لوگ مٹی کیوں کھاتے ہیں

820

بچوں کو ہی نہیں، بعض خواتین کو بھی مٹی یا ریت وغیرہ کھانے کی عادت ہوتی ہے۔ حمل کے دوران خواتین میں غیر خوردنی چیزیں کھانے کی خواہش بڑھ جاتی ہے ۔ایسا کیوں ہوتا ہے اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے ؟ماہر غذائیات موتی خان سے گفتگو کی روشنی میں ناجدہ حمید کامعلوماتی مضمون


حمل کے آٹھویں مہینے سے انعم کا کچے چاول کھانے کو جی چاہنے لگا۔سب کے منع کرنے کے باوجود وہ خود کو ایسا کرنے سے روک نہیں پاتی تھی۔اسے یہ کھانے کی طلب اس قدر شدید ہوتی کہ وہ چھپ کر کچے چاول کھا لیتی۔ ڈیلوری کے کچھ عرصے بعدحیرت انگیز طور پر اس کی ےہ عادت آہستہ آہستہ خودبخود ہی ختم ہوگئی۔
بعض اوقات خواتین مٹی ،چاک یا کچے چاول وغیرہ کھانا شروع کر دیتی ہیں۔ اس قسم کی چیزیں کھانے کی چاہ حمل میں خاص طور پر زیادہ ہوتی ہے۔اسی طرح چھوٹے بچوں کو بھی اکثراوقات مٹی وغیرہ کھانے کی عادت پڑ جاتی ہے۔اس غیر فطری کھانے کی طلب میں انسان وہ چیزیں (مثال کے طور پر کاغذ،چکنی مٹی‘ پینٹ‘ دھات،چونا،کچے چاول ،شیشہ اور ریت وغیرہ)کھانے لگتا ہے جو غذاکا حصہ نہیں ہوتیں ۔

’پکا‘ کیا ہے
غیر خوردنی چیزیں کھانے کی طلب اگر ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک برقرار رہے تواسے میڈیکل کی زبان میں ’پکا‘(pica)کہا جاتاہے۔یہ اصطلاح لاطینی لفظ میگ پائی(magpie)سے نکلا ہے۔ یہ ایک پرندے کا نام ہے جس کی وجہ شہرت ہرچیزکھاجانا ہے۔ےہ مسئلہ زیادہ تر عورتوں اور بچوں میں ہوتا ہے۔
1991ءمیں سعودی عرب میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ وہاںکی 8.8فی صد حاملہ خواتین میں ےہ مسئلہ موجود ہے ۔ اسی طرح 1994ءمیں امریکہ میںمقیم 8.1فی صد عورتیں دوران حمل منجمد اشیاءکھانے کی خواہش کے باعث پکا کا شکار پائیں گئیں۔اسی طرح افریقہ کی دو مختلف آبادیوں میں غذائیت کی کمی کی وجہ سے اوٹ پٹانگ چیزیں کھانے کی طلب 63.7اور 74فی صدحاملہ عورتوںمیں موجود تھی ۔
بچوں میں مختلف چیزیں منہ میں ڈالنے کا رحجان زیادہ پایا جاتا ہے جس کی شرح ایک سال تک کی عمر کے بچوں میں 75فی صد جبکہ دو سے تین ماہ تک کے بچوں میں 15فی صد ہے۔واضح رہے کہ پکا کا تعلق کھانے کے لئے پیدا ہونے والی چاہ سے ہے، چیزیں اٹھا کر منہ میں ڈالنے سے نہیں۔

مرض کی وجوہات
نفسیات کی اصطلاح میں اسے ذہنی ڈس آڈرز کا نتیجہ مانا جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق او سی ڈی(obsessive compulsive disorder)اور شیزو فرینیا جیسی ذہنی بیماریاں اس کی وجہ بن سکتی ہیں۔ بعض اوقات پکاکاتعلق مقامی رہن سہن سے بھی ہوتا ہے ۔کچھ تحقیقات میں پکا کا تعلق نمکیات کی کمی کے ساتھ بھی ظاہر ہوا ہے۔آغا خان ہسپتال کراچی کی ماہر غذائیت موتی خان اس بارے میں کہتی ہیں:
”آئرن اور زنک کی کمی سے بھی پکا ہوسکتا ہے۔دورانِ حمل خواتین کے ہامونزمیں اتارچڑھاﺅ زیادہ ہوتا ہے۔ اس دوران اکثر اوقات انہیں خون کی کمی بھی ہوجاتی ہے ۔انہی وجوہات کی بناءپر وہ اس ڈس آڈر کا شکار ہو جاتی ہیں۔“

