بزرگوں کوگرنے سے بچائیں

145

    زندگی ایک سفر ہے جس کا آغاز ناتوانی سے ہوتا ہے اورجب اس کی شام ہوتی ہے تو ناتوانی کا دورپھر لوٹ آتا ہے اور فرد کی کمر ضعف کے سبب جھک جاتی ہے۔اس عمر میں اکثر لوگوں کو کئی طرح کی بیماریاں بھی لاحق ہوجاتی ہیں ۔ان کے علاوہ انہیں جن مسائل کا زیادہ سامنا ہوتا ہے‘ ان میں سے ایک ان کا گر جانا بھی ہے ۔اگر خدانخواستہ فریکچرہو جائے تو بڑھاپے کی وجہ سے اس سے بحالی بھی تاخیر سے ہوتی ہے۔
عالمی ادارہ¿ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال گرنے کے 37.3ملین واقعات ایسے ہوتے ہیں جن میں لوگوں کو طبی امداد کی ضرورت پڑتی ہے ۔ گرنے والے ان افراد میں سے تقریباً17ملین مختلف معذوریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ادارے کے مطابق 424,000افراد گرنے کی وجہ سے موت کا شکار ہوجاتے ہیں جن میں سے 80فی صد کا تعلق کم یامتوسط آمدنی والے ممالک سے ہوتا ہے ۔ جن لوگوں گرنے کی وجہ سے شدید نقصان پہنچتا ہے‘ ان میں سب سے زیادہ 60سال سے زائد عمر کے افراد ‘دوسرے نمبر پر 15سے 29سال اور تیسرے نمبر پر 15سال سے کم عمر بچے شامل ہیں۔

جرنل آف ڈاﺅ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی ایک رپورٹ کے مطابق 2012ءمیں 60سال یا اس سے زائد عمر کے افرادپر کئے گئے ایک سروے کے مطابق 45فی صد لوگوں نے بتایا کہ وہ اس سے پہلے بھی گر چکے ہیں۔ان میں سے 36فی صد کے ساتھ یہ واقعات باتھ روم میں‘ 27 فی صد کے ساتھ بیڈ روم میں‘ 15 فی صد کے ساتھ سیڑھیوں پر اور 22فی صد کے ساتھ گھر سے باہر پیش آئے۔

گرنے کی وجوہات
بزرگوں کو گرنے سے محفوظ رکھنا ایک سنجیدہ معاملہ ہے جس پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے لئے ان وجوہات کاجانناضروری ہے جو ان کے گرنے کا سبب بنتی ہیں ۔بزرگوں
کے گرنے کی زیادہ عام وجوہات درج ذیل ہیں:

جسمانی انحطاط
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانی جسم پہلے کی طرح مضبوط اور تنومند نہیں رہتا اورذخیرہ شدہ اجزاءکی کمی کی وجہ سے انحطاط (degeneration)کا شکار ہوجاتا ہے۔ جب ان کی جسمانی طاقت کم ہوجاتی ہے تو ورزش کرنے یا متحرک رہنے کی صلاحیت بھی پہلے جیسی نہیں رہتی جس کی وجہ سے ان کے پٹھے کمزور ہو جاتے ہیں۔یوں ان کے گرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ویسکولر نظام کے مسائل
بزرگوں کے گرنے کی ایک بڑی وجہ ان کے ”ویسکولرسسٹم “ میں آنے والی تبدیلیاں بھی ہیں ۔اس نظام کا مقصد جسم کے ہر حصے میں خون پہنچانا ہوتا ہے ۔بزرگوں میں یہ انتظام کمزوری کا شکار ہوجاتا ہے او ر ان کے غیرارادی افعال کی صلاحیت (reflexes) بھی اچھی نہیں رہتی۔ جب خون دماغ یا دیگر اعضاءتک جلدی نہیں پہنچ پاتا تو بستر سے اٹھتے وقت یا اگر وہ بیٹھے ہوئے ہوں تو کھڑا ہوتے وقت ان کی آنکھوںکے آگے اندھیرا چھا جاتا ہے یا انہیں چکر آتے ہیں۔ یہ بھی ان کے گرنے کا ایک بڑا سبب بنتا ہے ۔

