گھرداری

تعمیراتی سائنس نے ہمیں فطرت سے قریب‘ گردوغبار سے دور‘ غیرموزوں موسم کے برے اثرات سے محفوظ اورباہر کے ماحول سے آگاہ رکھنے کے لئے گھروں اور دفتروں میں بڑے شیشے والی کھڑکیاں متعارف کروائی

گھرمیں مہمان آنا ہوں تو خواتین خانہ ان کی خاطر تواضح ہی نہیں‘ گھر کی صفائی ستھرائی میں بھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتیں۔ ایسے میں گھر کا کونا کونا چمک رہا ہوتا ہے لیکن گھنٹوں کی تےاریوں کے بعد

    چائے کی چسکیاں ہوں یامزیدار کھانے ‘کچن کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں۔کچن کسی بھی گھر میںنہ صرف مرکزی اہمیت رکھتا ہے بلکہ گھر بھر کی صحت کا ضامن بھی ہے۔ یہ گھر کا وہ حصہ ہے جہاں خاتونِ خانہ ک

کچن ٹائمر اگر گھر کے دیگر کاموں کو بھی دیکھنا ہو یا موسم گرم ہو تو کچن میں کھڑے رہ کر کھانا پکنے کا انتظار کرنا کافی صبر آزما ہوتا ہے۔اس صورت حال میںاکثر خواتین کچن سے باہر کسی اورکام میں لگ

    صوفے کی ایجاد کب عمل میں آئی اور یہ انسانی زندگی کا باقاعدہ حصہ کس دور میں بنا؟ اس بارے میں وثوق سے تو کچھ نہیںکہا جا سکتا البتہ تقریباً1500 سال قبل مسیح کی مصری تاریخ کے مطابق فراعین مصر