دانتوں کو دوست بنائے

280

    اسد سکول سے واپس گھرآےا تو خلاف عادت چپ چاپ گھر کے اندر داخل ہوا۔ آج اُس نے اپنا بےگ بھی گھما کر کارپٹ پر پھےنکنے کی بجائے آرام سے مےز پر رکھ دےا۔ بڑے ابااس وقت لےپ ٹاپ گود مےں رکھے کسی کام مےں مگن تھے۔ انہوں نے چونک کر سنجےدہ بلکہ کسی قدر رنجیدہ اسد کو دےکھا اور پھربولے: ”السلام، علےکم بےٹا!“
”اوہ… سوری ابا!مجھے ےاد ہی نہےں رہا۔ وعلےکم السلام !“وہ شرمندگی سے بولا۔ آج سے پہلے وہ گھر مےں داخل ہوتے ہی سب کو سلام کیاکرتا تھا۔ماما سامنے صوفے پر بےٹھی مٹر چھےلتے ہوئے ٹی وی پر کرکٹ مےچ دےکھ رہی تھےں۔انہوں نے بھی چونک کر اُسے دےکھا:

” اسد!آج پاکستان اورآسٹریلیا کا مےچ ہے…“ ماما نے اُس کا موڈ ٹھےک کرنے کےلئے موضوع بدلا لےکن وہ اس سے بے نےاز اپنے دائےں گال پر ہاتھ رکھے چپ چاپ بےٹھ گےا۔
” اسد !ےہ تمہارے گال کو کےا ہو ا ہے…؟“ بڑے ابا نے اُسے غور سے دےکھتے ہوئے پوچھا تو وہ نےم دلی سے مسکراتے ہوئے بولا:” ابا ! گال کو کچھ نہےں ہوا لےکن دانت مےں بہت درد ہے۔ درد کی وجہ سے آج کا سارا دن بہت بُرا گزرا…“

” اوہ نو!بےٹا آپ چھٹی لے کر فوراً گھر آجاتے۔ ہم آپ کو کسی ڈاکٹر کے پاس لے جاتے…“ ماما نے فکرمندی سے اُس کا درد سے بے حال چہرہ دےکھا۔
”ماما! ڈاکٹر کے پاس تو مجھے پرنسپل نے بھی بھےجا تھا…“ اسد نے بتاےا
” توپھر کےا کہا ڈاکٹر نے؟“ ابا نے لےپ ٹاپ بند کرتے ہو ئے پوچھا۔
”ان کا کہنا ہے کہ مےرے دانت مےں شایدکوئی کےڑاگھس گےا ہے…“ وہ مریل سی آواز مےںبولا۔ اس نے درد کی شدت کم کرنے کے لےے اپنا داےاںہاتھ ابھی تک گال پر رکھا ہوا تھا۔
” بےٹا! سب سے پہلی بات تو ےہ ہے کہ دانتوں مےں کوئی کےڑا نہیں گھستابلکہ لگتا ہے۔ سکول والے ڈاکٹر انکل نے وہ بات تم لوگوں کو سمجھانے کےلئے کہی تھی۔ اصل مےں ہوتا ےوں ہے کہ جب ہم مےٹھی اشےاءکھاتے ہےں اور بعد مےں دانت صاف نہےں کرتے تو دانتوں پر جمے چےنی کے ذرات بتدرےج تےزاب مےں بدل جاتے ہےں اور…“
”کےا …تےزاب مےں؟“ اسد کو سخت حےرت ہوئی۔

”جی ہاں! آپ نے درست سنا۔خاص قسم کے بےکٹےرےا اسے تےزاب میں بدل دےتے ہےں۔“ابا نے سنجےدگی سے کہا: ”اصل مےں دانت کے بےرونی سخت خول کی سطح کو جب ےہ تےزاب چھوتا ہے تو اس پر پہلے اےک نشان پڑتا ہے۔اور اگر ےہ مسلسل پڑا رہے تو وہاں چھوٹا سا سوراخ بن جاتا ہے۔ دانت میںاس سوراخ سے کےلشےم اور فاسفورس کو باہر نکلنے کا راستہ مل جاتا ہے اوروہاں گڑھے سے بن جاتے ہےں۔ اسی کو ’دانتوں میں کےڑا لگنا‘ کہا جاتا ہے۔“

