آٹزم… خاص بچوں کا خاص خیال

340

آپ کی نظر سے ایسے بچے کبھی نہ کبھی ضرور گزرے ہوں گے جو دیکھنے میں بہت ہی پیارے ہوتے ہیںلیکن وہ آپ کے ساتھ نظریں نہیں ملاتے ،بات کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں اوراپنی ہی دنیا میں مگن رہتے ہیں۔ وہ کبھی خود سے باتیں کرتے ہیں اور کبھی آپ کی ہی بات کو دہراتے ہیں۔یہ علامات کسی اور مسئلے کی بھی ہو سکتی ہیں لیکن بالعموم ان کا تعلق آٹزم سے ہوتا ہے ۔ان کی دیکھ بھا ل اور تعلیم وتربیت دوسرے عام بچوں کی نسبت تھوڑی مختلف ہوتی ہے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سپیشل ایجوکیشن کی ڈائریکٹر نعیمہ بشریٰ سے گفتگو کی روشنی میں میں ثنا ظفر کی ایک معلوماتی تحریر


آٹزم (Autism)کی تعریف ایسی کیفیت کے طور پر کی جاتی ہے جس میں متاثرہ شخص اپنی ذات میں گم رہتا ہے‘ حقیقی دنیا سے کٹ جاتا ہے اور خیالات کی دنیا میں کھویا رہتا ہے۔ اس کے شکار بچوں کو چیزوں کو سمجھنے اورانہیں بیان کرنے میں دشواری محسوس ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ ایک وقت میں کئی طرح کے کام کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ ٹی وی دیکھتے ہوئے اخبار پڑھ سکتا ہے،موبائل کے میسجز دیکھ سکتا ہے‘کال سن سکتا ہے اورآس پاس بیٹھے لوگوں سے بات کر سکتا ہے۔ لیکن اس معذوری سے متاثرہ بچے ایک وقت میں ایک ہی کام کرسکتے ہیں اور بعض اوقات وہ بھی ٹھیک طرح سے نہیں کر پاتے۔
یہ معذوری عمر کے ابتدائی سالوں میں ظاہر ہو جاتی ہے۔ دماغ کی کیمسٹری میں کچھ خرابی یا ردوبدل اس کی وجہ گردانی جاتی ہے جس کا اثر دماغ کے ان حصوں پر پڑتا ہے جو رابطے کی صلاحیت اور سماجی تعلقات کے لیے مخصوص ہیں۔ اس وجہ سے بچے کچھ ایسے رویوں یا حرکات کا مظاہرہ کرتے ہیںجو آٹزم کے حامل تمام بچوں میں تقریباً عام ہیں۔ نظریں نہ ملانا، رابطے کی صلاحیت کا نہ ہونایا کسی کام کو بار بار دہراناا س کی کچھ مثالیں ہیں۔ یہ نقص دماغ میں معلومات کی ترسیل پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یعنی بچہ دیکھ اور سن کراس کو سمجھنے میں دشواری محسوس کرتا ہے۔
بعض بچے بات چیت کے دوران ایک لفظ بھی ادا نہیںکر پاتے اور بعض کا ذخیرہ الفاظ یونیورسٹی کے پروفیسر سے بھی زیادہ ہوتاہے۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سپیشل ایجوکیشن کی ڈائریکٹر نعیمہ بشریٰ ملک کہتی ہیں کہ ایک سروے کے مطابق یہاں ڈاکٹر حضرات آٹزم کے بارے میں کم تفصیل سے جانتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں سائیکالوجسٹس، سپیچ تھیراپسٹس ،خصوصی تعلیم کے اساتذہ اور والدین کے پاس اس بارے میں زیادہ معلومات ہوتی ہیں اور وہ بچوں کو زیادہ بہتر انداز میں ڈیل کرتے ہیں۔
بیماری کی علامات
نعیمہ بشریٰ کے بقول پہلے پہل یہ خیال کیاجاتاتھاکہ یہ بچے بالکل نظریں نہیں ملاتے اور رابطے کے ہنر سے بالکل آشنا نہیں ہوتے لیکن اب ایسا نہیں سمجھا جاتا۔ ان میں سے بعض بچے بات چیت بھی کرتے ہیں ،روزمرہ زندگی کے بہت سے کام جن میں ذہنی مہارتیں بھی شامل ہیں، بہت اچھے انداز میں کرسکتے ہیں۔
اے پی ایس(American Psychiatric Association)کے مطابق مندرجہ ذیل علامات اگر بچے کی عمر کے پہلے تین سالوں میں ظاہر ہوں تو کہا جاتا ہے کہ اسے آٹزم ہے:
٭آپس میں تعلقات یعنی سماجی میل جول میں واضح طور پر عام بچوں سے پیچھے ہونا ۔
٭رابطے کی مہارت میں واضح طور پر اپنے ہم عمر بچوں سے کم ہونا۔
٭ماحول میں دلچسپی نہ لینااور اردگرد کی چیزوں پر توجہ نہ دینا۔
اس کے علاوہ ماہرین نے اس کی دیگروجوہات بھی بیان کی ہیں جن میں اکیلے رہنے کو ترجیح دینا،اپنے آپ کو کسی انجانی چیز کے ساتھ منسلک کر کے بے کار کھیل کھیلتے رہنا،خطرے کا احساس نہ کرنا، پورے جسم کو ہلاتے رہنا،کھانے پینے اور سونے میں معمول کا عام رویہ نہ اپنانا،اپنے آپ کو زخمی کرنا یا خود کو دانتوں سے کاٹنا،کبھی کبھی بہت زیادہ غصے میں آجانا،چیزوں کی توڑ پھوڑ شروع کر دینا اور دردیا تکلیف میں کمی یا زیادتی کا بالکل احساس نہ ہونایا بہت زیادہ ہونا وغیرہ شامل ہیں۔
آٹزم کی وجوہات
نعیمہ کہتی ہیں کہ پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ بچے کے ساتھ ماں کا سرد رویہ اس کی بنیادی وجہ ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ اس کے ہونے میں موروثی اور عصبی عوامل شامل ہیں۔ موروثی طور پر بھی یہ پتا نہیں چل سکا کہ کس جین کی وجہ سے ایسا ہوتاہے۔اس کے علاوہ والدین کی بہت سی بیماریاں جن میں کینسر،ذیابیطس اورامراض قلب شامل ہیں‘بھی اس کی وجہ ہو سکتے ہیں۔ عام طور پر لڑکے‘ لڑکیوں کی نسبت آٹزم کازیادہ شکار ہوتے ہیں۔ اس کی دوسری بڑی وجہ دماغی اعصاب میں خرابی ہے۔ ابھی یہ پتا نہیں چل سکا کہ دماغ کے کس حصے کی ساخت یااس کے کس خاص حصے کی خرابی اس کا سبب بنتی ہے۔
ابتدائی تشخص
آٹزم کے حامل بچوں کی زندگی کے ابتدائی مہینوں یعنی دو سال تک اس کی تشخیص واضح طور پر نہیں ہو سکتی اور تقریباًچھے سال کی عمر تک اس کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔اگر بچہ مندرجہ ذیل پانچ عوامل پر پورا نہ اترے تو آٹزم کی تشخیص کیلئے کچھ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے:
٭اگر بچہ 12ماہ کی عمر تک مختلف آوازیں نہ نکالے۔
٭12ماہ کی عمر تک اشارہ،ہاتھ ہلانااور چیزوں کو پکڑنا شروع نہ کرے۔
٭16ماہ کی عمر تک کوئی ایک لفظ بھی ادا نہ کرے۔
٭24ماہ کی عمر تک دو لفظ ملا کر ادا نہ کرے۔
٭عمر کے ابتدائی حصے میںزباندانی یا سماجی تعلقات میں کمی۔
بچوں کی بہتری کے لیے پروگرام
