پیدائش کے بعد پہلے 28 دن ننھے مہمان کی طبی تواضع

604

ننھے پھول اس دنیا میں آتے ہی رونے لگتے ہیں اور یہ واحد رونا ہے جس سے والدین خوش ہوتے ہیں‘ اس لئے کہ یہ ان کی زندگی کی ایک اہم علامت ہے۔ رونے کے علاوہ اور بھی کئی اہم امور ہیں جنہیں پیدائش کے فوراً بعد دیکھا جانا ضروری ہے۔ مزید براں اس موقع پر کچھ احتیاطیں بھی بہت اہم ہیں۔ چلڈرن ہسپتال لاہورمیں نوزائیدہ بچوں کے امور کے ماہر اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سکندر حیات ان امور کے بارے میں مفید معلومات سے آگاہ کر رہے ہیں۔ (انٹرویو: ثنا ظفر)


٭شعبہ امراض بچگان (Peads) کی موجودگی میں نوزائیدہ بچوں کے شعبے(Neonatology) کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
٭٭پیڈزبچوں کے علاج سے متعلق عمومی شعبہ ہے جس میں تقریباً 16سال کی عمرکے تمام بچے آتے ہیں۔تاہم ان کے دل ‘ معدہ اور دانتوں وغیرہ کے امراض کیلئے ذیلی شعبہ جات بھی موجود ہیں۔ نیونیٹالوجی کے شعبے میں پیدائش سے لے کر تقریباً 28 دنوں تک کے بچے کو لایا جاتا ہے۔ چونکہ اس عمر کے بچوں کی طبی ضروریات بالکل مختلف ہوتی ہیں لہٰذا ان کے لیے الگ شعبے کے قیام کی ضرورت محسوس کی گئی۔ پاکستان میں اب اس کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

٭ بچہ جب دنیا میں آتا ہے تو سب سے پہلے روتاکیوں ہے؟
٭٭ بچہ جب ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو اسے آکسیجن ماں کے خون کے ذریعے مل رہی ہوتی ہے‘ اس لئے کہ اس وقت اس کے پھیپھڑے کام نہیں کر رہے ہوتے۔ پیدا ہونے کے بعد جب وہ روتا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ سانس لے رہا ہے اور اس کے پھیپھڑے ٹھیک کام کر رہے ہیں۔ اگر وہ روئے گا نہیں توٹھیک طرح سے سانس نہیںلے پائے گا لہٰذا جسم اور خاص طور پر دماغ کو آکسیجن نہیں ملے گی۔ اگر بچہ کسی وجہ سے نہیں رویا اور اس وقت ہاں نیونیٹالوجسٹ یا کو ئی دوسرا ڈاکٹر موجود نہیں ہے۔ جو اسے رُلا سکے تو اسے ذہنی یا جسمانی معذوری کا خطرہ ہوتا ہے اور اس کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ اس لیے پیدائش پر بچوںکا رونا بہت ضروری ہے اور یہ ان کاواحد رونا ہے جس پر ماں باپ خوش ہوتے ہیں۔

٭ اگر بچہ نہ روئے تو کیا کرنا چاہیے؟
٭٭ کوشش کریں کہ بچے کی پیدائش کے موقع پرکوئی ایسا فرد یا نرس ضرور موجود ہوجس نے اس حوالے سے وہ تربیت لے رکھی ہو جسے نوزائیدہ بچے کا سانس بحال کرنا (newborn resuscitation)کہتے ہیں۔ ڈاکٹروں کے علاوہ لیڈی ہیلتھ ورکرز اور دائیوں کو بھی یہ تربیت دی جانی چاہئے۔ اگر ایسا فرد موجود نہ ہو اور بچہ نہیں رویا تو اسے قریبی ہسپتال پہنچانا چاہیے تاکہ اسے طبی امداد مل سکے۔ یہ درست ہے کہ ڈاکٹر کے پاس جانے سے پہلے دماغ کو آکسیجن نہ ملنے سے ہونے والے نقصان کا ازالہ نہیں کیا جا سکتا تاہم اسے مزید نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔ وہاں بچے کے جسمانی درجہ حرارت کو کم کیا جاتا ہے جسے حرارت کم کرنا (therapeutic hypothermia)کہتے ہیں۔12گھنٹوںکے اندراندر ایسے بچوں کوایک ایسی مشین میں رکھا جاتا ہے جس میں ان کا جسمانی درجہ حرارت کم کیا جا سکے۔ اس مشین کی سہولت بھی چند سینٹرز میں ہی دستیاب ہے۔

