ہولٹر مانیٹر (Holter monitor) ایک چھوٹا، پہننے والا آلہ ہے جو دل کی دھڑکن کو مسلسل ریکارڈ کرتا ہے۔ یہ عام طور پر 24 سے 48 گھنٹے تک استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد ایسی بے قاعدہ دھڑکنوں (اریتھمیا) کی نشاندہی کرنا ہے جو عام ٹیسٹ میں سامنے نہیں آتیں۔
یہ ٹیسٹ اس وقت کیا جاتا ہے جب روایتی ای سی جی دل کی کیفیت کے بارے میں مکمل معلومات نہ دے سکے۔ سمارٹ واچ جیسے کچھ آلات بھی دل کی نگرانی کی سہولت فراہم کرتے ہیں، تاہم ان کے مصدقہ ہونے پر سوالیہ نشانات ہیں۔ اس لیے ان کے استعمال سے قبل طبی مشورہ ضروری ہے۔
کیوں استعمال ہوتا ہے
ہولٹر مانیٹر درج ذیل صورتوں میں تجویز کیا جا سکتا ہے:
٭ بے قاعدہ دل کی دھڑکن یا اریتھمیا کی علامات
٭ بغیر وجہ کے بے ہوشی یا چکر آنا
٭ دل کی ایسی بیماری جس میں دھڑکن کے بگڑنے کا خطرہ ہو
ٹیسٹ سے پہلے عام طور پر ای سی جی کیا جاتا ہے، جو مختصر اور بغیر درد کے ایک پروسیجر ہے۔ اس میں سینے پر الیکٹروڈز لگائے جاتے ہیں جو دل کی برقی سرگرمی ریکارڈ کرتے ہیں۔ بعض صورتوں میں ای سی جی کے باوجود مسئلہ واضح نہیں ہوتا، اور ہولٹر مانیٹرنگ کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر پھر بھی تشخیص مشکل ہو تو ایونٹ ریکارڈر استعمال کیا جاتا ہے، جو کئی ہفتوں تک نگرانی کر سکتا ہے۔
خطرات اور احتیاطیں
ہولٹر مانیٹر پہننے سے عام طور پر کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ بعض افراد کو الیکٹروڈز کی جگہ پر ہلکی جلن یا خارش محسوس ہو سکتی ہے۔
یہ آلہ عام برقی آلات سے زیادہ متاثر نہیں ہوتا، لیکن کچھ اشیا اس کے سگنل میں خلل ڈال سکتی ہیں، اس لیے ان سے اجتناب ضروری ہے:
٭ الیکٹرک کمبل
٭ الیکٹرک شیور اور ٹوتھ برش
٭ مضبوط مقناطیسی اشیا
٭ میٹل ڈیٹیکٹر
٭ مائیکروویو اوون
اس کے علاوہ موبائل فون اور میوزک پلیئر کو آلے سے کم از کم 6 انچ دور رکھنا بہتر ہے۔
تیاری اور پروسیجر
مریض کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آلہ لگنے سے پہلے نہا لے، کیونکہ بعد میں اسے خشک رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
سینے پر چھوٹے الیکٹروڈز چپکائے جاتے ہیں جو دل کی دھڑکن ریکارڈ کرتے ہیں۔ بہتر چپکاؤ کے لیے بعض اوقات بال صاف کیے جاتے ہیں۔ یہ الیکٹروڈز ایک چھوٹی ریکارڈنگ ڈیوائس سے منسلک ہوتے ہیں جو عموماً بیلٹ پر لگائی جاتی ہے۔ آلہ لگنے کے بعد مریض اپنی روزمرہ سرگرمیاں جاری رکھ سکتا ہے۔
استعمال کے دوران
ہولٹر مانیٹر مسلسل 1 سے 2 دن تک پہنا جاتا ہے اور ہر دھڑکن ریکارڈ کرتا ہے۔ یہ عمل مکمل طور پر بغیر درد کے ہوتا ہے۔ آلہ کپڑوں کے نیچے بھی چھپایا جا سکتا ہے۔
اسے دورانِ استعمال ہرگز نہیں اتارنا چاہیے، حتیٰ کہ سوتے وقت بھی نہیں۔ پانی سے آلہ خراب ہو سکتا ہے، اس لیے نہانے، تیراکی اور شاور لینے سے پرہیز ضروری ہے۔
مریض کو اپنی سرگرمیوں اور علامات کا ریکارڈ رکھنے کی ہدایت دی جاتی ہے، خاص طور پر:
٭ دل کی بے ترتیب یا تیز دھڑکن
٭ سانس لینے میں دشواری
٭ سینے میں درد
٭ چکر یا کمزوری
ہر علامت کے ساتھ وقت اور سرگرمی درج کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ تشخیص درست ہو سکے۔
نتائج
آلہ واپس کرنے کے بعد اس کا ڈیٹا مریض کے ریکارڈ سے ملایا جاتا ہے۔ اس سے ڈاکٹر کو یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ علامات کے دوران دل کی سرگرمی کیا تھی۔ نتائج سے یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ دل کی بیماری موجود ہے یا نہیں، اور یہ بھی کہ موجودہ ادویات مؤثر ہیں یا نہیں۔
اگر ابتدائی مانیٹرنگ میں مسئلہ سامنے نہ آئے تو طویل دورانیے کے آلات جیسے وائرلیس ہولٹر یا ایونٹ ریکارڈر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ایونٹ ریکارڈر میں مریض علامات کے وقت بٹن دباتا ہے، جس سے دل کی سرگرمی محفوظ ہو جاتی ہے۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=cardiologist