حمل اور سچی جُھوٹی باتیں

65

قدرت نے صنفِ نازک کو مامتا کا خوبصورت جذبہ تحفے میں دیا ہے اور اسے اس کی فطرت کا لازمی حصہ بنایا ہے۔ تبھی تو جب اسے اس بات کا علم ہوتا ہے کہ وہ پہلی مرتبہ ماں جیسے اونچے رتبے پرفائز ہونے والی ہے تو اس کی خوشی چھپائے نہیں چھپتی۔ حمل ٹھہرتے ہی گھر کی بڑی بوڑھی عورتیں اسے اپنے اپنے تجربات کی روشنی میں حمل سے متعلق معلومات سے نوازتی رہتی ہیں۔یہ مشورے اگرچہ ان کے تجربات کا نچوڑ ہوتے ہیں لیکن کبھی کبھی وہ سخت نقصان دہ ہی نہیں‘ ماں کے لئے وبالِ جان بھی ثابت ہوتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ حمل سے متعلق کچھ غلط تصورات نے ہمارے معاشرے میں اپنی جڑیں اس قدر گہری اور مضبوط کر لی ہیں کہ وہ نسل در نسل چلتے آرہے ہیں۔ پچھلے شمارے میں اس سے متعلق کچھ غلط تصورات کا ذکر کیا گیا تھا۔ اس شمارے میں کچھ مزید مفروضے پیش خدمت ہیں :

چائے یا کافی نہ پئیں
متوقع مائوں کو چائے اور کافی پینے سے منع کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ چائے یا کافی میں کیفین پائی جاتی ہے جو اس کے رحم میں پرورش پاتے بچوں میں کمزوری کی وجہ بن سکتی ہے۔
کیفین کا کم استعمال اچھاہے‘ تاہم اس کایہ مطلب ہر گز نہیں کہ ان مشروبات سے مکمل پرہیز کر لیا جائے۔ دن میں اگر آپ دو سے تین کپ چائے یا کافی پی رہی ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ تاہم اس کی زیادہ مقدار مثلاً ہرگھنٹے بعد چائے پینا بچے کی صحت کے لئے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
میٹھا‘ کھٹا اور بے بی چوائس
حمل کے دوران فطری طور پر خواتین کا دل کچھ چیزیں کھانے کو زیادہ چاہتا ہے جن کا تعلق ان کی جسمانی ضرورت‘کلچر یادستیابی سے ہوتا ہے۔ بہت سے گھرانوں میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ اگرحاملہ خاتون کا دل کچھ میٹھا کھانے کو چاہے تواس کے ہاں بیٹی اور اگر نمکین کھانے کو چاہے تو بیٹا ہوتا ہے۔ ان باتوں کی کوئی حقیقت نہیں۔
بدصورت چیزدیکھنا
کچھ عورتیں یہ سمجھتی ہیں کہ حمل کے دوران خوبصورت چیزیں دیکھنے سے بچہ بھی پیارا پیداہو گا۔ اسی خیال سے وہ جگہ جگہ خوبصورت بچوں کی تصاویر لگا دیتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا ذرہ ذرہ جینیاتی طور پر تیار ہوتا ہے۔ میڈیکل سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ ساخت کے حوالے سے ڈی این اے اور کروموسومز کا کردار اہم ہے‘ لہٰذا خوبصورت یا بدصورت چیزیں دیکھنے سے بچے کی خوبصورتی یا بدصورتی کا کوئی تعلق نہیں ۔
پیٹ کھجانے سے بچہ بدتمیز
یہ تصوربالکل بے معنی اور غلط ہے کہ دوران حمل پیٹ کھجانے سے بچہ بدتمیز پیدا ہوتا ہے۔ بچے کے رویوں کا تعلق جینیاتی اور ماحولیاتی عوامل سے ہوتا ہے‘ پیٹ کھجانے سے نہیں۔

دو کیلے‘ جڑواں بچے
آگہی کی کمی کے باعث جو بہت ہی غلط قسم کے مفروضے ہمارے معاشرے میں گردش کررہے ہیں‘ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اگر ماں ہمیشہ دو‘ دوکی تعداد میں کیلے کھائے تو بچے جڑواں پیدا ہوتے ہیں۔
واضح رہے کہ جڑواں بچے پیدا ہونے کی دو وجوہات ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ دو انڈے ایک ہی وقت میں بارآور (fertilize) ہو جائیں اور دوسری یہ کہ ایک ہی انڈہ دو حصوںمیں تقسیم ہو جائے۔ اس کا کیلوں کی تعداد سے کوئی تعلق نہیں۔
ننھیال میں پیدائش
ہمارے ہاں ایک خیال یہ بھی پایا جاتا ہے کہ پہلا بچہ ننھیال میں پیدا ہونا ماں اور بچے کی صحت کے لئے اچھا ہے۔ اس مفروضے کے پیچھے ثقافتی عوامل کارفرما ہیں۔ دراصل پہلے حمل میں عورت ناتجربہ کار ہوتی ہے لہٰذا چاہتی ہے کہ کوئی ایسا فرد قریب ہو جس سے وہ اپنے مسائل بلا جھجھک شیئر کر سکے۔ میکے میں اسے ماں کی صورت میں ایک بہترین نگہداشت کرنے والا دوست میسر آجاتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ پہلے بچے کی پیدائش پر خرچ ذرا زیادہ ہوتا ہے‘ اس لئے بعض سسرال والے بھی چاہتے ہیں کہ شروع میں ننھیال والے ہی ماں اور بچے کی دیکھ بھال کریں۔ طبی طور پر ددھیال یا ننھیال میں بچے کی پیدائش کا ماں اور بچے کی صحت سے کوئی تعلق نہیں۔