”تھےنکس گاڈ!مجھے تو ےہ سوچ سوچ کر گھن آ رہی تھی کہ مےرے دانتوں کے اندر کوئی کےڑا گھس کے بیٹھا ہے ؟“ اسد نے قدرے سکون کا سانس لےا۔
”بچے میٹھی چےزےں اورٹافےاں سپارےاں کھانے کے جتنے شوقےن ہوتے ہےں‘ دانتوں کی صفائی کے معاملے مےں اکثراتنی ہی لاپرواہی برتتے ہےں۔اس وجہ سے مٹھا س زےادہ دےر تک ان کے دانتوں پر لگی رہتی ہے اور مسائل کا باعث بنتی ہے۔ اگر دانتوں پر جراثےم اور مےل کچےل جمع رہےں تو اس سے مسوڑھے بھی خراب ہوتے ہےں۔ ان مےں خون اور پےپ پےدا ہو جاتی ہے جو خوراک کے ساتھ معدے مےں داخل ہو کر خرابےوں کا باعث بنتی ہے۔“
”ہاں! مےں نے بھی رات کوبہت سی چاکلےٹس کھائی تھےں اور پھر کلّی کےے بغےرہی سو گےا تھا۔“ اسد کو اچانک ےا د آےا۔

”بےٹا!صرف کلّی کرنے سے دانت تھوڑی صاف ہوتے ہےں۔انہےں باقاعدہ برش سے صاف کرنا پڑتا ہے۔ کچھ لوگ انگلی پر تھوڑا سا پےسٹ لگا کر دانت صاف کرتے ہےں۔ انگلی محض دانتوں کے سامنے والی جگہوں تک ہی پہنچ پاتی ہے لہٰذا اس سے دانتوں کی صفائی نہےں ہوتی جبکہ برش کے رےشے دانتوں کے اندر خالی جگہوں تک پہنچ کر انہےں صاف کر دےتے ہےں۔ ابا نے وضاحت کی۔
”ابا! برش کرنے کا ٹھےک وقت کون سا ہے؟اس نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔

” برش کرنے کا موزوں وقت رات کو سونے سے پہلے اور صبح ناشتے کے بعد کاہے۔اگررات کوکھانے کے بعد دانت صاف کئے جائےں تو رات بھر صاف ستھری ہوا، خوراک کے ذرّات ‘گندگی ےا بےکٹرےا سے آلودہ ہوئے بغےر اندر جاتی ہے ۔ناشتے کے بعد دانت صاف کرنے میں حکمت ےہ ہے کہ وہ نسبتاً زےادہ دےر تک صاف رہےں گے۔اس طرح زےادہ دےر تک دانت صاف رہنے کی وجہ سے بےکٹرےا وغےرہ کو پرورش پانے کا موقع نہےں ملے گا اور وہ خراب ہونے سے بچ رہےں گے …۔“ بڑے ابا نے خاصی تفصےل سے جواب دےا۔
”اچھا! ےہ بتائےں کہ بچوں کے دانت ٹےڑھے مےڑھے کےوں نکلتے ہےں؟“ ماما کو اس گفتگو مےں مزا آرہا تھا‘ اس لےے انہوں نے اپنی معلومات مےں اضافے کے لےے پوچھا۔
”اس کی اےک وجہ تو موروثےت ہے۔ ےعنی ماں باپ‘ دادادادی ےا نانانانی کے دانت ٹےڑھے ہوں تو بچوں کے بھی اےسے ہو سکتے ہےں۔ دوسری وجہ ماحولےاتی ہے جس مےں بچے کی انگوٹھا چوسنے کی عادت ےا جبڑے کی پوزےشن کادرست نہ ہوناشامل ہےں۔“ بڑے ابا نے انتہائی سکون سے جواب دےااور اسد کی طرف متوجہ ہوئے:”ہاں بھئی! اب درد کا کےا حال ہے؟“
”اب تو کافی بہتر ہے‘ ورنہ صبح تو ےہ بھی نہےں پتہ چل رہا تھا کہ اصل مےں کون سے دانت مےں درد ہے…“ اسد نے صاف صاف بتا دےا اورپھر کچھ ےاد آنے پر فوراًبولا:
”بڑے ابا!ڈاکٹر صاحب کہہ رہے تھے کہ برش کیابھی ٹھےک طرےقے سے کرےں۔ ےہ بتائےے کہ برش کرنے کا ٹھےک طرےقہ کون سا ہے؟“
” ےہ آپ نے ڈاکٹر صاحب سے نہےں پوچھا ؟“ بڑے ابا نے پوچھا۔

