اُف! پیٹ میں درد

اُف! پیٹ میں درد

 پیٹ میں درد ایک عام مسئلہ ہے جس سے تقریباً ہرفرد کبھی نہ کبھی گزرتا ہی ہے۔ اس میں بالعموم گھریلو ٹوٹکوں کا سہارا لیا جاتا ہے یا پھر ازخود گولیاں کھا لی جاتی ہیں۔ اس رویے پر تبصرہ کرتے ہوئے شفا انٹر نیشنل ہسپتال اسلا م آباد کی گیسٹروانٹرولوجسٹ یعنی ماہرامراض معدہ وجگر ڈاکٹر صدف یوسف کہتی ہیں

شدید پیٹ درد کی صورت میں عارضی طور پرگھریلو ٹوٹکوں کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔ یہ کسی حد تک فائدہ مند بھی ثابت ہوتے ہیں تاہم یہ مستقل حل نہیں اورپیٹ درد کی وجہ جانے بغیرعلاج کئے جانا توہرگزدرست نہیں ۔ اگر پیٹ درد کے ساتھ غیر معمولی علامات ظاہر ہوں تو 24 گھنٹوں میں ڈاکٹر کوضروردکھائیں۔

پیٹ میں درد کیوں

 ماہرین صحت کہتے ہیں کہ زیادہ کھانا، کھانا ہضم نہ ہونا یا جراثیم سے آلودہ اشیائے خورونوش کا استعمال اس کی بڑی وجہ ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء کے ذکر سے بظاہر یوں لگتا ہے کہ پیٹ درد کا تعلق صرف معدے سے ہے۔ کیا ایسا ہی ہے؟ اس سلسلے میں ایبٹ آباد انٹرنیشنل میڈیکل کالج ،ایبٹ آباد کے ماہرامراض معدہ و جگر ڈاکٹر سلطان زیب خان کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے

پیٹ میں صرف معدہ نہیں بلکہ دیگراہم اعضاء بھی ہوتے ہیں۔ ماہرین پیٹ درد کی وجوہات کو سمجھنے کے لئے اسے دو حصوں یعنی ناف سے اوپراورناف سے نیچے کے درد میں تقسیم کرتے ہیں۔ اوپر والے حصے میں معدہ، پتہ، جگر، لبلبہ اور گردے جبکہ نچلے حصے میں آنتیں اوراپینڈیکس (بڑی آنت سے جڑی پتلی نالی) ہوتی ہے۔ لوگوں کی اکثریت اوپری حصے میں درد کی شکایت کرتی ہے۔ بعض اوقات یہ درد دیگر اعضاء سے بھی پیٹ میں منتقل ہوجاتا ہے۔ مثلاً دل کا دورہ پڑنے پر معدے میں درد محسوس ہوتا ہے۔

بحریہ انٹرنیشنل ہسپتال، لاہورکے ماہرامراض معدو جگر ڈاکٹرافضل بھٹی  کا کہنا ہے کہ ناف سے نیچے درد کی ایک وجہ اپینڈیکس کی سوزش ہے جسے فوری علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ خواتین کو ماہانہ ایام اور درد زہ یعنی لیبرپین کے باعث پیٹ کے نچلے حصے میں درد ہوتا ہے۔

بچوں میں وجوہات

کیا عمر کے لحاظ سے پیٹ درد کی وجوہات مختلف ہوسکتی ہیں؟ اس حوالے سے ڈاکٹر صد ف یوسف کا کہنا ہے کہ یہ بڑوں، بچوں اور بزرگوں میں تقریباً ایک سی ہوتی ہیں۔ تاہم بچے چونکہ بالعموم پین کِلرزنہیں کھاتے یا بہت ہی کم کھاتے ہیں لہٰذا وہ ان ادویات کے زیادہ استعمال کے باعث پیدا ہونے والے مسائل سے اکثرمحفوظ رہتے ہیں۔

ڈاکٹر سلطان کا کہنا ہے کہ ایک سال سے کم عمر کے بچے ماں کا دودھ ہضم نہ ہونے یا گیس کی وجہ سے پیٹ درد کا شکار ہوجاتے ہیں۔ گیس فیڈر سے دودھ پینے والے بچوں میں زیادہ عام ہے۔ بڑے بچوں میں درد کا عمومی سبب پیٹ کے کیڑے ہوتے ہیں جو زیادہ تر مٹی میں کھیلنے یامٹی کھانے سے پیدا ہوتے ہیں۔ آج کل بازار میں کھلی بکنے والی اشیاء مثلاً پکوڑے سموسے اور جنک فوڈز مثلاً چپس اور برگر وغیرہ کا رحجان بہت زیادہ ہے۔ ان میں چکنائیاں ہوتی ہیں جوآنتوں میں جم کر کبھی کبھاردرد کا باعث بھی بن جاتی ہے۔

