• Home
  • آرٹیکل
  • حمل میں تاخیر: کیوں امید بر نہیں آتی

حمل میں تاخیر: کیوں امید بر نہیں آتی

54

حمل میں تاخیر: کیوںامید بر نہیں آتی

شادی کے بعد ایک صحت مند اور خوبصورت بچے کی خواہش تقریباًہر عورت کی خواہش ہوتی ہے تاہم بعض اوقات کچھ مسائل کی بنا پر حمل نہیں ٹھہرتا۔ کچھ صورتوں میں حمل نہ ٹھہرنے کا ذمہ دار بلاوجہ عورت کو ٹھہرا دیا جاتا ہے ۔ ایسے میں خواتین کی قابل ذکر تعداد اس شعبے کے ماہر ڈاکٹروں کے پاس جانے اور مسئلے کی نوعیت کو سمجھے بغیرخودہی ٹوٹکے استعمال کرنا شروع کردیتی ہیں۔ دوسری صورت میں وہ غیر تربیت یافتہ افراد کے مشوروں کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے جس سے معاملہ مزید بگڑ جاتا ہے ۔ جب شادی کے ایک برس بعد تک مانع حمل طریقے استعمال نہ کرنے کے باوجود اولاد نہ ہوتو صحیح صورت یہ ہے کہ فوراً ماہر نسواں سے رجوع کیا جائے ۔ اس ضمن میں چند بنیادی معلومات یہ ہیں:

حمل نہ ٹھہرنے کی وجوہات

٭خواتین میں حمل نہ ٹھہرنے کی کیفیت کا ان کے ماہانہ ایام سے گہرا تعلق ہے اور ان میں بے قاعدگی اس کی بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔

٭تولیدی اعضاء کے کچھ مسائل مثلاً رحم میں پھوڑا یا ورم بھی حمل ٹھہرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ نالی بند ہوجاتی ہے جس میں سے انڈے کو گزر کر بچہ دانی تک پہنچنا ہوتا ہے۔

٭اگرعورت کا جسم پروجیسٹیرون نامی ہارمون مناسب تعداد میں پیدا نہ کرے تو بھی یہ مسئلہ ہوسکتا ہے۔

٭انڈے کا پختہ نہ ہونا‘ مکمل طور پر تیار نہ ہونا یا صحیح وقت پر تیارنہ ہونا‘انڈے اورسپرم کا ملاپ نہ ہونا اس کی اہم وجوہات ہیں۔

٭بچہ دانی کے منہ پر کسی قسم کی رکاوٹ بھی اس کا سبب بنتی ہے۔

٭سگریٹ نوشی‘بیضہ دانی کی سرجری یا ایام جلدی ختم ہونے کی خاندانی ہسٹری بھی اس میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

٭مردانہ مادہ تولید میں سپرم کی غیر معمولی طور پر کم تعداد یا مردوں کے خصیوں میں سپرم بنانے کی صلاحیت کا نہ ہونا بھی اس کی وجہ ہے ۔

٭سپرم کی مخصوص شکل اسے مناسب رفتارسے حرکت کے قابل بناتی ہے اور وہ بیضے تک پہنچ پاتا ہے۔ اگر اس کی شکل‘ڈھانچے اورحرکت کی رفتار میں عدم توازن ہو تو اس کا بیضہ تک پہنچنا ناممکن ہوجاتا ہے۔اس صورت میں بھی حمل نہیں ٹھہرتا۔

٭جنسی طور پر ہونے والے انفیکشنز بھی اس کا سبب بن سکتے ہیں۔

٭جسم کے وزن کا غیر متوازن حد تک زیادہ بڑھنا یا کم ہونا۔

٭ذہنی دباؤ یا اضطراب بھی حمل کے ٹھہراؤ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

تشخیص اور علاج

٭مردوں کے مادہ تولید کا نمونہ حاصل کرکے اس کا ٹیسٹ کیاجاتا ہے جسے سپرم کا تجزیہ کہتے ہیں ۔ دوملی لیٹر مادہ تولید میں 20ملین سے زیادہ سپرم ہونے چاہئیں۔ اگریہ تعداد کم ہو جائے تو حمل کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔

٭خواتین کے تولیدی نظام کا تجزیہ ٹرانس ویجنل الٹراسائونڈ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

٭27ایام پر مشتمل ماہواری میں تقریباًچودھویں دن مخصوص ہارمونز اُن انڈوں کے اخراج کاسبب بنتے ہیں جو سب سے زیادہ پختہ ہوتے ہیں۔ اس وقت اگر سپرم اور انڈے کاملاپ ہوجائے تو حمل ٹھہرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

٭خون کے ٹیسٹ میں ’’ایف ایس ایچ‘‘ نامی ہارمون کا جائزہ لیاجاتا ہے۔

٭ خواتین میں حمل نہ ہونے کی وجوہات کا پتا چلانے کے لئے ایسٹروجن اور پروجسٹرون ہارمونز کی پیمائش بھی کی جاتی ہے۔

٭لیپروسکوپی جراحی کا مخصوص طریقہ کار ہے جس کے ذریعے تولیدی نظام اور رحم کی نالیوں کی جانچ کی جاتی ہے۔

pregnancy, blood test, sperm,ovary,Treatment, Miscarriage

5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x