گرم اور ٹھنڈی چیزیں
ایک تاثر یہ بھی عام ہے کہ دوران حمل گرم چیزیں کھانے سے اسقاط حمل کاخطرہ ہوتا ہے جبکہ ٹھنڈی چیزوں سے زکام ہوجاتا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یونانی طب چیزوں کی ٹھنڈی یا گرم تاثیر پر یقین رکھتی ہے لیکن جدید میڈیکل سائنس کے مطابق اس کے ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔
اگر کسی چیز میں کوئی ایسا مواد ہو جو یوٹرس کو متحرک کر دے اور بے بی وہاں سے نکل جائے تو اسقاطِ حمل ہو سکتا ہے یا پھر اس کی دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی چیز ہارمونز کے خلاف ردعمل ظاہر کر دے۔ بصورت دیگرچیزوں کے ٹھنڈا یا گرم ہونے سے حمل کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔جہاں تک زکام کا تعلق ہے تو بہت سی ایسی ٹھنڈی چیزیں (مثلاً برف وغیرہ) ہیں جو عام حالات میں بھی گلے کے انفیکشن کی وجہ بن سکتی ہیں۔

سیڑھیاں نہ چڑھیں
اس بات کا تعلق بڑی حد تک اس خاتون کی عمومی صحت اور سرگرمیوں کی نوعیت سے ہے کیونکہ سڑک بنانے والی یا کھیتوں میں کام کرنے والی خواتین بھی صحت مند بچے کو جنم دیتی ہیں۔ احتیاطاًحاملہ خواتین کو اوسط درجے کے پرمشقت کام ہی کرنے چاہئیں۔ ہر وقت بیٹھے رہنا یا مسلسل سخت کاموں کی انجام دہی‘ دونوں ہی ٹھیک حکمت عملی نہیں۔ خواتین کو چاہیے کہ جتنا کام وہ آسانی سے کر سکتی ہوں‘ کر لیں اور زیادہ مشکل کاموں کا خطرہ مول نہ لیں۔
ماں کا حمل‘ بیٹی پر اثر
حمل سے متعلق ایک خیال یہ بھی ہے کہ ماں اپنے زمانے میں جس قسم کے حمل کے تجربے سے گزری تھی‘ بیٹی کا تجربہ بھی ویسا ہی رہے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر ماں کو حمل کے دوران کچھ موروثی بیماریوں مثلاً ذیابیطس یا بلڈ پریشر وغیرہ کا سامنا رہا ہو تو بیٹی کو بھی ان کا سامنا ہو سکتا ہے۔تاہم یہ مان لینا کہ اگر ماں کی ڈلیوری مشکل یا آسان ہوئی تھی تو بیٹی کی بھی ویسی ہی ہو گی‘بالکل غلط ہے، اس لئے کہ ہر عورت کا حمل دوسری سے مختلف ہوتا ہے۔ ماں‘ بیٹی یا دو بہنوں کے حمل کا ایک جیسا ہونا قطعاً ضروری نہیں۔

پہلا لیبر پین دیر سے
ایسا کوئی عامل میڈیکل سائنس میں سامنے نہیں آیا جسے درد زہ (لیبر پین) جلد شروع ہونے کی وجہ سمجھا جائے۔ مزید برآں ایسی کوئی تحقیق موجود نہیں جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ پہلا درد زہ دیر سے اور بعد والے جلدی شروع ہوتے ہیں۔ تاہم ایسا ضرور ہے کہ بعد کے لیبرپین آسان ہو جاتے ہیں۔
حمل کے معاملات کو سمجھنے کے لئے خواتین کو چاہئے کہ ایک دوسرے سے ا س کے بارے میں بات چیت ضرور کریں لیکن غیر مستند ذرائع کو حقیقت مان کر اپنی اور اپنے ہونے والے بچے کی صحت کو خطرے میں ڈالنے سے گریز کریں۔ انہیں چاہئے کہ مفروضوں کے صحیح یا غلط ہونے کے بارے میں حتمی فیصلہ ڈاکٹر سے حاصل شدہ معلومات کی روشنی میں ہی کریںکیونکہ ہم مستند ذرائع ہی صحت کے معاملات کو بہتر طریقے سے سمجھ سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of