بڑوں اوربزرگوں میں پیٹ درد

نوجوانوں کی قابل ذکر تعداد میں پیٹ کے درد کی بڑی وجہ آئی بی ایس ہے۔ اس کے باعث آنتوں کی حساسیت بڑھ جاتی ہے اورمتاثرہ افراد کوقبض یا ڈائریا کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ چٹخارے دار‘ جراثیم سے آلودہ کھانوں یا کچھ ادویات مثلاً پین کلرزکے زیادہ استعمال کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹر صدف کے مطابق بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ آنتوں میں رکاوٹ کے امکانا ت بڑھ جاتے ہیں لہٰذا بزرگوں میں یہ پیٹ درد کی ایک بڑی وجہ ہوسکتی ہے۔ پیٹ درد کے پس پردہ وجہ معلوم کرنے کے لئے سب سے پہلے مریض کی ہسٹری لی جاتی ہے اور پھر ضرورت پڑنے پر خون اور پیشاب کے نمونوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اگر زیادہ گڑبڑ ہوتو اینڈوسکوپی اورالٹرساؤنڈ سے بھی مدد لی جاتی ہے۔ ان کے نتائج کی بنا پرمزید ٹیسٹ اورعلاج تجویزکیا جاتا ہے۔

غیرمعمولی علامات

پیٹ دردکی کون کون سی صورتوں میں فوری طبی امداد درکارہوتی ہے؟ اس سلسلے میں ڈاکٹرافضل بھٹی کہتے ہیں

اگرپیٹ درد شدید ہو، کافی عرصے سے اورباربار ہورہا ہو یا تکلیف کمر تک جاتی ہوتواسے نظر انداز نہیں کرناچاہئے اوربلا تاخیر معالج سے رابطہ کرنا چاہئے۔ اس کے علاوہ وزن کم ہونا، بھوک مر جانا، بار بار قے آنا، قے میں خون یا دو تین دن پہلے کھائی ہوئی خوراک آنا، معدے میں گلٹی محسوس ہونا، بخار ہونا، خوراک نگلنے میں دشواری ہونا، پاخانے میں خون آنا، دائمی قبض یا ڈائریا جیسے مسائل بھی اسی فہرست میں آتے ہیں۔

گفتگو کو بڑھاتے ہوئے شفا انٹرنیشنل ہسپتال کی ماہرامراض معدہ وجگرڈاکٹر فرزانہ شفقت کہتی ہیں کہ پاخانے کی جگہ سے خون آرہا ہو، پیٹ میں ہوا بھر ی ہوئی محسوس ہو یا بغیر کسی ظاہری کوشش یا وجہ کے وزن کم ہوگیا ہو تو ڈاکٹر کو ضروردکھائیں۔

بعض افراد کو کھانا کھانے جبکہ کچھ کو بھوکا رہنے سے پیٹ میں درد ہوتا ہے۔ ڈاکٹر سلطان کہتے ہیں کہ اس کا تعلق دردکی وجہ سے ہے۔ اس کی بنا پر درد کے اوقات، دورانیہ، شدت اورمقام مختلف ہوسکتے ہیں

اگر کسی شخص کو معدے کا السر ہے تو اسے کھانا کھانے کے بعد معدے میں تیزابیت کے باعث پیٹ میں درد ہوگا۔ اس کے برعکس چھوٹی آنت کا کینسر ہو تو خالی پیٹ رہنے سے دردہوتا ہے۔ پتے کا درد پیٹ میں دائیں جانب پسلیوں کے نیچے ہوتا ہے اور اس کے ساتھ اس جگہ پرسوجن، بخار اورمتلی بھی ہوتی ہے۔ آنتوں میں رکاوٹ کی وجہ سے درد مروڑ کی طرح کا ہوتا ہے جو اچانک تیز یا کم ہوجاتا ہے۔ پتے میں پتھری کی صورت میں بھی مروڑ اٹھتا ہے۔ آئی بی ایس کی وجہ سے مروڑ کے علاوہ پاخانہ کرتے ہوئے زیادہ درد ہوتا ہے جورفع حاجت کے بعد ٹھیک ہو جاتا ہے۔

