بخار… علامت نہیں‘ مرض مٹائیے

363

    ہمارا جسم کچھ اس طرح سے بنا ہوا ہے کہ وہ اپنے معمول کے کام 37 ڈگری سنٹی گریڈ ( 98.4 ڈگری فارن ہائیٹ) پرہی بہتر طور پر انجام دے سکتا ہے۔ جسم کو اس درجہ حرارت پر رکھنے کےلئے ہمارے دماغ میں ہائپوتھلمس (Hypothalamus) کی شکل میں ایک تھرمو سٹیٹ لگا ہوتا ہے جوقدرتی طور پر اسی درجہ حرارت پر فکس ہوتا ہے ۔جب خون اس میں سے گزرتا ہے تو وہ اس کے ٹمپریچر کی سطح کو محسوس کرلیتا ہے۔ اگر وہ موزوں سے کم ہو توہائپوتھلمس جسم میں کچھ ایسی سرگرمیاں شروع کرتا ہے جن سے خون گرم ہوجاتا ہے اور جسم کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔

بخار کیا ہے
عام حالات میں ہائپو تھلمس ایک خودکار نظام کے تحت جسمانی درجہ حرارت کوموزوں سطح پرہی رکھتا ہے لیکن بعض اوقات کچھ عوامل کی وجہ سے ہائپو تھلمس کا تھرمو سٹیٹ اس سے زیادہ سطح پر سیٹ ہوجاتا ہے۔ اب وہ درجہ حرارت کی نئی سطح کو نارمل سمجھ کر جسم کو اس پر لانے کیلئے کچھ سرگرمیاں شروع کر دیتا ہے۔ےوں ہمارا ٹمپرےچر نارمل سے زےادہ بڑھ جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہمیں بخار ہو جاتا ہے ۔اس صورت میں خوراک سے حاصل ہونے والی توانائی جسم کوغیرضروری طور پر گرم کرنے میں استعمال ہوجاتی ہے جس سے جسمانی کمزوری ہو جاتی ہے ۔

بعض اوقات ہمیں اپنے ہاتھوں یا پاﺅں میں بخار کی سی کیفیت محسوس ہوتی ہے لیکن جب تھرما میٹر سے درجہ حرارت چیک کیا جائے تو وہ نارمل ہوتا ہے۔ اس کی وجوہات کچھ اور ہو سکتی ہیں لیکن یہ بخار بہرحال نہیں ہے۔ اگرٹمپریچر98.4 ڈگری فارن ہائیٹ سے بڑھ جائے تو ہم اسے بخار کہیں گے۔ اگر وہ 99 ڈگری پر ہو تو عمومی بخار ہے لیکن اگر لمبے عرصے تک اس سطح پر رہے تویہ خطرناک ہو سکتا ہے ۔ بالعموم 104 سے 106 ڈگری تک بخارکو شدید (ہائی گریڈ) شمارکیا جاتا ہے۔ اگر وہ 106 ڈگری سے اوپرچلا جائے تو دماغ سمیت دیگر اعضاءکے عمومی افعال متاثر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ 107 ڈگری کا بخاراگرکچھ عرصہ تک رہے تویہ کسی شخص کومارنے کےلئے کافی ہوتا ہے۔ اسی طرح جسمانی درجہ حرارت کم ہو جائے تو یہ بھی نقصان دہ ہے۔ اگر وہ 92 ڈگری سے نیچے چلا جائے توجسمانی افعال رک جاتے ہیں۔

 

ٹمپریچر لینے کا صحیح طریقہ:
بخار چیک کرنے کےلئے مختلف طریقے استعمال کئے جاتے ہیں۔ ان میں سے سب سے مقبول طریقہ بغل میں تھرما میٹر رکھ کر ٹمپریچر لینا ہے۔ اسی طرح پیشانی پر مخصوص سٹرپ رکھ کر بھی ےہ معلوم کیا جاتا ہے۔ یہ دونوں طریقے درست نہیں‘ اس لئے کہ وہ ہمیں محض جلد کی بیرونی سطح کا ٹمپریچر دیتے ہیں جس پر موسم سمیت کئی عوامل اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ جسم کے اندرونی ٹمپریچر کا نمائندہ نہیں ہے۔ لہٰذا ٹمپیریچر معلوم کرنے کا درست طریقہ یہ ہے کہ تھرما میٹر کوزبان کے نیچے رکھا جائے یا مقعد (پاخانے کی جگہ ) میں رکھا جائے اور تقریباً ایک منٹ کے بعد نکال لیا جائے۔
زبان کے نیچے تھرما میٹر رکھ کر درجہ حرارت لینے کےلئے ضروری ہے کہ آپ نے اس سے تقریباً پانچ منٹ پہلے کوئی ٹھنڈی یا گرم چیز کھائی یا پی نہ ہو‘ اس لئے کہ اس صورت میں اس کا رزلٹ متاثر ہو سکتا ہے۔ چھوٹے بچوں کے منہ میں تھرما میٹر رکھتے ہوئے خدشہ ہوتا ہے کہ وہ اسے چبا نہ لیں۔ اس لئے ان کا ٹمپریچر لینے کا سب سے بہتر طریقہ مقعد کے ذریعے جسم کے اندر کا درجہ حرارت لینا ہے۔

 

