ننھے دلوں کے مسائل

1

ننھے دلوں کے مسائل

دماغ  تمام جسمانی اعضاء کواحکامات جاری کرتا ہےمگر خود اسے زندہ رہنے اورکام کرنے کے لئے آکسیجن ملے خون کی ضرورت ہوتی ہے جو دل فراہم کرتاہے۔ یوں دل کی اہمیت کسی بھی طور پردماغ سے کم نہیں اور یہ بھی اعضائے رئیسہ میں شامل ہے۔ یہ بچے کی پیدائش سے قبل ہی کام شروع کر دیتا ہے اور بغیررکے عمر بھر دھڑکتا رہتا ہے۔ اس کی دھڑکن سے تمام اعضاءکو آکسیجن کا حامل خون مہیا ہوتاہے۔ اس کی اسی اہمیت کے سبب اس کا ٹھیک اور صحت مند رہنا بہت ضروری ہے۔

دل کے امراض کچھ عرصہ قبل تک صرف بڑی عمر کے افراد تک ہی محدودتھے لیکن اب نوجوانوں میں ہی نہیں، بچوں میں بھی اس کی شرح روزبروز بڑھتی جا رہی ہے۔ ماہرین صحت کے اندازوں کے مطابق دنیا میں ہر 100 میں سے اوسطاًایک بچہ پیدائش کے وقت دل کی کسی بیماری میں مبتلا ہو تا ہے۔

 امراض کی تقسیم

بچوں میں پائے جانے والے امراض کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ان کی ایک قسم وہ ہے جس میں دل کی خرابی آکسیجن کی مقدار کو کم کرتی ہے ۔ اس میں نوزائیدہ بچے نیلے ہو جاتے ہیں۔ ان کی دوسری قسم وہ ہے جس میں پھیپھڑوں تک خون کا بہاؤ زیادہ ہوجاتا ہے۔ایسے میں بچے کو نمونیا یا چھاتی کا انفیکشن ہوسکتا ہے۔ یہ عموماً دل میں سوراخ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ وہ بیماریاں ہیں جوپیدائش کے وقت موجو دہوتی ہیں جبکہ کچھ اس کے بعد بھی ظاہر ہوسکتی ہیں ۔ان میں دل کے پٹھوں کا کمزور ہونا قابل ذکر ہے۔

وجوہات کیا ہیں

ننھے بچوں میں ان مسائل کے بڑھنے کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے زیادہ تر کا تعلق حمل کے دوران ماں میں پائے جانے والے کچھ مسائل سے ہے۔ ان میں وٹامنزاور فولک ایسڈ کی کمی، انفیکشن یا شوگر ہونا، ماں کا مرگی کی ادویات،سگریٹ نوشی اورنشہ آور چیزیں استعمال کرنا
شامل ہیں۔اس کے علاوہ جینیاتی نقص اور موروثیت بھی اس کا سبب ہو سکتے ہیں۔

مرض کی علامات

 امراض قلب کے شکار بچے پیدائش کے وقت نیلے ہو جاتے ہیں اورسانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ بعدازاں بار بار چھاتی کا انفیکشن ہونا،وزن نہ بڑھنا، دل کی دھڑکن کا غیرمعمولی طور پر تیز ہونااور کھیلتے ہوئےیا دودھ پیتے ہوئے غیرمعمولی طور پرتھک جانا بھی اس کی نشانیاں ہیں۔ جب یہ بچے بڑے ہو جاتے ہیں توان کےسینے میں درد ہوتا ہے اور بعض اوقات یہ بیہوش بھی ہو جاتے ہیں۔اگر ذیل میں بیان کردہ کوئی بھی علامت ظاہر ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہئے۔

معائنے کے مراحل

حمل کے دوران ہی بچے میں ان امراض کی تشخیص کے لئے اس کے دل کا الٹراساؤنڈ کروائیں۔اگرپہلابچہ دل کے عارضے میں مبتلا ہوتودوسرے حمل میں یہ الٹر ساؤنڈ کرانا اوربھی ضروری ہو جاتا ہے۔ حمل کی تیسر ی سہ ماہی میں ماں کو بچے کی حرکات اور اس کے دل کی دھڑکن محسوس ہونے لگتی ہے۔ان میں غیر معمولی تبدیلی سے بھی مسئلے کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔

ان امراض کی تشخیص کے لئےڈاکٹر حضرات سٹیتھو سکوپ سے دل کا معائنہ کرنے کے بعد خون میں آکسیجن کی سطح معلوم کرتے ہیں۔ پھرچھاتی کے ایکسرے سےدل کا سائز اورچھاتی میں انفیکشن کاپتہ لگایا جاتاہے۔اس کےبعد ای سی جی سے دھڑکن کی رفتارجیسےدیگر مسائل کی پہچان کی جاتی ہے اور ایکو گرافی کے ذریعے خون کا بہاؤچیک کیا جاتا ہے ۔ یہ پانچوں ٹیسٹ ماہر امراض قلب کر تا ہے جبکہ ماہر امراض بچگان ان میں سے صرف پہلے چارٹیسٹ کر سکتا ہے۔

علاج کے طریقے

دل کے کچھ امراض ایسے ہیں جن کا علاج بغیر آپریشن کے بھی ممکن ہے۔ مثلاً رحم مادر میں بچے کی دل کی دو اہم شریانیں درمیان سے کھلی ہوتی ہیں۔ یہ پیدائش کے بعد قدرتی طور پر بند ہو جاتی ہیں ۔اگر ایسا نہ ہو تو اس کے لئےادویات تجویز کی جاتی ہیں۔ علاج کا ایک طریقہ انجیوپلاسٹی ہےجس کے ذریعے دل کی کھلی ہوئی رگوں اور دل میں سوراخ کو بند کیا جاتا ہے۔علاوہ ازیں دل کےبند والو کوبھی کھولا جاتا ہے۔
وہ تمام بیماریاں جن میں انجیوپلاسٹی کامیاب نہ ہو وہ بائی پاس کے ذریعے ٹھیک کی جاتی ہیں جیسے دل میں سوراخ ، دل کا آدھا بنا ہونااور کسی چیمبر کا بہت زیادہ چھوٹا ہونا وغیرہ۔

احتیاط

اگرخاندان میں پہلے بھی کوئی بچہ دل کا مریض ہو تو احتیاطاًایک ہی خاندان میں شادیاں نہ کی جائیں۔اس کے علاوہ حمل کے دوران ماں کا مکمل علاج کرائیں۔ بعض بچے پیدا ہونے کے بعدویسے ہی نیلے دکھائی دیتے ہیں جس کا سبب انہیں ٹھنڈ لگنا ہو سکتا ہے۔ اس کے لئے انہیں گرم کریں یعنی کسی چیز سے ڈھانپ دیں اور ایک گھنٹے بعد دوبارہ دیکھیں۔ اگر ان کا رنگ ٹھیک ہو جائے تو پریشانی کی بات نہیں ۔ تاہم اگر ان کےناخن اور زبان نیلی ہو تو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ دل کے عارضے میں مبتلا ہیں۔اس لئے پیدائش کے بعد ہر بچے کا معائنہ کرائیں۔

cyanotic heart diseases, rubella, ECHO, gene mutation، heart diseases in children

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x