• Home
  • امراض
  • زیادہ پیار اور توجہ کے مستحق بچے ڈاﺅن سینڈروم

زیادہ پیار اور توجہ کے مستحق بچے ڈاﺅن سینڈروم

516

ڈاون سینڈروم ایک ایسا موورثی مرض ہے جس میں مبتلا بچوں کی نہ صرف شکلیں ذرا مختلف ہوتی ہیں بلکہ ان کا ”آئی کیو“ بھی کم ہوتا ہے۔تھوڑی سی توجہ اور محنت سے انہیں اس قابل بنایا جا سکتا ہے کہ وہ نارمل سے قریب تر زندگی گزار سکیں۔ شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے ماہر امرض بچگان ڈاکٹر یاور نجم سے گفتگو کی روشنی میں ایک معلوماتی تحریر

عالیہ کی شادی 36سال کی عمر میں ہوئی تھی۔ طویل انتظار کے بعد جب اس کا گھر بسا تو وہ بہت خوش تھی ۔ اس کی یہ خوشی اس وقت دگنی ہوگئی جب اسے پتہ چلا کہ وہ امید سے ہے۔ حمل ٹھہرنے کے چار ماہ بعد جب الٹراساونڈ ہوا تو اسے علم ہوا کہ اس کا بچہ جسمانی اور ذہنی طور پر عام بچوں جیسا نہیں ہے۔ اس نے ڈاکٹر سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ بڑھی ہوئی عمر کے حمل میں ”ڈاﺅن سینڈروم“ نامی مرض کے حامل بچوں کی پیدائش کا امکان ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔

ڈاون سینڈروم ہے کیا ؟
عالیہ کے لئے اب اس بیماری کے بارے میں جاننا اشد ضروری ہو گیا۔ اس کے پوچھنے پر ڈاکٹر نے کہا کہ ڈاو¿ن سینڈروم ایک موروثی بیماری ہے۔اس کی تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نارمل انسانوں میں کروموسومز کی تعداد 46 (23 جوڑے) ہوتی ہے۔
بعض اوقات21نمبروالا کروموسوم کسی جینیاتی نقص کے باعث جوڑے کی بجائے تین کی شکل میں یعنی ”ٹرائی سومی“ ہو جاتا ہے۔ یوں ایک کروموسوم کے اضافے سے بچے میں ان کی تعداد46کی بجائے 47 ہو جاتی ہے۔ یہ تبدیلی بچے میں دماغی اور جسمانی بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔ 1866 ءمیں برطانیہ کے ایک سائنسدان ’جان لینڈن ڈاﺅن‘ نے ذہنی طور پر پسماندہ بچوں کے اس مرض کو دریافت کیا لہٰذا اس کے نام کی مناسبت سے اس مرض کو ”ڈاﺅن سنڈروم “کہا جاتا ہے۔
ا مرض کے شکار بچوںمیں سے کسی کی ذہنی پسماندگی کم اور کسی کی زیادہ ہوتی ہے۔ اس کمی بیشی کا انحصار مرض کی شدت پر ہوتا ہے۔ان بچوں کی ذہنی استعداد یعنی۔’آئی کیو‘چونکہ عام بچوں کی نسبت کم ہوتا ہے لہٰذا ان میں سیکھنے کی صلاحیت بھی کم ہوتی ہے۔

مرض کی علامات
ان بچوں کے سر کا پچھلا حصہ ،چہرہ اور ناک کی ہڈی چپٹی ہوتی ہے۔ان کی آنکھیں سیدھی کی بجائی ترچھی اور باہر کی طرف مڑی ہوتی ہے۔ ان کی ہتھیلی پردرمیان میں صرف ایک لکیر ہوتی ہے جو دائیں سے بائیں کونے تک جاتی ہے۔ ان بچوں کے پاو¿ں کے انگوٹھے اور ساتھ والی انگلی کے درمیان فاصلہ زیادہ ہوتا ہے جسے ”سینڈل گیپ“ بھی کہا جاتا ہے۔ بعض بچوں کی زبان موٹی اور باہر کو نکلی ہوتی ہے۔ مزیدبرآں ان کے پٹھے اور جوڑبھی ڈھیلے ہوتے ہیں۔

تشخیص اور بنیادی ٹیسٹ
حمل کے دوران 16ویں ہفتے میں الٹراساﺅنڈ کی مدد سے ڈاﺅن سینڈروم کی تشخیص ہوجاتی ہے۔ دورانِ حمل تشخیص کے لیے کیے جانے والے دیگر ٹیسٹوں میں خون کے ٹیسٹ یا کروموسومز کا ٹیسٹ شامل ہے۔ بچے کی پیدائش کے بعد کارئیوٹائپ  ٹیسٹ بھی کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے نومولودکے خون کے نمونے لیے جاتے ہیں۔

پیچیدگیاں اورعلاج
عموماً ان بچوں میں کچھ بیماریاں پائی جاتی ہیں جو کبھی پیدائش کے فوراً بعد توکبھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سامنے آتی ہیں۔ ان بیماریوں میں دل میں سوراخ ‘ اس کے والو کا تنگ ہونا،نظر اور سماعت کی کمزوری،پیدائشی سفید موتیا،تھائی رائیڈ کی بیماری،پھیپھڑوں اور آنتڑیوں کے مسائل،قبض اورمرگی قابل ذکر ہیں۔اس کے علاوہ ان بچوں میں خون کے سرطان کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں ۔
اس بیماری کا علاج نہیں ہے تاہم اس کی وجہ سے ہونے والی دیگر بیماریوں مثلاًد ل ،نظامِ تنفس یاآنتوں کی بندش جیسی پیچیدگیوں کا علاج کیا جاسکتا ہے۔

احتیاطی تدابیر
ڈاﺅن سنڈروم میں مبتلابچوں کے والدین کو چاہیے کہ اس بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کریں تاکہ وہ ان خاص بچوں کی پرورش اچھے انداز میں کر سکیں۔ ایسے بچوں کو سردی اور انفیکشنز سے زیادہ بچانا چاہیے۔یہ بچے آزادانہ زندگی نہیں گزار سکتے اور انہیں دوسروں کی مدد درکار ہوتی ہے۔ تاہم اگر انہیں اپنے روزمرہ کے چھوٹے موٹے کام مثلاً کپڑے بدلنے اور کھانا کھانے وغیرہ کی تربیت دی جائے تووہ کافی حد تک اپنے آپ کو سنبھال لیتے ہیں۔اس کے علاوہ کھیل کود میں حصہ لینے کیلئے ان کی حوصلہ افزائی کریں اور دیگر سرگرمیوں میں بھی انہیں شامل کریں۔

یہ بچے موسیقی سے بہت لگاﺅ رکھتے ہیں۔ یہ عموماً خوش اخلاق اور ملنسار ہوتے ہیں۔ان میں بہت جلد لوگوں میں گھل مل جانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ ان سے گفتگو کرنے سے ان کی یہ صلاحیت مزید نکھرتی ہے۔ اس کے علاوہ ایسے بچوں کی صحت کا خیال رکھنا چاہیے کیونکہ ان میں قوتِ مدافعت کمزور ہونے کی وجہ سے بیماریوں کے خلاف لڑنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔ اگر ان کو دل کے مسائل یا خون کا کینسر نہ ہو تو وہ اوسطاً 50سے 60سال کی عمر تک پہنچ سکتے ہیں تاہم زیادہ تر بچے اس سے پہلے ہی جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔

والدین کا کردار
بالعموم زچگی کے فوراً بعد ڈاکٹر والدین کو یہ بتا دیتا ہے کہ ان کا بچہ ”ڈاون سینڈروم “ کاشکار ہے۔انہیں چاہئے کہ اس حقیقت کوقبول کریں اور درج ذیل ہدایات پر عمل کریں:
٭سب سے پہلے بچوں کے ڈاکٹر سے اس کا چیک اَپ کرانا چاہئے تاکہ اس میں دیگر پیدائشی بیماریوں کا پتا لگایا جاسکے۔
٭چونکہ ان بچوں میں سیکھنے اور بولنے کی صلاحیت عام بچوں سے کم ہوتی ہے‘ اس لئے انہیں بولنا سکھانے کے لئے سپیچ تھیراپسٹ کی خدمات لی جاتی ہیں جو زیادہ محنت اور توجہ دے کر ان بچوں کو جلد بولنے کے قابل بنا سکتے ہیں۔اس میں فزیوتھیراپسٹ اور اساتذہ کی مدد بھی لی جانی چاہئے۔
٭اگر ان بچوں میں بہرا پن پایا جائے تو آلہ سماعت کے ذریعے اسے دور کرنا چاہئے تاکہ بچے کو بولنے میں آسانی اور مدد مل سکے۔
٭ ڈاﺅن سینڈروم سے متاثرہ بچے عام سکولوں میں جاتے اور ریگولر کلاسوں میں پڑھتے ہیں۔ اگر انہیں کسی اضافی مدد کی ضرورت ہو تو وہ انہیں سکول میں ہی مہیا کر دی جاتی ہے۔
٭ترقی یافتہ مما لک میں ان بچوں کی صلاحیت اور بیماری کی شدت کے مطابق یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ وہ عام بچوں کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں یا انہیں سپیشل سکول کی ضرورت ہے۔ وہ بچے جن میں اس کی شدت کم ہو‘ انہیں پڑھایا تو الگ جاتا ہے لیکن باقی سرگرمیاں مثلاً لنچ بریک ، کھیل اور ہم نصابی سرگرمیاں اکٹھی کروائی جاتی ہیں۔
٭ والدین کو گھر اور سکول کا ماحول ایسا بنانا چاہئے جس سے یہ بچے احساس کمتری کا شکار نہ ہوں اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔
دماغی اورجسمانی معذوری کے شکار بچوں کو اکثر گھروں سے باہر نکلنے کے مواقع کم فراہم کئے جاتے ہیں‘ اس لئے کہ لوگ ان کی مخصوص شکل و صورت دیکھ کر ہنستے اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ بیماری کی وجہ سے کسی بچے کو باہر نکلنے کے حق سے محروم نہیں کرنا چاہئے ۔اس کے ساتھ ساتھ ہمیں معاشرتی رویوں کو تبدیل کرنے کی بھی کوششیں کرنی چاہئیں۔

ماں کی زیادہ عمر ،ایک خطرہ
    بچوں میں ڈا ﺅن سینڈروم کے خطرے کو کم یا زیادہ کرنے میںماں کی عمر بہت اہم عامل ہے۔ اگراس کی عمر35سال سے تجاوز کر جائے تو اس کے ہاں جنم لینے والے بچے میں اس مرض کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے بعد جیسے جیسے عمر بڑھتی جاتی ہے، اس کے خدشات بھی بڑھتے جاتے ہےں۔ اس لیے خواتین کو چاہئے کہ 35سال کی عمر تک اپنی فیملی مکمل کر لیں۔ اگر اس کے بعد بھی حمل ٹھہر جائے تو کروموسومزکو چیک کرنے کے لیے کچھ خاص ٹیسٹ ضرور کروانے چاہئیں ۔اور بعض اوقات ایک خاص ٹیسٹ ایمنیوسین ٹیسس ٹیسٹ  بھی کروایا جاتا ہے۔ اس سے حمل کے ابتدائی دنوں میںاس مرض کو تشخیص کرنا ممکن ہوتا ہے ۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

بچپن عمر کا وہ حصہ ہے جس میں جو عادات بن جائیں‘ وہ عمر ب

نوزائیدہ بچے کو ماں کے دودھ کے علاوہ کوئی اور چیز(مثلاً

”مکمل طور پرصحت مند بچے اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہیں