خواتین کا ایک بڑا مسئلہ, خون کی کمی

745

    انسانی جسم کو اگر گاڑی سے تشبیہ دی جائے تو اس میں خون کی حیثیت وہی ہے جو گاڑی میں ایندھن کی ہوتی ہے ۔جس طرح قیمتی سے قیمتی گاڑی اس کے بغیر ایک قدم نہیں چل سکتی ہو‘اسی طرح خون کے بغیر انسانی زندگی کی گاڑی بھی رک جاتی ہے ۔ انیمیا (anemia) ایسی کیفیت ہے جسے عرف عام میں ”خون کی کمی “ کہا جاتا ہے ۔اگرکسی فرد میں یہ کمی پائی جائے تو اس کی صحت کو کئی طرح کے مسائل لاحق ہو جاتے ہیں ۔
خواتین میں یہ مسئلہ مردوں کی نسبت بہت زیادہ پایا جاتا ہے ۔ عالمی ادارئہ صحت(ڈبلیو ایچ او) کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں بلوغت کی عمرمیں داخل 29 فی صد بچیاں ، 33فی صد شادی شدہ لیکن غیرحاملہ خواتین جبکہ 38فی صد حاملہ خواتین اس کی شکار ہیں۔ اگر ہم افریقہ، جنوب مشرقی ایشیاءاور بحرالکاہل کے مغربی خطوں کی بات کریں تو یہاں 90فی صد خواتین اس کمی کی شکار ہیں جو خاصاسنگین مسئلہ ہے۔

انیمیا ہے کیا
شفا انٹر نیشنل ہسپتال اسلام آباد میں امراض خون کے ماہر ڈاکٹر (clinical hematologist) محمد ایاز سے پوچھا گیا کہ” انیمیا “ ہے کیا اور اس کا کیا نقصان ہے؟ جواب میں ان کا کہنا تھا:
”انیمیا یعنی خون کی کمی ایسی کیفیت ہے جس میں خون کے سرخ خلیے کم بنتے ہیں۔ان خلیوں کا سب سے اہم حصہ ایک پروٹین ہے جسے ’ہیموگلوبن‘ کہا جاتا ہے ۔ یہ پروٹین پھیپھڑوںسے آکسیجن لے کر اسے جسم کے دیگر حصوں تک پہنچاتی ہے۔ اگر خون میں اس کی کمی واقع ہوجائے تو ان حصوں کو مناسب مقدار میں آکسیجن نہیں پہنچ پاتی لہٰذا انہیں اپنے کام انجام دینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔“

ان کے بقول ایک صحت مند مرد کے خون میں ہیموگلوبن کی مقدار13سے 15 اور خاتون میں 12سے14ہوتی ہے۔ اگر کسی فرد میں اس کی مقدار 7سے8گرام فی ڈیسی لیٹریا اس سے کم رہ جائے تواسے خون کی کمی یا انیمیا کہا جائے گا:

” اسے ہم آئرن کی کمی کی وجہ سے خون کی کمی بھی کہتے ہیں کیونکہ ہیموگلوبن پروٹین کا بڑا حصہ آئرن پر مشتمل ہوتا ہے ۔جس طرح اینٹوں کے بغیرمکان نہیں بن سکتا‘ اسی طرح جب جسم کو آئرن نہیں ملتا تو ا س کے خون میں ہیموگلوبن بننا بند ہوجاتا ہے اور نتیجتاً خون کی کمی واقع ہوجاتی ہے۔ “

خواتین زیادہ شکار کیوں
شفا انٹرنیشنل فیصل آباد کی ماہر زچہ و بچہ ڈاکٹر کنیز فاطمہ کے مطابق پاکستان میں خواتین کی بڑی تعداد خون کی کمی کا شکار ہے جس کی سب سے پہلی وجہ لاعلمی ہے جبکہ دوسری غذائیت کی کمی یا ناقص خوراک ہے۔اس کی تیسری بڑی وجہ انفکشنز ہیں۔ خواتین انفیکشنز ہونے کے بعد لمبے عرصے تک ان کی شکار رہتی ہیں مگر لاعلمی یا صحت کی سہولیات تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے کچھ نہیں کر پاتیں۔ ایسی صورت میں اگر آئرن لیا بھی جائے تو وہ جسم میں جذب نہیں ہوپاتا۔
ڈاکٹر کنیز فاطمہ کے بقول خواتین زندگی کے ہر مرحلے مثلاً بلوغت ، حمل،زچگی اورسن یاس (menopause)کی وجہ سے خون کی کمی کا شکار ہوتی ہیں۔اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ بلوغت میں قدم رکھنے والی بچیوں میں ایام کی بے قاعدگی یاان ایام کے دوران زیادہ مقدار میں خون ضائع ہوجاتا ہے:

”بچیاں شرم کی وجہ سے ماﺅں کو کچھ نہیں بتاتیں۔ ایسے میں ان کی ماﺅں کو دیکھنا چاہئے کہ ان کی لڑکیاں زیادہ دن پیڈز تو استعمال نہیں کررہیں‘انہیں رات وقت پیڈ تبدیل کرنے کی ضرورت تو نہیں پڑتی یا پیڈ لگانے کے باوجود ان کے زیرجامہ پر نشان تو نہیں پڑجاتے ۔ اگر ان میں سے کوئی ایک بات بھی درست ہو تو انہیں چاہئے کہ بچیوں کو ڈاکٹر کے پاس لے جائیں ۔دیکھا گیا ہے کہ وہ بالعموم ایسا نہیں کرتیں اورنتیجتاً بچیاں بتدریج خون کی کمی کی شکار ہوجاتی ہیں ۔“

انیمیا کی وجوہات
ٍ     ڈاکٹر ایاز کے مطابق خون کی کمی کی بہت سی بہت سی وجوہات ہیںجن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:

خون کا نہ بننا
خون‘ ہڈیوں کے گودے(بون میرو) میں بنتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے اس کے بیج(stem cells) ختم ہوجائیں تو اس میں خون بننا بند ہوجاتا ہے۔ خون کی کچھ بیماریوں مثلاً اے پلاسٹک انیمیا (aplastic anemia) میں گودا سرطان زدہ خلیوں سے بھر جاتا ہے جس کی وجہ سے اس میںصحت مند خلئے نشوونما نہیں پاسکتے ۔ اس کی مثال ہڑتالی مزدوروں یا ملازمین کی سی ہے جو فیکٹری میں گھس کر نہ خود کام کرتے ہیں اور نہ دوسروں کو کرنے دیتے ہیں۔

خون کی بیماریاں
بعض اوقات خون بنتا توہے اور کئی بارضرورت سے زیادہ بھی بنتا ہے لیکن کسی نہ کسی وجہ سے خون کے خلئے ٹوٹتے رہتے ہیں۔ سکل سیل انیمیا(sickle cell anaemia) اور تھیلیسیمیا میں ایسا ہی ہوتا ہے ۔”سکل سیل انیمیا “میں خون کے خلئے دارنتی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جبکہ تھلیسیمیا میں خون کے خلئے بنتے ہی ابنارمل ہیں۔ایسے میںصحت مند خلیوں کی عمر 120دن ہوتی ہے لیکن وہ بھی 50سے60دن میں ٹوٹ کر ختم ہوجاتے ہیں۔اس وجہ سے ہونے والے انیمیا کو خون کے خلئے ٹوٹنے کا انیمیا کہا جاتا ہے ۔ ایک اور انیمیا آٹو امیون ہیمالیٹک (auto immune hemolitic) بھی ہے جس میں خلئے خود بخود ٹوٹ کر ختم ہوجاتے ہیں۔

غذا ئی قلت
متوازن غذا استعمال نہ کرنے والے افراد میں جسم کو درکار بہت سے ضروری عناصر کی کمی واقع ہوجاتی ہے۔ ان عناصر میں آئرن‘ وٹامن بی 12اور فولیٹ قابل ذکر ہیں۔

مرض کی علامات
ڈاکٹر کنیز فاطمہ کا کہنا ہے کہ خون کی کمی کی علامات اس کی وجوہات پر منحصر ہیں۔ عام طور پرانیمیا کی علامات میں تھکاوٹ ، کمزوری ، چہرے یاجلد کا پیلا پڑ جانا،سانس لینے میں دقت ہونا،چکر آنا، ہاتھ اور پاو¿ں ٹھنڈے پڑنا، بھوک کا نہ لگنا اور قبض کی شکایت ہوناہیں۔ کچھ خواتین کے ایام بند ہوجاتے ہیں اور کچھ کے ایام میں اضافہ ہو جاتاہے ۔
شروع شروع میں انیمیا کی علامات اتنی ہلکی نوعیت کی ہوتی ہیں کہ انہیں پہچاننا مشکل ہوتا ہے‘ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ ان میں شدت آنے لگتی ہے۔ اگر ایک عرصے تک بنا کسی جسمانی مشقت کے تھکاوٹ محسوس ہو تو کسی معالج سے ضرور مشورہ کرنا چاہئے۔

تشخیصی ٹیسٹ
ڈاکٹر ایاز کے مطابق اس بیماری کی تشخیص ایک عام خون کے ٹیسٹ سی بی سی(Complete Blood Count) کی مدد سے ہوجاتی ہے۔ڈاکٹر کنیز کا کہنا ہے کہ صحت مند خواتین سال میں کم از کم ایک بار آئرن کا ٹیسٹ لازماً کروائیں ۔ اگر خون میں آئرن کی کمی سامنے آئے تو تین ماہ بعد دوبارہ ٹیسٹ کروانا چاہئے۔ اس کے برعکس حاملہ خواتین کا یہ ٹیسٹ حمل کے دوران تین بار‘ یعنی پہلا حمل کی ابتدا میں ،دوسرا 20ہفتے بعد اور تیسرا زچگی سے پہلے کرایا جاتا ہے۔
علاج کی صورتیں

علاج بالغذا
شفا انٹرنیشنل اسلام آباد کی ماہر غذائیات زینب بی بی کا کہنا ہے کہ خون کی کمی سے محفوظ رہنے یا یہ کمی ہوجانے پر اسے پورا کرنے کے لئے ایسی غذائیں کھائیں جو آئرن،وٹامن بی 12اور فولیٹ سے بھرپور ہوں۔ ان غذاﺅں میںگوشت،کلیجی، پالک،خوبانی، کیلا اور چقندر قابل ذکر ہیں۔ اس کے برعکس فولیٹ ہرے پتوں والی سبزیوں اور گری دار میوہ جات میں پایا جاتا ہے۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ جب آئرن کھائیں تو اس کے ساتھ وٹامن سی کی حامل کوئی چیز مثلا ً سیب ،مالٹا،کینو،لیموںوغیرہ بھی کھائیں کیونکہ یہ جسم میں آئرن کو بہتر طور پر جذب کرنے میں مدد دےں گے ۔ مزید برآں آئرن سے بھرپور غذا کھاتے وقت کیلشیم کی حامل غذائیں (مثلاً دودھ،چائے اورکافی )سے پرہیز کریں کیونکہ یہ آئرن کو جذب نہیں ہونے دیتیں لہٰذا آئرن ضائع ہوجاتا ہے۔خواتین میںسن یاس کے بعد خون ضائع ہونے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں لیکن آئرن کی حامل غذا نہ لینے کے باعث ان میں بھی خون کی کمی واقع ہوجاتی ہے۔ایسے میں انہیں چاہئے کہ آئرن کی گولیوں کے ساتھ مقوی فولاد (iron fortified)اشیاءبھی استعمال کریں۔

