سکول میں بچوں کا ہراساں کرنا, ہراساں ہونا

191

    ثوبیہ اور ان کے شوہر طاہر اپنے آٹھ سالہ بیٹے علی کے بارے میں بہت پریشان رہتے ہیں‘ اس لئے کہ سکول اور محلے سے اس کی شکایتوں میں اضافہ ہوتاہی چلا جا رہا ہے۔ سکول میں کوئی بچہ اس سے دوستی نہیں کرنا چاہتااور نہ کوئی استاد اس کی تعلیمی کارکردگی سے مطمئن ہے۔بار بار سزا ملنے کے باوجود وہ دیگربچوں کو مار نے،ان کی چیزیں چھیننے اور انہیں تنگ سے باز نہیں آتا۔ دوسری طرف اس کا چھ سالہ بھائی رضااس کے بالکل برعکس طبیعت کامالک ہے۔ سکول میںبچے اسے تنگ کرتے‘ اس پر پھبتیاں کستے اور بسااوقات مارتے بھی ہیں۔ وہ ہروقت ڈراسہما رہتا ہے اور ان کے خلاف اپنا تحفظ کرناتو درکنار‘ ان کی شکایت بھی نہیںکر سکتا۔
یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس سے بہت سے بچے گزرتے ہیں۔ جب والدین کے نوٹس میں یہ بات آتی ہے تو وہ مقدوربھر دوڑ دھوپ کرتے ہیں۔ بعض اوقات معاملہ حل ہوجاتاہے‘ کچھ صورتوں میں بچے سکول تبدیل کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں جبکہ اکثر یت کے لئے صورت حال جوں کی توں رہتی ہے جو ان کی شخصیت اور تعلیمی کارکردگی ‘ دونوں پر برا اثر ڈالتی ہے۔
سکولوں اور دیگر جگہوں پر ڈرانا دھمکانا، ہراساںکرنایا ہونا بہت عام ہوتا جا رہا ہے۔گوجر خان سے تعلق رکھنے والے ماہرِنفسیات انجم محمود صدیقی کے مطابق بچوں میں پائے جانے والے اس رویے کے لئے غنڈہ گردی کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ ان کے مطابق:
” غنڈے کی اصطلاح ایسے فرد کے لیے استعمال ہوتی ہے جوبلاوجہ دوسروں کو تنگ کرکے خوش ہوتا ہے۔اس ’تنگ کرنے‘ میں بہت سی چیزیں آ جاتی ہیں جن میں مارناپیٹنا،مذاق اڑانا، آوازے کسنا،گالیاں دینا، بلیک میلنگ کرنا،بچوں کا لنچ یا استعمال کی دیگرچیزیں چھین لینا وغیرہ شامل ہیں۔ ایسی غنڈہ گردی میں بالعموم لوگوں کی ذات،مذہبی عقائد،جنس یا جسمانی معذوری کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ہراساں کرنے کی یہ قسم جسمانی، ذہنی یا جذباتی،غرض کسی بھی شکل میں ہو سکتی ہے نیز آج کل انٹرنیٹ کے ذریعے۔’بولینگ ‘کی جاتی ہے۔“
غنڈہ گردی‘ تین کردار
اس معاملے میں تین قسم کے افراد کا کردار اہم ہے۔ ان میں سے پہلا ہراساں کرنے والا،دوسرا اس کا شکار فرد اورتیسرا یہ سب کچھ خاموشی سے دیکھنے والا شامل ہیں۔
ہراساں کرنے والے بچے
ہراساں کرنے والے بچے نفسیاتی اعتبار سے خود کو دوسروں سے زیادہ طاقت ور،اہم یا مقبول سمجھ کر یہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔ ایسے بچے بعض اوقات کسی سپر ہیرو سے متاثر ہو کر بھی ایسا کرتے ہیںتاکہ ان کو بھی ہیروسمجھاجاسکے۔ اس لئے ایسے رویوںکے فروغ میںٹی وی ،فلموں ، انٹرنیٹ اورویڈیو گیموں کا کردار بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
نیزیہ رویہ دوسروں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے بھی اختیار کیا جاتاہے۔
والدین کا پرتشدد رویہ،بچوںکے حوالے سے عدم توجہی ‘گھر میں گالی گلوچ کا کلچر اور والدین یا بہن بھائیوں میںاختلافات بھی اس کاسبب ہو سکتے ہیں۔©بعض اوقات احساسِ کمتری کاشکار بچے بھی اپنے اس احساس کو دبانے کے لیے دوسرے بچوں کو ہراساں کرنے لگتے ہیں۔ کچھ بچوں کو اس بات کا اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کا کسی کو ہراساں کرنا ان کے لئے کس قدر تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔
بری صحبت یا والدین کا بے جا لاڈ پیار بھی انہیںایسابناسکتا ہے۔ جب ماں باپ بچے کو چھوٹا سمجھ کر اس کی حرکتوں کو نظرانداز کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں دوسروں کو تنگ کرنے کا حوصلہ اور ترغیب پیدا ہوتی ہے ۔
ہراساں ہونے والے بچے