٭ پیدائش کے بعد بچے کی کس قسم کی سکریننگ کی جاتی ہے؟
٭٭ کچھ ایسے امراض ہیں جنہیں اگر شروع میں ہی تشخیص کر کے ان کا علاج شروع کر دیا جائے تو بعد میں ان کی پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے ۔اس لئے نومولود کی سکریننگ کروانا بہت اہم ہے جواس کی پیدائش کے 48گھنٹوں کے بعد کی جاتی ہے۔ اس میں بچے کی ایڑی پر سوئی چبھو کر چند قطرے خون لیا جاتاہے اوراسے ایک خاص کارڈپر لگا کر ٹیسٹ کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد جو نتائج آئیں‘ ان کے مطابق علاج کیا جاتا ہے۔ اس سکریننگ میں چند بیماریاں تشخیص کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جن میں سے ایک تھائی رائیڈ ہارمون کا پیدائشی طور پر کم ہونا(congenital hypothyroidism) نمایاں ہے۔ اگر یہ بیماری تشخیص ہو جائے تو اس کا علاج شروع کیا جاتا ہے۔ اگر اس کا علاج وقت پر نہ کیا جائے تو بچوں کو بعد میںسیکھنے کے عمل میں مشکلات کا سامنا ہوتاہے اوراس کی نشونما بھی متاثر ہوتی ہے۔ ایسے بچے ہر معاملے میں عام بچوں سے کافی پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اسی طرح سی اے ایچ (Congenital Adrenal Hyperplasia)ایک موروثی بیماری ہے۔ اگر اس کی تشخیص نہ ہو توبچے جیسے ہی کسی وجہ سے بیمار ہوں گے‘ ان کی موت کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ ہمارے ہاں چند مخصوص بیماریوں یا نقائص جاننے کیلئے سکریننگ کی جاتی ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک میںبچوں کی 50 سے زیادہ بیماریوں کی سکریننگ کی جاتی ہے۔

٭ قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کو کس طرح کی سروسز فراہم کی جانی چاہئےں؟
٭٭ ایسے بچے بہت کمزور ہوتے ہیں اوران کا جسم فوراً ٹھنڈا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس لیے ان کے جسمانی درجہ حرارت کو مناسب سطح پر رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ اس کے بعد ان کی خوراک کا مرحلہ آتاہے ۔ان کا وزن بھی عام بچوں کی نسبت بہت کم ہوتا ہے۔ یہ اتنے کمزور ہوتے ہیں کہ اپنے طور پرفیڈ بھی نہیں لے سکتے۔ اگر وہ منہ کے ذریعے خوراک نہ لے سکتے ہوں تو انہیں یہ نالی کے ذریعے دینی پڑتی ہے۔اس بات کا خیال رکھیں کہ انہیں خوراک کی کمی نہ ہو۔

٭ ایسے بچوں کو انفیکشن ہونے کا کتنا خطرہ ہوتاہے؟
٭٭ بچہ وقت سے پہلے پیدا ہو یا نارمل، دونوں صورتوں میں اس کی صفائی کا خا ص خیال رکھناچاہیے۔ وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچوںمیں عام بچوں کی نسبت انفیکشن ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔گھر اور ہسپتال دونوں میں ماں یا جو بھی اس کی دیکھ بھال کر رہاہو‘ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کے ہاتھ صابن سے اچھی طرح دھلے ہوں۔اس آسان سی تکنیک کے استعمال سے بچوںکو انفیکشن سے بچایا جا سکتا ہے۔