علاج بالدّوا
ڈاکٹر کنیزفاطمہ کاکہناہے کہ حمل ٹھہرنے سے تین ماہ پہلے ہی فولک ایسڈ کا استعمال شروع کردینا چاہئے۔ انیمیا کی شکار خواتین کو عموماً ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ شادی سے پہلے ہی فولک ایسڈ لینا شروع کردےں تاکہ حمل ٹھہرنے سے پہلے اس کا کورس مکمل ہوجائے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا ہو توشادی کے بعد یہ لازماً شروع کر دیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں حمل ٹھہرنے کے 12ویں ہفتے سے لے کر زچگی کے بعد تین ماہ تک حاملہ کو اضافی فولاد کی خوراک ضرور دیں۔اس کے ساتھ ساتھ انہیں آئرن کی حامل غذائیں بھی کھلائےں ۔
ڈاکٹر ایاز کا کہنا ہے کہ خون کی بیماریوں میں انیمیا ایک علامت کے طور پر ظاہر ہوتا ہے لہٰذا مریض کو ایسے ماہر امراض خون سے رجوع کرنا چاہئے جو اسے خون کی کمی کی اصل وجہ بتائے۔ اس کے بغیر مسئلہ حل نہیں ہوگا:
” انسانی جسم کو اگر بالٹی سمجھ لیا جائے تو جب تک اس کے پیندے کے سوراخ کو بند نہ کیا جائے تب تک مریض کی اصل شکایت دور نہیں ہوگی ۔“
ڈاکٹر کنیز فاطمہ کا کہنا ہے کہ خواتین میں خون کی کمی کا علاج اس کی وجوہات پر منحصر ہے۔اگر اس کی شدت زیادہ نہ ہو اور ایسا محض آئرن کی کمی کی وجہ سے ہو تو اس کا علاج خوراک اور آئرن کی گولیوں سے ہی کیا جاتا ہے۔ اگر زچگی کے دوران خون ضائع ہوجائے تو خون یا آئرن کے ٹیکے لگا کر اس مقدار کو بحال کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر کنیزفاطمہ کے مطابق کئی ممالک میںشادی کے وقت بچیوں کا سی بی سی (Complete Blood Count) ٹیسٹ کرانا ضروری قرار دیا گیا ہے۔پاکستان میں بھی اسے نکاح سے پہلے لازمی قرار دینا چاہئے‘ اس لئے کہ انیمیا کی کچھ اقسام(مثلاً تھیلیسیمیا‘سکل سیل انیمیا اوراے پلاسٹک انیمیا ) والدین سے بچوں میں منتقل ہوجاتی ہیں۔ اس ٹیسٹ کی مدد سے بہت سی جینیاتی بیماریوں کی تشخیص اور علاج بھی ممکن ہو سکے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ حمل میں کم سے کم دو سال کا وقفہ لازماًرکھنا چاہئے اور مثالی صورت میں یہ چار سال کا ہونا چاہئے تاکہ حاملہ خاتون پچھلے حمل کے دوران استعمال شدہ آئرن کی کمی پوری کر لے۔

نپولین ایک مشہور فاتح ہو گزرا ہے ۔اس کا مشہور قول ہے کہ ’تم مجھے اچھی مائیں دو ‘میں تمہیں اچھی قوم دوں گا۔‘صحت مند قوم ‘ باشعور، صحت مند اورتوانا ماﺅں کے بغیر ناممکن ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس نے اپنی حقانیت ہر دور میں منوائی ہے۔اگر ہم صحت مند قوم بننا چاہتے ہیں تو ہمیں کل کی ماﺅں کی صحت پر آج توجہ دینا ہوگی۔ خون کی کمی ان کی صحت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے جس پر قابو پانے کے لئے اس موضوع پر شعور اجاگر کرنے‘ متوازن غذا اور جسمانی ورزش کے رجحان کو پروان چڑھانے‘خون کی بیماریوں سے بچنے اور اگروہ ہوجائیں تو ان کی بروقت تشخیص اور علاج کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

Three-year-old Ahmad, child of a poor family hailing from Rahim Yar Khan, was in constant pain. He h

“Blood connects us all” is the theme for this year's World Blood Donor Day, being observed on 14

Blood

    اگر انسانی جسم کو ایک گاڑی تصور کر لیا جائے تو خون ا