Vinkmag ad

20 فیصد پاکستانی ٹین ایجرز ہائی بلڈپریشر کے شکار

ہائی بلڈ پریشر کو بالعموم ادھیڑ عمر کی بیماری سمجھا جاتا ہے۔ اب یہ 15 سے 19 سال کے نوجوانوں میں بھی عام ہے۔ ماہرین کے مطابق 20 فیصد پاکستانی ٹین ایجرز ہائی بلڈپریشر کے شکار ہیں۔ ان خیالات کا اظہار "ہائی بلڈ پریشر: ایک خاموش قاتل” کے عنوان سے کراچی میں منعقدہ ایک سمپوزیم میں کیا گیا۔

ماہرین نے اس صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ شاپنگ سینٹرز، سکولوں اور کالجوں میں اس سے متعلق آگہی ڈیسک قائم کیے جائیں۔ نماز جمعہ کے اجتماعات کو بھی اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے۔

ان کے مطابق تقریباً 46 فیصد بالغ افراد اس کے شکار ہیں۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ ان کی اکثریت کو اس کا علم ہی نہیں۔

سمپوزیم سے انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد طارق فرمان، نرسنگ ڈائریکٹر انڈس ہسپتال حکیم شاہ، صدر پاکستان ہائی بلڈ پریشر لیگ پروفیسر ڈاکٹر نواز لاشاری اور سندھ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جاوید اکبر نے خطاب کیا۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر طاہر صغیر مہمان خصوصی تھے۔

سمپوزیم میں عالمی اور قومی سطح پر ہائی بلڈ پریشر کے اعداد و شمار پیش کیے گئے۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں ہر تین میں سے ایک شخص اس کا شکار ہے۔ اس کے نتیجے میں سالانہ 8.5 ملین اموات ہوتی ہیں۔

پاکستان ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں بہت پیچھے ہے۔ تقریباً 43 فیصد آبادی اس مرض سے متاثر ہے۔ ان میں سے صرف 11 فیصد کا بلڈ پریشر کنٹرول میں ہے۔ 44 فیصد مریضوں میں یہ مرض غیر تشخیص شدہ ہے۔

20 فیصد پاکستانی ٹین ایجرز کا اس کا شکار ہونا تشویشن ناک ہے۔ اس پر سنجیدہ توجہ کی ضرورت ہے۔

Vinkmag ad

Read Previous

پنجاب حکومت نے بجٹ میں صحت کے لیے 128 ارب روپے مختص کر دیے

Read Next

Yoga for periods | Improve flow | Relieve menstrual cramps | Yoga with Naheed | Shifa News

Leave a Reply

Most Popular