٭ کیا نوزائیدہ بچوں کو اینٹی بائیوٹکس دینا ٹھیک ہے؟
٭٭ جن بچوں کو انفیکشن ہو یاہونے کا خدشہ ہو توانہیں اینٹی بائیو ٹکس دینی پڑتی ہیں۔ یہ پہلے دن سے لے کر عمر کے کسی بھی حصے میںدی جا سکتی ہیں۔تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے یہ یقین ہو کہ بچے کو انفیکشن ہے بھی یا نہیں ۔ اس کے لیے ہم کچھ ٹیسٹ تجویز کرتے ہیں اور اس کے بعد ڈاکٹر فیصلہ کرتا ہے کہ بچے کے لیے کس قسم کی ادویات ضروری ہیں۔ تاہم اسے غیرضروری طور پر اینٹی بائیوٹکس ہر گز نہیں دینی چاہئیں۔

٭ پیدائش کے موقع پر وہ کون سی خطرناک علامات ہیں جنہیں کسی طور نظرانداز نہیں کرنا چاہئے؟
٭٭ پیدائش کے فوراً بعد بچہ روئے، وہ چست ہو او رٹھیک مقدار میں دودھ پی رہا ہو تو اس کا مطلب ہے کہ وہ صحت مند ہے۔ اگر وہ دودھ ٹھیک طرح سے نہ پئے، بار بار قے کرے او رکم متحرک ہو تو یہ ایسی علامات ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ بچے کی سانس معمول سے تیز چل رہی ہو یا اس کا رنگ گلابی سے نیلا ہو رہا ہو تو فوراً ڈاکٹر کو چیک کرانا چاہیے تاکہ کسی بڑے مسئلے سے بچا جا سکے۔

٭ نوزائیدہ بچے کے لئے کمرے کاموزوں درجہ حرارت کیا ہے؟
٭٭ بچہ قبل از وقت پیدا ہو یانارمل، دونوں صورتوں میں کمرے کا درجہ حرارت 26 سے29 ڈگری کے درمیان ہوناچاہئے۔ درجہ حرارت کے ساتھ ہوا کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ اگرآپ نے کھڑکیاں اوردروازے کھول رکھے ہیںیا پنکھا چل رہا ہے اور بچہ اس کے بالکل نیچے لیٹا ہے تو وہ زیادہ ٹھنڈا ہوجائے گا ۔اس لیے کوشش کریں کہ اگر اے سی چل رہا ہو تو اس کی ہوا سیدھی بچے کو نہ لگے۔

٭ بچے کو کس طرح کے کپڑے پہنانے چاہیں؟
٭٭ موسم کو دیکھتے ہوئے کپڑوں کا انتخاب کیا جاتا ہے ۔ٹھنڈ اورگرمی کے حساب سے بچے پر کمبل یا کپڑے دیئے جاتے ہیں لیکن جو بھی کپڑے پہنائیں‘وہ نرم وملائم اور ڈھیلے ہونے چاہئیںتاکہ اسے آسانی سے پہنائے جا سکیں۔

٭ پیدائش کے فوراً بعد بچے کو نہلانا کتنا ضروری ہے؟
٭٭ ڈاکٹر عموماً یہ مشورہ دیتے ہیں کہ بچے کو 24 گھنٹوں کے بعد نہلائیں۔ نہلانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بچے کوسیدھا پانی کے نیچے رکھ دیا جائے بلکہ پہلے نیم گرم پانی میں تولیہ بھگو کر گرم کر لیں اور پھراسفنج کے ذریعے پانی ڈالتے ہوئے اسے نہلائیں ۔اس کے لیے ایسی جگہ کا انتخاب کریں جہاں اسے ٹھنڈ نہ لگے ۔