پکا کی تشخیص
پکا کی تشخیص کے لےے اکثرخون کا ٹیسٹ کرایا جاتا ہے تا کہ ےہ واضح ہو سکے کہ ےہ مسئلہ خون کی کمی کے باعث تو نہیں ہو رہا۔ڈاکٹر اس قسم کے مریضوں کا مکمل طبی معائنہ کرتاہے اور گزشتہ میڈیکل ریکارڈ بھی دیکھتا ہے۔اس ڈس آرڈر سے جڑے دیگر مسائل مثلاً ذہنی پسماندگی،او سی ڈی وغیرہ کو بھی جانچا جاتاہے ۔بعض اوقات ایکسرے بھی کرائے جاتے ہیںتاکہ پیٹ میں ممکنہ رکاوٹ کو دیکھا جا سکے۔ مزید برآں ڈاکٹر ممکنہ انفیکشنز کے ٹیسٹ بھی کر اسکتا ہے۔
موتی خان اس کے متعلق کہتی ہیں:
”ہمارے ہاںغذائیت کی قلت اور خون کی کمی جیسے مسائل عام ہیں ۔اس لےے ایسے مریضوں کا سب سے پہلے خون کا ٹیسٹ کرانا چاہےے تاکہ آئرن، زنک اورآیوڈین وغیرہ کی کمی معلوم ہو سکے۔“

علاج کے امکانات
اس کے علاج کے لےے بعض ادوےہ، آئرن اور دیگر نمکیات کی کمی کو پورا کرنے کے لےے ملٹی وٹامنز تجویز کےے جاتے ہیں۔ موتی خان کا کہنا ہے کہ مریض کی صور ت حال دیکھتے ہوئے سائیکالوجسٹ کو بھی علاج میں شامل کرنا پڑسکتا ہے تاکہ اس کی کونسلنگ کی جا سکے۔ اس میں فیملی کا کردار مریض کو اس غیر معمولی رویے سے دور رکھنے کے لئے اہم ہے۔ غرضیکہ ڈاکٹر ،سائیکالوجسٹ اور فیملی تینوں اس کے علاج میں یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔اگر اس مسئلے کا شکار فرد کسی ذہنی بیماری یا پسماندگی کا شکار ہو تو علاج تھوڑا مشکل ہوجاتاہے۔

متوقع پیچیدگیاں
پکا کی ممکنہ پیچیدگیاں مندرجہ ذیل ہیں:
٭پینٹ سےسیسہ(lead)اور دیگر زہریلی چیزیںمعدے جگر اور دماغ کو متاثر کر سکتی ہےں ۔
٭غیر خوردنی چیزیں کھانا صحت بخش خوراک کھانے میں رکاوٹ بن سکتا ہے جس کے باعث غذائی کمی ہو سکتی ہے۔
٭ایسی اشیاء(مثلاً پتھر وغیرہ) جو ہضم نہیں ہوسکتیںانہیں کھانے سے قبض کی شکایت ہو سکتی ہے۔یہ معدے یاپیٹ میں رکاوٹ کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔
٭مٹی اور ریت وغیرہ میں موجود جراثیم اور طفیلیوں (parasites)
سے سنگین انفیکشنزکا خطرہ ہوتا ہےجو جگر اور گردوں کی کارکردگی کومتاثر کر سکتے ہیں۔

بچاو کیسے کیا جائے
اس سے بچاو پر گفتگو کرتے ہوئے موتی خان کہتی ہیں کہ گھر کا ماحول بہتر بنا کر اور متوازن غذاکے استعمال سے ہم اس سے بچ سکتے ہیں۔اس ضمن میں بچوں پر نظر رکھنی چاہےے کہ وہ کوئی غیر خوردنی چیز نہ کھائیں۔اگر بچے میں کچھ ایسی علامات ظاہر ہونے لگیں تواس پر بھرپور توجہ دیں۔اسے مٹی وغیرہ کھانے کے نقصانات بتائیں ۔اسے اس کی پسندیدہ چیز یںبنا کر دیں تاکہ کھانے کے معاملے میں اس کا رحجان بدل سکے۔جب تک بچے کی طرف سے ایسی چیزیں کھانے کاخدشہ رہے ‘اس پر نظر رکھیں۔اگر مسئلہ حل نہ ہوتو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔حاملہ خواتین کو چاہےے کہ وہ متوازن غذا کھائیں اورڈاکٹر کے تجویز کردہ سپلیمنٹ کا استعمال کریں ۔

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of