”نہےں ابا!مجھے شرم آ رہی تھی ۔ مےں نے سوچا کہ وہ بھی کےا کہےں گے کہ اتنے بڑے بچّے کودانت صاف کرنے کا ٹھےک طرےقہ بھی معلوم نہےں …“ اسد شرمندگی سے سر جھکاتے اور کان کھجاتے ہوئے بولا۔
” بےٹا‘ےہی تو ہمارا لمےہ ہے کہ ہم پوچھتے نہےں۔ اس مےں شرمندہ ہونے والی تو کوئی بات نہےں ہوتی۔سےکھنے کا عمل ساری زندگی جاری رہتا ہے۔خود مجھے بہت عرصے بعد اس بات کا علم ہوا تھا۔“وہ بناوٹ سے پاک صاف لہجے مےں بتا رہے تھے۔
”واقعی…؟“ اسد نے صوفے پردھم سے بےٹھتے ہوئے حےرت سے کہا۔
”جی جناب!“ بڑے ابامسکراتے ہوئے بولے :” برش کرنے کا صحےح طرےقہ ےہ ہے کہ برش کو دانتوں پر دائےں بائےں پھےرنے کی بجائے اوپرنےچے پھےرےں۔ دائےں بائےں برش کرنے سے دانتوں کے درمےان کی جگہےں صاف نہےں ہوپاتےںاور خوراک کے ذرے باہر نکلنے کی بجائے دائےں بائےں مسوڑھوں مےں چلے جاتے ہےں۔ اس لئے اوپر والے دانتوں کو نےچے کی طرف اور نچلے دانتوں کو اوپر کی طرف نرمی سے صاف کرےں۔“
”اچھا! میں تو اےسا نہےں کرتا…“اسد نے شرمندگی سے کہا اور پھر دلچسپی سے بولا:”مجھے کسی نے بتاےا تھا کہ زبان پر بھی برش کرنا چاہےے۔ کیا ےہ درست ہے…؟“
”زبان پر برش…ےہ کس بےوقوف نے بتا دےا تمہےں؟“ ماما ہنستے ہوئے بولےں۔
”بہو! ےہ کسی بے وقوف کا نہےں‘ عقلمند کا قول ہے‘ اس لئے کہ زبان پر برش پھےرنے سے اس پر لگے مادے صاف ہو جاتے ہےں۔ لےکن واضح رہے کہ اےسا کرنے کے لےے نرم بُر ش استعمال کرےں۔ اس کے علاوہ بعض لوگ سخت برش کے ساتھ رگڑ رگڑ کر دانت صاف کرتے ہےں جو درست نہےں۔ اس سے مسوڑھے اپنی جڑوں کی طرف نےچے ہوجاتے ہےں اور دانتوں کی بےرونی تہہ اتر جاتی ہے۔ اس سے دانتوں کو ٹھنڈا ےا گرم لگنا شروع ہوجاتا ہے۔“
” اچھا!ےہ تو مےرے لےے بھی نئی بات ہے۔ وےسے ہمےں ٹوتھ پےسٹ کون سا استعمال کرنا چاہےے؟“ ماما نے جھےنپ کرفوراً موضوع بدلا۔
”کوئی بھی ٹوتھ پےسٹ جس مےں فلو رائےڈ موجود ہو،استعمال کیا جا سکتا ہے لےکن طبّی(medicated)ٹوتھ پےسٹ ڈاکٹر کی اجازت کے بغےر زےادہ لمبے عرصے کے لےے استعمال نہےں کرنا چاہےے۔“ بڑے ابا نے گود مےں رکھا لےپ ٹاپ سامنے مےز پر رکھتے ہوئے جواب دےا۔
”ابا،ےہ فلو رائےڈ کےا ہوتا ہے؟“ اسد نے بے تابی سے پوچھا۔
”واہ! آج تو اسد مےاں خوب موڈ مےں ہےں…“ دادا ابا نے ہنستے ہوئے اپنے لاڈلے پوتے کی طرف دےکھا۔”کےا کروں ابا! آج دانت کے درد نے تو مےرے چھکّے چھڑا دےے تھے۔ اس لےے میں نے سوچاکہ آئندہ کےلئے کچھ معلومات جمع کر لوں۔“
