آٹزم کو جانئے

194

اگر بچے ہنسنے بولنے اورجلدی گھل مل جانے والے ہوں تو انہیں ملنسار ،خوش اخلاق اور ہنس مکھ سمجھا اور پسند کیا جاتا ہے۔ تاہم بعض اوقات ہمارا سامنا کچھ ایسے بچوں سے بھی ہوتا ہے جوخود میں مگن،چپ چپ اور کھوئے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔اس کا ایک سبب آٹزم کی بیماری ہوتا ہے ۔اس مرض کے بارے میں تفصیلات بتا رہی ہیں شفا انٹرنیشنل ہسپتال کی آٹزم سپیشلسٹ حلیمہ سعدیہ اپنی اس تحریر میں
(Autism Spectrum Disorder)
قدرت نے انسان میں مختلف ذہنی صلاحیتیں رکھی ہیں جن کو بروئے کار لاکر وہ ایک وقت میں بہت سے کام( مثلاً ٹی وی دیکھنے کے ساتھ کھانا پکانا،کتاب یا اخبار بینی،فون کال سننا وغیرہ )سر انجام دے سکتا ہے۔تاہم ایک خاص بیماری کے شکار بچے اس صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں۔وہ ایک وقت میں ایک ہی کام اور وہ بھی بمشکل کر سکتے ہیں اور بعض اوقات اسے بھی مکمل طور پر سر انجام نہیں دے پاتے۔ اسے آٹزم یااے ایس ڈی کہا جاتا ہے ۔
آٹزم ان بیماریوں میں سے ایک ہے جن کا تعلق دماغ کی نشوونما سے ہے ۔اس بیماری میں دماغ میں کچھ ایسی تبدیلیاں آتی ہیں جن کا اثراس کے ان حصوںپر پڑتا ہے جو سماجی تعلقات اور رابطے کی صلاحیت سے تعلق رکھتے ہیں۔

آٹزم کی علامات
ایسے بچوں میں عموماً نظروں کا نہ ملانا،رابطے کی صلاحیت کے فقدان اور کسی کام کو بار بار دہرانا جیسی علامات دیکھنے میں آتی ہیں ۔ اس کا شکار بچہ دیکھ اور سن تو رہا ہوتا ہے لیکن اس کو سمجھنے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔بچے کے منحرف رویوں کا انحصار بیماری کی شدت پر ہوتا ہے ۔بعض اوقات ایسے بچے لفظوں کی ادائیگی میں دقت محسوس کرتے ہیں جبکہ کچھ بچوں کے پاس ذخیرہ الفاظ یونیورسٹی کے پروفیسر کی طرح بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی دیگر علامات درج ذیل ہیں:
٭ماحول میں دلچسپی نہ لینااور اردگرد کی چیزوں پر توجہ نہ دینا۔
٭چھ ماہ یا اس کے بعدتک بچوں میںمسکراہٹ اورجذبات کا اظہارنہ کرنا۔
٭آوازوں، خیالات اور چہرے کے تاثرات کا اظہار نو ماہ تک نہ کرنا۔
٭12ماہ تک بچے کا سنے ہوئے الفاظ اور آوازوں کا نہ دہراپانا۔
٭ ایک سال کی عمر میں اشارہ کرنا،ہاتھ ہلانااور چیزوں کو پکڑنا شروع نہ کرنا۔
٭16ماہ کی عمر تک کوئی ایک لفظ بھی ادا نہ کرپانا۔
٭24ماہ کی عمر تک دو لفظ ملا کر ادا نہ کرپانا۔
٭عموماً دو سال کی عمر میں بچے جملے ادا کرنا یا سنی ہوئی بات دہرانا سیکھ لیتے ہیں۔ اگر کوئی بچہ ایسا نہیں کر رہا تو یہ خطرے کی علامت ہے۔
٭عمر کے ابتدائی حصے میںزباندانی کی صلاحیت کاکم ہونا۔
اگرآپ بچے میں مندرجہ بالاعلامات دیکھ رہے ہیں تو آپ کو جلد از جلد ماہر امراض بچگان سے رجوع کرنا چاہئے تاکہ معلوم ہو سکے کہ آپ کا بچہ کہیں آٹزم کا شکار تو نہیں

آٹزم کی وجوہات
یہ ایک موروثی بیماری ہے لیکن ابھی تک حتمی طور پر یہ پتا نہیں چل سکا کہ ایسا کس وجہ سے ہوتاہے۔ والدین کی بہت سی بیماریاں مثلاً کینسر،ذیابیطس اورامراض قلب بھی اس کا سبب ہو سکتی ہیں۔ اس کی دوسری بڑی وجہ دماغی اعصاب میں خرابی ہے۔ ابھی تک یہ علم نہیں ہوسکا کہ دماغ کے کس حصے کی ساخت یااس کی خرابی اس کا سبب بنتی ہے۔عام طور پر لڑکے‘ لڑکیوں کی نسبت آٹزم کازیادہ شکار ہوتے ہیں۔

مرض کا علاج
آٹزم کے حامل بچوں کی زندگی کے ابتدائی مہینوں یعنی تین سال تک اس مرض کی تشخیص واضح طور پر نہیں ہو سکتی‘ اس لئے کہ اس کی علامات تقریباًچھ سال کی عمر میں ظاہر ہوتی ہیں۔بچے کی حالت،عمر اور مرض کی شدت کو دیکھ کر مندرجہ ذیل طریقوں سے اس کا علاج کیا جاتا ہے :
٭اگر بچے میں ملنے جلنے یا رویے کے مسائل ہوں تو رویوں کے علاج  سے متعلق ڈاکٹراس کا علاج کرتے ہیں۔
٭سپیچ تھیراپسٹ انہیںبولنا سکھاتے ہیں۔
٭آکوپیشنل تھیراپسٹ (occupational therapist) اس کے ہاتھوں سے انجام پانے والے روزمرہ کے کاموں (مثلاً بٹن بند کرنا‘ قلم پکڑنا اور جوتے کے تسمے بند کرنا وغیرہ) کو انجام دینے کی صلاحیتوں میں اضافے کی کوششیں کرتے ہےں ۔
٭ مزاج میں بہتری لانے کے لئے اس کے طور اطوار کا جائزہ لیا جاتا ہے ۔
٭ مختلف سیشنز میں انہیں اپنی کمزوریوں پر قابو پانے کے طریقے سکھائے جاتے ہیں۔
٭بچے اور والدین‘ دونوں کی کونسلنگ یا ٹریننگ کی جاتی ہے۔اس میں والدین کو سکھایا جاتا ہے کہ گھر میں بچے کو بہتر ماحول کیسے دیا جائے۔
یہ بات ثابت شدہ ہے کہ جتنا جلدی بچوں کے مرض کی تشخیص اور علاج کروایا جائے‘ اتنے ہی بہتر اور دیر پا نتائج دیکھنے کو ملتے ہیں۔

پرورش کے لیے تجاویز
جب والدین کو علم ہوتا ہے کہ ان کا بچہ آٹزم کا شکارہے تو ان میں سے بعض ہمت ہار جاتے ہیں۔ غمزدگی کے عالم میں وہ اپنے آپ ‘ رشتہ داروں اور قسمت کو کوسنے لگتے ہیں۔اس کی بجائے حقیقت کا ہمت سے سامنا کرنا چاہئے اور وہ معلومات حاصل کرنی چاہئیں جن کی مدد سے پرورش میں آسانی ہو سکے ۔اے پی ایس کے مطابق مندرجہ ذیل باتوں پر عمل ان کے کاموں کو آسان کر سکتا ہے :
٭والدین اپنے بچے کے بارے میں ڈاکٹر سمیت کسی بھی فرد سے زیادہ بہتر جانتے ہیں‘اس لیے بچے کی ان سے بہتر دیکھ بھال کوئی نہیں کر سکتا۔لہٰذا انہیں گھبرانا نہیں چاہئے۔
٭ بچوں میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے والدین انہیں زیادہ سے زیادہ خوش رکھنے کی کوشش کریں۔
٭بچے کے ساتھ محبت اور گرم جوشی کا رویہ رکھیں۔
٭سماجی تقریبات میں بچے کو ساتھ لے کر جائیںاوراسے خاندان، دوستوں اور ملنے جلے والوں سے متعارف کرائیں۔
٭ان کے ساتھ عام بچوں ہی کی طرح کا سلوک کریں۔ جب وہ سکول جانے کی عمر کو پہنچےں تو انہیں قریبی خصوصی سکول میںیاایسے عام سکول میں داخل کرائیں جہاں ان بچوں کی خصوصی ضرورت کا خیال رکھا جاتا ہو ۔
٭تعلیم کے عمل میں ان کی خصوصی ضروریات کو مدِ نظر رکھا جائے ۔
٭والدین کو چاہیے کہ سکول انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں رہیں تاکہ بچے کے ہر مثبت اور منفی پہلو پر بات ہو سکے۔
المختصر،ایسے بچوں کو زندگی گزارنے کے لیے روزمرہ کے کام سکھانا، انہیں نت نئے تجربات کروانا، زندگی کی دوڑمیں دوسرے بچوں کے ساتھ شریک کرنا، انہیں چھوٹی چھوٹی خوشیاں دینا،ہمت بندھانا اور حوصلہ افزائی کرنا والدین کا فرض ہے ۔ایسے بچوں کو بوجھ سمجھنے کی بجائے اپنی ذمہ داری خیال کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔ انہیں یہ ذمہ داری اور نیکی خوشدلی سے ادا کرنی چاہئے۔