دوسرا گروہ ایسے بچوں پر مشتمل ہے جو ہراساں کرنے والوں کا شکاربنتا ہے۔ شرمیلے اوردرون بین یعنی اپنے آپ میں گم رہنے والے بچے اس کا زیادہ نشانہ بن سکتے ہیں۔اس معاملے کا تعلق معاشرتی اور معاشی اونچ نیچ سے بھی ہے۔نچلے طبقات،چھوٹی ذاتوں یا برادریوں سے تعلق رکھنے والے بچے خوداعتمادی میں کمی کے سبب اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ جسمانی طور پر معذور، کم نمبر لینے والے یا استاد کی ڈانٹ کازیاد ہ شکار ہونے والے بچوں کو بھی ان کے دوست تنگ کرنے لگتے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہے تو ان کے لئے سکول ایک ناپسندیدہ ترین جگہ بن جاتی ہے۔
بچوں کا آپس میں ایک دوسرے کو تنگ کرنااگر ایک حد میں رہے تو اس میں حرج نہیں ہے لیکن یہ حدود سے تجاوز کر جائے تو بہت سے نفسیاتی مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔
لا تعلقی کا رویہ
سکول میں ہی نہیں‘ معاشرے میں بھی ہراساںکرنے اور ہونے کے بے شمار واقعات سامنے آتے رہتے ہیں جن پر لوگوں کی بہت بڑی تعداد خاموشی اور لاتعلقی کارویہ اختیار کر لیتی ہے۔ اگر ایسا کوئی واقعہ سامنے آجائے تو اسے نظر انداز کرنے کی بجائے اس پر حتی المقدور مثبت کردار ادا کرنا چاہئے۔ اس رجحان کے فروغ کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اسے روکنا اہم نہیں سمجھا جاتا۔سکول میں اسے معمول کی اور عام سی بات سمجھ کر نظرانداز کرنے کا رویہ ہراساں کرنے اور ہراساں ہونے والے‘دونوں بچوں کی نفسیات پر گہرے منفی اثرات مرتب کرتا ہے ۔
کرنے کے کام
یو کے سی سی آئی ایس سے وابستہ ماہرِ نفسیات وکی شاٹ بولٹ نے شفا نیوزسے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بچوں میں غنڈی گردی چاہے انٹرنیٹ پر ہو یا پھر سکولوں میں اس رجحان کو روکنے اور دیگر بچوں کو ان سے بچانے کے لئے درج ذیل امور کو مدنظر رکھنا چاہئے:
٭ہراساں کرنے والے بچے شہہ ملنے پر اپنے آپ کو فتح یاب سمجھنے لگتے ہیں‘اس لئے والدین‘ بہن بھائیوں اور دوستوں کو چاہئے کہ ان کی غلط حرکات پرکبھی ان کا ساتھ نہ دیں۔
٭ہراساں کرنے والے بچے کو نظرانداز کرتے ہوئے اس جگہ سے ہٹ جائیں جہاں وہ موجود ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ جو بچے توجہ حاصل کرنے کے لیے دوسروں کوہراساں کرتے ہیں‘ وہ نظرانداز کئے جانے پر دوبارہ تنگ نہیں کرتے۔
٭اساتذہ کو چاہئے کہ ہراساں ہونے والے بچے پر خاص توجہ دیں اور سکول میں تفریح کے اوقات میںاس کو اکیلا مت جانے دیں۔اس کے ساتھیوں کو خاص ہدایات دیں کہ وہ اس کے ساتھ رہیں۔ اگرممکن ہو تو اس کی نگرانی خود یا کسی دوسرے ذمہ دار شخص سے کروائیں۔اس کے علاوہ بچوں کے والدین کواس بارے میں ضرور آگاہ کریں ۔
٭اگر والدین اور اساتذہ غنڈہ گردی کا نشانہ بننے والے بچے سے دوستانہ رویہ رکھیں گے تو اس کا اعتماد بڑھے گا۔والدین یا بڑوں کا ساتھ نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے بچے کسی کو کچھ نہیں بتا پاتے۔ لہٰذاخود ان سے پوچھیں کہ کیا کسی نے انہیں تنگ کیا ہے یا لڑکوں کا کوئی گروہ دوسروں کو تنگ کرنے میں مشہور ہے۔ انہیں بتائیںکہ اگر کوئی انہیں تنگ کرے تو فوراًکسی بڑے کوآگاہ کریں۔
٭ گھر کا ماحول بھی اس ضمن میں اہم کردار ادا کرتا ہے‘ اس لیے گھر میں بچے کی اچھی تربیت پر توجہ دیں ۔
٭بچوں میں دوستی،محبت اور خلوص کا جذبہ تب تک فروغ نہیں پا سکتا جب تک وہ بڑوں میں اس کی جھلک نہ دیکھیں ۔اس لیے چھوٹوں پر شفقت کا عملی نمونہ پیش کریں۔
٭بچوں کے ساتھ بے جا لاڈ پیار یا ڈانٹ ڈپٹ ‘دونوں ہی انتہائی نقصان دہ رویے ہیں۔انہیں کسی چیز سے منع کرنے کے لیے محض حکم دینے کی بجائے اس کی وجہ سمجھانے کی کوشش کریں۔بچے کو جب معلوم ہی نہ ہو کہ کوئی چیز غلط کیوں ہے تو وہ کبھی اس سے باز نہیں آئے گا۔
٭بچوںکے احساسات کو سمجھیں اورکسی مسئلے یا پریشانی کی صورت میںان کی اخلاقی مدد لازماً کریں۔ان سے بات چیت کواپنا معمول بنائیں۔ان کا آپ کو اپنا ہمدرد سمجھنا بہت ضروری ہے جوان کی نفسیاتی و معاشرتی تربیت میں مددگارثابت ہو گا۔
حاصلِ بحث یہ کہ سکول میں بچوں کا ہراساں کرنا اور ہونا بچوں کی شخصیت پر گہرے نقوش چھوڑتا ہے۔ایسے بچے بڑے ہو کر بہت سے نفسیاتی اور عملی مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں لہٰذا آج ان پر توجہ دیں تاکہ وہ مستقبل میں معاشرے کے مفید شہری بن سکیں۔