ایٹمی جنگ کوئی کھیل

210

    ٹیچر ابھی کلاس روم میںداخل ہوکر ٹھیک طرح سے بیٹھے بھی نہ تھے کہ ببلو نے سوال کے لئے ہاتھ کھڑا کیا۔ ”ہاں ببلو! کیا بات ہے ؟“ انہوں نے ایک نظر بچے پر ڈالی اور رجسٹر کھولنے لگے تاکہ حاضری لگائی جا سکے۔
”سر! یہ بتائیے کہ کیاجنگ ہوگی؟“ ببلو نے کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا۔
”ارے! یہ کیسا سوال ہے؟“ انہوں نے آنکھیں پھیلائیں۔

”سر! اخبارات اور ٹی وی پر آج کل یہی کچھ تو چل رہا ہے ۔“ سیمی نے پچھلی نشست سے پکارا۔”ویسے میرے خیال میں تو کچھ ٹھوں ٹھاں ہونی چاہئے؟“ اس کے ساتھ والی سیٹ سے اسد نے آواز لگائی۔
”کیوں؟، آپ کا دل نہیں بھرا ابھی تک۔ پچھلے 10سالوں سے یہاں جنگ ہی تو چل رہی ہے۔ دیکھتے نہیںکہ ہزاروں افراد اس میں جاں بحق ہوئے ہیں‘ ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے اور سکولوں اور ہسپتالوں تک کے باہر خاردار تاریں اوردیگر حفاظتی انتظامات نظر آتے ہیں۔اور کیا چاہتے ہیں آپ؟“ سر نے حیرت سے پوچھا۔
”ویسے سر! اگر جنگ ہوتی ہے تو ہم نے جوحفاظتی انتظامات دہشت گردوں کے خلاف کئے تھے‘ وہ اس میں بھی تو کام آئیں گے۔ آپ یوں سمجھ لیںکہ پوری قوم کی ریہرسل ہوگئی ہے اس دوران….۔“ ببلونے نکتہ نکالا
”پیارے بچو! جنگ کوئی کھیل نہیں ہوتی ۔ اس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوتی ہے‘ ترقیاتی کام رک جاتے ہیں‘تمام وسائل کا رخ جنگ کی طرف ہوجاتا ہے اور ملک سالوں نہیں‘ صدیوں پیچھے چلے جاتے ہیں۔ پاکستان اورانڈیا تو دونوں ایٹمی قوتیں ہیں۔ اگر خدانخواستہ جنگ ہوئی تو فتح کا جشن منانے والا کوئی نہیں بچے گا۔“ سر نے خشمگیں نگاہوں سے ببلو کو دیکھتے ہوئے کہا۔
”ویسے سر! کوئی مانے یانہ مانے، اب کی بار اورابھی تک جنگ ایٹم بم نے روکی ہے۔ یہ تباہی پھیلانے والا ہتھیار تو ہے لیکن اس کے خوف نے دونوں طرف کی قیادتوں کو کچھ نہ کچھ سوچنے پر ضرور مجبور کیا ہے ۔“ سیمی نے اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔

”کیا فائدہ! یہ بم نہ بنتا تو اچھا تھا۔“ میمونہ جو سب کچھ خاموشی سے سن رہی تھی‘ بولی۔
آج تو حالات بہت ہی مختلف ہیں ۔
”ہاں، لیکن کیا کیجئے۔ جب مئی 1998ءمیں بھارت نے ایٹمی دھماکہ کیا تو اس کے وزیر اعظم نے کہا کہ ’اب خطے میں طاقت کانیا توازن قائم ہو گیا ہے لہٰذا پاکستان اس نئی صورت حال کے مطابق اپنے آپ کو ایڈجسٹ کرے۔ ‘ ایسے میں پاکستان کے لئے ایٹمی دھماکہ کرنا شاید ضروری ہو گیا تھا۔ بہرحال یہ بات درست ہے کہ ایسا نہ ہوتا توبہتر تھا۔“ سر نے کچھ سوچتے ہوئے اور فکرمندی کے انداز میںکہا۔
”سر! یہ بتائیے کہ جب ایٹم بم پھٹتا ہے تو کیا ہوتا ہے ؟“ ببلو نے پوچھا۔
”کل میں قائداعظم یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر پرویز ہودبائی کا ایک پروگرام دیکھ رہاتھا۔ وہ بتا رہے تھے کہ سب سے پہلے تو ایک دھماکہ ہوتا ہے جو عام دھماکے سے ہزاروں گنا بڑا ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں عمارتیں گر جاتی ہیں۔ اس کے بعد وہاں کادرجہ حرارت بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے اور آکسیجن وہاں سے نکل جاتی ہے۔ اس خلاءکوپر کرنے کے لئے ارد گرد سے ہوا تیزی سے اس طرف آتی ہے جس سے مزید تباہی ہوتی ہے۔ تباہی دھماکے‘ حرارت ‘ تابکاری اور آگ لگنے سے ہوتی ہے۔“ انہوں نے تفصیل سے بتایا۔
”سر! اس سے بچنے کی کوئی تدبیر ہے؟“ سیمی نے پوچھا۔
” برطانوی اخبار ’دی مرر‘ نے ایٹمی دھماکوں سے بچنے کے لیے کچھ آسان اور سادہ سی تدابیر بتائی ہیں۔ اگر ایٹمی دھماکہ ہو جاتا ہے تو ان تدابیر پر عمل کرکے اپنے زندہ بچ جانے کے امکانات کو بڑھایا جا سکتا ہے۔“ سر کو جیسے اچانک کچھ یاآیا۔
”وہ تدابیر کیا ہیں سر!“ ببلو بولا۔