٭ ہمیں کیسے علم ہوگا کہ بچے کی نظر اور سماعت ٹھیک ہے؟
٭٭ ہسپتال میں پیدا ہونے والے بچوں کی آنکھوں اور کانوں کا ٹیسٹ انہیں ڈسچارج کرنے سے قبل کیا جاتا ہے۔ اگربچہ گھر میں پیدا ہوا ہو اور وہ کسی عمل پر ردِ عمل ظاہر نہ کر رہا ہو توفوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ بچوں میں عموماً بھینگا پن بھی دیکھنے میں آتا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں سے ایک عام وجہ آنکھ کے پٹھوںکا کھچاﺅ ہے۔ جس طرف کا پٹھہ مضبوط ہوتا ہے آنکھ کی پتلی اس طرف زیادہ حرکت کرتی ہے۔ یہ کچھ دنوں تک خود ہی ٹھیک ہو جاتا ہے لیکن اگر نہ ہو تو ڈاکٹر کو دکھانا چاہیے۔

٭بچے کی ویکسی نیشن کروانا کتنا ضروری ہے؟
٭٭سب سے اہم چیز یہ ہے کہ بچے کی پیدائش سے پہلے ماں کو تشنج (tetanus)کی ویکسین ضرور لگوائی جائے۔ اس کے علاوہ بچے کو ٹی بی کی ویکسین ضرور لگوائی جاتی ہے۔ ماں کو اگر ہیپاٹائیٹس بی کا انفیکشن ہو تو12گھنٹوں کے اندر اندربچے کی ویکسی نیشن کی جاتی ہے۔ اس کے بعد نمونیا، تشنج اور پولیو کی ویکسین لگوانابھی بہت ضروری ہے۔

٭ اکثر نوزائیدہ بچے رات کو بہت زیادہ روتے ہیں اور دن میں آرام سے رہتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟
٭٭ ہر بچہ اس مسئلے کا شکار نہیں ہوتا۔ عموماً تین ہفتے یا اس سے زیادہ عمرکے بچوں میں اس کے امکانات ہوتے ہیں ۔اس کی ایک اہم وجہ قولنج(colic) ہے۔ یہ کچھ دنوں کے بعد ٹھیک ہو جاتا ہے لیکن اگر نہ ہو تو پھر اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ بچوں کو بہت زیادہ لپیٹ کر مت رکھیںکیونکہ اس سے ان کا جسمانی درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اگروہ گیلا ہو یا اسے کسی جگہ دھپڑrashes)) ہوں تو یہ بھی اس کے رونے کہ وجہ ہو سکتی ہے۔ بعض اوقات بچہ فیڈ ٹھیک طرح سے نہیں لے رہا ہوتا اور بھوک کی وجہ سے بار بار رو تا ہے۔ یہ عام سی وجوہات ہیں لیکن ان کا بھی خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔

٭ پیدائش کے بعد بعض بچے یرقان کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ اس کی وجہ کیا ہے؟
٭٭ تقریباً 50 سے70 فی صد بچے پیدائش کے دوسرے یا تیسرے دن اس سے متاثر ہوتے ہیں ۔اس کا سبب یہ ہے کہ بچے کا جگر مکمل طور کام نہیں کر رہاہوتا۔ایسی صورت میں ماں کا دودھ بچے کو پلانا بہت ضروری ہے اور اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ وہ ٹھیک مقدار میںدودھ پی رہا ہو۔ اس کے لیے کسی قسم کی کوئی ادویات نہیں دی جاتیں۔ ماں کا دودھ ہی اس کے لیے دوا ہے۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ اس صورت میں سورج کی شعائیں لگوائی جائیں۔ اس کے لیے بچے کے کپڑے ہٹا کر پورے جسم کو دھوپ لگوائی جاتی تھی۔ اس کا نقصان یہ ہوتا تھاکہ بچے ٹھنڈی ہو الگنے سے بیمار پڑجاتے۔ اس لیے اب انہیں ایسا کرنے سے منع کیا جاتا ہے۔ ان دنوں بچے کو یرقان ہونا زیادہ خطرناک نہیں ہے۔ یہ 10سے14دنوں میں بڑھتا ہے اوراس کے بعد خود ہی ٹھیک ہو جاتا ہے۔

