پینے کا پانی کتنا صاف, کتنا محفوظ؟

814

    اگست 2017ءکے آخری ہفتے میں عالمی ادارئہ صحت(ڈبلیو ایچ او)کی ایک رپورٹ نے ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی جس کے مطابق پاکستان کا 70فی صد زیر زمین پانی سنکھیا (arsenic) سے آلودہ ہے۔ سنکھیاایک سرمئی عنصر ہے جس میں دھاتی چمک پائی جاتی ہے اور اس سے زہریلے مرکبات بنائے جاتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 1200سے زیادہ جگہوں سے لئے گئے نمونوں میں یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان کے جنوبی علاقوں میں اس کی مقدار 200 مائیکرو گرام فی لٹر پائی گئی ہے جبکہ ڈبلیو ایچ اوکی گائیڈلائنز کے مطابق ایک لٹر پانی میں اس کی مقدار 10 مائیکرو گرام سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے۔
پاکستان میں بحیثیت مجموعی 50 سے 60 ملین افراد پینے کے لئے زیر زمین پانی استعمال کرتے ہیں جس میں رپورٹ کے مطابق اوسطاً 50 مائیکرو گرام فی لیٹرآرسینک موجود ہے۔یوں یہ مقدار بھی عالمی ادارہ صحت کی مقررہ مقدار سے پانچ گنا زیادہ ہے۔
پانی زندگی کی بنیاد ہے۔یہی وجہ ہے کہ اگر کسی سیارے پر زندگی کے آثارڈھونڈنے ہوں تو سب سے پہلے وہاں پانی تلاش کیا جاتا ہے۔ ہمارے جسم کا 70فی صد حصہ اسی پر مشتمل ہے اوریہ حقیقت ہے کہ غذا کے بغیر انسان کئی ہفتے زندہ رہ سکتا ہے مگر پانی کے بغیر زندگی ممکن نہیں۔ اسی کی مدد سے ہمارے مختلف اعضاءزندہ اور فعال جبکہ نظام روبہ عمل رہتے ہیں۔ اسی لئے ماہرین صحت ا س بات پر زور دیتے ہیں کہ ہمیں پانی سے اپنے جسم کو مستقلاً لبریز رکھنا چاہئے۔ اگرچہ جسم کو درکار پانی کی مقدار کئی عوامل پر منحصر ہوتی ہے لیکن پھر بھی اوسطاً 8سے 10گلاس پانی روزانہ پینے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ پانی کی صرف مقدار ہی نہیں‘ اس کا نقصان دہ عناصر سے پاک اور پینے کے لئے محفوظ ہونا بھی ضروری ہے ۔
پانی کی اقسام
پانی میں آلود گی کی مختلف اقسام ہیں جن کا تعلق ان ذرائع سے بھی ہے جن سے یہ حاصل ہوتا ہے۔ ذرائع کے اعتبار سے پانی کی دو بڑی اقسام زیرِ زمین پانی اور بالائے زمین پانی ہیں۔
زیر زمین پانی
کنوئیں،بورنگ اورچشموںسے ملنے والے پانی کو زیرزمین (ground water)پانی کہاجاتا ہے‘ اس لئے کہ یہ زمین کو کھود کر حاصل کیا جاتا ہے یا زمین سے پھوٹتا ہے۔ اس پانی میں کچھ معدنی اجزاءزیادہ مقدار میں پائے جائیں تو اسے مضرصحت بنا دیتے ہےں۔ایسے ہی معدنی اجزاءمیں سے ایک سنکھیا (arsenic)بھی ہے جو کم گہرے پانی میں موجود ہونے کی وجہ سے زیادہ لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
زیرزمین پانی بالعموم جراثیم کی آلودگیوں سے پاک ہوتا ہے‘ اس لئے کہ وہ وہاں تک نہیں پہنچ پاتے جہاں سے یہ حاصل ہوتا ہے ۔ تاہم آج کل زیر زمین پانی میں بھی جراثیم پائے جانے لگے ہیں جس کا سبب اس میں گندے پانی کی لائنوںکا مل جانا ہے۔
بالائے زمین پانی
جھیلوں ‘دریاو¿ں‘ ڈیموں‘ ندی نالوں اور بارش سے حاصل ہونے والے پانی کوبالائے زمین پانی(surface water) کہا جاتا ہے۔یہ پانی نیچے سے نہیں پھوٹتا بلکہ اوپر سے زمین کی سطح پر آتا ہے۔ یہ زمین پر دستیاب مجموعی پانی کا محض تین فی صد ہے اور مختلف اقسام کی آلودگیوں کی براہ راست زد میں رہتا ہے جن میں زرعی دواو¿ں، کیمیائی کھادوں، تیل، جانوروںاور پرندوں کا فضلہ شامل ہے۔
فضامیں موجودگندھک، پارہ، ڈائی آکسین(dioxin) اور نائٹروجن آکسائیڈ کے ذرات بھی اس پانی میں گر کر اسے آلودہ کرنے کا باعث بنتے ہیں۔گھروں‘ دفتر وں اور کارخانوں کا استعمال شدہ پانی بھی جھیلوں اور دریاو¿ں میں گر کراس کی آلودگی میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں متعدد جراثیم بھی پائے جاتے ہیں۔
پانی سے لگنے والی بیماریاں
میو ہسپتال لاہور کے ماہر امراض معدہ اور جگر ڈاکٹر عدیل قمر سے جب پوچھا گیا کہ بالائے زمین اور زیر زمین آلودہ پانی کے استعمال سے کون کون سی بیماریاںلاحق ہو سکتی ہیں۔ جواب میںانہوں نے کہا :
”بالائے زمین پانی میں زیادہ ترجراثیم پائے جاتے ہیں جن میں وائرس،بیکٹیریا اور طفیلئے(parasite) شامل ہیں جو مختلف بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ان میں فوڈ پوائزننگ‘ معدے اور انتڑیوں کا ورم (Gastroenteritis) ‘ٹائیفائد اورپیراٹائیفائیڈ بخار شامل ہیں۔ مزیدبرآں آرسینک ملاپانی مسلسل استعمال کرنے سے جلد کی بیماریاں، پھیپھڑوں کا کینسراور دل کے امراض لاحق ہوسکتے ہیں۔
پانی کی ٹیسٹنگ
صدیوں پرانی کہاوت ”پرہیز علاج سے بہتر ہے“ نہ صرف آج بھی قابل عمل ہے بلکہ پہلے کی نسبت آج اس کی زیادہ ضرورت ہے‘ اس لئے کہ آج کی بیماریاں زیادہ پیچیدہ جبکہ ان کا علاج زیادہ مہنگا اور غیریقینی ہے۔ ہمارے ہاں متعدی امراض کا بڑا سبب پینے کا غیرمحفوظ پانی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ گھروں اورسپلائی کے پانی کا لیبارٹری ٹیسٹ کرا لیا جائے۔
پی سی آرڈبلیوآر(پاکستان کونسل آف ریسرچ اینڈ واٹر ریسورسز)کے تحت ملک بھرکے 23مراکز میں پانی کی ٹیسٹنگ کی سہولیات دستیاب ہیں لیکن بدقسمتی سے ان میں سے زیادہ تر غیرفعال ہیں۔ فعال مراکز زیادہ تر بڑے شہروں میں ہیں جن میں لاہور‘ کراچی‘ پشاور‘ گلگت اور اسلام آباد شامل ہیں۔ شفانیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کونسل کی ڈائریکٹرجنرل لبنٰی ناہید بخاری نے کہا:
”ہماری فعال لیبارٹریوں میں پانی کی ہر طرح کی آلودگی کو ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ٹیسٹ کے لئے پانی کی دو بوتلیں جمع کروانا ہوتی ہیں جن میں سے ایک عام اور دوسری جراثیم سے پاک (sterilized) ہوتی ہے۔ اس ٹیسٹ میں پانی میں موجود جراثیم اور کیمیائی آلودگیوں‘ دونوں کا پتہ لگایا جاتا ہے۔اس پرتقریباً 3000روپے خرچ آتے ہیں جبکہ اس کا نتیجہ تقریباً 36 گھنٹوں کے بعد فراہم کر دیا جاتا ہے۔“
گھر میں محفوظ پانی‘ مگر کیسے
لبنٰی ناہیدبخاری سے پوچھا گیا کہ پینے کے لئے محفوظ پانی کہاں سے حاصل کیا جائے اور اسے کیسے محفوظ بنایاجائے؟ جواب میں انہوں نے کہا:
”سب سے پہلے اپنے علاقے میں پینے کے محفوظ پانی کے ذرائع تلاش کیجئے۔ اگر سارا علاقہ ہی آلودہ پانی کی زد میں ہے تو اپنے علاقے کی یونین کونسل سے مطالبہ کریں کہ وہ گہری کھدائی (deep drilling) کر کے پینے کا صاف پانی مہیا کرے۔ اس کا دوسرا طریقہ اسے ابال کر پینا ہے۔“
پینے کے پانی کو ابالنے کے بارے میں بھی ابہام پایاجاتا ہے۔ مثلاً یہ کہ اسے کب تک ابالا جائے؟ کیاپانی کے بخارات نظر آنے پرچولہا بند کردیا جائے یا اسے مکمل ابلنے دیا جائے، اور یہ بھی کہ اسے کتنی دیر تک ابالا جائے ۔اس پر لبنیٰ ناہید کہتی ہیں:
”بالائے زمین پانی کومحفوظ بنانے کے لئے اسے ایک منٹ تک تیز آگ پرابالیں اورپھر 20 سے 30 منٹ تک دھیمی آنچ پر ابلنے دیں۔ اس کے بعد ٹھنڈا کر کے اسے استعمال کریں۔ پانی میں ریت اور مٹی کی صورت میں اسے قابل استعمال بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ ابالنے سے قبل اس میں تھوڑی سی پھٹکری پیس کر ڈال دیں۔ یہ مٹی اور ریت کے ذرات کو اپنے ساتھ لے کر برتن کی تہہ میں بیٹھ جائے گی۔اب سطح پر موجود صاف پانی کسی دوسرے برتن میں نتھار کر ا±بال لیں۔“
ڈاکٹر عدیل قمر کا کہنا ہے کہ عالمی ادارئہ صحت کے مطابق پانی سے لگنے والی 90فی صد بیماریوں کا آسان اور شافی علاج پانی کو ابال کر استعمال کرنا ہے تاہم کلورین کا استعمال بھی بالائے زمین پانی کی آلودگیوں کو پاک کرنے کا بہتر،سستا اور آسان طریقہ ہے۔کلورین ملے پانی کا ویسے توکوئی نقصان نہیں البتہ معدے میں تیزابیت اور انتڑیوں کے ورم (Gastroenteritis) کے مریضوں کے لئے یہ ناموافق ہو سکتا ہے۔ اس پانی کا ذائقہ ذرا کڑوا ہوتا ہے جو بعض لوگوں کو پسند نہیں آتا۔
لبنیٰ ناہید بخاری کے مطابق پانی کو سنکھیا سے پاک کرنے کے لئے پانی کو فوارے کی طرح اچھال کر یا لوہے کے ٹکڑوں یا کیلوں پر سے گزار کر چھانا جاسکتا ہے تاہم یہ طریقہ نہ توآسان ہے اور نہ اتنا یقینی کہ ہرطرح کی آلودگی ختم کر سکے۔اس کا ایک ہی حل بچتا ہے اور وہ یہ کہ حکومت اس کے لئے مخصوص فلٹر لگوانے کا اہتمام کرے۔
پینے کے لئے محفوظ پانی کے بارے میں آگہی پیدا کرنے کے لئے ہر سال22 مارچ کو”واٹر ڈے“ منایا جاتا ہے۔اس سال عالمی یوم پانی کا مرکزی خیال یہ تھا کہ پانی ایک بہت بڑی نعمت ہے لہٰذا نہ صرف صاف پانی کو ضائع ہونے سے بچایا جائے بلکہ مختلف کاموں میں استعمال شدہ پانی کو بھی دوبارہ صاف کر کے قابل استعمال بنایا جائے۔دوسری بات یہ ہے کہ اپنے زیر استعمال پانی کی ٹیسٹنگ ضرور کروانی چاہئے۔ اس پر کچھ لاگت ضرور آتی ہے لیکن یہ اس لاگت کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے جو بیمار ہونے پر ہمیں ادا کرنی پڑتی ہے۔ تیسری اور آخری بات یہ کہ پانی ابال کر پینے کوعادت بنایا جائے۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

    فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی راولپنڈی کے لیکچرار محمد