بلیک فنگس

3

بلیک فنگس

شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد کے میڈیکل سپیشلسٹ ڈاکٹر واجد یار خان سے گفتگو کی روشنی میں اقصٰی نعیم کی معلوماتی تحریر

اردو کی ایک ضرب المثل ہے کہ مصیبت کبھی تنہا نہیں آتی، یعنی اس کے جلو میں کچھ اورمصیبتیں بھی بن بلائے مہمان کی طرح چلی آتی ہیں۔ لوگ ابھی کورونا کے خوف سے باہر نہیں آئے تھے کہ مئی 2021ء کے آخری ایام میں ایک اورخبر نے ملک کے طول و عرض میں تشویش کی لہر دوڑا دی۔ خبر کے مطابق کورونا سے شدید متاثرہ افراد میں ایک اور انفیکشن ظاہر ہورہا ہے۔ یہ سائی نس یعنی ناک کے اندرونی حصے میں خالی جگہ کے علاوہ دماغ، پھیپھڑوں اورجلدکو بھی متاثر کرتا ہے۔

یہ انفیکشن کیا ہے

یہ انفیکشن میوکرمائیکوسس ہے جسے بلیک فنگس یعنی کالی پھپھوندی بھی کہتے ہیں۔ شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد کے میڈیکل سپیشلسٹ ڈاکٹر واجد یار خان کا کہنا ہے کہ یہ ایک کم یاب مگر خطرناک انفیکشن ہے۔ اس فنگس سے متاثرہ افراد میں  شرح اموات 50 فی صدہے۔بھارت میں اس جان لیوا انفیکشن کے 9000 کیسز سامنے آ چکے ہیں۔

 یہ فنگس زیادہ تر گرم مرطوب علاقوں میں پایا جاتا ہے اور باسی روٹی ، سبزیوں اور پھلوں پربھی موجود ہوسکتا ہے۔ یہ ہواکے ذریعےناک میں داخل ہو کر سائی نس میں جمع ہوتا ہے، پھرآنکھوں اور دماغ کو نقصان پہنچاتاہے۔ یہ ان افراد کے لئے زیادہ خطرناک ہے جن کابیماریوں کے خلاف مدافعتی نظام کمزور ہو۔ کینسر اورذیابیطس ( وہ مریض جن کی شوگر بے قابو ہو) کے علاوہ سٹیرائیڈز کا بے جا استعمال بھی اس کمزوری کا سبب بنتا ہے۔

کووڈ19 میں اس انفیکشن کے ظاہر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جو مریض انتہائی نگہداشت یونٹ میں یاوینٹی لیٹر پر ہوتے ہیں انہیں سٹیرائیڈز اور ایسی ادویات دی جارہی ہوتی ہیں جو مدافعتی نظام کو کمزورکرتی ہیں ۔ اس کے ساتھ اگر وہ ذیابیطس کے بھی شکا رہوں تو ان کے بچنے کے امکانات مزید کم ہو جاتے ہیں۔ انڈیا میں اس کے تیزی سےپھیلنے کا سبب وہاں ذیابیطس کے مریضوں کی تعدادکا زیادہ اورکورونا کا بے قابو ہونا ہے۔ اس کےبرعکس پاکستان میں کورونا کی صورتحال قابو میں ہے لہٰذا یہاں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد زیادہ ہونے کے باوجود بھی بلیک فنگس کے کیسز کم ہیں۔ اگر ہمیں اسے کنٹرول کرناہے تو کورونا وبا کو کنٹرول کرنا ہوگا۔

علامات

بلیک فنگس کی علامات عموماًسر درد سے شروع ہوتی ہیں، پھر ناک سے خون بہتا ہے اور انتہائی صورتوں میں بینائی ختم ہو جاتی ہے۔ دیگر علامات میں جسم کے اوپری حصے یعنی چہرے، گردن، منہ کے اندر، ناک اور آنکھوں پر کالے دھبوں کا ظاہر ہونا،آنکھوں میں سوزش اوردھندلا پن، آنکھوں کی پتلی کا گرنا،ناک بند ہونا، کھانا نگلنے میں مشکل محسوس ہونا، متلی اور قے، جسم میں بخار، درد اور کھچاؤ کی کیفیت محسوس ہو نا شامل ہیں۔

مذکورہ بالا معلومات فراہم کرنے کا مقصد خوف پھیلانا نہیں بلکہ آگاہ کرنا ہے کہ کورونا کی روک تھام کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں اوراس کی ویکسین ضرور لگوائیں ۔ اگر بلیک فنگس کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر یہ شدت اختیار کر جائے تو فرد کی زندگی بچانے کے لئے متاثرہ حصے کو سرجری کے ذریعے الگ کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ علاج کی مدت کا انحصار مرض کی شدت پر ہے جو بالعموم چھ سےآٹھ ہفتوں پرمحیط ہوتی ہے۔ اس دوران مریض کو مکمل نگہداشت میں رکھا جاتا ہے۔

احتیاط

کووڈ کے مریض خودعلاجی سے بچیں اورسٹیرائیڈز کےغیرضروری استعمال سے بالخصوص اجتناب کریں۔ یہ صرف ان ہی مریضوں کو ضرورت ہوتے ہیں جن کی آکسیجن کی سطح 93 سے کم ہو۔ ذیابیطس کے مریض شوگر کو قابو میں رکھیں جبکہ دیگر افراد مدافعتی نظام کو دبانے والی ادویات کے استعمال میں احتیاط سے کام لیں ۔

Mucormycosis, sinus, black fungus, corona patients

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x