

خودعلاجی سے بچیں

سردیوں میں نزلہ زکام اگر وائرس کی وجہ سے ہو تو زیادہ تر صورتوں میں وہ دوا کے بغیر بھی خود بخود ٹھیک ہوجاتا ہے لیکن اس کا سبب اگر بیکٹیریا ہوں تواینٹی بائیوٹکس کا استعمال ضروری ہوتا ہے۔ ان دونوں میں تمیز ڈاکٹر ہی کر سکتا ہے لہٰذا اس کے مشورے کے بغیر دوا نہیں لینی چاہئے۔ ا س کے برعکس بہت سی مائیں خود ہی بچے کو دوائیں شروع کرا دیتی ہیں اور وجہ یہ بتاتی ہیں کہ پچھلی دفعہ جب وہ بیمار ہوا تھا تو ڈاکٹر نے یہی دوا تجویز کی تھی۔ یہ سراسرغلط طرزعمل ہے جو نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ اگربچے کو ٹھنڈ لگ جائے تو اسے سبز چائے میں شہد ڈال کرپلانے سے افاقہ ہوتا ہے‘ تاہم نوزائیدہ یا ایک سال سے کم عمر بچے کو شہد نہیں دینا چاہئے ۔

موسم سرما میں ٹھنڈ لگ جانے کی وجہ سے بچوں کوبخار‘ نزلہ زکام گلے میں خراش اور سینے کے امراض کا سامنا زیادہ کرنا پڑتا ہے ۔ اس لئے جب بچہ ٹھنڈ میں باہر جا رہا ہو تو اس کے سر اورکانوں کو اچھی طرح سے ڈھانپنا چاہئے۔ اس موسم میں پسینہ کم آتا ہے جس کی وجہ سے جسم سے پانی کم ضائع ہوتا ہے لیکن دوسری طرف سردیوں کا موسم خشک ہوتا ہے لہٰذا جسم کو پانی کی ضرورت پھر بھی رہتی ہے۔ اس لئے بچوں کو مناسب مقدار میں پانی ضرور پینا چاہیے۔

ننھے بچے پھولوں کی طرح نازک ہوتے ہیں جنہیں بڑوں کی نسبت زیادہ محبت اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے‘ اس لئے کہ وہ خود اپنا خیال اچھی طرح سے نہیں رکھ سکتے۔ اگرچہ والدین اپنی صحت کی قربانی دے کر بھی اپنے بچوں کی صحت کا خیال رکھتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض اوقات لاعلمی اور غلط تصورات کی وجہ سے وہ انہیں فائدہ پہنچانے کی بجائے ان کے لئے نقصان کا باعث بن جاتے ہیں۔ اس لئے انہیں چاہئے کہ محض سنی سنائی باتوں کی بجائے مصدقہ معلومات پر بھروسا کریں ۔

winter care for kids, winter care for infants, 

Vinkmag ad

Read Previous

موت کی بُو

Read Next

بی بی کریمز۔ فائدہ مند ہیں یا نہیں

Most Popular