• Home
  • کورسٹوری
  • ذیابیطس کے مریض آنکھ اور پاؤں کی دیکھ بھال کیسے کریں

ذیابیطس کے مریض آنکھ اور پاؤں کی دیکھ بھال کیسے کریں

95

کہتے ہیں کہ مصیبت میں گھبراہٹ اسے ختم نہیں کرتی بلکہ اس میں اضافے کا موجب بنتی ہے ۔دوسری طرف اگراس کا سامنا مثبت سوچ‘حوصلے اور تدبرسے کیا جا ئے تو اکثر صورتوں میں اس سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے‘ ورنہ اسے پرسکون اور اچھے انداز میں گزارا ضرور جا سکتا ہے ۔ اس کی ایک زندہ مثال مشہور کرکٹر اور قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم ہیں جو ذیابیطس کے ساتھ نہ صرف بھرپور اور فٹنس کے تناظرمیں مثالی زندگی گزار رہے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ ’’ذیابیطس نے مجھے صحت مند طرززندگی دیا ہے۔‘‘
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتاکہ ذیابیطس اگر ایک دفعہ ہو جائے تو پھر یہ بالعموم عمر بھر ساتھ چلتی ہے ۔تاہم اگرڈائٹ پر کنٹرول رکھا جائے ‘ جسمانی سرگرمیوں کو معمول بنایا جائے اور ادویات یا انسولین کے استعمال میں بداحتیاطی نہ کی جائے تو اس مرض کے باوجود نارمل زندگی گزاری جا سکتی ہے ۔ دوسری صورت میں شوگر کنٹرول میں نہیں رہتی اور یہ بیماری جسم کا دیمک ثابت ہوتی ہے اور خاموشی سے تمام حساس اعضاء مثلاًدل،گردے،آنکھیں،پاؤں اور جگر کو متاثر کرتی چلی جاتی ہے ۔ ذیابیطس کیا ہے‘کیوں ہوتی ہے اور اس کی تشخیص کیسے کی جاتی ہے وغیرہ جیسے موضوعات پر اکثروبیشتر لکھا جاتاہے لہٰذا زیرنظر فیچر میں صرف آنکھوں اور پاؤں کے مسائل‘ ان کی وجوہات‘ پیچیدگیوں اور احتیاطوں پرتفصیل سے گفتگو کی جائے گی۔

ذیابیطس‘آنکھ متاثر کیوں
ذیابیطس کی وجہ سے آنکھوں کے مسائل اور پیچیدگیوں پر گفتگو کرتے ہوئے لیاقت یونیورسٹی ہسپتال حیدر آباد کے ماہر امراض غدود (اینڈوکرائنالوجسٹ) ڈاکٹر عبدالفاتح کا کہنا ہے :
’’خون میں شوگر کی زیادہ مقدار کی وجہ سے آنکھوں کی چھوٹی چھوٹی شریانیں پھٹ جاتی ہیںجس کی وجہ سے آنکھ کے اندر خون جمع ہونے اور بینائی ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔‘‘
ساؤتھ سٹی ہسپتال کراچی کی ماہر امراض چشم ڈاکٹر مہنازنوید شاہ سے جب پوچھا گیا کہ ذیابیطس کے مریضوں کو آنکھوں کے کن مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے تو انہوں نے کہا کہ ذیابیطس کے مریض اگر اپنا شوگرلیول کنٹرول نہیں رکھتے تو انہیں نظرکی کمزوری کے علاوہ اس کے دھندلے پن ، موتئے اور پردہ چشم(retina) کے مسائل کا بھی سامنا ہوسکتا ہے۔ ان کے بقول:
’’ ذیابیطس کی وجہ سے آنکھوں کے مسائل کی بروقت تشخیص اور علاج کے لئے ضروری ہے کہ آنکھوں کا سال میں ایک بار ضرور معائنہ کروایا جائے تاکہ پردئہ چشم کی تفصیل سے جانچ کی جا سکے اور یہ دیکھا جا سکے کہ ذیابیطس کے باعث ہونے والی منفی تبدیلیاں آنکھ کو کس حد تک متاثر کر چکی ہیں۔اس معائنے کے بعد ڈاکٹر ان تبدیلیوں کو روکنے کے لئے انجکشن ،لیزر یا سرجری سے علاج کرتے ہیں۔ابتداء میں عموماً مریض کو صرف اپنا شوگر لیول کنٹرول میں رکھنے اور صحت بخش غذا کھانے کی تاکید کی جاتی ہے۔

پاؤں کی دیکھ بھال اہم کیوں
ذیابیطس ایک ایسی بیماری ہے جس کا منفی اثر یوں تو تقریباً سارے جسم پر پڑتا ہے لیکن جن لوگوں کا مرض کنٹرول میں نہیں رہتا ‘ان کے پائوں زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ سائنسی نقطہ نظر سے اس کا سبب یہ ہے کہ پائوں ‘خون کی فراہمی کے ذمہ دار عضو یعنی دل اور اعصاب کو کنٹرول کرنے والے عضو یعنی دماغ سے سب سے زیادہ فاصلے پر ہوتے ہیں۔ اس لئے ان میں خون کی سپلائی دیگر اعضاء کی نسبت قدرے کم ہوتی ہے۔ اعصابی نظام کی خرابی کا زیادہ اثر بھی ان پر زیادہ پڑتا ہے۔
ذیابیطس کی وجہ سے جب اعصابی نظام متاثر ہوتا ہے توعموماً پائوں میں حساسیت کم ہوجا تی ہے جس کی وجہ سے ان میں زخم یا دیگر مسائل کا شوگر کے مریضوں کو احساس نہیں ہوتا اوروہ اسے نظرانداز کرتے چلے جاتے ہیں۔ اس لئے ذیابیطس کے مریضوں کو پائوں کی حفاظت اور ان کی دیکھ بھال کا خاص طور پر مشورہ دیا جاتا ہے۔فٹ سنٹر لاہور کے ماہر امراض پاؤںڈاکٹر نثار شاہ کا کہنا ہے :
’’شوگر کے مریضوں کو اپنے پائوں خشک رکھنے چاہئیں‘ اس لئے کہ نمی کے ماحول میں انفیکشن پھیلنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔انہیں چاہئے کہ اپنی جرابوں کو صاف اور خشک رکھیں اور انہیں بدلتے رہیں تاکہ پسینے والی اور میلی جرابوں کی وجہ سے انفیکشن سے بچا جاسکے ۔ پائوں کے ناخن کاٹتے ہوئے خصوصی احتیاط کریں‘ اس لئے کہ اگر ناخنوں کے کنارے ٹھیک طرح سے نہ کاٹے جائیں تو ان کی چبھن سے انفیکشن پھیل سکتا ہے۔ ناخنوں کو بالکل قریب سے نہیں بلکہ تھوڑا آگے سے کاٹیں تاکہ انگلیوں میں زخم کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ذیابیطس کے مریضوں کے لئے پاؤں کا انفیکشن نقصان دہ تو ہے ہی لیکن اگر وہ انگلی کی ہڈی تک پہنچ جائے تو وہ بے جان ہو سکتی ہے۔ ایسے میں اسے کاٹناپڑ سکتا ہے تاکہ باقی پائوں کو بچایا جا سکے۔بعض اوقات انفیکشن پائوں کی انگلی سے شروع ہو کر اندر ہی اندر اوپر کی طرف پھیلنا شروع ہو جاتا ہے اور دیکھنے میں بظاہر چھوٹے سے زخم کے اثرات گھٹنے یا اس سے بھی اوپر تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسے میں جسم کے دیگر اعضاء کو بچانے کے لئے پوری ٹانگ کاٹنا پڑ سکتی ہے۔
کہتے ہیں کہ بہت سی صورتوں میں محرک(stimulus) ہمارے بس میں نہیں ہوتاتاہم اس پر ردعمل (response)کا اظہار 100 فی صد ہمار ے بس میں ہوتا ہے۔اگرآپ کو خدانخواستہ شوگر ہو گئی ہے تو اپنی ڈائٹ پر کنٹرول کیجئے ‘ جسمانی سرگرمیوں کواپنے معمول میں شامل کیجئے اور ادویات یا انسولین کے استعمال میں بد احتیاطی نہ کیجئے۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے پائوں کی حفاظت کیجئے اور سال بھر میں ایک بار اپنی آنکھوں کا معائنہ ضرور کروائیے۔اس طرح آپ ذیابیطس کے باوجود نارمل اور صحت مند زندگی گزار سکیں گے۔

ذیابیطس اور پورشن کنٹرول
یونیورسٹی آف لاہور کے اسلام آباد کیمپس میں غذائیات کے اسسٹنٹ پروفیسرعبدالمومن کہتے ہیں :
’’آج سے تقریباً 10 سال پہلے تک صورت حال یہ تھی کہ شوگر کے مریضوں کو ایک خاص قسم کا ڈائٹ پلان دے دیا جاتا تھا جس میں چند غذائیں عمر بھر کے لئے ان پر بند کر دی جاتی تھیں۔ مریضوں کو اس حوالے سے فائدہ تو ہوتا لیکن کچھ اہم غذائی اجزاء کی کمی کی وجہ سے انہیں کئی اور بیماریاں بھی لاحق ہو جاتیں۔ یوں اس پابندی کے منفی اثرات کو دیکھتے ہوئے اورمیڈیکل سائنس کی نئی تحقیقات کی روشنی میں ماہرین اب اس نتیجے پر پہنچے کہ ذیابیطس کے مریضوں پر کھانے کی کوئی ایسی چیز مکمل طور پر بند نہیں ہونی چاہئے جسے بالعموم صحت بخش سمجھا جاتا ہے‘تاہم اس کے تناسب کا خیال رکھناچاہئے جسے ’’پورشن کنٹرول‘‘ کہا جاتا ہے ۔اس سے مرادیہ ہے کہ اگرمرض ہونے سے پہلے وہ دن میں ایک آم کھاسکتے تھے تو اب پورے دن یا ہفتے میں اس کی ایک پھانک کھاسکتے ہیں ۔‘‘
کھانے کی پلیٹ کا ماڈل

شفا انٹرنیشنل فیصل آباد کی ماہر غذائیات عروج رؤف کے مطابق ذیابیطس کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ’’کھانے کی پلیٹ‘‘ کا ماڈل پیش کیا جاتا ہے ۔ایسی پلیٹ کا طریقہ درج ذیل ہے:
ایک کھانے کی پلیٹ لیں اور اس کے نصف حصے میں ہرے پتوں والی سبزیاں اور سلادرکھ دیں۔پلیٹ کا ایک چوتھائی حصہ ایسی غذا سے بھریں جس میں پروٹین کی مقدار زیادہ ہو۔پلیٹ کے باقی ایک چوتھائی حصے میں ایسی غذائیں رکھیں جن میں کاربوہائیڈریٹس موجود ہوں ۔ پھلوں اور دودھ سے بنی اشیاء کی تھوڑی مقدار بھی اس میں شامل کی جاسکتی ہے ۔
نمک کا استعمال چائے کے آدھے سے تین چوتھائی چمچ روزانہ سے بڑھنے نہ پائے۔ چائینز نمک سے پرہیز کریں‘ اس لئے کہ اسے انسانی صحت کے لئے مضر پایا گیا ہے ۔ دیکھا گیا ہے کہ اگر کسی کا انرجی لیول کم ہو گیا ہو تو ہنگامی طور پر اسے سافٹ ڈرنک دے دی جاتی ہے۔ یہ رویہ درست نہیں‘ اس لئے کہ اس کے اندر کیفین ہوتی ہے جوشوگر کے مریضوں کے لئے نقصان دہ ہے۔ اسی طرح جوسزبھی ان کے شوگر لیول کو بڑھا دیں گے۔ان کی بجائے ایک کھجور کھانا‘یاایک چائے کا چمچ شہد ایک کپ پانی میں ملا کر پینابہتر ہے۔

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of