ادویات کاکردار
بڑھاپے میں لوگوں کو بیک وقت بہت سی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں اور وہ مختلف طرح کی دواﺅں پر ہوتے ہیں۔ ان ادویات کے نہ صرف سائیڈ افیکٹس ہوتے ہیں بلکہ کچھ آپس میں ”ری ایکشن “بھی کر جاتی ہیں۔ یہ مسئلہ بھی ان کے گرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

ہڈیوں کی کمزوری
ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ بڑھاپے میں بھی کافی صحت مند ہوتے ہیں جبکہ کچھ بزرگ ان سے عمر میں کم ہونے کے باوجود بھی کمزور ہوتے ہیں۔ اس صورت حال کا بڑا تعلق جوانی میں ان کے لائف سٹائل سے بھی ہے جس کے اہم اجزاءمتوازن غذا اور جسمانی طور پر متحرک رہنا ہیں۔ ورزش میں تیز پیدل چلنا یا کوئی بھی ایسی سرگرمی شامل ہیں جس میں سانس تھوڑا سا پھولے اور پسینہ بھی آئے ۔
ہڈیوں کا بھربھرا پن(Osteoporosis) بزرگوں کی ایک عام بیماری ہے جس میں ان کی ہڈیاں کمزور ہوجاتی ہیں ۔اس کا سبب ان کی ہڈیوں میں کیلشیم‘ پروٹین یا دیگرمعدنیاجزاءکی شدید کمی ہوجاناہے ۔اگر یہ کمی ایک خاص حد تک ہو اور ابھی وہ ”بیماری“ میں تبدیل نہ ہوئی ہو تو اسے آسٹیوپینیا (Osteopenia)کہاجاتا ہے۔ہڈیوں کی کثافت جانچنے کے لئے ایک ٹیسٹ کیا جاتاہے جسے ڈیکسا سکین (Dexa scan)کہا جاتا ہے ۔ اس سے لوگوں میں آسٹیوپوروسس یا آسٹیو پینیاکا پتہ چلایا جاتا ہے۔

کیلشیم اور وٹامن ڈی
سن یاس(menopause)کی عمر میں داخل ہو جانے والی خواتین کے علاوہ جن بزرگوں کا لائف سٹائل غیرمتحرک ہو، ان کی فیملی ہسٹری میں یہ مرض موجود ہو یاان کی غذا میں کیلشیم شامل نہ ہو‘ انہیں خاص ادویات تجویز کی جاتی ہیں۔ بڑھاپے میں کیلشیم اور وٹامن ڈی کے سپلی منٹس کی بھی ضرورت پڑتی ہے لیکن دیکھاگیاہے کہ بزرگ خود یا ان کے لواحقین اسے زیادہ اہمیت نہیں دیتے ۔ مرد اور خواتین بزرگوں میں جب ان دو اجزاءکی کمی ہو جائے تو ان کے گرنے اورنتیجتاً فریکچرکے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ جو لوگ کسی بیماری کی وجہ سے لمبے عرصے سے سٹیرائیڈز لے رہے ہوں‘ ان میں بھی آسٹیوپوروسس کا امکان بڑ ھ جاتا ہے ۔

متفرق وجوہات
بزرگوں کے گرنے کی دیگر وجوہات میں ان کی بینائی کاکم ہونانمایاں ہے ۔ بعض اوقات کچھ بیماریوں کی وجہ سے ان کے دل کی دھڑکن ہموار نہیں رہتی اور ان کے گرنے کا سبب بن جاتی ہے ۔اس عمر میں انہیں اعصابی بیماریاں مثلاً رعشہ (Parkinson’s disease) وغیرہ بھی ہوجاتی ہیں جن کی وجہ سے انہیں اپناتوازن برقرار رکھنے میں دقت ہوتی ہے لہٰذا ان کے گرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ماحولیاتی وجوہات
بزرگوں کے گرنے کے زیادہ تر واقعات گھروں کے اندر پیش آتے ہیں ۔اگرصحن کا فرش پھسلنے والا ہو تو اس بات کے امکانات ہیں کہ اہل خانہ‘ خصوصاً بزرگ خواتین و حضرات پھسل کر گر جائیں اور انہیں چوٹ لگ جائے۔ گھر کے اندر وہ سب سے زیادہ غسل خانوں میں گرتے ہیں۔ ان میں سیٹ کے قریب ہینڈریل (دستی) ہونی چاہئے تاکہ اٹھتے وقت اسے پکڑا جا سکے۔ دیکھا گیا ہے کہ اکثر گھروں میں اس کا اہتمام نہیں کیا جاتا۔
گھروں کے اندر بزرگوں کے گرجانے کا ایک بڑا سبب فرش پربچھے ڈھیلے ڈھالے قالین بھی ہیں ۔اکثر بزرگ کو حضرات رات کے وقت رفع حاجت کے لئے اٹھنا پڑتا ہے اور کچھ لوگ تہجد کے لئے بھی اٹھتے ہیں۔ایسے میں اگر روشنی کم ہو تو بزرگوں کا پاﺅں اس قالین سے الجھ جاتا ہے جس سے وہ گر جاتے ہیں۔ اسی طرح فرنیچر وغیرہ ایسی جگہوں پر نہیں ہونا چاہئے جہاں ان سے ٹکرانے کا احتمال ہو۔ گھروں کے اندر سیڑھیوںکے ساتھ ریلنگ اور سلائیڈ بھی ہونی چاہئے۔

علاج کے امکانات
بزرگوں میں کھوپڑی اور ٹانگ کے فریکچرز بھی دیکھنے میں آتے ہیں لیکن ان میں سب سے عام فریکچر کولہے کی ہڈی کا ہے ۔ اگر اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو انہیںکئی پیچیدگیوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔جب فریکچر ہو جائے تومریض کو آرتھو پیڈک سرجن کے پاس لایا جاتا ہے جو اس کی نوعیت اور شدت کااندازہ لگاتا ہے ۔ اس کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا ہے کہ آپریشن کے بغیر مسئلے کا حل ممکن ہے یا اس کے لئے لازماً آپریشن کرایا جائے گا۔ بعض اوقات کولہے کی تبدیلی کی بھی ضرورت پڑتی ہے ۔اس سلسلے میں اہم ترین بات یہ ہے کہ مریض کو جلد از جلد ڈاکٹر کے پاس لایا جائے ۔
ایک اور اہم معاملہ یہ ہے کہ بزرگ جب گرتے ہیں تو بعض اوقات انہیں سر پر چوٹ لگتی ہے جس کی وجہ سے انہیں وقتی طور پر سر میں درد یا چکر آنے کی شکایت پیدا ہو سکتی ہے جس کے بعد وہ بظاہر ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اگر کسی شخص نے انہیں گرتے اور ان کا سر ٹکراتے دیکھا ہو تو معمول کے چیک اَپ کے علاوہ ان کے سر کا سی ٹی سکین بھی ضرور کرا لینا چاہئے ۔ بزرگ افراد بعض اوقات بھولنے کی بیماری یا اس وقت بدحواسی کی وجہ سے ٹھیک طور پر نہیں بتا سکتے کہ ان کا سر ٹکرایا ہے یانہیں ۔ ایسے میں اگر اس کا شک ہو تو بھی سکین کرانا بہتر ہے‘ اس لئے کہ سر ٹکرانے سے بعض اوقات دماغ کے باہر والے حصے میںخون رسنا شروع ہوجاتا ہے جو اگر سر کے اس حصے میں جمع ہوجائے تو ہیماٹوما (Hematoma) بن کر باقی دماغ کو دبانا شروع کر دیتاہے۔ یہ صورت حال شدید نقصان کا باعث بن سکتی ہے ۔ جو بزرگ خون کو پتلاکرنے والی دواﺅں پر ہوں یا انہیں سٹنٹ پڑا ہو‘ ان میں ہیماٹوما بننے کا امکان بڑ ھ جاتا ہے‘ اس لئے اسے سنجیدہ لینا چاہئے۔

سماجی اور نفسیاتی پہلو
بزرگوں کے اہل خانہ کو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ کون سی دوائیں لے رہے ہیں تاکہ ڈاکٹر دوائیں تجویز کرتے وقت انہیں مدنظر رکھ سکے۔ اگر انہیں چکر آنے یا آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے کی شکایت رہتی ہو توڈاکٹر کو ضرور بتایاجائے تاکہ اس کے پس پردہ وجوہات کا پتہ چلایاجا سکے۔بزرگ افرادبعض اوقات اپنے بارے میں کوئی اچھا فیصلہ نہیں کر پاتے۔ اس لئے ان کی اولاد کو چاہئے کہ وہ ڈاکٹر سے مشورہ کرکے معلوم کریں کہ ان کی زندگی کو کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔( م ز ا)