ایام میں شدید درد کریں تو کیا کریں

607

بالغ ہونے پر لڑکیاں ہر مہینے مخصوص ایام سے گزرتی ہیں جو فطری بات ہے ۔ تاہم کچھ خواتین ان کے دوران شدید درداور جسمانی کمزوری کا شکار ہوجاتی ہیں۔اس کیفیت کے باعث ان میں چڑ چڑا پن اور بیزاری بھی پیدا ہوجاتی ہے ۔ایسے میں وہ کیا کریں؟ پڑھئے شفا انٹر نیشنل ہسپتال کی ماہر زچہ و بچہ ڈاکٹرنابیعہ طارق سے گفتگو کی روشنی میں لکھی گئی صباحت نسیم کی اس معلوماتی تحریر میں
___________________________________________________________________________
عالیہ کو ہر مہینے کی طرح اس بار بھی یونیورسٹی سے چھٹی کرنا پڑ گئی۔ وہ پریشان تھی‘ اس لئے کہ آج اس کا وہاںجانا بہت ضروری تھا ورنہ اس کے پراجیکٹ میں نمبر کٹ جاتے ۔ اس نے قوت ارادی کو بروئے کار لا کر یونیورسٹی جانا چاہا لیکن پیٹ اور کمر میں شدید درد کی وجہ سے ایسا نہ کر سکی ۔بالآخر اس نے ماہر زچہ و بچہ(گائناکالوجسٹ) سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ۔ وہ امی کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس گئی اوراس کے سامنے رو رو کر اپنی صورت حال بیان کی۔ خاتون ڈاکٹر نے اسے تسلی دی اور کچھ ٹیسٹ لکھ کر دئیے ۔
عالیہ نے ڈاکٹر سے اس درد کا سبب دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ حیض کا درد ماہانہ ایام کے شروع میں یا ان کے دوران ہوتا ہے۔ زیادہ تر درد پیٹ کے نچلے حصے یا کمر میں ہوتا ہے اور اتنا شدید ہوتا ہے کہ خواتین کے لئے اسے برداشت کرنا اور اس دوران اپنی روزمرہ کی سرگرمیوں کو بحال رکھنا مشکل ہوجاتاہے۔

اپنی بات کی سائنسی توجیہہ بیان کرتے انہوں نے کہا کہ اس درد کی ابتدا عموماً اس وقت ہوتی ہے جب بیضہ دانی (ovary) سے نکلا ہوا انڈا (egg) فیلوپی نالی (fallopian tube) میں آکر حمل ٹھہرانے کے لئے تیار ہوتا ہے۔اس عمل کو اخراج بیضہ (ovulation) کہتے ہیں۔اس کے دوران بعض خواتین کو پیٹ میں درد یا مروڑ کی شکایت ہوتی ہے جسے حیض کا درد یا ڈِس مینوریا (Dysmenorrhea) کہا جاتا ہے ۔

اسباب کے تناظر میں اقسام
اس کی دو اقسام ہیں جن میںسے پہلی کاتعلق ساخت جبکہ دوسری کا کسی مرض سے ہوتا ہے۔

ساخت کے سبب درد
ڈاکٹر نے عالیہ کو بتایا کہ اس کے درد کی بنیادی وجہ چونکہ اس کے جنسی اعضاءکی مخصوص ساخت ہے جسے بدلنا ممکن نہیں ‘ لہٰذا اُسے یہ برداشت کرنا سیکھناہوگا۔اس نے یہ بھی بتایا کہ کچھ احتیاطی تدابیر سے اس کی شدت میں کمی لائی جا سکتی ہے ۔عالیہ کے درد کا سبب اس کی بچہ دانی (uterus) کا تنگ ہوناتھا۔ اس درد کا دورانیہ عموماً صرف تین دن تک رہتا ہے جسے میڈیسن کی زبان میں حیض کا بنیادی درد (Primary Dysmenorrhea) کہتے ہیں۔

