مرگی ‘سایہ نہیں مرض

395

    دنیا بھرمیں تقریباً پانچ کروڑ افراد مرگی کا شکار ہیں جبکہ پاکستان میں اس مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد تقریباً 20 لاکھ ہے۔ مرگی ایک اعصابی کیفیت ہے جو زندگی کے کسی بھی موڑ پر کسی بھی شخص کو اپنا شکار بنا سکتی ہے۔اس کے بارے میں مناسب آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ اسے جن یا آسیب کا سایہ سمجھتے ہیں اور ڈاکٹر کے پاس جانے کی بجائے اِدھر اُدھر اپنا وقت اور پیسہ برباد کرتے رہتے ہیں۔ ایسے میں مریض کی حالت ٹھیک ہونے کی بجائے مزید بگڑ جاتی ہے۔ اگر یہ لوگ بروقت معالج سے رابطہ کریں تو درست تشخیص اور مناسب علاج کی صورت میں اس مرض کے شکار  70 سے80 فی صد افراد نارمل سے قریب تر زندگی گزار سکتے ہیں۔

مرگی ہے کیا؟
مرگی دماغ کی اےک اےسی بیماری ہے جس مےں مرےض کو بار بار دورے پڑتے ہےں ۔اس مرض مےں دماغ کا اےک خاص حصہ بد نظمی کا شکار ہو کر تےزی سے کام کرنا شروع کر دےتا ہے جس کی وجہ سے مریض کو دورہ پڑ جاتا ہے۔ یہ کےفےت دو سے تےن منٹ تک رہتی ہے ۔دماغ کے خلیوں کا کام باقاعدگی سے برقیاتی اخراج ہے۔ جب یہ اخراج بے قاعدہ ہوجائے تو مرگی کے دورے کا سبب بنتا ہے۔
مرض کی وجوہات
مرگی‘ یعنی دماغی خلیوں سے برقیاتی اخراج کی کوئی ایک نہیں‘ متعدد وجوہات ہیں۔مثلا ً یہ مرض کسی چوٹ کے نتیجے میں دماغ کے زخمی ہوجانے یا اس کے افعال متاثر ہونے سے ہوسکتا ہے۔زیادہ تر صورتوں میں مرگی کا پہلا دورہ پیدائش سے لے کر20 سال کی عمرمیں ہوتاہے۔اس کی زیادہ عام وجوہات پیدائشی نقائص اور گردن توڑ بخارہوتے ہیں ۔
اگر20 سال سے زائد عمر میں مرگی کا دورہ پہلی دفعہ شروع ہو تو اس کی زیادہ تراسباب دماغی چوٹیں‘دماغ میں رسولی اور فالج کے اثرات ہوتے ہیں ۔مرگی سے ہر عمر‘ رنگ ‘نسل اورطبقے کے لوگ متاثر ہوسکتے ہیں۔اےسے لوگوں میں اس بیماری کا امکان زیادہ ہوتا ہے جن کے خاندان میں یہ بیماری موجو دہو۔پیدائش سے پہلے بچے میں کچھ طبی مسائل ےا پےدائش کے بعد سانس کا مسئلہ بھی اس کا سبب بن سکتا ہے ۔

مرگی کی اقسام
مرگی کی کئی اقسام ہیں جن میں سے دو زیادہ اہم ہیں: ابتدائی مرگی ( Primary Epilepsy )
مرگی کی اس قسم میں مختلف ٹےسٹوں کے باوجود کوئی ٹھوس وجہ سامنے نہیں آتی لےکن اس کے باوجود دماغ بد نظمی سے کام کر رہا ہوتا ہے۔مرےض مےں اس کے اثرات تھوڑی دیر کے لئے ظاہر ہوتے ہیں اور پھر وہ ٹھےک ہو جاتا ہے۔اس کی وجوہات مےں پےدائش کے وقت ےا اس کے بعد بچے یا اس کی ماں کو انفےکشن ہو جانا وغےرہ شامل ہیں۔ ابتدائی مرگی کاپہلا دورہ عام طور پر لڑکپن مےں پڑتا ہے۔
ثانوی مرگی(Secondary Epilepsy)
اگر دورہ 20سال کی عمر کے بعد پڑے تو اس کے پیچھے کوئی خاص وجہ ضرور ہوتی ہے جسے معلوم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ و قتی طور پر شوگر کاکم ہو جانا،دماغ کا انفےکشن،گردن توڑ بخار ،کسی دوا کا اثر،سر کی چوٹ ، دماغ کی رسولی اس کی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ 40سال کی عمر کے بعد پہلادورہ پڑے تودماغ کی رسولی ےافالج وغےرہ اس کی وجوہات ہو سکتی ہیں۔

