• Home
  • امراض
  • فالج کا مریض گھرمیں تبدیلیاں ‘دیکھ بھال

فالج کا مریض گھرمیں تبدیلیاں ‘دیکھ بھال

156

    فالج ایک ایسا مرض ہے جس میں دماغ کے کچھ حصوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے جس کے زیراثر مریض کے جسم کا وہ حصہ مفلوج ہوجاتا ہے جسے دماغ کا متعلقہ حصہ کنٹرول کر رہاہوتا ہے۔ان حالات میں مریض جسمانی طور پر معذوری کے ساتھ ساتھ کچھ نفسیاتی مسائل کا بھی شکار ہو جاتا ہے۔ ایسے میں اہل خانہ کی محبت ،شفقت اور مثبت رویہ ہی اسے نارمل سے قریب تر زندگی میں واپس لاسکتا ہے۔

فالج کیا ہے
شفا انٹر نیشنل ہسپتال G-10)، اسلام آباد (کے ماہر ا عصابی امراض (نیورولوجسٹ) ڈاکٹر قمر زمان کے بقول سٹروک میں دو صورتیں سامنے آسکتی ہیں:
’’اس کا تعلق خون کے بہائو سے ہے۔ اگریہ زیادہ ہو جائے تودماغ میں خون کی نالی پھٹ جاتی ہے۔ اس طرح ہونے وا لے فالج کو ہیمرجک سٹروک (Hemorrhagic stroke)کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر دماغ میں کسی جگہ خون کی نالی کے سکڑنے کی وجہ سے اس میںخو ن کا بہائو رک جائے تویہ اسکیمِک سٹروک (Ischemic stroke) کہلاتا ہے۔‘‘
فالج ’’ہیمرجک‘‘ ہو یا ’’اسکیمِک‘‘، دونوں صورتوں میں دماغ کے بعض حصوں میں موجود کچھ خلیے آکسیجن اور خون کی فراہمی بندہونے کی وجہ سے مرنا شروع ہوجاتے ہیں۔ یوں دماغ کا وہ حصہ کام کرنے کے قابل نہیں رہتا ۔نتیجتاً جسم کے وہ اعضاء بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیںجنہیںدماغ کایہ حصہ کنٹرول کررہاہوتا ہے۔

مرض کی علامات
فالج کی علامات درج ذیل ہیں اور اگران میں سے کوئی ظاہر ہوتو فوراً اپنے معالج سے مشورہ کریں۔اس طرح آپ مستقبل کے بہت سے مسائل سے بچ سکتے ہیں:
٭جسم کے ایک حصے میں نمودار ہونے والی اچانک کمزوری جس کی وجہ سے مریض کے بازو ،منہ یا ٹانگیں سُن ہوسکتی ہیں۔
٭اچانک وقتی طور پر ایک یا دونوں آنکھوں کی نظر کا متاثر ہو جانا۔
٭اس وجہ سے وقتی طور پر بولنے ،سننے یا سمجھنے کی صلاحیت پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ مریض کو اچانک سر میں شدید اور غیرمعمولی درد بھی محسوس ہو سکتا ہے۔
٭فالج کے حملے کے دوران مریض اپنا جسمانی توازن بھی کھو سکتا ہے اوراسے چلنے میں دشواری بھی ہو سکتی ہے۔

مریض کی دیکھ بھال
جب تک مریض ہسپتال میں رہے‘ نرسنگ سٹاف اس کی دیکھ بھال کے لئے موجود ہوتا ہے لیکن گھر پر یہ کام اہل خانہ کو خود ہی کرنا ہوتا ہے۔ ظہیرقادرشفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد کے مرکز بحالی صحت (Rehabilitaion Centre)میںسینئر فزیوتھیراپسٹ کے طور پر تعینات ہیں اور سٹروک کے مریضوں کو معمول کی زندگی گزارنے کے قابل بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق گھر پر مریض کی دیکھ بھال میں درج ذیل امور کا خیال رکھناچاہئے:
٭فالج کے مریض کو اٹھاتے وقت اس کے کندھے کا خاص خیال رکھیں‘ اس لئے کہ اس کے پٹھوںمیں طاقت نہ ہونے کی وجہ سے کندھا  اترنے کا خطرہ ہوتا ہے۔
٭ہسپتال میں مریض کو بستر پرلٹانے اور اٹھانے کے لئے لِفٹر (lifter) استعمال کیا جاتا ہے۔ گھرمیںبستر کے اوپر چادر بچھائیں اور اس کے کونے پکڑ کر مریض کو اٹھائیں تاکہ اس کے جسم پر دبائونہ پڑے۔

