صحت بخش اوررنگ سے پاک ہلدی کیسے اگائیں

483

ہر ثقافت کے اپنے مصالحے اور جڑی بوٹیاں ہوتی ہیں جو غذائی اعتبار سے کسی’’ پاور ہاؤس‘‘ سے کم نہیں ہوتیں۔ پاک و ہند کے پکوانوں میں ہلدی عموماً ہر کھانے میں کہیں ذائقہ بڑھانے اور کہیں رنگ نکھارنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ گرم ہلدی اپنی تیز مہک اور زرد رنگ کی بدولت جانی جاتی ہے۔

ہلدی قدرتی طور پر جراثیم کش خصوصیات کی حامل ہوتی ہے اور خراشوں، زخموں اور جلنے وغیرہ جیسی صورتوں میں فوری مرہم کا کام کرتی ہے۔ بعض حکما کے مطابق زخم پر لیپ کرنے کی صورت میں درد میں کمی واقع ہوتی ہے اوراس میں مندمل ہونے کا عمل تیز ہوجاتاہے۔ مزیدبرآں ہلدی بلڈشوگر کی سطح کو متوازن رکھنے، دن بھر میں توانائی کی سطح کو برقرار رکھنے، چہرے کو دانوں اور پھنسیوںسے پاک کرنے اور موڈ کو بہتر کرنے کے لیے بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔سردرد سے فوری نجات کے لئے ہلدی کا ایک ٹکڑا یا خشک ہلدی کی ایک چائے کی چمچ اپنے اندر حیر انگیز اثرات رکھتی ہے‘ تاہم علامات برقرار رہیں تو ٹوٹکوں پر انحصار کی بجائے باقاعدہ علاج پر توجہ دینی چاہئے۔

پودے کی ساخت
آلودگی اور کیمیکلز سے پاک دیسی اور صحت بخش ہلدی گھر میں بھی اگائی جا سکتی ہے ۔ اس کے پودے کی لمبائی اڑھائی سے چار فٹ تک ہوتی ہے۔ اس کے پتے سبز ،چوڑے،لمبے اورنوکیلے ہوتے ہیں جبکہ ہلدی تیار ہونے کے بعدوہ زرد رنگ کے ہوجاتے ہیں۔

گھر میں اگانے کا طریقہ
آب و ہوا
ہلدی کی کاشت کے لئے مرطوب و معتدل آب و ہوا کا انتخاب ضروری ہے۔ یہ ایک سدا بہار پودا ہے لیکن پھل یہ سال میں ایک بار ہی دیتا ہے ۔راولپنڈی، جنوبی پنجاب اورسندھ وغیرہ کے علاقے اس کی کاشت کے لئے بہتر سمجھے جاتے ہیں۔
زمین کی تیاری
ہلدی کے لئے زرخیز زمین جس میں پانی کا نکاس بہتر ہو‘ اچھی رہتی ہے۔ چونکہ یہ جڑ والی سبزی ہے، اس لئے پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے اس کا پودا جل جائے گا اور نتیجتاًوقت اور پیسے دونوں کا ضیاع ہوگا۔اگر زمین کی نکاسی کا نظام بہتر نہیں توکاشت سے دو یا اڑھائی ماہ پہلے اس میں ایک حصہ ریت اور گوبر کی کھاد اچھی طرح ملا لیں اور پھرچھوڑ دیں۔ اسے روزانہ پانی دیں اور غیر ضروری جڑی بوٹیوں کی گوڈی کر کے انہیں تلف کرتے رہیں۔اس کی کاشت کا وقت 15 مارچ سے 15اپریل تک ہے۔

لگانے کا طریقہ
بازار میں جنوری کی ابتدا میں تازہ ہلدی دستیاب ہوتی ہے۔ تقریباً 10/10کے رقبہ زمین کے لئے تین سے چارکلوگرام ہلدی خرید لیں ۔اس بات کا خیال رہے کہ ہلدی مکمل خشک کی گئی ہو اور اس کی سطح زخمی نہ ہو کیونکہ اس کی سطح پر آنکھیں(sprouts) پائی جاتی ہیں جو نئے پودوں کے پھوٹنے کا باعث بنتی ہیں۔ اس ہلدی کو ایک سے ڈیڑھ انچ کے گول ٹکڑوں میں ایسے کاٹ لیں کہ ہر ٹکڑے کی جلد پر دوسے تین آنکھیں آرہی ہوں۔اس کے بعد زمین میں ہلکی سی کھدائی کر کے تین سے چارانچ گہری نالیاں بنالیں۔ نالیوں کا آپس کا فاصلہ ایک سے ڈیڑھ فٹ ہونا چاہئے ۔
اب ہلدی کے ہر ٹکڑے کو نالیوں میں نو انچ کے فاصلے پر رکھ کر اوپر سے مٹی ڈال دیں اور فوارے کی مدد سے پانی کاہلکا سا چھڑکاؤ کردیں ۔اس کا پودا نکلنے میں عموماً 30سے35دن لگ جاتے ہیں۔ پودے کی پرورش کے لئے اسے اضافی کھاد کی ضرورت نہیں ہوتی البتہ پانی اتنا ہی دیا جائے کہ مٹی نم رہے ۔ خاص طور پر گرمیوں میں پانی کا خاص خیال رکھیں اور روزانہ گوڈی کر کے غیرضروری جڑی بوٹیاں تلف کرتے رہیں۔

کٹائی کا وقت اور طریقہ
ہلدی کی فصل کے پتے شروع جنوری تک بالکل سوکھ جاتے ہیں اور ہلدی کٹائی کے قابل ہو جاتی ہے۔ایسا کرنے کے لئے اسے کھرپے کی مدد سے نکالتے جائیں اور فالتو مٹی جھاڑ کر سایہ دار جگہ پر دو سے تین دن کے لئے رکھ دیں۔ اس کے بعد خشک پتے جھاڑ دیں اور اسے دھوپ میں دو سے تین دن کے لئے خشک کر لیں۔پھر اسے کھلے پانی سے اچھی طرح رگڑ کردھو لیں۔
اب اسے دھوپ میں پھیلادیں اور تب تک پھیلائے رکھیں جب تک اس میں سے فالتو پانی خشک نہ ہوجائے ۔خیال رہے کہ خشک کرتے وقت اس کی اطراف کو باقاعدہ بدلتے رہیں اور اس کو ہاتھوںمیں مسلتے رہیں تاکہ اس کا چھلکا مکمل طور پراتر جائے۔ پھپھوندی سے بچاؤ کے لئے احتیاط ضروری ہے۔ اگر احتیاط نہ کی جائے تو اسے پھپھوندی لگ سکتی ہے اور آپ کی ساری محنت ضائع ہوسکتی ہے۔
مزید برآں اگلی فصل کے لئے اگر بیج درکار ہو تو فصل کا کچھ حصہ کھیت میں ہی کھڑا رہنے دیں اور کاشت کے وقت کاٹ لیں۔ دوسری صورت میں کاٹنے کے وقت اس کی موٹی گٹھلیاں بیج کے لئے رکھ دیں اور اوپر مٹی کی تہہ بچھا دیں تاکہ گٹھلیاں سوکھنے نہ پائیں۔

ابالنے، سکھانے اور پالش کا طریقہ
خام ہلدی کو مندرجہ ذیل طریقوں سے خشک کیا جاتا ہے:
٭ ایک دیگچے میں چولہے پر پانی رکھیں اور جب وہ ابلنے لگے تو اس میں ہلدی ڈال دیں۔پانچ منٹ تک ابالنے کے بعد چولہا بند کر دیں۔ جب گٹھلیاں ہاتھ سے دبانے پرنرم معلوم ہوں تو انہیں دھوپ میں ڈال دیا جائے۔ یہ8 سے10 دن میں خشک ہو جاتی ہیں۔ ہلدی کو ایسے موسم میں ابالنا چاہیے جب مطلع ابرآلود نہ ہو اور بارش کا بھی کوئی امکان نہ ہو‘ ورنہ ہلدی جلدی خشک نہ ہو سکے گی اور اس کی اندرونی رنگت خراب ہو جائے گی۔ ہلدی اگانے والے علاقوں میں ہلدی خشک کرنے کا یہی طریقہ رائج ہے۔
٭ہلدی سکھانے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ہلدی کی گٹھلیوں پر سرسوں کا تیل لگا کر انہیں دانے بھوننے والی بھٹیوں پر 8 سے10 منٹ تک بھونا جاتا ہے اور اس کے بعد انہیں دھوپ میں خشک کیا جاتا ہے۔ اس طریقے سے گٹھلیاں دو سے تین دن میں سوکھ جاتی ہیں۔ جن علاقوں میں مطلع ابر آلود رہے اور بارشوں کا بھی امکان ہو وہاں یہی طریقہ زیادہ کامیاب رہتا ہے۔
جب گٹھلیاں اچھی طرح سے خشک ہوجائیں اور ہاتھ سے ٹوٹنے لگیں تو انہیں ہاتھ سے مسلا جاتا ہے اور تجارتی پیمانے پر اسے گھومنے والے ڈرم میں ڈال کر زور سے گھمایا جاتا ہے۔ ڈرم کی سطح سے رگڑ کھانے سے ہلدی پر سے اضافی چھلکا ہٹ جاتا ہے اور نتیجتاً یہ صاف اور خوبصورت لگنے لگتی ہے ۔ اس عمل کو پالش کرنا کہتے ہیں۔
اب گھریلو استعمال کے لئے خشک ہلدی کو گرائنڈر میں ڈال کر سفوف بنا لیں اور اسے چھان کر سال بھر کے لئے ہوابندبوتلوں میں محفوظ کرلیں۔ اس کا چھلکا وغیرہ بھی ضائع کرنے کی بجائے ہانڈی میں استعمال کریں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہلدی کو خشک کرنے کا مرحلہ نہایت مشکل اور صبر آزما ہے لیکن آلودگی سے پاک اور صحت بخش ہلدی حاصل کرنا بھی کوئی آسان کام تو نہیں ۔

کٹائی کے بعد اس کی مقدار بہت کم رہ جاتی ہے اس لئے ملاوٹ کرنے والے اس میں مضرصحت اشیاء ملا کر ان کی مقدار اور وزن دونوں کو بڑھاتے ہیں۔ ایسا کرنے سے اس کا وزن تو بڑھ جاتا ہے البتہ کھانے والے کے لئے شفا کی بجائے یہ بیماریوں کو دعوت دینے کا باعث بنتی ہے۔