مرض کے سبب درد
حیض کے ثانوی درد (Secondary Dysmenorrhea) کا تعلق خواتین کے تولیدی اعضاءمیں کسی خرابی یا بیماری سے ہوتا ہے۔اس درد کا دورانیہ اور شدت ‘ دونوںبنیادی قسم کے دردسے زیادہ ہوتے ہےں۔ ایسے میں جتنا جلدی ممکن ہو‘ اپنے معالج سے رجوع کریں اس لئے کہ بروقت تشخیص اور علاج ہی آپ کو اس سے چھٹکارا دلا سکتا ہے ۔

مرض کی علامات
اس درد کی عام علامات میں ماہانہ ایام کے ابتدائی دنوں میں الٹیاں اور پیٹ میں درد یا مروڑ کی شکایت شامل ہیں ۔اس کے علاوہ اس دوران رانوں یا کمر کی ہڈی میں شدیددرد، چکرآنا اور کمزوری ہونا، اسہال ، متلی ، طبیعت میں بیزاری اور چڑ چڑے پن کی شکایات بھی دیکھنے میں آتی ہیں ۔

کرنے کے کام
کچھ گھریلو نسخے اس درد سے نجات میں مفیدہوتے ہیں:

دار چینی اور سبز چائے
ماہانہ ایام کے دوران خواتین کے لئے گرم مشروبات پینا بہت مفید ہوتا ہے ۔ان مشروبات میں سے ایک دار چینی کا یا سادہ قہوہ ہے جو نہ صرف بنانے میں آسان ہے بلکہ مزیدار ہونے کے ساتھ ساتھ درد سے فوری نجات کا بھی بہترین نسخہ ہے۔

پانی کی گرم بوتل
حیض کے دوران جسم کو گرم رکھنایا ٹکور کرنا بھی فائدہ دیتا ہے۔ گرم پانی کی بوتل اپنی کمر کے پیچھے یا رانوں کے درمیان رکھنے سے جسم گرم ہوجاتا ہے اور خون کی گردش تیز ہونے کے باعث ان اعضاءمیں درد نہ ہونے کے برابر رہ جاتاہے ۔
کولا مشروبات سے پرہیز
مخصوص ایام کے دوران کولامشروبات سے مکمل پرہیزکریں‘ اس لئے کہ یہ پیٹ میں گیس پیدا کرنے کاسبب بنتے ہیں۔گیس کے باعث پیٹ میں درد اور مروڑ میں اضافہ ہوتا ہے جس سے تکلیف بھی بڑھ جاتی ہے۔

ورزش کی عادت
بہت سی خواتین حیض کے دوران ورزش کرنے سے اجتناب کرتی ہیں حالانکہ اس سے نہ صرف جسم صحت مند ہوتا ہے بلکہ بیزاری اور چڑچڑے پن سے بھی محفوظ رہا جا سکتا ہے ۔مشہور مقولہ ہے کہ ”تندرست دماغ ہمیشہ تندرست جسم میں ہی ہوتا ہے۔“

نیم گرم پانی
زیادہ ٹھنڈا پانی پینا عام دنوں میں بھی نقصان دہ ہے‘ اس لئے کہ یہ جسم میں چربی جمع کرنے کے علاوہ ہارمونیائی تبدیلوں کا بھی باعث بنتا ہے ۔ ان ایام کے دوران اس سلسلے میں خصوصی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے ۔ غسل یا صفائی کے لئے بھی نیم گرم پانی کا استعمال ہی بہتر رہتاہے جس سے درد کی شدت میں کمی آتی ہے ۔
یہ سب جاننے کے بعد عالیہ کی ہمت بندھی اور مندرجہ بالا ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اس نے درد سے کافی حد تک نجات حاصل کر لی۔ اس کے علاوہ اس نے اپنی سہیلیوں کو بھی ان مفید معلومات سے آگاہ کیا۔ اب عالیہ حیض کے دوران بھی معمول کے مطابق روزانہ کی سرگرمیاںجاری رکھتی ہے۔اس سے اس کی پڑھائی میں بھی حرج نہیں ہوتا ۔یوں وہ ایک مطمئن زندگی گزارنے لگی ہے۔