”ایٹمی دھماکوں سے زندہ بچ جانے کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ دھماکے کے وقت کس جگہ پر موجود ہیں۔اگر آپ خدانخواستہ عین اس جگہ کے نیچے ہیں جہاں ایٹم بم فضاءمیں ایک گولے کی شکل میں پھٹا ہے تو بدقسمتی سے آپ کے بچنے کے چانسز صفر ہیں۔ کیونکہ ایٹم بم سے اس قدر توانائی خارج ہوتی ہے کہ اس کے نیچے موجود انسان اور دیگر اشیاء جل کر بھسم ہو جاتی ہےں۔ حرارت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ بم کے عین نیچے یا اردگرد کے علاقے میں واقع تہہ خانے، کارپارکنگ اور زیرزمین بنکر بھی اس انسان کو بچانے میں کوئی خاطرخواہ مدد نہیں کر سکتے۔ بنکر زمین میں بہت زیادہ گہرا بنایا گیا ہو تو وہاں انسان محفوظ رہ سکتا ہے۔“
”اچھا!“ اسد نے آنکھیں پھیلائیں:” اگر اس سے دور ہوں تو؟“
” اگر آپ دھماکے کی جگہ سے کچھ میل کے فاصلے پر ہیں تو آپ کے بچنے کے چانسز زیادہ ہو جاتے ہیں‘ تاہم میلوں دور ہونے کے باوجود آپ کو بچنے کے لیے کچھ اقدامات ضرورکرنا ہوں گے۔“ سرنے اب پوری کلاس کو اس گفتگومیں شامل کر لیا:
” ایٹمی دھماکہ ہونے کی صورت میں سب سے پہلے دھماکے کی جگہ پر فضاءمیں بہت زیادہ تیزروشنی نظر آتی ہے جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایٹم بم پھینک دیا گیا ہے۔ 10کلوٹن وزنی ایٹم بم کے دھماکے کا شعلہ 16کلومیٹر دور سے باآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔ دھماکے کی آواز سے پہلے اس کی روشنی دکھائی دیتی ہے‘ اس لئے کہ روشنی کی رفتار آواز سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس دوران آپ کے پاس حفاظتی انتظام کےلئے 10سے 15سیکنڈ ہوں گے۔“
” ایسے میں ہمیں کیا کرنا ہوگا۔“ اسد نے پوچھا۔
”ایسے میں آپ کو فوری طور پرکوئی شیلٹر تلاش کرنی ہوگی۔ ایٹمی دھماکہ ہونے سے زیادہ تر افراد عمارتوں کے گرنے کی وجہ سے ہلاک یا زخمی ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ دھماکے کی جگہ سے 600کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوا آتی ہے جو تباہی اور ہلاکتوں کا باعث بنتی ہے۔ اگر آپ نے کوئی ایسا لباس پہن رکھا ہے جو آگ پکڑ سکتا ہے یا کسی آتش گیر مادے کے قریب ہوں تو فوراً اس سے دور چلے جائیں کیونکہ ایٹمی دھماکے کے باعث وہ آگ پکڑ سکتا ہے۔“ سر نے وضاحت کی۔
”تابکاری شعائیں کب نقصان پہنچاتی ہیں؟“ سیمی نے پوچھا۔
”تابکاری شعاعوںکو آپ تک پہنچنے میں 10سے 20منٹ لگیں گے۔ یعنی دھماکے کے بعد آپ کو اتنا وقت مزید میسر ہو گا کہ آپ اس کی تابکاری سے بچنے کے لیے کچھ اقدامات کر سکیں۔20منٹ میں یہ تابکاری شعاعیں سیدھی نیچے زمین پر آتی ہیں اور اگلے 24گھنٹوں میں دھماکے کی وجہ سے چلنے والی تیز ہوا کے ساتھ اردگرد پھیلتی چلی جاتی ہیں۔ ایسے میں سب سے بہتر یہ ہے کہ آپ دھماکے کی جگہ سے جتنی دور جا سکتے ہوں چلے جائیں۔ اگر آپ دور نہیں جا سکتے تو کسی جگہ چھپ جائیں۔ چھپنے کے لیے بہتر جگہ شہری علاقوں میں کسی عمارت کی بیسمنٹ ہو سکتی ہے۔ اگر اس سے بھی گہری کوئی جگہ میسر ہو تو وہ سب سے بہتر ہے۔“
” یہ تو کافی خطرناک معاملہ ہے۔“ اسد پریشانی کے عالم میں بڑبڑایا۔
”جی ہاں! اسی لئے میں نے کہا تھا کہ جنگ کوئی بچوںکا کھیل نہیں۔یہ ایک آزمائش ہے اور آزمائش کبھی مانگنی نہیں چاہئے۔اور اگر وہ خدانخواستہ آ جائے تو پھر صبر‘ استقامت اور حوصلے سے اس کا سامنا کرنا چاہئے۔“ سر نے جواب دیااور پھر دعائیہ انداز میں بولے:
”اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کی اور ہم سب کی حفاظت کرے۔“
” آمین! “ سب مل کر بولے۔اتنے میں چھٹی کی گھنٹی بجی اور تمام بچے اپنے سکول بیگز کو سنبھالتے ہوئے قطار میں سکول کے مین گیٹ کی طرف چل دئیے۔
_________________________

