مرگی کیا ہے‘ کیسے نپٹیں

180

کاشف کرکٹ کھیل کردوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا۔ابھی وہ گھرجانے کے لئے اٹھا ہی تھا کہ اچانک گر کر بے ہوش ہوگیا۔اسے ہوش میں لانے کی کوششیں کی گئیں لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا اور پھر تھوڑی ہی دیر میں وہ خود ہی اٹھ کھڑاہوا۔اس نے دوستوں کو بتایا کہ اسے کبھی کبھی مرگی کا دورہ پڑتا ہے۔ایسی صورت حال کئی لوگوں کو پیش آتی ہے ۔ یہ مرض ہے کیا؟ یہی سوال جب شفاانٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد کے ماہرِاعصابی و دماغی امراض ڈاکٹر اظہر سعیدسے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ ایسی بیماری ہے جس میں مریض کو بار بار دورے پڑتے ہیں:
’’عام حالات میں دماغی خلیوں سے باقاعدہ انداز میں برقیاتی اخراج ہوتارہتاہے لیکن جب یہ اخراج بے قاعدہ انداز میںہوتا ہے تو مریض کو مرگی کا دورہ پڑ جاتا ہے ۔اس کیفیت کا سبب دماغ کے ایک خاص حصے کا بد نظمی کا شکار ہو کر تیزی سے کام کرنا شروع کر دینا ہے۔ یہ کیفیت دو سے تین منٹ تک رہتی ہے۔‘‘
ایک عدد دورہ تو کسی بھی وجہ سے ہو سکتا ہے اوروہ مرگی شمار نہیں ہوتا لیکن اگر بار بار دورے پڑیں تو ہم اسے مرگی کہتے ہیں۔ ایک عدددورے کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں وقتی طور پر شوگرلیول کا کم ہو جانا،دماغ کا انفیکشن ،گردن توڑ بخار اور دماغ کی رسولی وغیرہ شامل ہیں۔

مرگی کی وجوہات
مرگی کی کوئی ایک نہیں‘ متعدد وجوہات ہیں۔ یہ دماغی چوٹ کے نتیجے میںیاکسی اور وجہ سے دماغی افعال متاثر ہونے سے ہوسکتی ہے۔ مرگی کا پہلا دورہ بالعموم پیدائش سے لے کر20 سال تک کی عمرمیں ہوتاہے۔پیدائشی نقائص اور گردن توڑ بخار کو اس کا بڑا سبب گردانا جاتا ہے ۔اگر20 سال سے زائد عمر میں مرگی کا دورہ پہلی دفعہ شروع ہوا تو اس کی زیادہ تروجوہات دماغی چوٹیں‘دماغ میں رسولی اور فالج کے اثرات ہوتے ہیں ۔یہ بیماری عموماً موروثی نہیں ہوتی‘ تاہم اس کی چند اقسام موروثی بھی ہوتی ہیں۔مرگی سے ہر عمر‘ نسل اورطبقے کے لوگ متاثر ہوسکتے ہیں۔

مرگی کی اقسام
ڈاکٹر اظہرسعیدکے مطابق مرگی کی کئی اقسام ہیں جن میں سے مندرجہ ذیل دو زیادہ اہم ہیں:
اصلی یا ابتدائی(idiopathic or primary)
اس قسم کی مرگی میں مختلف ٹیسٹوں کے باوجود کوئی وجہ سامنے نہیں آتی لیکن اس کے باوجود دماغ بد نظمی سے تیز کام کر رہا ہوتا ہے۔یہ عام طور پر چھوٹی عمر میں ہوتی ہے۔بعض اوقات بچوں کو پیدائش کے وقت ہی دورے پڑ جاتے ہیں۔ اس کی وجوہات میں پیدائش کے وقت یا اس کے بعد بچے کو انفیکشن ہو جانا،ماں کو انفیکشن ہو جانا وغیرو شامل ہیں۔ابتدائی مرگی کاپہلا دورہ عام طور پر
نوعمری (teen age)میں پڑتا ہے۔اس دوران دماغ کے ٹیسٹ کے علاوہ سارے ٹیسٹ نارمل ہوتے ہیں۔
ثانوی مرگی (secondary epilepsy)
اگر دورہ 20سال کی عمر کے بعد پڑے تو اس کی وجہ معلوم کی جاتی ہے‘ اس لئے کہ اس کے پیچھے کوئی اہم سبب مثلاً وقتی طور پر شوگر کم ہو جانا،دماغ کا انفیکشن،گردن توڑ بخار ،کسی دوا کا اثر، سر کی چوٹ ، دماغ کی رسولی وغیرہ ضرور ہوتا ہے۔خاص طور پر 40سال کے بعد اگر پہلادورہ پڑے تودماغ کی رسولی یافالج وغیرہ اس کی وجوہات ہو سکتی ہیں۔
دوروں کی اقسام اور علامات
دوروں کی عام طور پردو اقسام ہوتی ہیں۔
حرکتی (motor) دورے
اس میں دماغی کام میں اچانک تیزی آجاتی ہے‘مریض کا جسم اکڑ جاتا ہے اور وہ گر جاتا ہے۔ بعض اوقات اس کی زبان دانتوں کے نیچے آجاتی ہے۔ہو سکتا ہے کہ جھٹکے کی وجہ سے مریض کا پیشاب نکل جائے۔یہ مرحلہ20سکینڈ سے لے کر ایک منٹ تک ہو سکتا ہے۔اس کے بعد دوسرا مرحلہ شروع ہو جاتا ہے جس میں مریض کو جھٹکے لگتے ہیں او وہ ہاتھ پاؤں مارنا شروع کرسکتا ہے ۔بعض اوقات وہ کسی چیز سے ٹکرا کر خود کو زخمی بھی کرلیتا ہے۔یہ کیفیت بھی تقریباً ایک منٹ تک رہتی ہے۔ اس کے بعد مریض بے حس و حرکت ہو جاتا ہے۔اس دوران اسے قے بھی آ سکتی ہے اور اگروہ سانس کی نالی میں چلی جائے تومزیدپیچیدگیاں ہو سکتی ہیں۔
حسی (sensory)دورے
اس میں مریض کے جسم کا کوئی ایک حصہ یا حس متاثر ہوسکتی ہے۔ مثلاً اس دوران وہ ایسی آوازیں سنتا ہے یا ایسی چیزیں دیکھتا ہے جن کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں ہوتا۔
متواتر دورے(status epilepticus)
اگر مریض کو دورے جاری رہیں یا مریض کوبے ہوشی میں دورے پڑ رہے ہوںاور وہ ہوش میں نہ آئے تو یہ سنجیدہ مسئلہ ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے شرح اموات بھی زیادہ ہیں۔ بعض اوقات ابتدائی مرگی والا مریض دوا نہ لینے یا کسی اور وجہ سے اس کا شکار ہو سکتا ہے ۔اس کی وجہ سے دماغ کو نقصان پہنچ سکتا ہے یادیگر پیچیدگیاںرونما ہو سکتی ہیں جن میں دل کی ڈھرکن بڑھ جانا،کارڈئیک اریسٹ،بلڈپریشر بڑھ جانا، سانس رک جانا(جس کے نتیجے میں مریض کو مصنوعی تنفس کی مشین پر ڈالا جاتا ہے) شامل ہیں۔اس کیفیت میں بہت سے عوامل مل کر مریض کی موت کا سبب بنتے ہیں۔اگر یہ دورے دواؤں کی مدد سے کنٹرول ہو جائیں تو مریض ہوش میں آجاتا ہے ۔بعض اوقات ظاہری دورے کسی وجہ سے ختم ہو جاتے ہیں لیکن دماغ اسی بدنظمی(دوروں) کی کیفیت میں ہوتا ہے۔یہ کیفیت زیادہ خطرناک ہے۔

تشخیص و علاج
مرگی کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر کودورے کی مکمل کیفیت اور تفصیل درکارہوتی ہے۔اسے مرض کے تناظر میںمریض کے خاندانی پس منظر اور بچپن سے بڑے ہونے تک کی بعض معلومات چاہئے ہوتی ہیں۔اس کے علاوہ اس کے سماجی ‘ذہنی اور جذباتی پس منظر کے متعلق بھی معلومات جمع کی جاتی ہیں جو علاج میں آسانی پیدا کرتی ہیں۔ جسمانی معائنے کے علاوہ لیبارٹری ٹیسٹ بھی کئے جاسکتے ہیں۔
اس کا علاج ایسی دواؤں کی مدد سے کیا جاتا ہے جواس کی علامات کو کم کرتی ہیں۔اگر اس کے پیچھے کوئی اور وجہ ہو تو اس کا علاج کیا جاتا ہے۔مثلاً اگر رسولی ہے تواس کا علاج کیا جاتا ہے۔اگر گردن توڑ بخار کی وجہ سے دورے پڑ رہے ہوں تو اس کے علاج کے ساتھ ساتھ کچھ عرصے کے لیے مرگی کی دواؤں کا استعمال کرایا جاتاہے۔ اسی طرح ذیابیطس کا مریض اگرانسولین لگا لیتا ہو اور کھانا نہ کھایا ہوتو شوگر کی کمی کے باعث اسے دورہ پڑ سکتاہے ۔ایسے مریضوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ شوگر چیک کرتے رہیںاور اپنی خوراک کاخاص خیال رکھیں۔ ابتدائی مرگی کے مریضوں کی دواؤںکا انتخاب دوروں کی تعداد، بڑھتے وزن اور عمر کے مطابق کیا جاتا ہے۔
اگر کسی کو مرگی کے دورے پڑتے ہوں تو اسے ان عوامل سے بچنا چاہئے جو اس کو ابھار سکتے ہوں۔ان عوامل میں بہت زیادہ تھکن‘ نیند کی کمی‘ ذہنی انتشاریا پریشانی‘ تیز بخار ‘خواہ کسی وجہ سے ہو۔شوگرلیول کم ہونا‘ بہت زیادہ جسمانی مشقت‘ تیز اور غیرمتوازن جھلملاتی روشنی‘ مخصوص ایام اورڈاکٹر کی بتائی ہوئی ہدایات کے مطابق دوااستعمال نہ کرنا شامل ہیں۔
مرگی کی دواؤں کا استعمال ساری زندگی جاری رکھنا پڑے گا یا نہیں؟ اس کا انحصار مریض کی کیفیت پر ہے اور ہر مریض کی کیفیت دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ اگر دواؤں کے ذریعے چار سال تک مریض کے دورے کنٹرول میں رہیں اور سارے ٹیسٹ نارمل ہوں تو ڈاکٹر دواؤں کا استعمال کم یا ترک کرا سکتے ہیں۔
مرگی ایک قابل علاج بیماری ہے۔باقاعدہ علاج اوردواؤں کے استعمال سے اس بیماری کے ساتھ نارمل زندگی گزاری جاسکتی ہے۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of