نعیمہ کے مطابق ان بچوں کی بہتری، ان کے علاج،تعلیم اور بحالی کے پروگراموں میںکسی ایک پروگرام کو حتمی اور بہترین نہیں کہا جا سکتاکیونکہ ہر بچہ اپنی ذات میںدوسرے سے منفرد ہوتا ہے۔ اس کی خاص ضروریات کے مطابق اس کی بحالی کا پروگرام ترتیب دیا جاتاہے۔ اس کے لیے جن طریقوں کو استعمال کیا جاتا ہے‘ ان میں سمعی تربیت، وٹامنزسے علاج،زباندانی کی تربیت،موسیقی سے علاج، آکوپیشنل تھیراپی، جسمانی تربیت، روزمرہ زندگی کی مہارتیں،سماجی تربیت، لکھنے پڑھنے کی مہارتیں،رویے کی درستگی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی شامل ہیں۔ والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ ہر بچے کے متعلق خاص مسائل کی نشاندہی کریںاور اس کی روشنی میںاپنی ترجیحات کو دیکھیںکہ کیا چیز بچے کے لیے پہلے ضروری ہے، بچہ کیا کر سکتا ہے اور کیاکرنے کے قابل نہیں ہے۔ اس کی اپنی مرضی کے مطابق پروگرام بنائیںجو اس کے بحالی کے عمل میںسب سے زیادہ مدد دے سکیں۔
والدین کے لیے ہدایات
ایسی صورت حال میں عموماً بہت سے والدین ہمت ہار جاتے ہیں۔ وہ غمزدہ تو ہوتے ہی ہیں‘ اس کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو اور رشتہ داروں کو موردالزام ٹھہرانے لگتے ہیں۔ نعیمہ ان رویوں کے بارے میں کہتی ہیںکہ آٹزم ہونے کی وجہ آپ یا رشتہ دار نہیں ہیں‘ اس لیے اپنے ان احساسات اور خیالات پر قابو پائیں اور اپنے اِن بچوں کی پرورش اس انداز میں کریں جیسے دیگر نارمل بچوں کی کرتے ہیں۔
ان کے بقول والدین اپنے بچے کے بارے میں ڈاکٹر سے زیادہ بہتر جانتے ہیں‘اس لیے وہ اس کی بہت بہتردیکھ بھال کر سکتے ہیں۔ ان میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے والدین بچوں کو زیادہ سے زیادہ خوش رکھ سکتے ہیں۔ بچے کے ساتھ محبت، گرم جوشی،پیاراور محبت کا رویہ رکھیں۔ سماجی تقریبات میں بچے کو ساتھ لے کر جائیںاور بچے کو خاندان، دوستوں اور ملنے جلے والوں سے متعارف کرائیں۔
ان بچوں کے ساتھ عام بچوں ہی کی طرح کا سلوک کریں۔ بچہ جب سکول جانے کی عمر کو پہنچے تو اس کو قریبی خصوصی سکول یاعام سکول جہاں ان بچوں کی ضرورت کا خیال رکھا جاتا ہوداخل کریںاور بچے کا نصاب اساتذہ کے ساتھ ان کی خاص ضرورت کو مدِ نظر رکھ کر بنایا جائے۔ والدین کو چاہیے کہ سکول انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں رہیں تاکہ بچے کے ہر مثبت اور منفی پہلو پر بات ہو سکے۔
ایسے بچوں کو زندگی گزارنے کے لیے روزمرہ کے کام سکھانا، انہیں نت نئے تجربات کروانا، زندگی کی دوڑمیں دوسرے بچوں کے ساتھ مقابلہ کرانا، انہیں چھوٹی چھوٹی خوشیاں دینا، ان کی ہمت بندھانا، ان کی حوصلہ افزائی کرنااورانہیں بوجھ کی بجائے رحمت اور ذمہ داری سمجھنا ضروری اور والدین کے لیے بہت بڑی نیکی ہے۔ انہیں یہ ذمہ داری خوشدلی سے ادا کرنی چاہئے۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of