بچوں کے ساتھ زیادتی۔۔۔ شعور دیجئے, ساتھ دیجئے

220

بچوں کے ساتھ زیادتی۔۔۔ شعور دیجئے، ساتھ دیجئے

بچپن کوزندگی کا خوبصورت ترین عرصہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس میں فرد تفکرات سے بڑی حد تک آزاد ہوتا ہے۔ تاہم بعض بچوں یا بچیوں کے ساتھ بدقسمتی سے کچھ ایسے واقعات ہوجاتے ہیں جن کے منفی اثرات عمر بھر ان کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ انہی مین سے ایک بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی بھی ہے ۔ اس موضوع پر ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات کے جوابات جانئے محمد زاہد ایوبی کے ساتھ آغا خان ہسپتال کراچی کی چائلڈ سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر تانیہ ندیم کے اس انٹرویو میں

بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی ایک حساس معاملہ ہے۔ بالعموم اسے ایک اخلاقی‘ قانونی ‘ مذہبی یا سماجی مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ بتائیے کہ کیا اس کا تعلق صحت کے ساتھ بھی ہے؟

 جب کوئی بالغ شخص یا نوجوان کسی بچے کو اس کی آزاد مرضی کے خلاف کسی بھی سطح کے جنسی عمل کے لئے استعمال کرے تو اسے جنسی زیادتی (child sexual abuse)کا نام دیا جاتاہے ۔ عمر کے اس حصے میں بچہ ذہنی ‘ نفسیاتی اور جسمانی طور پر اس کے لئے تیار نہیں ہوتا لہٰذا اسے پہنچنے والا صدمہ شدید ہوتا ہے۔ بظاہر یہ بات معمولی لگتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مستقبل میں اس کے بہت سے نفسیاتی اور طبی اثرات مرتب ہوتے اور پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں ۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ صحت کا مسئلہ بھی ہے ۔

 پاکستان میں یہ مسئلہ کس حد تک موجود ہے ۔ نیز یہ بھی بتائیے کہ اس کی شرح دیہات میں زیادہ ہے یا شہروں میں؟

مجھے پاکستان میں اس سے متعلق اعدادوشمار کا تو علم نہیں ‘ البتہ ہمارے کلینک میں اس مسئلے کے شکار بہت سے بچے آتے ہیں۔ ہم کونسلنگ اور دیگر طریقوں سے انہیں ان کی نفسیاتی الجھنوں سے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

کن بچوں کے زیادتی کا شکار ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں؟

پاکستان میں اس سے متعلق مصدقہ اعداوشمار تو دستیاب نہیں تاہم چھوٹے بچے اور بلوغت کی دہلیز پر نیا نیا قدم رکھنے والی بچیاں اس کا زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ ہوٹلوں پر بحیثیت ویٹر مزدوری کرنے اور گاڑیوں پر کلینراور ہیلپر کے طور پر کام کرنے والے بچوں کے علاوہ ایسے بچے بھی زیادتی کا زیادہ شکار ہوتے ہیں جنہیں گھروں میں پیار نہیں ملتا ۔

زیادتی کرنے والے افراد زیادہ تر کون لوگ ہوتے ہیں؟

کثر والدین کا خیال ہوتا ہے کہ زیادتی کا امکان اجنبی افراد کی طرف سے ہوتا ہے لہٰذا وہ بچوں کو زیادہ وقت گھر پر رہنے اور قریبی رشتہ داروں کے علاوہ ا  دیگر افراد سے میل جول رکھنے سے منع کرتے ہیں۔ ان کی توقع کے برعکس زیادہ تر کیسز میں قریبی رشتہ دار‘ گھریلو ملازمین یا دیگر قابل اعتماد افراد اس کے مرتکب پائے جاتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اُن پر کوئی شک نہیں کرتا‘ ان کے لئے بچوں تک رسائی آسان ہوتی ہے‘ ان کے درمیان اعتماد اور بے تکلفی کا رشتہ ہوتا ہے اور انہیں یہ تسلی بھی ہوتی ہے کہ اگر بچے نے ان کی شکایت کر بھی دی تو کوئی اس پر یقین نہیں کرے گا۔

بچے پر جنسی زیادتی کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

اگر بچوں پر والدین کی گہری نظرہو تو انہیں بچے کے رویے میں نمایاں تبدیلیاں محسوس ہوں گی ۔ وہ بظاہر کوئی وجہ نہ ہونے کے باوجود خوفزدہ نظر آئے گا یا اس کے رویوں میں جارحانہ پن پایا جائے گا۔ ایسے بچوں کی نیند متاثر ہوجاتی ہے اور وہ تعلیمی طور پر بھی پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ اگر ہم طویل المدتی اثرات پر بات کریں تو ان میں کئی طرح کے نفسیاتی مسائل اور بیماریاں جنم لے سکتی ہیں جن میں صدمے کے بعد ذہنی دباﺅ (post traumatic stress disorder) ‘ ڈپریشن اور بی پی ڈی (borderline personality disorder) نمایاں ہیں۔

بی پی ڈی ایک سنجیدہ نفسیاتی مسئلہ ہے جس کا بچے کے موڈ‘ رویے‘ اپنی ذات کے بارے میں تصوراور کارکردگی سے گہرا تعلق ہے۔ جنسی زیادتی بچوں میں خودکشی کی شرح بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے ‘ ان کی تعلیم پر برا اثر ڈال سکتی ہے‘ فرد اپنی عزت نفس اور دوسروں کے ساتھ انسیت کھو سکتا ہے ۔ ایسے بچوں میں جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ زیادتی کے شکار بچوں میں بڑے ہونے پر امراض قلب اور دیگر بیماریوں کی شرح بھی زیادہ ہے۔