”ےہ تو بہت اچھا سوچا آپ نے۔ہاں تو فلو رائےڈ اےک معدنی مادہ ہے جو تازہ پانی،سمندر، چائے، مچھلی اور سبزےوں وغےرہ مےں پاےا جاتا ہے۔ آج کل اسے ٹوتھ پےسٹ ،ناک کے اسپرے اور چےونگم مےں بھی استعمال کےا جارہا ہے۔ فلورائےڈز تےزاب کو دانتوں سے چپکنے نہےں دےتا اور ان مےں گڑھے پڑنے کے عمل کو بھی روکتا ہے۔
”ابا!ٹوتھ پےسٹ کا کےا کام ہوتا ہے؟“ اسد نے پوچھا۔
”بےٹا!ٹوتھ پےسٹ کا کام دانتوں کی صفائی کے علاوہ ہمارے منہ میں لعاب اور دانتوںپر موجود جراثیم کو ختم کرنااوردانتوں میں گڑھے پڑنے کے عمل کو روکنا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ےہ انفےکشن کو بھی ختم کرتا ہے۔“
”اچھا ےہ بتائےے کہ دانتوں کو مضبوط رکھنے کے لےے با قاعدگی سے برش کرنے کے علاوہ اور کےا کرنا چاہےے؟“ اسد نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا۔
”دانتوں کی صفائی کے لےے برش کے علاوہ فلاسنگ بھی اشد ضروری ہے۔ “ بڑے ابا نے سنجےدگی سے بتاےا۔
”فلاسنگ… ےہ کےا ہے؟“ اسد کے لئے ےہ لفظ بالکل اجنبی تھا۔
”ےہ اےک اےسا عمل ہے جس مےں تھوڑا سا دھاگا دانتوں کے خلا کے درمےان ڈال کر ان کی صفائی کی جاتی ہے۔اصل مےں برش سے دانت تو صاف ہوجاتے ہےں لےکن ان کے درمےان کی جگہےں صاف ہونے سے رہ جاتی ہےں۔ فلاسنگ کے ذرےعے ان جگہوں پر پھنسے خوراک کے ذرات کو نکالا جاتا ہے۔’ڈےنٹل فلاس ‘بازار سے باآسانی سے مل جاتا ہے جو نرم اور جراثےم سے پاک ہوتا ہے اور زخمی بھی نہےں کرتا۔“
”اب میں باقاعدگی سے دانت صاف کیا کروں گا تاکہ وہ خوبصورت نظر آئیں۔ ٹی وی پر کہتے ہےں کہ مسکرائےے! آپ کی فےس وےلےو بڑھے گی۔ “اسد کو اچانک ےاد آےا۔
”جی ہاں‘لےکن بےٹا جی فےس وےلےو مےں اضافے کے لےے دانتوں کا صاف اور صحت مند ہونا بہت ضروری ہے…۔“ ابا نے اس کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔
”اور کےڑوں سے پاک ہونا بھی …“ ماما نے شرارت سے ہنستے ہوئے کہاجس پر اسد بُری طرح جھےنپ گےا جبکہ ابا کا قہقہہ اتنا جاندار تھا کہ پورے ٹی وی لاﺅ نج مےں گونج رہا تھا ۔ پھر وہ سنجیدگی سے بولے:
”اگر آپ دانتوں کا خےال رکھےں گے تو وہ خوش رہےں گے اور آپ بھی۔ دانت دےکھنے میں خوبصورت بھی لگےں گے اور آپ کھل کر ہنس بھی سکےں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان میں درد بھی نہےں ہو گا۔ کےسا…؟“
”جی ابا! اب میں دانتوں کا اچھادوست بنوں گا اور انہےں اپنا دوست بناﺅں گا۔ میں ان کے کا م آﺅں گا اور وہ مےرا کام آسان کرےں گے۔“ اسد نے پرعزم لہجے میں کہا اورسٹور سے کےرم بورڈ لےنے باہر نکل گےا۔               (ص۔الف)