کچھ بچے‘ ذرا ہٹ کے

کچھ بچے‘ ذرا ہٹ کے

ایک محاورہ ہم اکثرسنتے ہیں کہ کسی کا سرخ و سفید چہرہ دیکھ کر اپنا چہرہ لال نہیں کرلینا چاہئے۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ ہر شخص کی اپنی خوبیاں اورخامیاں ہوتی ہیں لہٰذا ہروقت دوسروں سے موازنہ کرتے رہنا درست نہیں۔ ہمیں اپنی خوبیوں کو تلاش کرنے‘ انہیں نکھارنے اوران کی بنیاد پرزندگی میں آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اس کے برعکس ہم بڑی غلطی یہ کرتے ہیں کہ اپنا یا اپنے بچوں کا موازنہ دوسروں سے کرتے ہیں اورپھراسی کی روشنی میں اپنی یا ان کی صلاحیتوں‘ خوبیوں‘ کامیابیوں اورناکامیوں کو دیکھتے ہیں۔ حالانکہ ہرشخص دوسرے سے مختلف اورمکمل شخصیت کا حامل ہوتا ہے۔

اگر نشوونما کے مراحل پربات کی جائے تو بظاہر ہم سب تقریباً ایک ہی عمرمیں بولتے ‘ چلنا شروع کرتے اورسماجی تعلق قائم کرتے ہیں۔ تاہم کچھ بچے اس پیٹرن سے ذراہٹ کرچلتے ہیں۔ یہ اے ایس ڈی یعنی آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈرکے شکاربچے ہیں۔

مرض کی تفصیل

یہ ان بیماریوں میں سے ایک ہے جن کا تعلق دماغ کی نشوونما سے ہے۔ اس مرض کی صورت میں دماغ میں کچھ ایسی تبدیلیاں آتی ہیں جن کا اثراس کے ان حصوں پر پڑتا ہے جو سماجی تعلقات اوررابطوں کی صلاحیت سے وابستہ ہوتے ہیں۔ ان حصوں کے متاثرہونے سے ایسے افراد کو دوسروں سے رابطے میں مشکل کا سامنا ہوتا ہے ۔ یہ مرض آٹھ ماہ سے تین سال کی عمرمیں ظاہر ہوتا ہے۔ ایسے بچوں کو والدین، رشتہ داروں اوردوستوں کی طرف سے زیادہ تعاون اورحوصلہ افزائی درکار ہوتی ہے۔

آٹزم کنسلٹنٹ گوپیکا کپور لوگوں کی نظر میں ایک خوبصورت‘ ذہین اورقابل خاتون ہیں۔ وہ ایک کامیاب بزنس مین کی کامیاب بیوی ‘کامیاب جیولری ڈیزائنراوراپنے وجود میں خود ایک ستارہ ہیں۔ تاہم ان کی زندگی میں ایک گوشہ ایسا ہے جسے بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ ان کے تین بچوں میں سے پہلے دو بالکل نارمل جبکہ تیسرابیٹا آٹزم کا شکارہے۔

والدین کو اس بات کا علم اس کی پیدائش کے پانچ سال بعد اس وقت ہوا جب سکول کی ٹیچر نے ان کی توجہ اس جانب دلائی۔ انہیں ہلکا سا شک تو تھا کہ ان کا یہ بچہ ذرا مختلف ہے لیکن انہوں نے اسے نظرانداز کیا۔ شروع میں ان کے لئے اس بات کو ہضم کرنا بہت دشوار تھا مگرپھر انہوں نے مان لیا کہ وہ مختلف ہے۔

اپنی کتاب Beyond the Blue: Love, Life and Autism میں اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں

اس کی پیدائش سے قبل اوربعد کی زندگی بالکل مختلف ہے۔ اس نے نہ صرف مجھے بلکہ میری پوری فیملی کو بدل دیا۔ اس سے میرا زندگی کو دیکھنے اوراسے سمجھنے کا زاویہ ہی تبدیل ہو گیا۔ میرے  12 سالہ بیٹے نے My love language کے عنوان سے ایک نظم بھی لکھی ہے۔ آپ بھی پڑھیں اورمحظوظ ہوں

I Can’t tell you, I am hurt
But, I Can cry
I Can’t tell you, I am sorry
But, I Can hug
I Can’t tell you, I love you
But I Can kiss

مرض کی علامات

آٹزم اصل میں ذہنی‘ جذباتی اوررویوں میں بے ترتیبی کا عمل ہے جوبچے کی نشوونما‘ سماجی رویوں اورکھیلنے کی مہارتوں کو شدید متاثرکرتا ہے۔ اس کے شکار بہت سے بچوں میں نشوونما کی سطح پر‘ خصوصاً سماجی اورلسانی لحاظ سے علامات میں خاصا اختلاف پایا جاتا ہے ‘حتیٰ کہ آٹزم کے شکاردو بچوں کی علامات میں بھی فرق ہوسکتا ہے۔لاہورکی سائیکالوجسٹ ڈاکٹرماہین رضوی کہتی ہیں کہ عموماً ایسے بچے بصری رابطہ کرنے یعنی نظریں ملانے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ان بچوں میں یہ علامات پائی جا سکتی ہیں

٭ننھے بچے والدین کی طرف سے مسکراہٹ ‘ غصے‘ ناراضگی یا پیاربھرے جذبات کے اظہار کے ردعمل میں بے حس رہتے ہیں۔

٭جس چیز کی طرف اشارہ کیاجائے‘وہ اس کی طرف نہیں دیکھتے۔

٭ان کے چہرے بالعموم بے تاثر یعنی سپاٹ رہتے ہیں۔

٭وہ دیر سے بولتے ہیں۔ عموماً15ماہ کی عمر تک بالکل نہیں بولتے یا پھردوسال کی عمرتک بمشکل ایک یا دوجملے بولتے ہیں۔ بعض اوقات وہ صحیح طرح سے نہیں بول پاتے۔

٭انہیں دیگر بچوں کے ساتھ دوستی کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔

٭اگر کسی ایک کھلونے سے کھیل رہے ہوں تو کئی کئی دن اسی (ایک کھلونے )سے کھیلتے رہتے ہیں۔

٭وہ طوطے کی طرح دوسروں کے کہے گئے الفاظ دہراتے ہیں۔

٭لوگوں سے بات چیت کرنے میں دلچسپی نہیں لیتے ۔

٭روشنی اورآوازوں کے معاملے میں حساس ہوتے ہیں۔

٭زندگی میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں سے اُداس ہوجاتے ہیں۔

٭لڑکیوں کی نسبت لڑکوں میں اس کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔

٭ان کو ہرچیز میں مماثلت پسند ہوتی ہے۔ یعنی کھانا ایک ہی جیسا‘ ایک ہی پلیٹ میں اور ایک ہی وقت پرکھانا ہے۔ اگر یہ روٹین تبدیل ہوجائے تو وہ چڑچڑے ہو جاتے ہیں اورغصہ کرتے ہیں۔

میوہسپتال لاہور کے ماہر نفسیات ڈاکٹرعمران اشرف کے مطابق

اگرآٹزم کا شکار بچہ بہت زیادہ سکرین ٹائم یعنی موبائل یا کمپیوٹراستعمال کررہا ہو توعلامتیں شدید ہوجاتی ہیں۔ ان آلات کے استعمال کی وجہ سے ان کا سماجی رابطہ کمزورہوجاتا ہے اورپھروہ والدین اوربہن بھائیوں کی بات کی طرف توجہ ہی نہیں دیتا۔ چند دن قبل میری ایک سہیلی نے بتایا کہ ان کی ساس واش بیسن پر وضو کرتے ہوئے گر گئیں۔ ان کی پوتی کو آٹزم کا مسئلہ ہے۔ وہ پاس ہی تھی اورموبائل میں مگن تھی جس نے آنکھ اٹھا کربھی ان کی طرف نہ دیکھا۔ جب دادی نے اس سے کہا کہ میں نے تمہیں بلایا تھا اورتم نے سنا نہیں؟ اس پر وہ بولی کہ میں نے سن لیا تھا کہ آپ گرگئی ہیں۔

اگر رشتوں‘ چیزوں اورجسمانی سرگرمیوں اوربچے کے درمیان کوئی دیوارآجائے‘ چاہے وہ سکرین ہی کیوں نہ ہو تووہ بچے کے ذہن میں مبہم اورمدہم ہوجاتی ہیں۔ اس لئے انہیں گھروالوں سے وابستہ کریں کیونکہ انہیں سمجھ ہی نہیں آتا کہ ان کے ساتھ ہوکیا رہا ہے۔

وجوہات‘ علاج

ڈاکٹرعمران اشرف کا کہنا ہے کہ آٹزم کی مخصوص اورمتعین وجوہات نہیں تاہم اس کا تعلق پیدائش سے قبل اورزندگی کے ابتدائی سالوں میں دماغ کی نشوونما سے ہے۔ اس کا تعلق موروثیت کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔ دوران حمل نشہ آوراشیاء کا استعمال اوردوران زچگی کوئی مسئلہ بھی اس کا سبب بن سکتا ہوجائے۔ اگر بچے کا پہلا رونا وقت پرنہ ہوتو بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ اس مرض کی تشخیص ایک پیچیدہ عمل ہے جس میں کم و بیش تین سال لگ جاتے ہیں۔

آٹزم کا کوئی خاص علاج نہیں تاہم اس کے شکار بچوں کو ایک مؤثر پروگرام کے ذریعے بہت حد تک نارمل سے قریب تر زندگی گزارنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔اس میں مختلف طرح کی تھیراپیزاورغذائی تبدیلیاں شامل ہوتی ہیں۔

علاج سے قبل ایک اہم مرحلہ قبولیت کاہے۔ والدین اس حقیقت کو قبول ہی نہیں کرتے کہ ان کا بچہ آٹزم کا شکار ہے۔ ایسا کرنا بالکل اس طرح ہے کہ جیسے گھر کی ساری دھول مٹی کسی بڑ ے قالین کے نیچے چھپا کرسمجھ لیاجائے کہ گھر صاف ہوگیاہے۔ اگر آپ کے گھرمیں آٹزم کا شکار کوئی بچہ ہے تو اسے نہ تو عذاب سمجھیں ‘نہ خود ترسی کا شکار ہوں اورنہ ہی اسے حالات کے رحم و کرم پر چھوڑیں۔ اسے آزمائش سمجھ کرحکمت اوراستقامت سے اس کا سامنا کریں۔ مشہور سائنسدان نیوٹن اورآئن اسٹائن اورموسیقار موزارٹ کے نام کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کا بچہ بھی کل کوئی عظیم انسان بن جائے۔

autism, symptoms of autism, autism kya hai, autism ki beemari kyun hoti hai

Vinkmag ad

Read Previous

رمضان میں منہ کی صحت کا خیال کیسے رکھیں؟

Read Next

گلوٹن فری پیٹیز

Leave a Reply

Most Popular