ایٹمی حملہ‘ حفاظتی اقدامات
    ایٹمی دھماکے کے اثرات سے بچنے کیلئے دنیا بھر کے ماہرین نے مندرجہ ذیل تجاویز دی ہیں:
٭ ایٹمی حملے اور اس کے اثرات سے صرف اس صورت میں ہی بچا جا سکتا ہے جب آپ کے پاس مضبوط اور محفوظ پناہ گاہیں موجود ہوں۔بہترین پناہ گاہیں زمین سے کم از کم 10 فٹ نیچے
 تہہ خانے کی صورت میں بنائی جائیں۔سطح زمین پر بھی پناہ گاہیںبنائی جاسکتی ہے تاہم وہ تابکاری کو مکمل طور پر نہیں روک سکتیں۔ سطح زمین پر بنائی جانے والی پناہ گاہیں عمارتی پتھروں سے بنائی جانی چاہئیں ۔ اگر عام اینٹیں اور کنکریٹ استعمال کرنا ہوتو پھر اینٹوں کی ایک کے بجائے کم از کم پانچ پرتیں لگائی جائیں۔
٭ایٹمی حملہ ہونے کے ایک سیکنڈ کے اندر اندر آپ کو ایک زوردار دھماکہ سنائی دے گا اور فوراً مشروم کی شکل کا ایک کئی میل اونچا دھوئیں کا طوفان نظر آئے گا۔
٭دھماکے کی مخالف سمت میں کسی بھی ٹھوس چیز ، دیوار یا کسی گہری جگہ پہنچیں ، زمین پر الٹا لیٹ جائیں، اپنے دونوں ہاتھ سر پر رکھتے ہوئے کانوں کو ڈھانپ لیں اور ٹانگیں کراس کرلیں۔ اسی دوران آپ کو ایک اور زور دار دھماکہ سنائی دے گا جو پہلے دھماکے سے سوگنا زیادہ طاقتور ہوگا اور شدید زلزلہ پیدا کریگا۔دھماکہ سنائی دینے کے دو سے تین سیکنڈ بعد اٹھ کھڑے ہوں اور اپنی پناہ گاہ کی طرف بھاگیں۔ اس کے بعد سینکڑوں عمارتیں دھواں بن کے اڑ جائیں گی جن کا ملبہ اب بارش کی صورت میں برسے گا اور ساتھ ہی تابکاری سے بھرے ”الفا پارٹیکلز “کی بارش بھی شروع ہوجائے گی ۔ دھماکے کی طرف ہرگزمڑ کر نہ دیکھیںاور گرتی چیزوں سے بچنے کی کوشش کریں۔
٭پناہ گاہ میں داخل ہوتے ہی ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اپنا سارا لباس اتار دیں کیونکہ آپ کا لباس بڑی مقدار میں الفا پارٹیکلز چوس چکا ہوگا۔
٭اگلے چند دن آپ کو تیز بخار، گھٹن اور الٹیاں ہوسکتی ہیں۔ ان کے لئے اپنے پاس موجود ادویات استعمال کریں۔