بعض والدین کہتے ہیں کہ ان کی بچیاں بہت سے اچھے رشتوں کو ٹھکرا دیتی ہیں اور خود اپنی پسند بھی نہیں بتاتیں۔ ان لڑکیوں میں سے کچھ کہتی ہیں کہ انہیں شادی سے خوف آتا ہے ۔ کیا اس کے پس پردہ دیگر وجوہات کے علاوہ ایک وجہ وہ بھی ہو سکتی ہے جس پر ہم بات کر رہے ہیں؟

چونکہ جنسی زیادتی کے عمل میں بچیوں کا اعتماد مجروح ہوا ہوتا ہے‘ اس لئے ان کے دل میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ مرد پرکبھی اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے علاوہ انہیں انسیت پیدا کرنے میں بھی دشواری ہوتی ہے ۔ ایسے میں اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے۔

شادیاں ہو جانے پر کیا ان کی ازدواجی زندگیاں متاثر ہوسکتی ہیں؟

اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ بچپن میں انہیں پہنچنے والے صدمے کی شدت کیا تھی اورکیا ایسا ایک دفعہ ہی ہوا یا باربار ہوتا رہا۔ ہم فطری طور پر یہ سیکھتے ہیں کہ لوگوں کے ساتھ محبت کے تعلقات کیسے قائم کئے جاتے ہیں۔ اگر اس طرح کا واقعہ باربار ہوا ہو یا اس کا ذہنی صدمہ شدید ہو تو سیکھنے کا یہ عمل متاثر ہوتاہے ۔ اس سے ان کی شادی شدہ زندگی بھی متاثر ہو سکتی ہے ۔

والدین اپنے بچوں کو جنسی زیادتی سے کیسے بچا سکتے ہیں؟

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ والدین اس معاملے کی اہمیت کو سمجھیں اور بچوں کے ساتھ اس موضوع پر بات کریں۔ انہیں بتائیں کہ ایسا ہوجانے کے امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا لہٰذا جب کوئی بالغ فرد اس طرح کی حرکت کرے تو اس کی بات ماننے سے سختی سے انکار کر دیں اور آپ کو اطلاع کریں۔

اس کے باوجود بچوں کو جنسی زیادتی سے شاید  100 فی صد تو نہ بچایا جا سکے‘ اس لئے کہ وہ بڑھوتری کی عمر میں ہوتے ہیں‘ انہیں لوگوں سے ملنا ہوتا ہے اور انہیں کچھ آزادی بھی دینا پڑتی ہے۔ تاہم میرے خیال میں اس موضوع پر بات کر کے‘ گھر میں کچھ اصول و ضوابط طے کر کے اور ان کی عمر کے مطابق کسی حد تک نگرانی کے عمل کو موثر بنا کراس کے امکانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ میری بات کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ لڑکیوں کو گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں دینی چاہئے ۔

یہ بتائیے کہ والدین کو کیسے علم ہو گا کہ ان کے بچے کے ساتھ ایسا واقعہ ہوا ہے؟

اگر آپ نے اس سے پہلے ان سے بات کی ہے اور آپ کے اپنے بچے کے ساتھ تعلقات دوستانہ ہیں تو وہ خود ہی آپ کو اس کے بارے میں بتا دے گا۔ اگرچھوٹے بچے کے ساتھ ایسا ہوا ہو تو وہ بھی کسی دوسرے کے ساتھ ایسی حرکات کرنے کی نقل کرے گا۔ اگر وہ ایسا کرے تو اسے خطرے کی گھنٹی سمجھنا چاہئے ۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ جسمانی اور ذہنی نشوونما کی طرح جنسی نشوونما بھی ایک فطری عمل ہے لیکن ظاہر ہے کہ اس کا اظہار اپنی عمر میں ہی اور فطری انداز میں ہوتا ہے ۔

اگر کسی بچے کے ساتھ ایسا ہو جائے تو اس کے والدین کو کیا کرنا چاہئے؟

 جب کوئی بچہ اپنے والدین کو اس طرح کی کوئی بات بتاتا ہے تو بالعموم وہ اسے ماننے سے انکار کر دیتے ہیں اور اسے اس بات پر ڈانٹتے ہیں کہ وہ ان کے قریبی عزیز یا رشتہ دار پر الزام لگا رہا ہے۔ ایسا کرنے کی بجائے اُس کی بات پوری توجہ سے سنیں‘ اسے یہ اعتماد دیں کہ وہ آپ سے بات کر سکے اور اسے حوصلہ دیں۔ بچے کو سمجھائیں کہ اس میں اس کی کوئی غلطی نہیں اور ساری غلطی اس فرد کی ہے جس نے یہ حرکت کی ہے ۔

اسے بتائیں کہ اس نے آپ کو بتا کر بہادری کا ثبوت دیا ہے ۔ اسے غلطی یا گناہ کے احساس سے نجات دلائیں ۔ اس کے بعد اس کی حفاظت کریں۔ آئیڈیل بات تو یہ ہے کہ اس پر قانونی کارروائی کریں اور اسے نظرانداز مت کریں ‘ ورنہ ایسا واقعہ دوبارہ بھی ہو سکتا ہے۔ بچے سے کہیں کہ اسے خود پر سوار نہ کرے اورمعمول کی زندگی بسر کرے ۔

گفتگو کو سمیٹتے ہوئے آپ کیا پیغام دیں گی ؟

بچوں کو اس معاملے پر ایجوکیٹ کیا جائے ۔ ان کی عمر کے مطابق انہیں زیرنگرانی رکھا جائے ‘ اجنبی لوگوں کے ساتھ انہیں نہ بھیجا جائے اور انہیں اس بات کی تربیت دی جائے کہ اپنی حفاظت کیسے کرنی چاہئے ۔

Child sexual harassment, interview with psychiatrist