٭فالج کے مریض کو بستر پر اس طرح لٹائیں کہ اس کے جسم کا تندرست حصہ نیچے اور فالج زدہ حصہ اوپر کی طرف ہو۔ کروٹ بدلنے کے لئے پہلے مریض کے متاثرہ بازو کو آگے لائیں اور پھر اسی طرف کی ٹانگ کو موڑ کر کروٹ بدلیں۔
٭ہر دو گھنٹوں کے بعد مریض کے لیٹنے کی پوزیشن ضرور بدلیں ورنہ ایک ہی طرف لیٹے رہنے کی وجہ سے مریض کے جسم پر زخم   (bedsore)بن جائیں گے۔
٭مریض کے کمرے میں پلنگ بچھاتے وقت اس بات کاخیال رکھا جائے کہ اس کے جسم کا فالج زدہ حصہ دروازے کی طرف ہو۔ اسی طرح عیادت کے لئے آنے والے لوگوں کی نشستوں کا اہتمام بھی مریض کے متاثرہ حصے کی طرف ہی کرنا چاہئے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ مریض جب دروازے یا عیادت کرنے والوں کی طرف متوجہ ہوگا تو اس کی نظر اپنے فالج زدہ حصے کی طرف جائے گی۔ یوں اس کے دماغ کے اس حصے کو پیغام ملے گا جو متاثرہ حصے کوکنٹرول کرتا تھا۔یوں اس بات کا امکان ہے کہ دماغ اسے متحرک کرنے کی کوشش کرے۔
٭ مریض کو ہر وقت بستر پر لٹائے رکھنا کوئی صحت مند عمل نہیں۔ بہتر  ہے کہ ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے جتنا ہوسکے‘ اسے اٹھائیں اوربٹھائیں۔ اگر ڈاکٹر کی اجازت ہو یا مریض خود ہمت دکھائے تو دو افراد کی مدد سے اسے چلانے کی بھی کوشش کرنی چاہئے۔

گھر میں تبدیلیاں اوردیکھ بھال
فالج کے مریض ہسپتال سے فارغ ہو نے کے بعد جب گھر جاتے ہیں تو انہیں عموماً چلنے، پھرنے ،بستر تک جانے،وہاں سے کرسی یا ویل چیئر تک پہنچنے اورزمین پر اٹھنے بیٹھنے میں مشکل ہوتی ہے۔ گھر میں کچھ تبدیلیاں لا کراس کام کو آسان بنایا جا سکتا ہے:
٭گھر کے داخلی اورخارجی راستوں کی سطح ہموار ہونی چاہئے۔
٭دروازوں کے ہینڈل گول(nob) ہونے چاہئیں تاکہ مریض بوقت ضرورت انہیں پکڑ سکے۔
٭گھر کے داخلی راستے پر ہلکی ڈھلوان (slope) بنائیں جس کے دونوں طرف گرِپ ہینڈ ریلنگ(grip hand railing)لگائیں۔
٭مریض کے کمرے یا اس کے راستے سے ایسی اشیاء یا فرنیچر ہٹادیں جن سے ٹکرا کر مریض کے گرنے کا خطرہ ہو۔
٭گھر میں ایسا فرش نہیں ہونا چاہئے جس پر سے پھسلنے کا اندیشہ ہو۔ ٭مریض کے اٹھنے بیٹھنے کے لئے مضبوط بازوؤں والی ایسی کرسی رکھنی چاہئے جس کی اونچائی 12سے 16 انچ اور سیٹ کی چوڑائی 12انچ یا مریض کی جسامت کے مطابق ہو۔اس کے علاوہ کرسی کے بازوؤںکی اونچائی6سے8انچ ہونا لازمی ہے۔
٭مریض کے لئے ایسا پلنگ بچھائیں جس کے دونوں طرف سہارے (bed rails)ہوں۔ یہ مریض کو گرنے سے بچانے کے علاوہ اسے پلنگ سے خوداترنے اوراس پر لیٹنے میں بھی مدد دیں گے۔اس بات کا بھی خیال رہے کہ پلنگ کی اونچائی 14انچ سے زیادہ نہ ہو۔
٭ مریض کو گاڑی میں بٹھاتے وقت اسے سہارا دے کر اس طرح کھڑا کریں کہ اس کی پشت گاڑی کی سیٹ کی طرف اور چہرہ سامنے کی طرف ہو۔ اگر مریض کے بائیں طرف فالج ہو توگاڑی کا دروازہ پکڑ کر اسے دائیں طرف سے سیٹ پربٹھائیں۔ اگر فالج دائیں طرف ہو تو اسے بائیں طرف سے بٹھائیں‘پھر مریض کی ٹانگیں اندر کریں اور اسے آرام دہ حالت میں بٹھانے کے بعد سیٹ بیلٹ باندھ دیں۔  گاڑی سے نکالتے وقت پہلے مریض کی ٹانگیں باہر نکالیں‘ پھر اسے   سہارا دے کر اٹھائیں اور ویل چیئر یا واکر کی مدد سے چلاتے ہوئے گھر کے اندر لے جائیں۔
٭وقتاً فوقتاً مریض کو قریبی بازار یا مسجد تک لے جانا بھی فائدہ مند ہے۔
٭ہفتے میں ایک آدھ دن مریض کو باہر گھمانے پھرانے لے جائیں کیونکہ قدرتی مناظر دیکھ کر انسان فرحت محسوس کرتا ہے۔
٭ ذہنی کیفیات، دلچسپیوں اور رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے مریض کو مذہبی سر گرمیوں میں شامل ہونے کے مواقع بھی فراہم کرنے چاہئیں۔ دیکھا گیا ہے کہ اس سے ان کی صحت یابی کا عمل تیز ہوتا ہے۔

٭اہل خانہ اوردوست احباب کو چاہئے کہ ہرمثبت پیش رفت پر مریض کی دل کھول کر حوصلہ افرائی کریں ۔اس طرح مریض کی خوداعتمادی بحال ہوگی۔
مریض کے اہل خانہ‘ دوست احباب اور تیمارداروں کو چاہئے کہ ان تمام مراحل میں اپنے آپ کو سنبھالیں اور مریض کا بھرپور سہارابنیں۔اس طرح وہ اپنی کمزوری اور معذوری کے باوجود اپنی زندگی اچھی طرح سے گزارنے کے قابل ہو سکیں گے۔