 دوران ِدورہ احتیاطی تدابیر
٭کچھ مریضوں کو دورے سے قبل ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ انہیں دورہ پڑنے والا ہے۔ایسے میں انہیںچاہیے کہ فوراً بستر پرلیٹ جائیں۔
٭اگر کسی کو دورہ پڑتے دیکھیں تو خود پرسکون رہیں اور مریض کو جہاں بھی جگہ ملے ‘آرام سے لٹا دیں۔
٭مریض کے دورے کو اپنی جسمانی طاقت سے روکنے کی کوشش نہ کریں۔
٭مریض کو اگر کسی خطرناک جگہ مثلاً مصروف سڑک پر دورہ پڑے تو اسے وہاں سے ہٹا لیں۔اسے لٹانے والی جگہ سے سخت ،گرم اور تیز دھاروالی اشیاءہٹا دیں اوراس کے سر کے نیچے کوئی نرم چیز رکھیں۔
٭اس کی عینک اور مصنوعی دانت وغیرہ اتار لیں اور کسے ہوئے کپڑے مثلاً ٹائی ،مفلر اورکالروغیرہ ڈھیلے کردیں۔
٭ ڈاکٹر کولینے مت جائیں کیونکہ مریض کو خود سنبھالا جاسکتا ہے اور ڈاکٹر کے آنے تک دورہ ختم ہوچکا ہوتاہے۔
٭دورے کے دوران مریض کے دانتوں کے درمیان کوئی چیز ٹھونسنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ زبان کو کٹنے سے بچانے کی کوشش میں آپ مریض کو زیادہ نقصان پہنچاسکتے ہیں۔
٭دورہ ختم ہونے کے بعد مریض کو کروٹ کے بل لٹادیں تاکہ اس کے منہ سے تھوک وغیرہ نکل جائے۔
٭دورہ ختم ہونے کے بعد کچھ مریض ذہنی طور پر ماﺅف ہوجاتے ہیں لیکن یہ صرف وقتی طور پر ہوتا ہے لہٰذا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
٭اگر مریض سونا چاہے تو اسے آرام کرنے دیں۔بعض دفعہ مریض اپنی حرکت پر شرمندگی محسوس کرتا ہے۔ اُسے اطمینان دلائیں کہ اس میں اس کا کوئی قصور نہیں۔
٭جب تک مریض مکمل طور پر بیدارنہ ہوجائے‘ تب تک اسے کوئی بھی مشروب مت پلائیں۔
٭ایک دورہ ہونے کی صورت میں مریض کو عموماً طبی امداد یا ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن ایک سے زیادہ دفعہ دورے پڑیں تو معالج سے لازماًرجوع کرنا چاہئے ۔

 دوروں کو ابھارنے والے عوامل
مرگی کے دوروں کو ابھارنے والے عوامل درج زیل ہیں:
٭بہت زیادہ تھکن۔
٭نیند کی کمی۔
٭ذہنی انتشاریا پریشانی۔
٭تیز بخار ‘خواہ کسی وجہ سے ہو۔
٭خون میں گلوکوز کی کمی جوکھانے کے ناغے سے ہوسکتی ہے۔
٭بہت زیادہ جسمانی مشقت۔
٭تیز اور غیرمتوازن جھلملاتی روشنی مثلاً بہت قریب سے ٹی وی دیکھنا اور کمپیوٹر یا گیم کا زیادہ دیر تک استعمال۔
٭خواتین میں مخصوص ایام۔
٭ڈاکٹر کی بتائی ہوئی ہدایات کے مطابق دوااستعمال نہ کرنا۔

تشخیص اور علاج
مرگی کی تشخیص کے لےے ڈاکٹر کودورے کی مکمل کیفیت‘ مرض کے تناظر میںخاندانی پس منظر‘اس کی ذاتی تفصیلات اور بچپن سے بڑے ہونے تک کی بعض معلومات چاہئے ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے سماجی‘ ذہنی اور جذباتی پس منظر کے متعلق معلومات بھی جمع کی جاتی ہیں جو علاج میں آسانی پیدا کرتی ہیں۔ جسمانی معائنے کے علاوہ لیبارٹری ٹیسٹ بھی کئے جاسکتے ہیں۔
مرگی کے علاج کے لئے آج کل بہت اچھی ادویات دستیاب ہیں جو ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کی جاسکتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مرگی کے مریض سے نہ تو خوف کھایاجائے اور نہ اس سے نفرت کی جائے۔ تھوڑی سی کوشش سے وہ بھی دیگر افراد کی طرح نارمل سے قریب تر زندگی گزار سکتا ہے۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

دوروں اور جھٹکوں کے مرض” مرگی“ کو بہت سے لوگ جنات کی پک