• Home
  • اداریہ
  • اشیائے خورونوش میں ملاوٹ ‘ ادویات اورریگولیٹری ادارے

اشیائے خورونوش میں ملاوٹ ‘ ادویات اورریگولیٹری ادارے

136

کچھ عرصے پہلے اشیائے خورونوش میں ملاوٹ کا موضوع ٹیلی ویژن اور اخبارات میں شہ سرخیوں کی زینت بنا رہا۔یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے اور ہمیں ہر دوسرے دن اس موضوع پر اخبارات اور جرائد میں خبریں اورمضامین جبکہ ٹیلی ویژن چینلزپر خبریں ہی نہیں مکمل ٹاک شوز تک دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ خوراک کے شعبے سے متعلق صوبائی حکام اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ریستورانوں اور فوڈ فیکٹریوں پر چھاپے ،ان کی تالہ بندی اور گرفتاریوں وغیرہ سے متعلق مواد میڈیاپر عام دیکھنے کوملتا ہے ۔ دودھ، گوشت، تیل اور پانی خاص طور پرملاوٹ کے خلاف مہمات کاعنوان ہےں ۔ یہاں تک کہ سپریم کورٹ نے بھی اس معاملے کا نوٹس لیا ۔
خوراک میں ملاوٹ کی روک تھام سے متعلق جو اقدامات کئے گئے ان کے اثرات دیکھے جانا ابھی باقی ہے ۔ ملاوٹ کا یہ ناسور اصلاح احوال اورصارفین کو بے ضمیر منافع خوروں سے بچانے کے لئے کی جانے والی کوششوں کے مقابلے میں کہیں بڑاہے۔اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ ناجائز منافع خور صارفین کی جیبوں پر ہاتھ صاف کرنے اور ان کی زندگیوں سے کھیلنے کی جرا¿ت نہ کر سکےں‘ ثابت قدمی سے اورمسلسل کوششوں کی ضرورت ہے۔ان کاوشوں کو مو¿ثر بنانے کے لئے قانون سازی، ان کا سختی سے اور بلاامتیاز نفاذ، مستعد ریگولیٹری ادارے اور ذمہ دار صارفین ناگزیر ہیں ۔

ملاوٹ کرنے والوں نے مال بنانے کے لئے ادویات تک کو نہیں بخشا ۔ میڈیا کے ذریعے ہمارے علم میں یہ بات آئی ہے کہ حکام نے جعلی ادویات تیار کرنے والے کچھ افراد کو گرفتار اور فارمیسیوں کوبند کیا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ ملاوٹ کرنے والوں سے نپٹنے کے سلسلے میںحکام کا دھیان دواﺅں کی نسبت اشیائے خورونوش میں ملاوٹ کی جانب زیادہ جاتاہے ۔
جب دوا کی بات ہوتی ہے تواس میں محض ملاوٹ ہی مسئلہ نہیں ہے۔بالکل خالص اوربغیر ملاوٹ ادویات بھی اگر غیر منطقی انداز میںاور غیر ضروری طور پر استعمال کی جائیں تو مہلک ثابت ہو سکتی ہیں۔ آج ادویات ہر اس شخص کی پہنچ میں ہیں جو کہ ان کی قیمت ادا کر سکے۔ چند استثنائی صورتوں کو چھوڑ کرفارمیسیاں دوا دینے سے پہلے اس کا نسخہ طلب نہیں کرتیں۔دواﺅں کو حاصل کرنے کے لئے جس چیز کی ضرورت ہے‘ وہ صرف اور صرف پیسہ ہے۔اگر کہیں‘ کوئی نسخہ طلب کرتا ہے تو وہ ان ادویات تک محدود ہے جو نشہ آور اثرات رکھتی ہیں۔ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارے ہاں دواﺅں کی خرید پر اتنی روک ٹوک بھی نہیں جتنی چھوٹے بچوں کو مانع حمل مصنوعات کی فروخت پرہوتی ہے ۔
ہمیں یہ بات سمجھنی چاہئے کہ دوائیں کوئی خوراک نہیں ہیں۔ماہرین صحت ‘ملٹی وٹامنز کے ڈاکٹر ی مشورے کے بغیر استعمال کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں اور ٰخبردار کرتے ہیںکہ ان کا غیرضروری استعمال صحت کے لئے سنگین مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ملٹی وٹامنز کو تو چھوڑئیے، ہمارے ہاں نسخے کے بغیر اینٹی بائیوٹکس بھی بلاروک ٹوک خریدے جا سکتے ہیں۔اس لئے اینٹی بائیوٹکس کا بے لگام اوروسیع پیمانے پر پھیلاﺅ صحت عامہ کا بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ہم نے اس مسئلے کواس شمارے کے اردو صفحات میں کورسٹوری کے طور پراجاگر کرنے کی کوشش کی ہے ۔

جعلی اور ناقص ادویات کی طرح ادویات کا غیرمنطقی استعمال بھی بہت بڑا مسئلہ ہے ۔ہمارا مطالبہ ہے کہ صحت کی صوبائی وزارتیں اور وفاقی دارالحکومت کاہیلتھ ڈپارٹمنٹ باقاعدہ نسخے کے بغیر ادویات کی فروخت کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات کریں۔ ہم توقع رکھتے ہیںکہ متعلقہ اداروں کے پاس یہ گائیڈلائنز ضرور موجودہوں گی کہ کون سی ادویات نسخے کے بغیر نہیں بیچی جا سکتیں۔
ہم یہ بھی توقع رکھتے ہیںکہ ایک دن آئے گاجب اس طرح کے موضوعات سیاسی راہنماﺅں کے علاوہ لوگوں کی رائے پر اثرانداز ہونے والے افراد مثلاًعلمائ‘ میڈیا پرسنزاور مشہور شخصیات کی توجہ حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوجائیں گے۔ سیاست بہتر حکمرانی کے لئے ہوتی ہے اور نگہداشت صحت کسی بھی حکومت کے اہم فرائض میں شامل ہے ۔