پیشاب سے متعلق مسائل چھپائیے نہیں

899

کچھ امراض ایسے ہیں جنہیں بہت سے لوگ ڈاکٹر تو کیا‘ اپنی فیملی سے بھی چھپاتے ہیں۔اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ مرض رفتہ رفتہ بڑھنے لگتا ہے اور بالآخر بات آپریشن یاٹرانسپلانٹ تک پہنچ جاتی ہے۔ پیشاب سے متعلق امراض بھی اسی ضمن میں شمار ہوتے ہیں۔ پیشاب ‘گردے اورمثانے سے متعلق مسائل پر بہت سی مفید معلومات جانئے شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آبادمیں اس شعبے کے ماہر(یورالوجسٹ) ڈاکٹر ایاز خان کے ثمانہ سید کو دئیے گئے اس انٹرویو میں 

٭یورالوجی کیا ہے اور اس شعبے میں کن امراض کا علاج کیا جاتا ہے؟
٭٭ یورالوجی پیشاب سے متعلق مسائل کا علم ہے۔یہ طب کا وہ شعبہ جس میں گردے اور مثانے کی بیماریوں‘مردوں اور خواتین میں پیشاب کے امراض‘جنسی اعضاءاور بانچھ پن کے مسائل کا علاج کیا جاتاہے۔ اگر دواﺅں کی ضرورت ہو تو وہ دی جاتی ہیں اور اگر سرجری ضروری ہو تو وہ بھی اسی شعبے کے ڈاکٹر کرتے ہیں۔ترقی یافتہ ممالک میں گردوں کی پیوندکاری (ٹرانسپلانٹ) کے الگ ماہرین ہوتے ہیں لیکن پاکستان میں یہ کام اسی شعبے کے ڈاکٹرکرتے ہیں۔

٭یورالوجی کے متعلق عام تاثر یہ ہے کہ یہاںصرف مردوں کے پیشاب سے متعلق امراض کا علاج کیا جاتا ہے ۔کیا یہ بات درست ہے؟
٭٭ خواتین کی تولیدی صحت سے متعلق امراض شعبہ امور زچہ و بچہ (گائنی )میں دیکھے جاتے ہیںجبکہ پیشاب سے متعلق کچھ امراض مثلاً پیشاب کرتے ہوئے تکلیف اورگردے یا مثانے میں پتھری وغیرہ کے لئے یورالوجی میں آنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو مسائل ختم ہونے کی بجائے بڑھ سکتے ہیں۔ اس کے باوجود خواتین کی بڑی تعداد اس شعبے میں آنے سے ہچکچاتی ہے جس کی بڑی وجوہات میں خواتین یورالوجسٹس کی کمی‘ شعور نہ ہونا اورہمارا روایتی کلچرہے۔ اگر خاتون ڈاکٹر موجود ہو تو اس کے پاس ضرور جانا چاہئے لیکن اگر وہ نہ ہو تو پھر روایات اور کلچر کو علاج میں رکاوٹ ہرگزنہیں بنانا چاہئے۔

٭یہ بتائیے کہ مریض کویورالوجسٹ کے پاس کب آناچاہئے؟
٭٭بیماری جتنی جلد پکڑی جائے‘ اتنا ہی بہترہے۔اگر گردے میں درد اٹھے تو ٹوٹکوں پر انحصار کرنے کی بجائے الٹراساﺅنڈ سکریننگ ضرور کروائیں۔اس کے علاوہ کچھ علامات ایسی ہیں جو مریض کو تکلیف تو نہیں دیتیں مگر یہ خطرناک ہو سکتی ہیں۔ پیشاب میں خون آنا اس کی ایک مثال ہے۔ اس لئے پیشاب سے متعلق کوئی بھی غیرمعمولی علامت دیکھیں تو اسے نظرانداز نہ کریں اور ڈاکٹر کے پاس ضرور جائیں ۔

٭ہمارے ہاں پیشاب سے متعلق کون کون سی بیماریاں زیادہ عام ہیں؟
٭٭یہاں گردے اورمثانے کی پتھری‘انفیکشنز اورکینسرز‘ خصوصاً پروسٹیٹ غدود کاکینسر عام ہے۔

٭گردے کی بیماریوں کی تشخیص کیسے ہوتی ہے؟
٭٭گردے کے امراض کی تشخیص کے لیے الٹراساﺅنڈ کیا جاتا ہے۔اس سے گردے کی ساخت میں کسی تبدیلی‘اس میں رکاوٹ‘پتھری‘ اس کی قسم اورجس جگہ وہ موجود ہے‘ اس کی نشاندہی ہو جاتی ہے ۔

٭پیشاب کی نالی میںانفیکشن کی عمومی وجوہات کیا ہیں؟
٭٭انفیکشن کے پھیلاﺅ کی بڑی وجہ ذاتی صفائی کا خیال نہ رکھناہے۔ واش روم کی سہولت نہ ہونا ‘ اس کا گندا ہونا اور گردے یا مثانے میں پتھری ہونا انفیکشن کا باعث بن سکتا ہے۔ پیشاب کی نالی اور مثانے کی کچھ بیماریوں کی وجہ سے بھی انفیکشن ہو جاتا ہے۔

٭کچھ لوگ اپناپیشاب کنٹرول نہیں کر پاتے۔اس کی کیا وجہ ہے اور کیا یہ مسئلہ صرف بچوں میںپایا جاتا ہے؟
٭٭اس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں مثانے کی خرابی‘مثانے میں کوئی رکاوٹ نمایاں ہیں۔ بچوںمیںاعصابی یاکمر کے مسائل اوربزرگوں میںپراسٹیٹ غدود میں خرابی سے یہ مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔بعض اوقات خواتین میں پیشاب پر کنٹرول سیزیرین سیکشن (بڑے آپریشن) کے بعد خراب ہو سکتا ہے۔ بہت سی خواتین اس مسئلے کو لاعلاج سمجھ کر برداشت کرتی رہتی ہیں اور بعض صورتوں میں یہ طلاق کی وجہ بھی بن جاتا ہے‘ حالانکہ یہ جو قابلِ علاج ہے۔

٭بعض لوگ ‘خصوصاً بچے زیادہ دیر تک پیشاب کو روک کر رکھتے ہیں اور انہیں اس کی عادت ہو جاتی ہے۔کیا یہ عادت خطرناک ہے؟
٭٭جی ہاں، یہ عادت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے اوراس کی وجہ سے مثانہ درست طور پر کام کرنا چھوڑ سکتا ہے۔ان کی اس عادت کے پیچھے مختلف اسباب ہو سکتے ہیں جن میں سکول‘ کالج‘ یا کام کی جگہ پر صاف باتھ روم کی سہولت میسر نہ ہونا‘ استاد سے کلاس چھوڑنے کی اجازت لینے کا خوف‘سردی میں ٹھنڈے پانی سے بھاگنا‘بچوں کا کھیل کود میں مگن رہنا‘زیادہ سفر میںیا مصروف رہنا وغیرہ شامل ہیں۔ اگر بچوں میں یہ عادت ہو توان کے والدین کو چاہئے کہ اسے سنجیدہ لیں اور اس کاکوئی حل نکالیں۔

٭کچھ لوگوں کوپیشاب کرتے ہوئے درد کی شکایت ہو جاتی ہے۔اس کی کیا وجوہات ہیں؟
٭٭انفیکشن‘پتھری‘پیڑو(pelvis)کے مسائل‘ خواتین میں بچہ دانی جبکہ مردوں میں پراسٹیٹ غدودوں کا مسئلہ‘کینسریا کسی زخم وغیرہ کی صورت میںپیشاب کرتے ہوئے درد ہو سکتا ہے۔

٭پیشاب میں پروٹین خارج ہونے کی کیا وجہ ہوتی ہے؟
٭٭گردے کے فلٹر سسٹم میں مسئلہ پیدا ہو جائے تو پیشاب سے پروٹین کا اخراج ہونے لگتاہے۔اگر یہ زیادہ ہو تو اسے گردے کی کسی بیماری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔اس کا علاج ماہرِامراض گردہ (نیفرالوجسٹ)کرتا ہے۔

٭پیشاب میں خون آنے کے کیا اسباب ہیں؟
٭٭اگرپیشاب میںخون آنے لگے‘ خصوصاً خون کے لوتھڑے آئیں تویہ گردے یا مثانے کے کینسر کی علامت ہو سکتی ہے۔اس کی وجہ انفیکشن اورپتھری بھی ہو سکتی ہے۔ خون پتلا کرنے کی دوائیں استعمال کرنے والے مریضوں کو بھی پیشاب میں خون آ سکتا ہے۔ ایسے میں معالج کی رائے لینا اشد ضروری ہو جاتا ہے لہٰذا اس میں سستی نہیں کرنی چاہئے۔

٭کیا گردے اور مثانے کی پتھری میں کوئی فرق ہوتا ہے؟
٭٭اکثراوقات گردے کی پتھری گردے سے خارج ہو کر مثانے میں آ جاتی ہے۔ مثانے میں یہ مسئلہ ہو تو پیشاب کے اخراج میں دشواری ہونے لگتی ہے‘اس لئے کہ مثانہ پورے طریقے سے خالی نہیں ہو پا رہا ہوتا۔

٭اس سے بچاو کیسے ممکن ہے؟
٭٭پتھری سے بچنے کی بنیادی وجوہات کی تشخیص کر کے (مثلاً اگر وہ کسی خوارک کی وجہ سے بن رہی ہو تو اس خوارک سے پرہیز کرکے) پتھری کے مسائل کا سدباب ممکن ہے۔ دیگر لوگ (جو پتھری کے مریض نہیں ) زیادہ اور صاف پانی پینے کی عادت ڈال کر ان مسائل کو سر اٹھانے سے روک سکتے ہیں۔پئے جانے والے پانی کی مقدار کا تعلق موسم اور فرد کی جسمانی سرگرمیوںسے ہے‘ تاہم اوسطاً ہمیں سردیوں میں تقریباًدولیٹر جبکہ گرمیوں میں چارلیٹر پانی ضرورپینا چاہئے۔اس کے علاوہ اپنی غذا میں نمک کا استعمال کم رکھیں اورکھانوں کے اوپر نمک چھڑکنے سے پرہیز کریں۔اس کے علاوہ سرخ گوشت بھی زیادہ مت کھائیں۔

٭بہت سے لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے پاس پتھری کا ’شرطیہ علاج‘ موجود ہے۔ان دعوووں کی حقیقت کیا ہے؟
٭٭گردے یا مثانے میں پتھری خاصا سنجیدہ معاملہ ہے لہٰذا اس کے لئے اتائیوں پر بھروسہ کرنے کی بجائے مستندیورالوجسٹ سے رجوع کرنا بہتر ہے‘ اس لئے کہ یورالوجی میں اس حوالے سے جدید ترین طریقہ ہائے علاج موجود ہیں۔اندازوں پر چلنے کی بجائے ان سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔

٭کیا پتھری ایک مرتبہ ختم ہونے کے بعد دوبارہ بھی بن سکتی ہے؟
٭٭ جی ہاں‘اگر احتیاط نہ برتی جائے تو اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ وہ دوبارہ نہیں بنے گی‘ اس لئے کہ پتھری کے دوبارہ بننے کے35سے50فی صدامکانات ہو تے ہیں۔

٭کیا پتھری گندے پانی سے بنتی ہے؟
٭٭بہت سے لوگ یہی سمجھتے ہیں لیکن یہ اس کی براہ راست وجہ نہیں ہے‘اس لئے کہ پانی ہمارے خون میں شامل ہونے سے قبل اچھی طرح چھانا جاتا ہے۔تاہم آلودہ پانی پینے سے پیچش کی شکایت ہو جاتی ہے اورپانی کی کمی سے پتھری بھی بننے لگتی ہے۔

٭ایسے میں پتھری بننے کی اصل وجہ کیا ہے؟
٭٭پانی کم پینے کے علاوہ پتھری بننے کی ایک وجہ موروثیت بھی ہے۔مزیدبرآںپاکستان جس خطے میں واقع ہے‘ وہاں کا موسم پتھری بننے کی ایک بڑی وجہ ہے۔خاص طور پر جنوبی پنجاب اورشمالی سندھ کے علاقوں میں پتھری کے مریض زیادہ ہیں۔

٭کیا شوگر اور ہائی بلڈ پریشر بھی پتھری بننے کی اسباب ہیں؟
٭٭شوگر کے مریض اگر احتیاط نہ کریں تو ان کے گردے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ہائی بلڈ پریشر کئی اور مسائل تو پیدا کرتا ہے لیکن یہ پتھری بننے کا سبب نہیں بنتا۔

٭گردے اور مثانے کے کینسر کا علاج کیسے کیا جاتا ہے؟
٭٭گردے اور مثانے کے کینسرکی نوعیت مختلف ہونے کی وجہ سے ان کا علاج بھی مختلف ہوتا ہے۔مثلاً اگر مثانے میں کینسر ہو تواس کو اینڈوسکوپی کے ذریعے جلایا جا سکتا ہے۔اگر یہ زیادہ پھیل جائے تو ممکن ہے کہ متعلقہ عضو کو نکالنے کا فیصلہ کیا جائے۔ گردے میں موجود کینسر اگر چھوٹا ہو اورزیادہ پھیلا بھی نہ ہو توآدھے گردے کو نکالا جا سکتا ہے۔

٭غدود ِ مثانہ کے سرطان کی سکریننگ کب کروانی چاہئے؟
٭٭اس غدود کے سرطان کی سکریننگ 50سال کی عمر میں کروانا شروع کر دینی چاہئے تاہم جن لوگوں کے خاندان میں کسی قریبی رشتہ دار مثلاً بھائی بہن یا والدین کو یہ مرض لاحق ہو‘انہیں اس کی سکریننگ 48کی عمر کے بعد لازماًکروانی چاہئے۔

٭اپنے تجربے کی روشنی میں بتائیے کہ مریضوں کا کون سا رویہ آپ کو سب سے زیادہ پریشان کرتا ہے؟
٭٭مجھے اس شعبے میں کام کرتے کافی عرصہ ہو گیا ہے۔ جو چیز مجھے سب سے زیادہ دکھ پہنچاتی ہے‘ وہ یہ ہے کہ اکثر مریضوں کو ایک چھوٹے سے مسئلے کے بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ابتدا میںاپنی بیماری کو سنجیدگی سے نہیں لیتے اورمعالج کے پاس تب آتے ہیں جب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر مریض پہلے آجاتا تو اس کا علاج نہ صرف آسانی سے ہو جاتا اوراسے شفا ملتی بلکہ اس پر خرچ بھی کم آتا۔ مثلاً پتھری کا علاج کوئی مشکل نہیں ہے مگر مریض ہمارے پاس تب آتے ہیں جب ٹرانسپلانٹ کے علاوہ کوئی آپشن نہیں رہ جاتا۔

٭آپ کی نظر میں اس کی بنیادی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟
٭٭اس کے پیچھے بہت سے عوامل مثلاً تعلیم و آگہی کی کمی‘معاشی مسائل اورصحت کی سہولیات کا فقدان وغیرہ کارفرما ہو سکتے ہیں۔ہمارے معاشی اورمعاشرتی مسائل اتنے زیادہ ہیں کہ لوگ اپنی صحت پر دھیان ہی نہیں دے پاتے۔ یہ حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے موثر اقدامات کرےں جن سے عوام میں شعور بیدار ہو۔صحت کے حوالے سے جب تک اعلیٰ سطح پر باقاعدہ مہمات نہیں چلائی جائیں گی تب تک مریضوں کی حالت میںخاطر خواہ تبدیلی ممکن نہیں ۔میڈیا اور ٹی وی اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں مگر بدقسمتی سے یہ موضوع ان کی ترجیح میں بہت نیچے ہے۔ میڈیا پر صفائی‘صحت ‘بیماری سے بچاﺅ اور حادثات سے تحفظ کے پروگرام کئے جانے چاہئیں۔

٭آخر میں آپ قارئین کے لیے کیاپیغام دینا چاہیں گے؟
٭٭گردے اور مثانے کے مسائل سے بچنے کے لیے پانی زیادہ پئیں۔صحت بخش اور تازہ غذا کھائیں ۔آج کل پروسیسڈ فوڈ(ایسی بنائی چیزیں جنہیں محض تلنا یا ابالنا ہوتا ہے) کا رجحان بہت عام ہے ۔یہ کینسر سمیت کئی مسائل کا باعث بن سکتی ہے‘اس لئے ان سے اور زیادہ نمک والے کھانوں سے پرہیز کریں۔ سگریٹ نوشی کینسر کا باعث بن سکتی ہے اور کینسر کے تقریباً80فی صد مریض سگریٹ نوش ہوتے ہیں۔اس سے خاص طور پر بچیں۔اپنا بہت خیال رکھیں اور ضرورت پڑے تو ڈاکٹر کو ضرور چیک کروائیں۔