بخار کی زیادہ عام اقسام
بخار کے انداز سے اس کاممکنہ سبب معلوم ہو جاتا ہے جس کے مطابق علاج کیاجاتا ہے۔ ہمارے ہاں زیادہ عام بخار درج ذیل ہیں:
ملیریا:    ہمارے ہاں سب سے عام بخار ملیریا ہے جس کا وائرس ایک خاص قسم کے مچھرکے ذریعے پھیلتا ہے۔ جب وہ ملیریا کی شکار کسی شخص کو کاٹتا ہے تو اس کا وائرس اس مچھر میں منتقل ہوجاتا ہے۔ جب یہی مچھر کسی صحت مند آدمی کو کاٹتا ہے تووائرس اس تک منتقل ہوجاتا ہے اور اسے بخار ہوجاتا ہے۔ اس بخارمیں اچانک ٹمپریچر بڑھتا ہے اور پھریک دم پسینے آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ملیریا ہر دوسرے یا تیسرے دن ہو سکتا ہے۔ روزانہ ایک خاص وقت پر بخار ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جراثیم اسی وقت تقسیم در تقسیم ہوتے اور پھلتے پھولتے ہیں۔
ٹائیفائیڈ:    دوسراعام بخار ٹائیفائیڈ ہے جس کا وائرس آنتوں سے خون میں شامل ہوتا ہے۔ یہ بخار اچانک نہیں ہوتا بلکہ آہستہ آہستہ بڑھتا ہے اور پھر یکساں رہتا ہے۔ مثلاً پہلے دن مریض کو 99 ڈگری فارن ہائیٹ کا بخار ہو گا‘ پھروہ بتدریج 100‘101 اور102 ڈگری تک پہنچ جائے گا اور پھر اس پر مسلسل رہے گا۔ یہ سردی اور پسینے والا بخار نہیں ہے ۔ اس لئے کہ یہ بتدریج بڑھتا ہے۔
گردن توڑ بخار:    ہمارے ہاں ایک اور بخار بھی عام ہے جسے عرف عام میں گردن توڑ بخار (Meningitis) کہا جاتا ہے۔ دماغ کی حفاظت کےلئے اس کے گرد ایک پردہ ہوتا ہے جس کے اندر مائع بھراہوتا ہے ۔یہ پردہ سرسی شروع ہو کرگردن سے ہوتے ہوئے ریڑھ کی ہڈی تک آتا ہے ۔ اس کا مقصد ان اعضاء کوچوٹ کی صورت میں محفوظ رکھنا ہے ۔ اگر اس مائع میں انفیکشن ہو جائے تو پردہ سوج کر موٹا ہو جاتا ہے۔ اس طرح سر‘ گردن اور کمر پر دباﺅ پڑتا ہے جس سے ہمیں ان حصوں میں درد محسوس ہوتا ہے۔ لوگ چونکہ سر اور کمر درد سے مانوس ہیں لہٰذا وہ اس پر غور نہیں کرتے لیکن گرد ن میں درد پر فوراً متوجہ ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ اسی علامت یعنی گردن توڑ بخار کے نام سے جانا جاتا ہے۔ دماغ کے گرد پردے میں سوجن کی وجہ سے دماغ پر دباﺅ کبھی کبھی زندگی کےلئے خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
لمفوما:    ایک مرض لمفوما (Lymphoma)بھی ہے جو جسم کے مخصوص دفاعی خلیوں لمفو سائیٹس (Lymphocytes) کا کینسر ہے۔ اس کا بخار ہفتے میں ایک دفعہ ہوتا ہے۔

 

بخار کے زیادہ امکانات
٭ جن لوگوں میںغذائیت کی کمی ہو‘ ان کا دفاعی نظام کمزور ہوتا ہے لہٰذا انہیں انفیکشن یا بخار کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
٭ شوگر کے مریضوں میں بھی اس کا امکان زیاد ہ ہوتا ہے‘ اس لئے کہ یہ مرض خون میں شوگر کی مقدار کوزیادہ رکھتا ہے جسے بہت سے جراثیم بھی اپنی نشوونما کےلئے استعمال کرتے ہیں۔ جب انہیں اچھا ماحول مل جاتا ہے تو وہ اپنا کام دکھاتے ہیں۔
٭کینسراورگردوں کے مریضوں کے علاوہ ان لوگوں کو بھی انفکشن جلد ہوجاتا ہے جنہوں نے اعضاء کی پیوندکاری کرائی ہو‘ اس لئے کہ مخصوص وجوہات کی بنا پران کے دفاعی نظام کو کمزور کر دیا جاتا ہے۔
٭ جن لوگوں میں دفاعی خلیوں کی کمی ہو جائے‘ ان میں بھی بخار کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
٭بچوں میں بخار کی 80 سے 90 فی صد وجہ انفیکشنزہیں۔ انہیں بخار زیادہ بار ہونے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ صفائی کازیادہ خیال نہیں رکھتے اور مضرصحت چیزیں کھاتے پیتے رہتے ہیں۔ ان کا دفاعی نظام بڑوں کی نسبت زیادہ اچھا ہوتا ہے‘ اس لئے وہ اس پر جلدقابو بھی پالیتے ہیں۔

ہمارے ہاں ایک رجحان یہ ہے کہ ہم بخار کواس وقت تک سنجیدہ نہیں لیتے جب تک کہ وہ بہت تیزہو کر ہمارے معمولات کو متاثر نہ کر دے۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے اور ہمیں ہر بخار کو سنجیدہ لینا چاہئے‘ اس لئے کہ بخار بذات خود کوئی بیماری نہیں بلکہ ےہ اس بات کی علامت ہے کہ جسم کے اندر کوئی مرض پیدا ہو رہا ہے۔ بعض لوگ اس بات کے عادی ہوتے ہیں کہ جب بخار ہوا‘ خودہی دوا لے کر کھا لی۔ اس طرح مرض کی علامت دبتی جائے گی اور مرض اندر ہی اندربڑھتا جائے گا۔ پھرایک وقت آئے گا جب وہ دوا کھائیں گے تو بھی آپ ٹھیک نہیں ہوں گے۔ اس لئے اس روئیے سے بچنا چاہئے ۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts