ایک جسم، دو بچہ دانیاں

ایک جسم، دو بچہ دانیاں

دودوبچہ دانیاں ہونا ایک ایسی پیدائشی ابنارملٹی ہے جو بہت ہی کم پائی جاتی ہے۔ بچیوں میں اس کی بنیاد اسی وقت پڑ جاتی ہے جب وہ ابھی ماں کے پیٹ میں ہوتی ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے، آئیے جانتے ہیں

ہربچہ دانی دوچھوٹی نالیوں سے شروع ہوتی ہے۔ یہ نشوونما پانے کے بعد آپس میں مل کربچہ دانی میں ضم ہوجاتی ہیں۔ تاہم بعض اوقات یہ نہیں مل پاتیں اوردوالگ بچہ دانیاں بن جاتی ہیں۔ چونکہ معاملہ اندرونی اعضاء سے متعلق ہے لہٰذا خواتین کو اس کا علم نہیں ہوپاتا اورعموماً پیڑو کے معائنے میں اس کی تشخیص ہوتی ہے۔ الٹراساؤنڈ اورایم آرآئی اس کی تشخیص میں مددگارثابت ہوتے ہیں۔ اس کی واضح اورحتمی وجوہات تو سامنے نہیں آئیں تاہم جینیاتی عوامل اس میں اہم کردارادا کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں خاندانی ہسٹری اس ضمن میں اہم ہے۔

علاج کیا ہے

اگرکوئی خاص علامات ظاہرنہ ہوں توعلاج کی ضرورت نہیں پڑتی تاہم  دوران حمل کسی پیچیدگی کا سامنا ہوتوایسا کرنا پڑسکتا ہے۔ مثلاً بار بارحمل گرنے کی شکایت ہوتوسرجری سے مسئلہ مکمل طورپرحل ہوجاتا ہے۔ عموماً سرجری کی ضرورت کم ہی پڑتی ہے اورادویات کے ذریعے ہی حمل کومستحکم اورمکمل کیا جاسکتا ہے۔

حمل پراثر

 دوہری بچہ دانیاں حمل پرمنفی اثرڈالتی ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ عامل عموماً حمل میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ حمل کبھی ایک بچہ دانی میں ٹھہرتا ہے تو کبھی دونوں میں الگ الگ، تاہم دوسری صورت بہت ہی کم پیش آتی ہے۔ دونوں صورتوں میں حمل کے بعد ڈاکٹرسے مسلسل رابطہ اورمشورہ انتہائی ضروری ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حالت تکلیف پیدا کئے بغیربہت سی خواتین میں رحم کی اندرونی جھلی کے اپنی جگہ سے ہٹے ہونے‘ بانجھ پن‘ بارباراسقاط حمل‘ گردوں کے مسائل اورقبل ازوقت زچگی کا باعث بن سکتی ہے۔

double uterus, treatment of double uterus, effects on pregnancy

LEAVE YOUR COMMENTS