ڈینگی کے حملے

0

ڈینگی کے حملے

 ڈینگی کا پہلا حملہ

جب ڈینگی وائرس کی حامل مادہ مچھرکسی صحت مند شخص کو کاٹتی ہے تواسے وائرل انفیکشن ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے اسے تیز بخار اور سر میں درد شروع ہوجاتا ہے ۔اس مرحلے میں بخار اگرچہ شدید ہوتا ہے لیکن اس میں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کا وقفہ تین سے سات دن تک ہے اوراس دوران مریض کو پیناڈول ‘ زیادہ سے زیادہ پانی پینے ‘ آرام کرنے اور اپنے آپ کو مچھروں سے بچانے کے علاوہ کسی چیزکی ضرورت نہیں ہوتی ۔اگر ان باتوں پر عمل کیا جائے تو یہ ہفتہ دس دن میں خود ہی ٹھیک بھی ہو جاتا ہے۔

ڈینگی کا دوسرا حملہ

ڈینگی بخار میں مبتلا شخص کو اگر مچھر دوبارہ کاٹ لے توصورت حال بگڑ جاتی ہے اور مرض دوسرے مرحلے میں داخل ہو جاتا ہے جسے جریان خون والا بخارکہا جاتاہے ۔اس میں مریض کے ناک‘مسوڑھوں اوربعض اوقات پیشاب میں خون آنے لگتا ہے اور خون کی الٹیاں بھی ہو سکتی ہیں۔اس کا سبب خون بہنے سے روکنے میں مدد دینے والے خون کے ذرات پلیٹ لیٹس کا کم ہوجانا ہے ۔

ہسپتال میں ڈینگی کے مریضوں کیلئے الگ وارڈ یا کمرے مختص کئے گئے ہیں جس کا مقصد انہیں مچھروں سے بچانا ہے ۔ایسا کرنے کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ مچھر انہیں دوبارہ کاٹ کر ڈینگی کے مرض کو پیچیدہ نہ کر دے جبکہ دوسرا سبب یہ ہے کہ مچھر ان سے وائرس لے کر دیگرلوگوں کومنتقل نہ کر سکیں۔

ڈینگی کا تیسرا حملہ

اگر اس مرحلے پر بھی علاج نہ ہو سکے تو پھر ڈینگی بخار خطرناک مرحلے میں داخل ہو جاتا ہے جسے ڈینگی شاک سینڈروم کا نام دیا جاتا ہے ۔ اس صورت حال میں مریض کے جسم میں خون کی بہت زیادہ کمی ہو جاتی ہے جس سے دماغ اور جگر متاثر ہو سکتا ہے اورمریض کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔اس میں مریض کی نبض اور اس کا بلڈپریشر بھی کم ہوجاتا ہے۔

Dengue fever, dengue attacks

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x