ہر ساتویں شخص کا مرض کیا ہے

170

اچھی، میٹھی اور پرسکون نیند ہمیں خوش و خرم اور ترو تازہ کر دیتی ہے جس سے ہمارے لئے معمولات زندگی کو احسن انداز سے گزارنا آسان ہو جاتا ہے ۔اس سے محرومی چڑچڑے پن، جسمانی تھکاوٹ، دن بھر کام میں دل نہ لگنے کے علاوہ کئی بیماریوں کا بھی سبب بنتی ہے ۔زیر نظر مضمون میں کچھ گر بتائے جا رہے ہیں جن پر عمل کر کے پر سکون نیند کو یقینی بنایا جا سکتا ہے


ایک اندازے کے مطابق ہم اپنی زندگی کا ایک تہائی حصہ سونے میں گزار دیتے ہیں۔ بظاہر یہ وقت کا زیاں لگتا ہے لیکن حقیقت میں یہ ہمیں تازہ دم کر دیتا ہے جس کی وجہ سے ہم باقی دو تہائی وقت میں مستعدی سے کام کر پاتے ہیں۔بہت سے لوگ اس نعمت سے محروم ہیں اور پرسکون اور میٹھی نیند سے لطف اندوز نہیں ہو پاتے ۔ انہیںیا توبہت کم نیند آتی ہے یا رات کو سوتے وقت بار بار ان کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ اس طرح جب وہ صبح کے وقت اٹھتے ہیں تو تازہ دم نہیں ہوتے ۔ کچھ تو ایسے بھی ہیں جنہیں نیند ہی نہیں آتی اور ان کی راتیں کروٹیں بدلتے اور وال کلاک کی ٹِک ٹِک سنتے گزرجاتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ہر ساتواں شخص نیند کی کمی کے مسئلے سے دوچار ہے۔
اچھی اور پر سکون نیند نہ صرف صحت مند ، خوش و خرم اور متحرک زندگی کے لئے ضروری ہے بلکہ ہمیں امراض قلب،شوگر اور ٹینشن سے بچانے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔اس لےے ضروری ہے کہ کم ازکم روزانہ چھے گھنٹے کی پرسکون نیند کی جائے۔

نیند کیوں نہیں آتی
بے خوابی اس کیفیت کو کہیں گے جس میں ایک فرد پر سکون طریقے سے سونے کے قابل نہیں ہوتا۔ یہ مدت ایک رات سے لے کر چند ہفتوں‘ مہینوں یا سالوں تک برقرار رہ سکتی ہے۔اس کی عمومی وجوہات درج ذیل ہیں:
٭نفسیاتی مسائل مثلاً خوف ،ذہنی دباو¿،بے چینی،کام کے مسائل اور غیرمطمئن زندگی وغیرہ۔
٭سونے کی جگہ آرام دہ نہ ہونا۔
٭نیند کے لےے دواو¿ں کا زیادہ استعمال ۔
٭رات کو با ر بارپیشاب آنا۔
٭ڈراو¿نے خواب ،نیند میں چلنا۔
٭دماغی چوٹ یا کوئی دماغی مرض۔
٭کسی عزیز کی موت کا صدمہ۔
اچھی نیند۔۔مگر کیسے؟

کھانے پینے کے اوقات
رات کا کھانا سونے سے کم از کم دوگھنٹے پہلے کھانا چاہےے۔ علاوہ ازیں سونے سے قبل چائے،قہوے اور سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں، اس لئے کہ ان سے نیند اڑ جاتی ہے۔

سونے جاگنے کا معمول
رات کو جلدی سونے اور صبح جلدی اٹھنے کو معمول بنائیں ۔ اس کے علاوہ خود کو روزانہ ایک ہی وقت پر سونے اورجاگنے کا عادی بنائیں۔ اس سے پر سکون نیند میں مددملے گی۔

پر سکون ماحول
سونے کے ماحول کو پر سکون رکھیں۔ ایسی تمام چیزیں کمرے سے نکال دیں جو نیند میں خلل کا باعث بن سکتی ہوں۔اندھیرے میں سونے کی کوشش کریں اور کمرے کا درجہ حرارت بھی متعدل رکھیں۔ بہت زیادہ ٹھنڈ یاگرمی نیند کو خراب کرتی ہے۔ علاوہ ازیں اپنے بیڈ روم میں ٹی وی، کمپیوٹر وغیرہ رکھنے سے پر ہیز کریں۔شوروغل بے خوابی کا سبب بنتا ہے ۔اس لےے کوشش کرنی چاہےے کہ سونے والا کمرہ گھر میں پر سکون جگہ پر ہو۔

آرام دہ بستر
اچھی نیند کے لےے بستر کا آرام دہ ہونا بھی ضروری ہے۔بہت زیادہ سخت یا ضرورت سے زیادہ نرم بستر بھی نیند کو متاثر کرتا ہے۔

مطالعہ، نیند لانے کا سبب
بعض لوگوں کا کہناہے کہ اگر نیند نہ آرہی تو وہ کوئی کتاب اٹھا کر پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔اس سے ان کی آنکھیں تھکتی ہیںجس سے نیند جلدی آجاتی ہے۔

سونے سے قبل نہانا
سونے سے قبل اگر نیم گرم پانی سے نہالیا جائے تو پر سکون نیند آتی ہے۔سونے سے پہلے ایک گلاس گرم دودھ پی لیا جائے توبھی نیند اچھی آتی ہے۔

ٹینشن دور کریں
پر سکون نیند میں خلل کا بڑا سبب ذہنی پریشانیاں ہیں۔ بلا شبہ ہم طرح طرح کے مسائل میں گھرے ہوتے ہیں لیکن انہیں ہمہ وقت ذہن پر سوار کرنے سے گریز کریں۔اگر آپ کو دفتر میں ملازمت کی کوئی پریشانی ہے تو اسے دفتر میں ہی چھوڑ کر گھر آئیں ۔اسی طرح سونے کے لےے بستر پر جانے سے قبل اپنے ذہن کو تمام پریشانیوں اور تفکرات سے آزاد کرلیں اور اپنے اعصاب پر سکون رکھیں۔اس سے پر سکون نیند میں کافی مدد ملے گی۔

منظم زندگی گزاریں
زندگی کو غیر منظم اور عدم توازن سے مت گزاریں۔وقت پر ہر کام کرنے سے انسان بہت سی پریشانیوں سے بچ جاتا ہے۔اگر آپ کو آج ایک کام کرناتھا اورآپ اسے نہیں کر سکے توکل آپ کو دگنا کام کرنا پڑے گا ۔اس فکر سے آپ رات کو سکون سے نہیں سو سکیں گے۔

چہل قدمی کی عادت
چہل قدمی ایک مفید عادت ہے جو طبےعت پربہت اچھے اثرات مرتب کرتی ہے ۔سونے سے قبل چہل قدمی کو اپنا معمول بنا لیں‘ اس سے اچھی نیند آئے گی۔

بیماری یا نفسیاتی مسائل
اکثر صورتوں میں بے خوابی کی وجہ کوئی بیماری یا نفسیاتی مسائل ہوتے ہیں۔ایسے حالات میں دوا کے استعمال یا نفسیاتی الجھنوں کو دور کرنے سے افاقہ ہوتا ہے۔
نوٹ: اگر ان پر عمل کرنے کے باوجود اس مسئلے سے چھٹکارا حاصل نہ ہو رہا ہو تو پروفیشنلز کی مدد ضرور حاصل کریں۔اس سلسلے میں شفانٹرنیشنل ہسپتال کی ’سلیپ لیب‘سے فون نمبر8463744۔051پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

ناصر حسین کاتعلق راولپنڈی سے ہے ۔ وہ کہتے ہیں: ”مجھے اک

”آپ کیا کہتے ہےں؟ ‘ ‘ کے عنوان سے کالم آپ کا ہے اور آپ ک

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of