٭ ”گھٹی“کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
٭٭ میڈیکل سائنس اس بات کو نہیں مانتی کہ بچے کوگھٹی دی جائے۔ اس کے مطابق پیدائش کے بعد صرف اور صرف ماں کا دودھ ہی پلانا ضروری ہے۔ اکثر لوگ شہد سے گھٹی دیتے ہیں۔ شہد آج کل خالص نہیں ہوتا اور اگر ہو بھی تو بچے کا معدہ اتنا کمزور ہوتا ہے کہ اسے برداشت نہیں کر سکتا اوروہ بیمارہوجاتا ہے۔ ایسے بچوں کو بعد میںدودھ پلانے میں بھی مشکل ہوتی ہے۔ اس لیے گھٹی دینے سے منع کیا جاتا ہے۔

٭ کیافارمولا ملک ماں کے دودھ کا متبادل ہے؟
٭٭ فارمولا ملک کو ماں کے دودھ کے قریب کہا جاتا ہے لیکن وہ کسی طور بھی ماں کے دودھ کا متبادل نہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں ڈبے کے دودھ سے منع کیا جاتا ہے اور تجویز کیا جاتا ہے کہ ماں بچے کو اپنا دودھ ہی پلائے۔ ایسا نہ کرنے سے ان میںجو غذائی کمی ہوتی ہے‘ اس سے مزید کئی پیچیدگیاںجنم لے سکتی ہیں۔ اگر بچہ قبل ازوقت پیدا ہوا ہو تو اس کو بھی ماں کا دودھ ہی دیا جائے نہ کہ ڈبے کا۔ اگر اس میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ ماں کا دودھ براہ راست پی سکے تو ماں کو چاہیے کہ اپنادودھ نکال کراسے محفوظ کر لے اور وہی پلائے۔ اس کے علاوہ یہاں لوگوں کی مالی استطاعت اتنی نہیں ہوتی کہ وہ ڈبے کا دودھ خرید سکیں لہٰذا ماﺅں کا دودھ کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ اس سے بچے کی قوتِ مدافعت بہت اچھی ہوتی ہے اور وہ مختلف انفیکشنزسے بھی محفوظ رہتاہے۔ اس میں موجود کیلوریز بچے کی ضرورت کے مطابق ہوتی ہیں۔ایسے بچوں کا جسمانی درجہ حرارت بہت اچھا رہتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ اس سے ماں اور بچے کے درمیان محبت کا بہت مضبوط تعلق پروان چڑھتا ہے۔ اگر ماں اسے صرف اپنا دودھ پلائے تو قدرتی طور پر اگلے بچے کی پیدائش میں مناسب وقفہ پیداہو جاتا ہے۔

٭ آخر میں آپ قارئین کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
٭٭ حمل کے دوران خواتین کو چاہیے کہ وہ کم سے کم دو دفعہ اپنا چیک اپ ضرور کرائیں اور تشنج سے بچاﺅ کے حفاظتی ٹیکے بھی لگوائیں۔ اگر بچہ گھرمیں پیدا ہو رہا ہو تو وہاں تربیت یافتہ فرد کا ہونا ضروری ہے جو اسے رونے اور سانس لینے میں مدد دے سکے۔ بچوں کو صرف اور صرف ماں کا دودھ پلانا چاہئے ۔سب سے اہم بات ہاتھوں کا دھونا ہے۔ ماں اور وہ افراد جو بچے کو سنبھال رہے ہیں، انہیں صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے تاکہ کسی بڑے مسئلے سے بچا جا سکے۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

Eye Issue Shifa News

Doctors in this segment shed light on their specialties to give you awareness about your common prob

Doctors in this segment shed light on their specialties to give you awareness about your common prob

Regular Checkup Shifa News

SN: Do pulmonologists deal with lung diseases only Pulmonologists deal with diseases related to the

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of