بچاؤکی تدابیر

پیٹ درد کا تعلق اگر معدے کے مسائل سے ہو تو اس سے بچاؤ کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ اس سوال پرڈاکٹر سلطان کا کہنا ہے کہ پیٹ درد سے بچاؤ کا ایک سادہ اورآسان اصول یہ ہے کہ جو چیز تکلیف دیتی ہے اس سے بچیں۔ مثلاً ان کھانوں سے پرہیز کریں جو پیٹ میں گیس اور نتیجتاً درد کا باعث بنتے ہیں۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد واک کریں‘ تمباکونوشی سے گریز کریں‘ سونے اور کھانے کے درمیان کم ازکم چار گھنٹے کا وقفہ رکھیں۔

ڈاکٹر افضل کہتے ہیں کہ صحت مند طرززندگی اپنائیں، وقت پر کھانا کھائیں، مسالہ داراورمرغن غذاؤں سے ہر ممکن پرہیزکریں۔ اس کے علاوہ کولا مشروبات، چائے، کافی اوردرد دور کرنے والی ادویات کے بے دریغ استعمال سے گریزکریں۔

ڈاکٹر فرزانہ کہتی ہیں کہ گھر کا، مکمل طور پرپکا ہوا اورایسا کھانا کھائیں جسے بنانے میں حفظان صحت کے اصولوں کا خیال رکھا گیا ہو۔ میدے سے بنی اشیاء کا استعمال کم کریں اوراس کے بجائے چوکر کا آٹا استعمال کریں۔ پانی ابلا ہوا پئیں اورپھلوں اورسبزیوں کو اپنی خوراک کا حصہ بنائیں۔ بعض افرادمختلف وجوہات کی بنا پر پاخانے کو زیادہ دیر روک کر رکھتے ہیں۔ نتیجتاً انہیں قبض اورپیٹ درد کی شکایت رہتی ہے۔ اس عادت سے چھٹکارا پائیں۔

نوزائیدہ بچے اور درد قولنج

نوزائیدہ بچوں کو درد قولنج سے نجات دلانے کے لئے کیا کرنا چاہئے؟ اس پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں نوزائیدہ بچوں کے امراض کے ماہر ڈاکٹر یاسرمسعود کہتے ہیں

ان کی ٹانگوں کو گول گھمائیں، پیٹ کی مالش کریں اور سوتے یا دودھ پیتے وقت بچے کا سر اونچا رکھیں۔ مائیں بچوں کو دودھ پلاتے ہوئے اپنی پوزیشن ٹھیک رکھیں اوردودھ پلانے کے فوراً بعد لٹانے کے بجائے چھاتی سے لگا کر اورکمر تھپتھپا کر ڈکاردلوائیں۔ ڈاکٹر کے مشورے سے ڈراپس اور پروبائیوٹک سپلی منٹس بھی دیے جاسکتے ہیں۔

اہم نکات

٭عام افراد بالعموم اورذیا بیطس، دل اور گردوں کے مریض بالخصوص پیٹ درد کی صورت میں خود علاجی سے گریز کریں۔

٭قدرتی اجزاء سے بنے قہوے وقتی طور پرتو فائدہ مند ہوتے ہیں تاہم یہ باقاعدہ علاج کے متبادل نہیں لہٰذا صرف ان پراکتفا نہ کریں۔

٭پین کلرز کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہ کریں۔

٭بزرگ ‘خصوصاً 50  سال سے زائد عمر کے وہ افراد جن کو اکثر پیٹ درد رہتا ہے‘ اسے نظر انداز نہ کریں، اس لئے کہ یہ کسی سنگین بیماری کی طرف اشار ہ ہوسکتا ہے۔

٭موٹاپا خصوصاً پیٹ کی چربی اپھارے، پیٹ درد، ڈائریا، قبض اور معدے کے السر کا باعث بن سکتی ہے۔ اس پر قابو پائیں۔

٭پیٹ میں کیڑے ہوں توڈاکٹر کی تجویز کے مطابق اینٹی بائیوٹکس سے مکمل علاج کروائیں۔

٭معدے کا ایک جرثومہ ایچ پائیلوری السرکی بڑی وجہ ہے۔ اگر پیٹ درد کا سبب یہ ہوتو اس کا علاج کروانا چاہئے۔

abdominal pain prevention, causes of abdominal pain in children, adults and females

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

LEAVE YOUR COMMENTS